কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৫৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانیال (علیہ السلام)
35583 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) قتادہ (رض) سے روایت ہے جب سوس فتح ہوا ان کے امیر ابوموسیٰ اشعری (رض) تھے ایک کمرہ دنیا (علیہ السلام) ملے ان کے پہلو میں مال بھی رکھا ہوا تھا جو چاہے ایک مدت تک کے لیے فرض لے پھر اس مدت پر واپس کردے ورنہ معاف کردیتے ابوموسیٰ (رض) نے جب ان سے چمٹ گئے آور ان کو بوسہ دیا کیا اب کعبہ کی قسم دانیال ہیں بھر ان کے متعلق عمر کو خطا لکھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کو غسل رہا جائے حنوط لگایا جائے اس کے بعد نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیں جیسے اور انبیاء (علیہ السلام) کو دفن کیا گیا ان کے مال کو بیت المال میں جمع کرو اور ان کو سفید فیاطی میں کفن دیا گیا اور نماز پڑھ کر دفن کردیا گیا ۔ (ٕابوعبید)
35583- "مسند عمر" عن قتادة: لما فتحت السوس وعليهم أبو موسى الأشعري وجدوا دانيال في أتون إلى جنبه مال موضوع من شاء أتى فاستقرض منه إلى أجل فأتى به إلى ذلك الأجل وإلا برص، فالتزمه أبو موسى وقبله وقال: دانيال ورب الكعبة! ثم كتب في شأنه إلى عمر، فكتب إليه عمر أن كفنه وحنطه وصل عليه ثم ادفنه كما دفنت الأنبياء، وانظر ماله فاجعله في بيت مال المسلمين، فكفنه في قباطي بيض وصلى عليه ودفنه. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلیمان (علیہ السلام)
35584 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو عورتیں لیٹی ہوئی تھی ان کے ساتھ بچے بھی تھے ان پر بھیڑیا نے حملہ کردیا ایک عورت کے بچہ کو لے گیا جو بچہ بچ گیا اس کے متعلق فیصلہ کے لیے دونوں داؤد (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو انھوں نے بڑی کے لیے فیصلہ کردیا دونوں وہاں سے نکلین راستہ میں سلمان داؤد (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پوچھا کیا فیصلہ کیا تم دونوں میں ؟ صغری نے بتایا کبری کے حق میں فیصلہ ہوا ہے تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا ایک چھری لے کر تاکہ اس بچہ کو ٹکڑا کرکے تم دونوں میں تقسیم کروں تو صغری نے کہا نہیں یہ بچہ کبری کو دیدیں یہ اس کا بچہ ہے تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں بچہ تمہارا تم لیجاؤ یعنی جب بچہ پر اس کی شفقت کو دیکھا اس سے اندازہ لگالیا یہ اسی کا ہے ابوہریرہ (رض) نے کہا میں نے سکین کا لفظ اسی دن سنا ہے اس لیے ہم سکین کو مدیہ کہتے ہیں (عبدالرزاق)
35584- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بينما امرأتان نائمتان معهما ولداهما عدا الذئب عليهما فأخذ ولد إحداهما فاختصمتا إلى داود في الباقي، فقضى به للكبرى منهما، فخرجتا فلقيهما سليمان بن داود فقال: ما قضى بله الملك بينكما؟ قالت الصغرى:
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35585 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) اشترنخعی سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) ملک شام آئے تو منادی بھیجا کہ لوگوں میں اعلان کرے کہ نماز اور باب الجابیہ پر جماعت سے پڑھی جائے گی جب لوگوں نے صف بندی کرلی تو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ حمدوثناء بیان کیا جس کا وہ اہل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا جس ذکر کا وہ حقدار ہیں پھر ان سے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے جماعت علیحدہ رہنے والا شیطان ہے دوسرے لفظ میں شیطان کے ساتھی ہے حق اس کی بنیاد جنت میں ہے اور باطل اس کی بنیاد جہم میں ہے سن لو میرے صحابہ کرام (رض) تم میں سب سے بہتر ہیں ان کا اکرام کرو پھر وہ لوگ بہترین جن کا زمانہ صحابہ کے زمانہ سے متصل میں وہ لوگ جنکا زمائر تابعین سے متصل میں پھر جھوٹ قتل و قتال کا فتنہ کا ظاہر ہوگا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35585- "مسند عمر" عن الأشتر النخعي قال: لما قدم عمر بن الخطاب الشام بعث إلى الناس فنودوا أن الصلاة جامعة عند باب الجابية، فلما صفوا قام فحمد الله وأثنى عليه بما هو أهله وذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم بما يحق عليه ذكره ثم قال لهم: إن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إن يد الله على الجماعة والفذ من الشيطان - وفي لفظ: مع الشيطان - وإن الحق أصل في الجنة، وإن الباطل أصل في النار، ألا! وإن أصحابي خياركم فأكرموهم، ثم القرن الذين يلونهم، ثم القرن الذين يلونهم، ثم يظهر الكذب والهرج". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35586 ۔۔۔ زاذان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) ہمارے پاس جابیہ میں تشریف لائے ایک اونٹ پر سوار ہو کر ان پر فصوانی جبر تھا اور ہاتھ میں چھڑی فرمایا اے لوگو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمائے ہوئے سنا پھر روپرے پھر فرمایا میں نے اپنے حبیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اے لوگو تم پر لازم ہے میرے صحابہ کرام (رض) کا احترام کرنا پھر ان کے بعد تابعین کا پھر ان کا بعد تبع تابعین کا ان تین زمانوں کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں کوئی خبر نہ ہوگی بغیر مطالبہ کے گواہی دیں گے وہ قسم کے مطالبہ کے بغیر قسمیں کھائیں گے جس کو جنت کے بیچ میں اترنے میں خوشی ہو وہ جماعت کا ساتھ دے سن لواکیلا شخص شیطان ہے وہ شیطان دو کی جماعت سے دور بھاگتا ہے جس کو گناہ سے پریشانی ہو اور نیکی سے خوشی ہو وہ مومن ہے۔ (ابن عساکر)
35586- عن زاذان قال: قدم علينا عمر بن الخطاب بالجابية على بعير مقتب عليه عباءة قطوانية وبيده عنزة فقال: أيها الناس! إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ثم بكى، ثم قال: سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أيها الناس! عليكم بأصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثلاثة قرون، ثم يجيء قوم لا خير فيهم، يشهدون ولا يستشهدون، ويحلفون، ولا يستحلفون، من سره أن ينزل بحبوحة الجنة فعليه بالجماعة، ألا إن الواحد شيطان وهو من الاثنين أبعد، ومن ساءته سيئته وسرته حسنته فهو مؤمن". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35587 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ میرے صحابہ کرام (رض) کی مذمت کرنے سے روکتا ہوں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہیں اور ان کے متعلق اپنی کتاب میں خیر کا تذکرہ کیا ہے میری خاطر میرے صحابہ کرام (رض) کا لحاظ کرو کیونکہ مجھے ان کی وجہ سے اکثر فکر رہتی ہے لوگ مجھے اور بھی پھینکتے ہیں اور اپنے ساتھ ملاتے بھی ہیں لوگ مجھے جھٹلاتے بھی ہیں اور میری تکذیب بھی کرتے لوگ مجھ سے تال بھی کرتے ہیں اور میری مدد بھی کرتے ہیں پھر خاص طورپر انصار کا خیال رکھو اللہ تعالیٰ ان کو میری طرف سے بہترین بدلہ عطاء فرمائے کیونکہ وہ میرے لیے شعار میں تار نہیں ۔ (صحیح مسلم کتاب الزکوة)
35587- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أنهى عن أصحابي من شهد أني رسول الله أن يقول لهم سوءا وقد رضي الله عنهم وقال لهم في كتابه خيرا، ولكن احفظوني في أصحابي فإنهم أكثر همي، رفضني الناس وضموني، وكذبني الناس وصدقوني، وقاتلني الناس ونصروني، ثم لأنصار خاصة فجزاهم الله عني خيرا فإنهم الشعار دون الدثار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35588 ۔۔۔ براء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) یہ کو گالی مت دو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ان میں سے کسی کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کچھ دیر کا قیام تمہاری عمر بھر کی عبادت سے افضل ہے۔ (ٕرواہ ابن عساکر)
35588- عن البراء قال: لا تسبوا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوالذي نفسي بيده! لمقام أحدهم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل من عمل أحدكم عمره. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35589 ۔۔۔ ( مسند ابن مسعود (رض) ) میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ لوگوں میں افضل کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میرے زمانہ کے لوگ بھران کے بعد کے زمانہ والے پھر ان کے بعد کے زمانہ والے ۔ (ابونعیم فی المعرفہ)
35589- "مسند ابن مسعود" سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الناس أفضل؟ قال: " قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم ". "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل الصحابہ فصل فی فضلہم اجمالا
35590 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی ان میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منتخب فرمایا اپنی رسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اپنے علم کے لیے منتخب فرمایا اس کے بعد لوگوں کے دلوں پر دلوں پر نظر فرمایا پھر صحابہ کرام (رض) کو منتخب فرمایا ان کو دین کی مددگار اور نبی کے وزراء بنادئیے جس کو مسلمان اچھا سمجھتے میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھا ہے جس کو مسلمان قبیح سمجھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبیح ہے۔ (ابوداؤد طبالسی و ابونعیم)
35590- عن ابن مسعود قال: إن الله نظر في قلوب العباد فاختار محمدا صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه، ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختار له أصحابا فجعلهم أنصار دينه ووزراء نبيه، وما رآه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن، وما رآه المؤمنون قبيحا فهو عند الله قبيح. "ط وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35591 ۔۔۔ ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ۔ میں نے کہا یہ کتنا عمدہ کلام ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فرشتے موت کے وقت آپ سے کہیں گے ۔ (الحکیم)
35591- عن أبي بكر قال: قرئت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً} . فقلت: ما أحسن هذا يا رسول الله! فقال: " يا أبا بكر! أما إن الملك سيقولها لك عند الموت". "الحكيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35592 ۔۔۔ ابوجعفر سے روایت ہے کہ ابوبکر جبرائیل علیہ السلام کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سرگوشی کو سنتے تھے لیکن دیکھتے نہیں تھے۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف ابن عساکر)
35592- عن أبي جعفر قال: كان أبو بكر يسمع مناجاة جبريل للنبي صلى الله عليه وسلم ولا يراه. "ابن أبي داود في المصاحف، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35593 ۔۔۔ ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ غار نور کی رات کے بعد مجھے کسی چیز سے دریا دین بےمتعلق کوئی وحشت نہیں رہی کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب میری آپ اور دین پر خوف کھانے کو دیکھا تو آپ نے فرمایا اپنا غم ہلکار کھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کرنے کے اور اس کو مکمل کرنے کا وعدہ فرمایا۔ (رواہ ابن عساکر)
35593- عن أبي بكر قال: ما دخلني اشفاق من شيء ولا دخلني في الدين وحشة إلى أحد بعد ليلة الغار، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رأى إشفاقي عليه وعلى الدين قال لي: "هون عليك، فإن الله عز وجل قد قضى لهذا الأمر بالنصر والتمام". "ابن عساكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35594 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کے موت کا وقت قریب ہوا تو فرمایا : اے میری بیٹی تمہارا غنی ہونا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے نیز تمہارا نظر مجھ پر شاق ہے میں نے تمہیں عابہ کی زمین بیس وسق کھجور ھبہ کیا تا اگر تم اس کو توڑ لیتی وہ تمہاری ہوجاتی جب ایسا نہیں کیا اس میں تمام ورتہ کا حق ہوگیا وہ تمہارے دوبھائی اور دو بہنیں ہیں میں نے کہا وہ ام عبداللہ ہی ہے فرمایا ہاں خارجہ کی بیٹی جو حاملہ ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہوگی لہٰذا ان کے ساتھ حسن سلولک کرو ام کلثوم پیدا ہوئی۔ (عبدالرزاق ابن سعد ابن ابی شیبة بیہقی)
35594- عن عائشة قالت: لما حضرت أبا بكر الوفاة قال: أي بنية! إنه ليس أحد أحب إلي غنى منك، ولا أعز علي فقرا منك وإني قد كنت نحلتك جداد عشرين وسقا من أرضي التي بالغابة وإنك لو كنت حزتيه كان لك فإذا لم تفعلي إنما هو للوارث وإنما هما أخواك وأختاك، قلت: هل هي إلا أم عبد الله؟ قال: نعم، وذو بطن ابنة خارجة قد ألقي في نفسي أنها جارية فأحسنوا إليها، فولدت أم كلثوم. "عب وابن سعد، ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35595 ۔۔۔ قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے عائشہ (رض) سے فرمایا کہ اے بیٹی میں نے تمہیں خیبر کی کچھ کھجوریں عطیہ کی تھیں مجھے یہ خیال ہوا کہ میں نے تمہیں اوروں پر ترجیح دی ہے تم اس کو ابھی درخوں سے اتارا نہیں لہٰذا اس کو میرے بچوں کو لوٹا دو تو عرض کیا اباجان اگر خیبر میں کھجوریں اتری ہوئی بھی ہوتیں تب بھی اس کو واپس کردیتا۔ (عبدالرزاق)
35595- عن القاسم بن محمد أن أبا بكر قال لعائشة: يا بنية! إني نحلتك نخلا من خيبر وإني أخاف أن أكون آثرتك على ولدي وإنك لم تكوني حزتيه فرديه على ولدي، فقالت: يا أبتاه! لو كانت لي خيبر بجدادها لرددتها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی فضلیت
35596 ۔۔۔ افلح بن حمید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ مال جو عالیہ میں عائشہ (رض) کو عطیہ دیا گیا تھا وہ نبی نضیر کے مال میں سے حجر کا کنواں تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مال ابوبکر (رض) کو عطیہ دیا تھا اس کے بعد ابوبکر (رض) نے اس کو درست کیا اس میں پھر کھجور کے چھوٹے درخت اگائے ۔ (ابن سعد)
35596- عن أفلح بن حميد عن أبيه قال: كان المال الذي نحل عائشة بالعالية من أموال بني النضير بئر حجر كان النبي صلى الله عليه وسلم أعطاه ذلك المال فأصلحه بعد ذلك أبو بكر وغرس فيه وديا "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35597 ۔۔۔ مسروق سے روایت ہے کہ صہیب (رض) ابوبکر (رض) کے قریب سے گذرے تو ان سے اعراض کیا پوچھا کیا وجہ ہے تم نے مجھ سے اعراض کیا کیا تمہیں میری طرف شے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی ہے ؟ عرض کیا نہیں ایک میں نے آپ کے متعلق دیکھا اس کو میں نے ناپسند کیا پوچھا کیا خواب دیکھا عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے ہاتھ آپ کی گردن کے ساتھ بندی ہوئی ہے ایک انصاری کے دروازے پر جس کا نام ابوالحشر ہے ابوبکر (رض) نے اس سے کہا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا اللہ تعالیٰ نے میری دین کو قیامت تک کے لیے جمع فرمایا۔ (ابن ابی شیبة)
35597- عن مسروق قال: مر صهيب بأبي بكر فأعرض عنه فقال: ما لك أعرضت عني؟ أبلغك شيء تكرهه؟ قال: لا والله! لا رؤيا رأيتها لك كرهتها، قال: وما رأيت؟ قال: رأيت يدك مغلولة إلى عنقك على باب رجل من الأنصار يقال له أبو الحشر، فقال له أبو بكر: نعم ما رأيت! جمع الله لي ديني إلى يوم الحشر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35598 ۔۔۔ ابوالعالیہ رباحی سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) سے پوچھا گیا کیا آپ نے کبھی اور جاہلیت میں شراب پیا ہے تو فرمایا نہیں اللہ کی پناہ پوچھا گیا کیوں نہیں پیا فرمایا میں نے اپنی عزت بجانے مروت کی حفاظت کے لیے ایسا کیا کیونکہ جو بھی شراب بیتا ہے وہ اپنی عزت ومروت کو ضائع کردیتا ہے یہ خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو دو مرتبہ ارشاد فرمایا کہ ابوبکر نے سچ فرمایا ہے۔ (ابونعیم فی المعرفہ ابن عساکر)
35598- عن أبي العالية الرياحي قال: قيل لأبي بكر الصديق: هل شربت الخمر في الجاهلية؟ فقال: أعوذ بالله! فقيل له: ولم قال: كنت أصون عرضي وأحفظ مروءتي فإن من شرب الخمر كان مضيعا في عرضه ومروءته، قال: فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: صدق أبو بكر مرتين. "أبو نعيم في المعرفة، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35599 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے زمانہ نے جاہلیت یا اسلام میں کبھی شراب نہیں پیا۔ ( الدنیوری فی المجالسہ)
35599- عن عائشة قالت: ما شرب أبو بكر خمرا في الجاهلية ولا في الإسلام. "الدينوري في المجالسة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35600 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وقاص ہوا تو منافقین نے سرکشی کی عرب مرتد ہوگئے انصار الگ اکٹھے ہوئے میرے والدہر جو مصائب جمع ہوئے وہ اگر کسی پہاڑ پر گرنے تو پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے جہاں بھی کسی مسئلہ پر اختلاف میرے والد صاحب وہاں باندھ کرجائے اور فیصلہ فرمائے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دفن کا مسئلہ پیداہوکہاں دفن کیا جاءے کسی کے پاس اس کے متعلق علم نہیں تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمائے ہوئے سنا کہ ہر نبی کو اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں ان کا انتقال ہواپھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث کے متعلق اختلاف ہوا کسی کے پاس اس بارے میں علم نہیں تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم انبیاء کی جماعت ہمارے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی جو کچھ مال وہ جائے وہ صدہق ہوتا ہے۔ ( ابو القاسم البغوی و ابوبکر فی الفیلانیات ابن عساکر)
35600- عن عائشة قالت: لما توفي صلى الله عليه وسلم اشرأب ، النفاق وارتدت العرب وانحازت الأنصار، فلو نزل بالجبال الراسيات ما نزل بأبي لهاضها ، فما اختلفوا في نقطة إلا طار أبي بفنائها وفصلها، قالوا: أين يدفن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فما وجدنا عند أحد من ذلك علما، فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من نبي يقبض إلا دفن تحت مضجعه الذي مات فيه"، قالت: واختلفوا في ميراثه فما وجدوا عند أحد من ذلك علما، فقال أبو بكر، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إنا معشر الأنبياء لا نورث، ما تركنا صدقة". "أبو القاسم البغوي وأبو بكر في الغيلانيات، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35601 ۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوبکر (رض) سے کہا کہ لوگوں میں کسی شخص کی خبر خاہی تم سے زیادہ محبوب نہیں فرمایا تمہارے نفس سے بھی فرمایا بعض امور میں۔ (احمد بن زھد میں نقل کیا)
35601- عن الزهري قال: قال رجل لأبي بكر: ما أحد من الناس بعد نفسي أحب إلي صلاحا منك، فقال: ومن نفسك؟ قال: في بعض الأمور. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے متعلق
35602 ۔۔۔ عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے ذکر کیا ابوبکر درمنبر پر تھے کہ ابوبکر (رض) خبر کے کاموں میں سبقت کرنے والے آگے بڑھنے والے تھے۔ (ابن ابی شیبة وخیشمة الاطرابلوسی فی فضائل الصحابہ)
35602- عن عبد الله بن الزبير أن عمر بن الخطاب ذكر أبا بكر على المنبر فقال: إن أبا بكر كان سابقا مبرزا. "ش، حم فيه وخيشمة الأطرابلسي في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক: