কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫০৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35043 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ شام کو لازم پکڑیں کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں ( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ) اے تمام میرا ہاتھ تجھ پر ہے اے شام تو میرے شہروں میں سے میرا چنا ہوا شہر ہے میں تجھ میں اپنے بندوں میں سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو داخل کرتا ہوں تو میری سزاء کی تل اور ہے اور میرے عذاب کا لڑا ہے تو بہت زیادہ ڈرانے والا ہے اور تیری طرف ہی لوگ جمع ہوں گے۔ اور جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا میں نے ایک سفیدستون دیکھا گویا وہ موتی ہے اس کو فرشتے اٹھائے ہوئے تھے میں نے کہا تم نے کیا اٹھایا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : اسلام کا ستون ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کو شام کے ساتھ ملائیں اور اسی دوران میں سویا ہوا تھا تو میں نے ایک کتاب دیکھی میرے تکیہ کے نیچے سے اچک لی گئی تو میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں سے تخلیہ فرمایا ہے تو میں نے اپنی نظر اس کے پیچھے کیں تو وہ ایک نور تھا میرے سامنے چڑھ رہا تھا یہاں تک کہ اس کو شام میں میں رکھ دیا گیا جو شام جانے سے انکار کرے تو وہ اپنے یمن چلا جائے اور اس کو اس کا باقی سہا زندہ پانی پلایا جائے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (طبرانی تاریخ ابن عساکر بروایت عبداللہ بن حوالہ)
35043- "عليك بالشام؛ هل تدرون ما يقول الله؟ يا شام! يدي عليك، يا شام! أنت صفوتي من بلادي، أدخل فيك خيرتي من عبادي، أنت سيف نقمتي وسوط عذابي، أنت الأنذر وإليك المحشر،ورأيت ليلة أسري بي عمودا أبيض كأنه لؤلؤة تحمله الملائكة؛ قلت: ما تحملون؟ قالوا: عمود الإسلام، أمرنا أن نضعه بالشام، وبينا أنا نائم رأيت كتابا اختلس من تحت وسادتي فظننت أن الله تخلى من أهل الأرض فأتبعته بصري فإذا هو نور ساطع بين يدي حتى وضع بالشام، فمن أبى أن يلحق بالشام فليلحق بيمنه وليسق من غدره، فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله. "طب وابن عساكر - عن عبد الله ابن حوالة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35044 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے کتاب کا ستون دیکھا جو میرے تکیہ کے نیچے سے لیا گیا تو میں نے اس کے پیچھے اپنی نظر کی تو وہ ایک نور تھا جو چڑھا رہا تھا پھر اس اسے شام میں لے جایا گیا خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔ (طبرانی مستدرک حاکم، تمام ، تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عمرو)
35044- إني رأيت عمود الكتاب انتزع من تحت وسادتي فأتبعته بصري فإذا هو نور ساطع فعمد به إلى الشام، ألا! وإن الإيمان إذا وقعت الفتن بالشام. " طب، ك وتمام وابن عساكر - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35045 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی دوران کہ میں سو رہا تھا تو میں نے کتاب کا ستون دیکھا جو میرے سرکے نیچے سے اٹھایا کیا تو میں نے یہ گمان کیا کہ اس کو لے جایا گیا ہے (ختم کردیا گیا ہے) پھر میں نے اپنی نظر اس کے پیچھے کی تو اس کو شام میں لے جایا کیا تھا خبردار جس وقت فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔ (احمد بن حنبل طبرانی حلیة اولیاء بروایت ابودؤد)
35045- "بينا أنا نائم إذ رأيت عمود الكتاب احتمل من تحت رأسي فظننت أنه مذهوب به فأتبعته بصري فعمد به إلى الشام، ألا! وإن الإيمان حين تقع الفتن بالشام. " حم، طب، حل -عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35046 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے کتاب کا ستون دیکھاجو میرے تکیہ کے نیچے سے کھینچا کیا پھر اسے شام لے جایا گیا تو میں اس کی تاویل ملک سے کی۔ (مستدرک حاکم اور انھوں نے اس کو حسن کہا بروایت ابن عمر)
35046- "رأيت عمود الكتاب انتزع من تحت وسادتي فذهب إلى الشام فأولته الملك. " ك وحسنه - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35047 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نور کا ایک ستون دیکھا جو میرے سرکے نیچے چڑھ رہا تھا یہاں تک کہ شام میں نہر گیا۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت عمر)
35047- "رأيت عمودا من نور خرج من تحت رأسي ساطعا حتى استقر بالشام. " كر - عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35048 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اسی دوران اپنی نیند میں تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے تو انھوں نے میرے سرکے نیچے سے کتاب ستون اٹھایا پھر اس کو شام لے گئے خبردار ! جس وقت فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔ (احمدبن حنبل ، طبرانی، حلیة الاولیاء بروایت ابودوداء)
35048- "بينا أنا في منامي أتتني ملائكة فحملت عمود الكتاب من تحت رأسي فعمدت به إلى الشام، ألا! وإن الإيمان حين تقع الفتن بالشام. " حم، طب، حل - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35049 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس رات ایک سفید ستون دیکھاجب مجھے معراج پرلے جایا گیا، گویا وہ موتی ہے ، اس کو فرشتے اٹھائے ہوئے تھے، میں نے کہا : تم نے کیا اٹھایا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : اسلام کا ستون ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کو شام میں رکھ دیں اور اس دوران میں سویا ہوا تھا میں نے کتاب کا ستون دیکھا ، جو میرے تکیہ کے نیچے سے اٹھایا گیا ہے تو میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں سے تخلیہ فرمایا ہے میں نے اپنی نظر اس کے پیچھے کی تو وہ الگ نور تھا جو میرے سامنے چڑھ رہا تھا یہاں تک کہ اسے شام میں رکھ دیا گیا۔ (طبرانی بروایت عبداللہ بن حوالہ)
35049- "رأيت ليلة أسري بي عمودا أبيض كأنه لؤلؤة تحمله الملائكة، قلت: ما تحملون؟ قالوا: عمود الإسلام، أمرنا أن نضعه بالشام، وبينا أنا نائم رأيت عمود الكتاب اختلس من تحت وسادتي فظننت أن الله تخلى من أهل الأرض فأتبعته بصري فإذا هو نور ساطع بين يدي حتى وضع بالشام. " طب - عن عبد الله ابن حوالة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35050 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سر کے نیچے سے اسلام کا ستون سونتا گیا تو میں اس کی وجہ سے وحشت میں پڑگیا پھر میں نے اپنی نظر لگائی تو وہ شام کے درمیان نصب کیا جاچکا تھا پھر مجھ سے کہا گیا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شام کو منتخب فرمایا ہے اور آپ کے بندوں کے لیے سو اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے لیے عزت اور جمع ہونے اور رکاوٹ اور یاد (کا ذریعہ) بنایا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بہتری کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو شام میں ٹھہراتے ہیں اور شام سے اس کو اس کا حصہ دیتے ہیں اور جس کے ساتھ برائی کا ارادہ کریں تو اپنی ترکش سے جو شام میں ہے ایک تیر نکالتے ہیں پھر اس کو اس پر پھینک دیتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سلامت نہیں رہتا۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت عائشہ (رض))
35050- "سل عمود الإسلام من تحت رأسي فأوحشني، ثم رميت ببصري فإذا هو قد غرز في وسط الشام، فقيل لي: يا محمد! إن الله عز وجل قد اختار لك الشام ولعباده فجعلها لكم عزا ومحشرا ومنعة وذكرا، من أراد الله به خيرا أسكنه الشام وأعطاه نصيبه منها، ومن أراد به شرا أخرج سهما من كنانته وهي معلقة في وسط الشام فرماه بها فلم يسلم في دنيا ولا آخرة. " ابن عساكر - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35051 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت دمشق اور اس کے اردگرد کے دروازوں اور بیت المقدس اور اس کے ارد گرد کے دروازوں پر ہمیشہ قتال کرتی رہے گی ان کو ان لوگوں کی رسوائی کچھ نقصان نہیں دے گی جو ان کو رسواکریں قیامت کے قائم ہونے تک حق پر غالب رہیں گے ۔ (ابن عدی کامل عبدالجبار بن عبداللہ خویلدنی تاریخ دار یا تاریخ ابن عساکر بروایت ابوہریرة ذخیرة الحفاظ 6083)
35051- "لا تزال عصابة من أمتي يقاتلون على أبواب دمشق وما حولها وعلى أبواب بيت المقدس وما حولها، لا يضرهم خذلان من خذلهم ظاهرين على الحق إلى أن تقوم الساعة. " عد وعبد الجبار ابن عبد الله الخولاني في تاريخ داريا وابن عساكر - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35052 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت اللہ کے حکم پر ہمیشہ مضبوط رہے گی ان کے مخالفین ان کو کچھ نقصان نہیں دے سکیں گے اللہ کے دشمنوں سے قتال کرتے رہیں گے جب ایک لڑائی ختم ہوگی تو دوسرے لوگوں کی جنگ ظاہر ہوجائے گی اللہ تعالیٰ کئی قوموں کو بلند کریں گے اور قیامت قائم ہونے تک ان کو اس سے روزی دیں گے وہ شام والے ہوں گے۔ (حلیتہ الاولیاء بروایت ابوہریرة)
35052- "لا تزال عصابة من أمتي قائمة على أمر الله، لا يضرها من خالفها، تقاتل أعداء الله، فلما ذهبت حرب نشبت حرب قوم آخرين، ويرفع الله تعالى أقواما ورزقهم منه حتى تأتيهم الساعة، هم أهل الشام. " حل - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35053 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نے فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت حق پر ہمیشہ رہے گی اور ان پر غالب ہوگی جو ان کے دشمن ہوں گے اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی طرح ہوں گے یہاں تک اللہ کا حکم آجائے اور وہ لوگ اسی طرح ہوں گے عرض کیا گیا : وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ تو (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا : بیت المقدس کے اطراف میں ہوں گے۔ (طبرانی بروایت مرہ ہزں)
35053- "لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناوأهم كالإناء بين الأكلة حتى يأتي أمر الله وهم كذلك، قيل: وأين هم؟ قال: بأكناف بيت المقدس. " طب - عن مرة البهزي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35054 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت بیت المقدس اور اس کے اردگرد کے درازوں پر اور انظاکیہ اور اس کے اردگرد کے درواز پر اور (مشق اس کے اردگرد کے دروزوں پر قتال کرتی رہے گی حق پر غالب ہوگی ان لوگوں کی پروا نہیں کریں گے جو ان کو رسوا کریں اور نہ امان لوگوں کی جو ان کی مدد کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ طالقان سے اپنا خزانہ نکالیں گے پھر ان کے ذریعہ اپنے دین کو زندہ کریں گے جس طرح اس سے پہلے دین کو ختم کردیا گیا۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت ابوہریرة ، اور فرمایا : اس کی اسنا دغریب ہے اور اس کے الفاظ بہت غریب ہیں)
35054- "لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على أبواب بيت المقدس وما حولها وعلى أبواب أنطاكية وما حولها وعلى أبواب دمشق وما حولها وعلى أبواب الطالقان وما حولها ظاهرين على الحق لا يبالون من خذلهم ولا من نصرهم حتى يخرج الله كنزه من الطالقان فيحي بهم دينه كما أميت من قبل. " كر - عن أبي هريرة، وقال: إسناده غريب وألفاظه غريبة جدا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35055 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اللہ تعالیٰ ان پر پھینکنے کی جگہ ان کو پھینکیں گے اور وہ لوگ گمراہوں سے قتال کریں گے ان کو وہ لوگ نقصان نہیں پہنچاسکیں گے جو ان کی مخالفت کریں گے یہاں تک کہ یہ لوگ کانے دجال سے قتال کریں اور ان میں سے اکثر شام والے ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت ابودرداء)
35055- " لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق، يقذف الله بهم كل مقذف، يقاتلون فضول الضلالة، لا يضرهم من خالفهم حتى يقاتلوا الأعور الدجال، وأكثرهم أهل الشام. " كر - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35056 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر کے دس حصے ہیں نوحصے شام میں اور ایک حصہ باقی شہروں میں جب شام والے خراب ہوجائیں تو تم میں کوئی خیر نہیں۔ (الخطیب المتفق والمتفرق بروایت ابن عمرو اس کی سند میں خلیفہ دمشقی بروایت وضن بن عمار ہے ، احمد نے کہا : اس میں کوئی مزاج نہیں ، اور ان کے علاوہ نے اس کو کمزور قرار دیا ہے)
35056- " الخير عشرة أعشار: تسعة بالشام وواحد في سائر البلدان؛ والشر عشرة أعشار: واحد بالشام وتسعة في سائر البلدان، فإذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم. " الخطيب في المتفق والمفترق - عن ابن عمرو، وفيه أبو خليفة الدمشقي عن الوضين بن عطاء، قال أحمد: ما كان به بأس، ولينه غيره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35057 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب شام والے خراب ہوں تو تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عمرو)
35057- " إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم. " كر - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35058 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب شام والے خراب ہوجائیں تو تم میں کوئی خیر نہیں اور میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت منصور ہوگی قیامت کے قائم ہونے تک ان کو وہ لوگ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو ان کو ذلیل کریں۔ (احمد بن حنبل بن ابی شیبہ ترمذی حسن صحیح طبرانی ابن حبان بروایت معاویہ بن فرة عن ابیہ )
35058- " إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم، ولا تزال طائفة من أمتي منصورين، لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة. " حم،ش، ت: حسن صحيح، طب، حب - عن معاوية بن قرة عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنے کے وقت ایمان ملک شام میں
35059 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب شام والے ہلاک ہوجائیں تو میری امت میں کوئی خیر نہیں اور میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی یہاں تک کہ وہ دجال سے قتال کریں۔ (نعیم بن حمادفتن تاریخ ابن عساکر بروایت معاویہ بن قرة عن ابیہ)
35059- " إذا هلك أهل الشام فلا خير في أمتي، ولا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى يقاتلوا الدجال. " نعيم بن حماد في الفتن، كر - عن معاوية بن قرة عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجدالعشار من الاکمال
35060 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مسجدعشاء سے قیامت کے دن شہداء اٹھائیں گے بدر کے شہدوں کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی نہیں اٹھے گا۔ (ابوداؤد بروایت ابوہریرة)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :1684 ۔
35060- " إن الله يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم. " د - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس
35061 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس جمع کرنے اور پھیلانے کی زمین ہے اس میں آؤ اس میں نماز پڑھو اس لیے کہ اس میں ایک نماز اس کے علاوہ میں ایک ہزار نماز کی طرح ہے جو شخص اس کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ اس کے لیے تیل ہدیہ کرے جس سے اس میں چراغ جلایا جائے جس نے اس طرح کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اس میں نماز پڑھی۔ (ابن ماجہ طبرانی بروایت میمونہ)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :2345 الشذرة : 271
35061- " بيت المقدس أرض المحشر والمنشر! ائتوه فصلوا فيه، فإن صلاة فيه كألف صلاة في غيره فمن لم يستطع فيهدي له زيتا يسرج فيه فمن فعل ذلك فهو كمن أتاه فصلى فيه. " هـ - طب -عن ميمونة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس
35062 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بیت المقدس نہ جاسکے کہ اس میں نماز پڑھے تو وہ تیل بھیج دے جس کے ذریعہ اس میں چراغ جلایا جائے۔ (بیہقی بروایت میمونہ اسنی المطلب :1487)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :5835
35062- " من لم يأت بيت المقدس يصلي فيه فليبعث بزيت يسرج فيه. " هب - عن ميمونة".
তাহকীক: