কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫০৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35023 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک ہجرت کے بعد دوسری ہجرت ہوگی ، زمین والوں میں بہتر (وہ ہیں) جو ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کی جگہ کو ان میں سے لازم پکڑ نے والے ہیں زمین میں اس زمین والوں میں سے برے لوگ باقی رہیں گے جنہیں ان کی زمین پھینکے گی اللہ تعالیٰ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور ان کو آگ بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی مستدرک حاکم بروایت ابن عمرو۔۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3259، ضعیف ابوداؤد 534 ۔
35023- " ستكون هجرة بعد هجرة، فخيار أهل الأرض ألزمهم مهاجر إبراهيم، ويبقى في الأرض شرار أهلها تلفظهم أرضوهم وتقذرهم نفس الله وتحشرهم النار مع القردة والخنازير. " حم، د، ك - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35024 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاملہ پلٹے گا یہاں تک کہ تم جمع کئے بھرے لشکر ہوجاؤ گے ایک لشکر شام میں ایک لشکر یمن میں اور ایک لشکر عراق میں آپ شام کو لازم پکڑیں اس لیے کہ شام اللہ کی زمین میں سے اس کی پسندیدہ ہے جس کی طرف اللہ اپنے بندوں میں سے اپنے خاص لوگ چنتا ہے، اگر تم اس سے انکار کرو تو اپنے یمن کو لازم پکڑو اور اپنے باقی ماندہ پانی پیؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (احمدبن حنبل ابوداؤد بروایت عبداللہ بن حوالہ)
35024- " سيصير الأمر إلى أن تكونوا جنودا مجندة؛ جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق، عليك بالشام فإنها خيرة الله من أرضه يجتبي إليها خيرته من عباده؛ فإن أبيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم، فإن الله تعالى قد توكل لي بالشام وأهله. " حم، د - عن عبد الله بن حوالة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35025 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ربی لوگ (شام والے) حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے (مسلم بروایت سعد)
35025- " لا يزال أهل الغرب ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة. " م - عن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35026 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم شام پر کامیاب ہوجاؤگے اور اس پر غلبہ حاصل کرلوگے اور تم شام بیف بحر پر ایک قلعہ میں پہنچو گے جسے کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بارہ ہزار شہید اٹھائیں گے (طبرانی ابن عساکر بروایت ابوامامہ)
35026- " إنكم ستظفرون بالشام وتغلبون عليها وتصيبون على سيف بحرها حصنا يقال له أنفة، يبعث الله منه يوم القيامة اثني عشر ألف شهيد. " طب وابن عساكر - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35027 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام والے اور ان کی بیویاں اور ان کے اولاد اور ان کے غلام اور ان کی باندھیاں جزیرہ کے منتی تک اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والے ہیں ان میں جو بھی شہروں میں سے کسی شہر میں اترے گا تو وہ رباط میں ہوگا اور جو ان میں سرحدوں میں سے کسی سر حدپر اترے گا تو وہ جہاں میں ہوگا۔ (طبرانی ابن عساکر بروایت ابودرداء)
35027- "أهل الشام وأزواجهم وذراريهم وعبيدهم وإماؤهم إلى منتهى الجزيرة مرابطون في سبيل الله، فمن احتل منها مدينة من المدائن فهو في رباط، ومن احتل منها ثغرا من الثغور فهو في جهاد. " طب، وابن عساكر - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
35028 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم عنقریب جمع شدہ لشکر ہوگے ایک لشکرعراق میں ایک لشکر یمن میں سو تم شام کو لازم پکڑو اس لیے کہ وہ اللہ کے شہروں میں سے اس کا چنا ہواشہر ہے اور اس میں اس کے بندوں میں سے اس کے بہتر لوگ ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ اپنا نور باندھتے ہیں جو انکار کرے تو وہ اپنے یمن چلا جائے اور اس کا باقی ماندہ پانی پئیے کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے رہنے والوں کی ضمانت لی ہے۔ٕ(طبرانی مستدرک حاکم بروایت عبداللہ بن حوالہ)
35028- "إنكم ستكونون أجنادا مجندة، جند بالشام وجند بالعراق وجند باليمن، فعليكم بالشام فإنه صفوة الله من بلاده وفيها خيرته من عباده وفيها يربط الله نوره، فمن أبى فليلحق بيمنه وليسق من غدره فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله. " طب، ك - عن عبد الله بن حوالة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35029 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کا خیمہ جنگ میں غوطہ ہے جو ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے شام کے شہروں میں سے بہترین شہر ہے (تاریخ ابن عساکر بروایت جبیربن نضیر مرسلا)
35029- "فسطاط المسلمين في الملحمة الغوطة مدينة يقال لها دمشق خير مدائن الشام." كر - عن جبير بن نفير مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
345030 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم عنقریب مختلف لشکر پاؤ گے، ایک لشکر شام اور مصر اور عراق اور یمن میں صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے لیے پسند کرلیں تو (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا تم شام کو لازم پکڑو جو انکار کرے تو وہ یمن چلا جائے اور اپنا باقی ماندہ پانی پئیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی ضمانت لی ہے۔ (طبرانی بروایت ابودارداء)
35030- "إنكم ستجدون أجنادا، جند بالشام ومصر والعراق واليمن، قالوا: فخر لنا يا رسول الله! قال: عليكم بالشام، فمن أبى فليلحق بيمنه وليسق بغدره فإن الله قد تكفل لي بالشام. " طب - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35031 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب شام فتح ہوگا تو تم ایک شہر کو لازم پکڑو جسے مشق کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ شام کے شہروں میں بہتر ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے جنگوں سے لوٹنے کی جگہ ہے اور مسلمانوں کا خیمہ ایسی زمین میں ہے جسے غوطہ کہا جاتا ہے دجال سے مسلمانوں کی جائے پناہ بیت المقدس ہے اور یاجوج ماجوج سے ان کی پناہ گاہ طور ہے۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ)
35031- "إنها ستفتح الشام فعليكم بمدينة يقال لها دمشق، فإنها خير مدائن الشام وهي مقيل المسلمين من الملاحم، وفسطاط المسلمين بأرض فيها يقال لها الغوطة، ومعقلهم من الدجال بيت المقدس، ومعقلهم من يأجوج ومأجوج الطور. " كر - عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35032 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار ! عنقریب تم پر شام فتح کیا جائے گا تو تم ایک شہر کو لازم پکڑو ! جسے دمشق کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ شام کے شہروں میں سے بہتر ہے اور مسلمانوں کا خیمہ اس شام کی ایک ایسی زمین میں ہے جیسے غوظ کہا جاتا ہے اور وہی مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے۔ (ابن النجار بروایت عبدالرحمن بن حبیر بن نفیر عن ابیہ)
35032- "ألا! إنها ستفتح عليكم الشام فعليكم بمدينة يقال لها دمشق فإنها خير مدائن الشام، وفسطاط المؤمنين بأرض منها يقال لها الغوطة وهي معقلهم. " ابن النجار - عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35033 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب تم پر دنیا فتح کی جائے گی سو جب تمہیں مختلف منزلوں کا اختیار دیا جائے تو تم ایک ایسے شہر کو لازم پکڑ و ! جسے دمشق کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ جنگوں سے مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے اور جنگوں میں خیمہ اس شام ایسی زمین میں ہے جسے غوظ کہا جاتا ہے۔ (احمدبن حنبل بروایت ایک صحابی)
35033- "ستفتح عليكم الدنيا، فإذا خيرتم المنازل فعليكم بمدينة يقال لها دمشق، فإنها معقل المسلمين من الملاحم، وفسطاطها منها بأرض يقال لها الغوطة. " حم - عن رجل من الصحابة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35034 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! عنقریب تم جمع شدہ لشکر ہوگے ایک لشکر شام میں اور ایک لشکر عراق میں اور ایک لشکر یمن میں ابن حوالہ نے عرض کیا : آپ پسند کرلیں (ہمارے لئے) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آپ کے لیے شام کو پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ مسلمانوں کے بہتر اور اللہ کے شہروں میں سے اس کا چنا ہواشہر ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنی چنی ہوئی مخلوق کو جمع کرتا ہے جو انکار کرے تو اپنے یمن چلا جائے اور اس کا باقی ماندہ پائی پئیے ! اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی ضمانت دی ہے (طبرانی بروایت عرباض)
35034- "أيها الناس! يوشك أن تكونوا أجنادا مجندة جند بالشام وجند بالعراق وجند باليمن، قال ابن حوالة: اختر، قال: إني أختار لك الشام، فإنه خيرة المسلمين وصفوة الله من بلاده يجتبي إليه صفوته من خلقه، فمن أبي فليلحق بيمنه وليسق من غدره، فإن الله تعالى قد تكفل لي بالشام. " طب - عن العرباض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35035 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پارلشکر ہوگئے تو تم شام کو لازم پکڑو ! اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی ضمانت دی ہے (بیہقی تاریخ ابن عساکر بروایت ابوطلحہ دلانی اور ان کا نام دریا ہے)
35035- "تكون جنود أربعة فعليكم بالشام، فإن الله قد تكفل لي بالشام. " هب، كر - عن أبي طلحة الخولاني، واسمه درع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35036 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت پر میرے بعد جلدی شام فتح ہوگا سو جب وہ فتح ہوجائے اور (لوگ) اس میں اتریں توشام والے جزیرہ کی منتہیٰ تک مرابط ہوں گے ان کے مردہ اور ان کے بچے اور ان کی عورتیں اور ان کے غلام جو کوئی ان ساحلوں میں سے کسی ساحل پر اترے تو وہ جہاد میں ہے اور جو بیت المقدس اور اس کے اردگرد اترے تو وہ رباط میں ہے (تاریخ ابن عساکر بروایت ابودرداء الضعیفہ :1548)
35036- "ستفتح على أمتي من بعدي الشام وشيكا، فإذا فتحها واحتلها فأهل الشام مرابطون إلى منتهى الجزيرة رجالهم وصبيانهم ونساؤهم وعبيدهم، فمن احتل ساحلا من تلك السواحل فهو في جهاد، ومن احتل ببيت المقدس وما حوله فهو رباط. " كر - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دمشق کا تذکرہ
35037 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دارالاسلام کی اصل شام میں ہے شام کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے منتخب لوگوں کو لائے ہیں اس کی طرف مرحوم ہی آتا ہے اور اس سے فتنہ میں پڑا ہوا شخص بھی اعراض کرتا ہے اور اس پر سائے اور بارش کے ذریعہ زمانہ کے پہلے دن سے زمانہ کے آخر دن تک اللہ کا ہاتھ ہے اگر ان کو مال عاجز کردے تو ان کو بہتری اور پانی عاجز نہ کرے۔ (نعیم بن حمادفتن بروایت کثیر بن مرة مرسلا)
35037- "عقر دار الإسلام بالشام، يسوق الله إليها صفوته من عباده، لا ينزع إليها إلا مرحوم، ولا يرغب عنها إلا مفتون، وعليها يمين الله من أول يوم من الدهر إلى آخر يوم من الدهر بالظل والمطر، فإن أعجزهم المال لا يعجزهم الخير والماء. " نعيم بن حماد في الفتن - عن كثير بن مرة مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35038 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب فتنے ہوں گے عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا : تم شام کو لازم پکڑو۔ (ترمذی حسن صحیح تمام تاریخ ابن عساکر بروایت ابن حکیم عن ابیہ عن جدہ )
35038- "ستكون فتن، قيل: يا رسول الله! فما تأمرنا؟ قال: عليكم بالشام. " ت: حسن صحيح، وتمام وابن عساكر - عن بهز ابن حكيم عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35039 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب ایک لشکر شام میں اور ایک لشکر یمن میں ہوگا ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میرے لیے پسند کرلیں ! تو ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا آپ شام کو لازم پکڑیں ! آپ شام کو لازم پکڑیں ! آپ شام کو لازم پکڑیں جو انکارکرے تو وہ اپنے یم چلا جائے اور اس کا باقی پانی پیئے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (احمدبن حنبل ابن حبان طبرانی مستدرک حاکم سعید بن منصور بروایت عبداللہ بن حوالہ)
35039- "سيكون جند بالشام وجند باليمن، قال رجل: فخر لي رسول الله! قال: عليك بالشام، عليك بالشام، عليك بالشام، فمن أبى فليلحق بيمنه وليسق من غدره، فإن الله تبارك وتعالى قد تكفل لي بالشام وأهله. " حم، حب، طب، ك، ص - عن عبد الله بن حوالة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35040 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر جب عمارت (تک) پہنچ جائے تو آپ اس سے نکلیں شام کی طرف اور میں آپ کے امیروں کے بارے میں ہی خیال کرتا ہوں کہ وہ آپ کے درمیان اور اس کے درمیان حائل ہوں گے تو انھوں نے عرض کیا : تو میں اپنی تلوارلوں گا پھر اس کے ذریعہ ماروں گا ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! لیکن آپ سنیں اور بات مانیں اگرچہ (امارت) حبشی غلام کی ہی ہو۔ (مستدرک حاکم، بیہقی دلائل تاریخ ابن عساکر بروایت ابوذر)
35040- "يا أبا ذر! إذا بلغ البناء سلعا فاخرج منها نحو الشام، ولا أرى أمراءك إلا يحولوا بينك وبين ذلك؛ قال: فآخذ
سيفي فأضرب به؟ قال: لا ولكن تسمع وتطيع ولو لعبد حبشي. " ك، هق في الدلائل وابن عساكر - عن أبي ذر".
سيفي فأضرب به؟ قال: لا ولكن تسمع وتطيع ولو لعبد حبشي. " ك، هق في الدلائل وابن عساكر - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35041 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ دیکھیں کہ عمارت سلع تک پہنچ گئی تو آپ شام میں جہاد کریں ! اگر اس کو طاعت نہ ہو تو (حاکم کی بات) سنیں اور فرمان برداری کریں۔ (ابن مسندہ تاریخ ابن عساکر بروایت ابواسید انصاری ابن عساکر فاغن یعنی راقم (اقامت کریں) فرمایا : اور ایک روایت میں ہے اور آپ شام میں جائیں لوگ کئی لشکروں میں جمع کئے جائیں گے ایک لشکر یمن میں اور ایک لشکر شام میں اور ایک لشکر مشرق میں اور ایک لشکر مغرب میں تم شام کو لازم پکڑو کیونکہ وہ اللہ کے شہروں میں سے اس کا چنا ہواشہر ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے چنے ہوئے بندوں کو لاتے ہیں تم شام کو لازم پکڑ، ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے جو انکار کرے تو اپنے یمن چلا جائے۔ (طبرانی بروایت واثلہ)
35041- "إذا رأيت البناء قد بلغ سلعا فاغز بالشام، فإن لم تستطع فاسمع وأطع. " ابن منده، كر - عن أبي أسيد الأنصاري، وقال كر: فاغن يعني أقم، قال: وفي رواية: والحق بالشام تجند الناس أجنادا جند باليمن وجند بالشام وجند بالمشرق وجند بالمغرب، عليكم بالشام فإنها صفوة الله من بلاده يسوق إليها صفوته من عباده، عليكم بالشام فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله، فمن أبى فليلحق بيمنه. "طب عن واثلة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے زمانہ میں ملک شام میں پناہ
35042 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام میں ایک لشکر ہوگا اور عراق میں ایک لشکر اور یمن میں ایک لشکر تو ایک شخص کیا اے اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میرے لیے پسند کریں۔ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ) فرمایا آپ شام کو لازم پکڑیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (طبرانی بروایت عبداللہ بنی زید)
35042- "يكون بالشام جند وبالعراق جند، وباليمن جند؛ فقال رجل: يا رسول الله! خر لي، فقال: عليك بالشام فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله. " طب - عن عبد الله بن زيد".
তাহকীক: