কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫০১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35003 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین مسجدوں کی طرف ہی سفر کیا جاسکتا ہے کعبہ کی مسجد اور میری مسجد اور ایلیاء کی مسجد (مسجداقصی) اور میری مسجد میں نماز کعبہ کی مسجد کے علاوہ اور مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے اللہ کے ہاں زیادہ محبوب ہے (بیہقی بروایت ابوہریرة)
35003- "إنما يسافر إلى ثلاثة مساجد: مسجد الكعبة ومسجدي ومسجد إيلياء، والصلاة في مسجدي أحب إلى الله من ألف صلاة في غيره إلا مسجد الكعبة. " ق، عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35004 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ عزوجل نے فرمایا : جو شخص میرے گھر میں یا میرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں یا بیت المقدس میں میری زیارت کرے پھر وہ میر جائے تو وہ شہید مرے گا (دیلمی بروایت انس)
35004- " قال الله عز وجل: من زارني في بيتي أو مسجد رسولي أو في بيت المقدس فمات مات شهيدا. " الديلمي - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35005 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں مرجائے تو وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ (طبرانی اوسط بروایت جابرالتعقبات :25)
35005- "من مات في أحد الحرمين بعث آمنا يوم القيامة. " طس - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35006 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو حرمین میں سے کسی ایک میں مرجائے تو اس نے میری شفاعت کو حاصل کرلیا اور وہ قیامت کے دن امن والے لوگوں میں سے ہوگا۔ (طبرانی، بیہقی اور انھوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے بروایت سلمان التعقبات :25 التزیة :1732)
35006- "من مات في أحد الحرمين استوجب شفاعتي وكان يوم القيامة من الآمنين. " طب، هب وضعفه - عن سلمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35007 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں مرجائے تو وہ قیامت کے دن امن والے لوگوں میں سے اٹھایا جائے گا اور جس نے ثواب کی امید سے مدینہ میں میری زیارت کی تو وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہوگا۔ (بیہقی بروایت انس)
35007- "من مات في أحد الحرمين بعث من الآدميين يوم القيامة، ومن زارني محتسبا في المدينة كان في جواري يوم القيامة. " هب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35008 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حرمین میں سے کس ایک میں مرا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو امن کی حالت میں اٹھائے گا۔ (ابونعیم معرفہ بروایت محمد بن قیس بن فخرمہ اور انھوں نے اس کو مرسلا روایت کیا ہے اور محمد تابعی ہیں)
35008- " من مات في أحد الحرمين بعثه الله يوم القيامة آمنا. " أبو نعيم في المعرفة - عن محمد بن قيس بن مخرمة، وجعله مرسلا ومحمد تابعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرمین اور مسجد اقصیٰ کی فضلیت۔۔۔ من الاکمال مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سفر
35009 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حج یا عمرہ کرتے ہوئے حرمین کے درمیان مرگیا تو اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن اس طرح اٹھائیں گے کہ نہ اس پر حساب ہوگا نہ عذاب ہوگا اور جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو میری وفات کے بعد میرا پڑوسی ہوا وہ ایسا ہے کہ گویا وہ میری زندگی میں میرا پڑوسی ہوا اور جو مکہ میں مراتو گویا وہ دنیاوی آسمان میں مرا اور جس نے زمزم کا پانی پیا توزمزم کا پانی اس کے لیے وہی فائدے دے گا جس کے لیئے پیا گیا اور جس نے حجرا سود کا بوسہ دیا اور اس کا استلام کیا تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن پوری پوری گواہی دے گا اور جس نے بیت اللہ کے اردگرد سات چکرلگائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر چکرکے بدلے اولاد اسماعیل کے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دیں گے اور جس نے صفامردہ کے درمیان دوڑ لگائی (سعی کی) تو اللہ تعالیٰ اس قدموں کو اس دن جمائے گا جس دن بہت سے قدم پھسل جائیں گے (دیلمی بروایت ابن عمر اور اس کی سنہ میں احمد بن صالح ہے جس کے بارے میں ابن حجر نے فرمایا کہ یہ مناکیر میں سے ہے)
35009- "من مات بين الحرمين حاجا أو معتمرا بعثه الله عز وجل يوم القيامة لا حساب عليه ولا عذاب، ومن زارني بعد موتي فكأنما زارني في حياتي، ومن جاورني بعد موتي فكأنما جاورني في حياتي، ومن مات بمكة فكأنما مات بالسماء الدنيا، ومن شرب ماء زمزم فماء زمزم لما شرب له، ومن قبل الحجر واستلمه شهد له يوم القيامة بالوفاء، ومن طاف حول بيت الله أسبوعا أعطاه الله بكل طواف عشر نسمات من ولد إسماعيل عتاقة، ومن سعى بين الصفا والمروة ثبت الله قدميه على الصراط يوم تزل فيه الأقدام. " الديلمي - عن ابن عمر، وفيه أحمد بن صالح السموي، قال ابن حجر: هذا من مناكيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ میں موت کی فضیلت
35010 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حرمین میں سے کسی ایک مکہ یا مدینہ میں مرے تو وہ امن کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ (ابن عدی کامل ابوالشیخ بیہقی بروایت جابر ، التھائی 41 ذخیرة الحفاظ :5582)
35010- "من مات في أحد الحرمين مكة أو المدينة بعث آمنا. " عد وأبو الشيخ، هب - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ میں موت کی فضیلت
35011 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف تین مسجدوں کی طرف ہی سفر کیا جاسکتا ہے مسجد حرام مدینہ کی مسجدنبوی اور بیت المقدس کی مسجد۔ (طبرانی بروایت ابن عمر)
35011- " لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام ومسجد المدينة ومسجد بيت المقدس. " طب - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشام
35012 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے شہروں میں سے اللہ کا چنا ہوا (شہر) شام ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے خاص (بندوں) کو چن لیتے ہیں جو شخص شام سے کس دوسرے شہر کی طرف نکلے گا تو (وہ ) ( اللہ کے) غصہ کے ساتھ ہوگا اور جو اس میں دوسرے شہر سے داخل ہوگا تو (وہ ) ( اللہ کی) رحمت کے ساتھ ہوگا (طبرانی مستدرک حاکم بروایت ابوامامہ اسنی المطالب 799)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3425 ۔
35012- " الشام صفوة الله من بلاده، إليها يجتبي صفوته من عباده، من خرج من الشام إلى غيرها فبسخطة؛ ومن دخلها من غيرها فبرحمة. " طب، ك - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشام
35013 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام محشر اور منشر کی زمین ہے۔ (ابوالحسن بن شجاع ربعی فضائل الشام بروایت ابوذر)
35013- "الشام أرض المحشر والمنشر. " أبو الحسن بن شجاع الربعي في فضائل الشام - عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشام
35014 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام والی زمین میں اللہ کے کوڑے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہتے ہیں بدلہ لیتے ہیں اور ان شام والوں میں منافقین پر حرام ہے کہ وہ ان کے مسلمانوں پر غالب آجائیں اور یہ کہ وہ غم اور تکلیف اور غیظ وغضب اور حزن وملال کے بغیر مرجائیں (احمدبن حنبل ابویعلی طبرائی ضیاء مقدسی بروایت خریم بن ماتک) کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :2106، اضعیف :13)
35014- "أهل الشام سوط الله تعالى في الأرض، ينتقم بهم ممن يشاء من عباده، وحرام على منافقيهم أن يظهروا على مؤمنيهم وأن يموتوا إلا هما وغما وغيظا وحزنا. " حم، ع؛ طب والضياء - عن خريم بن فاتك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشام
35015 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی زمین اس کو پسندیدہ زمین شام ہے اور اس میں اس کی مخلوق اور اس کے بندوں میں سے اس کے خاص لوگ ہیں اور لوگوں کی ایک جماعت میری امت میں سے جنت میں بغیر حساب اور عذاب کے ضرور داخل ہوگی۔ (طبرانی بروایت ابومامة المغید :83)
35015- " صفوة الله من أرضه الشام، وفيها صفوته من خلقه وعباده، وليدخلن الجنة من أمتي ثلة لا حساب عليهم ولا عذاب. "طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشام
35016 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام کے لیے خوشخبری ہو (کیونکہ) رحمن ان پر ایسی رحمت پھیلائے ہوئے ہیں۔ (طبرانی بروایت زید بن ثابت)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3634 ۔
35016- " طوبى للشام! إن الرحمن لباسط رحمته عليه. " طب - عن زيد بن ثابت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35017 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام کے لیے خوشخبری ہو اس لیے کہ رحمن کے فرشتے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ (احمدبن حنبل ترمذی مستدرک حاکم بروایت زید بن ثابت )
35017- " طوبى للشام! لأن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليه. " حم، ت، ك - عن زيد بن ثابت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35018 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام میں دارالاسلام کی اصل ہے (طبرانی بروایت سلمہ ابن نفیل)
35018- "عقر دار الإسلام بالشام. " طب - عن سلمة ابن نفيل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35019 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم شام کو لازم پکڑو (طبرانی بروایت عادیہ بن حیدہ)
35019- "عليكم بالشام. " طب - عن معاوية بن حيدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35020 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم شام کو لازم پکڑو ! کیونکہ وہ اللہ کے شہروں میں سے خاص ہے جس میں اللہ کی مخلوق میں سے جس کے چینے ہوئے ہیں جو شام جانانہ چاہے تو وہ اپنے یمن چلا جائے اور اس کا باقی ماندہ پانی پیئے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی ضمانت دی ہے۔ (طرانی بروایت واثلہ اسنی المطالب :915)
35020- " عليكم بالشام فإنها صفوة بلاد الله يسكنها خيرته من خلقه، فمن أبى فليلحق بيمنه وليسق من غدره 2 فإن الله عز وجل تكفل لي بالشام وأهله. " طب - عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35021 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ شام میں ایک شہر جسے حمص کہا جاتا ہے قیامت کے دن (اس سے) ستر ہزار (لوگ ) اٹھائیں گے جن پر نہ حساب ہوگا نہ عذاب ۔ (احمد بن حنبل طبرانی مستدرک حاکم بروایت عمر)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :4869، الکشف الالہی :724 ۔
35021- " ليبعثن الله تعالى من مدينة بالشام يقال لها حمص سبعين ألفا يوم القيامة لا حساب عليهم ولا عذاب، مبعثهم فيما بين الزيتون والحائط في البرث الأحمر منها. " حم، طب، ك - عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک شام کی فضیلت
35022 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام والوں کو برانہ کہو اس لیے کہ ان میں ابدال ہیں (طبرانی اوسط بروایت علی الاتقان :2282)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :6223 ۔
35022- " لا تسبوا أهل الشام فإن فيهم الأبدال. " طس - عن علي".
tahqiq

তাহকীক: