কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫০৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جبل خلیل کا تذکرہ
35063 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبل خلیل مقدس ہے اور نبی اسرائیل میں جب فتنہ ظاہر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے دین کو لے کر جبل خلیل چلے جائیں۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت وضین بن عطاء مرسلا)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :2624، الضعیفہ :825)
35063- " جبل الخليل مقدس وإن الفتنة لما ظهرت في بني إسرائيل أوحى الله تعالى إلى أنبيائهم أن يفروا بدينهم إلى جبل الخليل. " ابن عساكر - عن الوضين بن عطاء مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35064 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہاں (بیت المقدس) آؤ اور وہاں نماز پڑھو ا گروہاں نہ جاسکو اور وہاں نماز نہ پڑھ سکو ! تو وہاں تیل بھیجو ! جس کے ذریعہ اس کی قدیلوں میں چراغ روشن کیا جاسکے۔ (احمدبن حنبل ابوداؤد بروایت میمونہ مولاة النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) انھوں نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتائیے ! (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگے راوی نے یہ حدیث ذکر کی۔
35064- "ائتوه فصلوا فيه، فإن لم تأتوه وتصلوا فيه فابعثوا بزيت يسرج في قناديله. " حم، د - عن ميمونة مولاة النبي صلى الله عليه وسلم" أنها قالت: يا رسول الله! أفتنا في بيت المقدس، قال - فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35065 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس اترو شاید اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی اولاد عطاء فرمائیں جو اس مسجد کی تعمیر کریں اس کی طرف صبح جائیں اور شام کو لوٹیں۔ (ابن سعدبروایت ذی الاصابع)
35065- "انزل بيت المقدس، ولعل الله يرزقك ذرية يعمرون ذلك المسجد يغدون إليه ويروحون." ابن سعد - عن ذي الأصابع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35066 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس کو لازم پکڑو ! شاید اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ایسی اولاد پیداکریں جو اس مسجد کی طرف صبح جائیں اور شام کو لوٹیں۔ (عم طبرانی، بغوی باوردی ابن قانع سمویہ ابن شاہین ابونعیم بروایت ذی الاصابع)
35066- "عليكم ببيت المقدس، فلعله أن ينشأ لكم ذرية يغدون إلى ذلك المسجد ويروحون. " عم، طب والبغوي والباوردي وابن قانع وسمويه وابن شاهين وأبو نعيم - عن ذي الأصابع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35067 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاملہ عن قریب لوٹے گا یہاں تک کہ تم جمع شدہ لشکر ہوگے ایک لشکر شام میں ایک لشکر یمن میں ایک لشکر عراق میں ابن حوالہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میرے لیے پسند کریں اگر میں یہ پالوں تو (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا : آپ شام کو لازم پکڑیں اس لیے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کی منتخب زمین ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو جمع فرماتے ہیں تم اگر انکار کروتو اپنے یمن کو لازم پکڑو اور اس کا باقی پانی پیو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (احمدبن حنبل ابوداؤد ، طبرانی ضیاء مقدسی بروایت عبداللہ بن حوالہ یہ حدیث رقم :25، 24 میں گذرچ کی ہے)
35067- "سيصير الأمر إلى أن تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق! قال ابن حوالة: خر لي يا رسول الله إن أدركت ذلك، قال: عليك بالشام، فإنها خيرة الله من أرضه يجتبي إليه خيرته من عباده، فإن أبيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم، فإن الله قد توكل لي بالشام وأهله. " حم، د؛ طب، ض - عن عبد الله بن حوالة" مر برقم - 35024 -
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35068 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے داؤد (علیہ السلام) سے فرمایا : زمین میں میرے لیئے ایک گھر بناؤ تو داؤد (علیہ السلام) اپنا ایک گھر بنایا اس گھرے بنائے سے پہلے جس کا اللہ نے حکم دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : اے داؤد میرے گھر سے پہلے آپ نے اپنا گھر بنایا ؟ انھوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! اسی طرح آپ نے اس میں فرمایا جس میں آپ نے فیصلہ کیا کہ جو اختیار والا ہوا اس نے ترجیح دی ، پھر اللہ نے مسجد بنانے کا حکم دیا جب چاردیواری پوری ہوگئی تو اس کی دوتہائی گرگئی پھر انھوں نے اس کی اللہ تعالیٰ سے شکایت کی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ یہ درست نہیں کہ آپ میرا گھر بنائیں انھوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! کیوں ؟ تو ( اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اس لیے کہ آپ کے ہاتھ سے بہت خون ہوئے ہیں عرض کیا : اے میرے رب کیا یہ تیری محبت اور تیری خواہش میں نہیں ہوئے فرمایا : کیوں نہیں ! لیکن وہ میرے بندے ہیں میں ان پر رحم کرتا ہوں تو یہ بات داؤد (علیہ السلام ) پر گراں گذری پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ غم گین نہ ہوں میں اس کی تعمیر میں شروع ہوگئے جب اس کی تعمیر پوری ہوگئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام ) نے کئی قربانیاں اللہ کے حضور پیش کیں اور کئی جانور ذبح کئے اور نبی اسرائیل کو جمع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی میں اپنے گھر کی تعمیر پر آپ کی خوشی دیکھ رہاہوں آپ مجھ سے مانگیں ! میں عطاء کروں گا تو انھوں نے عرض کیا : میں آپ سے تین چیزیں مانگتا ہوں فیصلہ جو آپ کے فیصلہ کے موافق ہو اور ایسی بادشاہت جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو اور جو اس گھر میں صرف نماز پڑھنے آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکلے (کہ وہ ) اس دن کی طرح ہو جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا ( گناہوں سے پاک) دعائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دیں اور میں یہ امید رکھتاہوں کہ تیسری دعا بھی ان کو دی ہوگی۔ ( طبرانی بروایت ارفع بن عمیر)۔ کلام :۔۔۔ طبرانی نے اس کو کبیر میں ذکر کیا اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید الرعی ہے جو وضع حدیث کے ساتھ متھم ہے۔
35068- "قال الله عز وجل لداود: ابن لي بيتا في الأرض، فبنى داود بيتا لنفسه قبل البيت الذي أمر به، فأوحى الله إليه: يا داود! نصبت بيتك قبل بيتي؟ قال: أي رب! هكذا قلت فيما قضيت: من ملك استأثر، ثم أمر ببناء المسجد، فلما تم السور سقط ثلثاه، فشكى ذلك إلى الله تعالى فأوحى الله تعالى إليه أنه لا يصلح أن تبني لي بيتا، قال: أي رب! ولم؟ قال: لما جرى على يديك من الدماء، قال: أي رب! أو لم يكن ذلك في هواك ومحبتك؟ قال: بلى ولكنهم عبادي وأنا أرحمهم، فشق ذلك عليه، فأوحى الله إليه: لا تحزن فإني سأقضي بناءه على يدي ابنك سليمان ولما مات داود أخذ سليمان في بنائه، فلما تم قرب القرابين وذبح الذبائح وجمع بني إسرائيل، فأوحى الله تعالى إليه: قد أرى سرورك ببنيان بيتي فاسألني أعطك، قال: أسألك ثلاث خصال: حكما يصادف حكمك، وملكا لا ينبغي لأحد من بعدي، ومن أتى هذا البيت لا يريد إلا الصلاة خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه، أما ثنتان فقد أعطيهما وأنا أرجو أن يكون قد أعطي الثالثة. " طب - عن رافع بن عمير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35069 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی تعمیر کرلی اس کی عمارت ٹھہر نہیں رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ نے اس میں وہ چیز داخل کردی جو اس میں نہ تھی تو انھوں نے اس کو نکالا تو عمارت ٹھہر گئی۔ (عقبلی ضعفاء بروایت بن کعب)
35069- " لما بنى سليمان بن داود بيت المقدس جعل لا يتماسك البنيان، فأوحى الله تعالى إليه: إنك أدخلت فيه ما ليس منه، فأخرجه فتماسك البنيان. " عق - عن أبي بن كعب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35070 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ارض المحشر والمنشر اچھی نماز پڑھنے کی جگہ ہے اور لوگوں پر ایسا وقت ضرور آئے گا کہ آدمی کو کوڑے کے برابر جگہ پسندیدہ ہوگی۔ یا (فرمایا) آدمی کی کمان کے برابر جگہ جہاں سے بیت المقدس کا ارادہ کرے اس کے لیے دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سے بہتریا (فرمایا) زیادہ پسندیدہ ہوگئی۔ (دیلمی بروایت ابوذر)
35070- " نعم المصلى أرض المحشر والمنشر؟ وليأتين على الناس زمان ولقيد سوط الرجل أو: قاب قوس الرجل من حيث يريد من بيت المقدس خير له أو أحب إليه من الدنيا وما فيها. " الديلمي - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35071 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مسجد اقصی سے حج یا عمرہ کا احرام باندھا تو وہ اس طرح ہوگیا کہ جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا۔ (عبدالرزاق بروایت ام سلمہ)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :5352
35071- " من أحرم بحج أو عمرة من المسجد الأقصى كان كيوم ولدته أمه. " عبد الرزاق - عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35072 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے مسجداقصی سے احرام باندھا تو اس کے دو گناہ معاف کردئیے گئے جو اس نے آگے کئے اور وہ گناہ جو پیچھے کئے۔ (بیہقی بروایت ام سلمہ)
35072- " من أهل من المسجد الأقصى غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. " هب - عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35073 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف حج یا عمرہ کا احرام باندھا تو اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے اور اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ (بیہقی بروایت ام سلم)
35073- "من أهل بالحج والعمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر له ماتقدم من ذنبه وما تأخر ووجبت له الجنة. " ق، هب - عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35074 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیت المقدس اور اس کے اردگرد بارہ میلوں تک مرجائے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کو روح آسمان دنیا میں قبض کی گئی ہو۔ (دیلمی بروایت ابوہریرہ)
35074- " من مات ببيت المقدس وما حولها باثني عشر ميلا كان بمنزلة من قبض في السماء الدنيا. " الديلمي - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35075 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بیت المقدس میں مراتو گویا کہ وہ آسمان میں مرا۔ (الابزار بروایت ابوہریرہ ترتیب الموضاعات :606 التنزیة :1272)
35075- " من مات في بيت المقدس فكأنما مات في السماء. " البزار - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عسیقلان
35076 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل مقبرہ پر رحم کرے ! یہ مقبرہ ہے جو عسقلان میں ہوتا ہے۔ (سعید بن منصور بروایت عطاء الخراسانی بلاغا)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3107 جنتر الموتاب :158 ۔
35076- "رحم الله أهل المقبرة؟ تلك مقبرة تكون بعسقلان. " ص - عن عطاء الخراساني بلاغا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عسیقلان
35077 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کے لیے خوشخبری ہو جس کو اللہ تعالیٰ ان دوعروسوں میں سے کسی ایک میں ٹھہرائے یعنی عسقلان یا غزہ میں (مسندالفردوس بروایت ابن ربیہ)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3237 ۔
35077- " طوبى لمن أسكنه الله تعالى إحدى العروسين: عسقلان أو غزة. " فر - عن ابن الزبير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35078 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ شام اور اہل شام کو لازم پکڑیں شام میں سے عسقلان کو لازم پکڑیں کیونکہ جب میری امت میں چکی گھومے گی توشام والے راحت اور عافیت میں ہوں گے ۔ (دارقطنی دیلمی بروایت ابن عباس)
35078- " عليك بالشام وأهله، ثم الزم من الشام عسقلان، فإنها إذا دارت الرحى في أمتي كان أهلها في راحة وعافية. " قط والديلمي -عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35079 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عسقلان دوعروس میں سے ایک ہے قیامت کے دن اس سے ستر ہزار لوگ اٹھائیں جائیں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور ان میں سے پچاس ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے جو جمع ہو کر اللہ کی طرف آئیں گے اور اس میں شہداء کی صفیں ہیں جن کے سر کاٹے ہوئے ان کے ہاتھوں میں ہوں گے ان کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے پروردگار آپ ہم سے وہ وعدہ پورا کریں آپ نے اپنے پیغمبروں سے کیا اور ہمیں رسوا نہ کریں قیامت کے دن بیشک آپ وعدہ کے خلاف نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندوں نے سچ کہا انھیں نہر بیضتہ سے غسل دو ۔ پھر وہ اس سے نکالیں گے اس طرح کہ سفیدصاف ستھرے ہیں ہر جنت میں جہاں وہ چاہیں گے چلیں جائے گا۔ (احمدبن حنبل بروایت انس علامة ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں لایا اور اس پر علامہ ابن حجر نے القول المسدد میں ذکر فرمایا اور اس حدیث کے شواہد ذکر کئے الاسرار الموفوعة :294 ترتیب المو ؟ ضعات :42
35079- "عسقلان إحدى العروسين: يبعث منها يوم القيامة سبعون ألفا لا حساب عليهم، ويبعث منها خمسون ألفا شهداء وفودا إلى الله؛ وبها صفوف الشهداء رؤوسهم مقطعة في أيديهم تثج أوداجهم دما يقولون: ربنا وآتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد، فيقول: صدق عبيدي اغسلوهم بنهر البيضة، فيخرجون منها نقيا بيضا فيسرحون في الجنة حيث شاؤا. " حم - عن أنس وأورده ابن الجوزي في الموضوعات ورد عليه ابن حجر في القول المسدد وذكر له شواهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35080 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے عسقلان میں ایک دن اور ایک رات پہرہ داری کی پھر وہ اس کے بعد ساٹھ سال میں ہر گیا تو وہ شہید مرے گا اگرچہ شرک کی زمین میں مراہو۔ (حمزہ تاریخ جرجانی ابن عساکر بروایت ابن امامہ)
35080- "من رابط بعسقلان يوما وليلة ثم مات بعد ذلك بستين سنة مات شهيدا وإن مات في أرض الشرك. " حمزة في تاريخ جرجان وابن عساكر - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الغوطة
35081 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا خیمہ ایسی زمین میں ہوگا جسے عوظہ کہا جاتا ہے جس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتاہی وہ اس دن مسلمانوں کی منزلوں میں سے بہتر منزل ہوگی ۔ (احمدبن حنبل بروایت ابوالدرداء)
35081- فسطاط المسلمين يوم الملحمة الكبرى بأرض يقال لها الغوطة فيها مدينة يقال لها دمشق خير منازل المسلمين يومئذ. " حم - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35082 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑے جنگ کے دن مسلمانوں کا خیمہ ایسی زمین میں ہوگا جسے غوظ کہا جاتا ہے جس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے وہ اس دن مسلمانوں کی منزلوں میں سے بہتر منزل ہوگی۔ (مستدرک حاکم تاریخ ابن عساکر بروایت ابن الدرداء)
35082- "يوم الملحمة الكبرى فسطاط المسلمين بأرض يقال لها الغوطة، فيها مدينة يقال لها دمشق خير منازل المسلمين يومئذ. " ك، كرعن أبي الدرداء".
তাহকীক: