কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৪৭৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34783 ۔۔۔ رسول اللہ نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے جب زمزم پر اپنی ایڑی ماری تو اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کنکریاں جمع کرتے لگیں اللہ تعالیٰ حاجرہ پر رحم فرمائے یا (فرمایا) اسماعیل (علیہ السلام ) کی والدہ اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں تو وہ بہتا ہوا چشمہ ہوتا (احمد بن حنبل نسائی ابوالقاسم البغوی المعجم اور انھوں نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے سعد بن منصور بروایت ابن عباس بروایت ابن بن کعب) ۔
34783- " إن جبريل لما ركض زمزم بعقبه جعلت أم إسماعيل تجمع البطحاء، رحم الله هاجر - أو أم إسماعيل - لو تركتها كانت عينا معينا. " حم، ن وأبو القاسم البغوي في معجمه وقال: غريب، ص من حديث ابن عباس - عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34784 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمزم کا پانی ہراس چیز کے لیے ہے جس کے لیے پیا جائے۔ اگر شفاء کے لیے پیا جائے تو اللہ تعالیٰ شفا عطا فرماتے ہیں اور شکم سیری کے لیے پیا جائے تو پیٹ بھر جاتا ہے اور پیاس بجھانے کے لیے پیا جائے توپیاس ختم ہوجاتی ہے اور جبرائیل (علیہ السلام ) کی ایڑی لگانے سے ہے اور اسماعیل (علیہ السلام) کے پینے کے لئے۔ (الدیلمی بروایت ابن عباس)
34784- " ماء زمزم لما شرب له، إن شربته لتستشفي به شفاك الله؛ وإن شربته ليشبعك أشبعك الله، وإن شربته ليقطع ظمأك قطعه الله، وهي هزمة جبريل وسقيا إسماعيل. " الديلمي - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34785 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمزم کا پانی اس چیز کے لیے فائدہ مند ہے جس کے لیے پیا جائے اگر آپ اس لیے پیئیں گے کہ اس کے ذریعہ شفاء حاصل ہو تو آپ کو اللہ تعالیٰ شفاء دیں گے اور اگر اس لیے پئیں کہ آپ شکم سیر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو شکم سیر کریں گے اور اگر آپ اس لیے پئیں کہ آپ کی پیاس ختم ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ختم کردیں گے (مستدرک حاکم بروایت ابن عباس یہ حدیث 34775 میں گذر چکی ہے)
34785- "ماء زمزم لما شرب له، فإن شربته تستشفي به شفاك الله، وإن شربته مستعيذا أعاذك الله، وإن شربته ليقطع ظمأك قطعه. " ك - عن ابن عباس". مر برقم - 34775 -
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال میں سے حاجیوں کو پانی پلانے کا ذکر
34786 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہیں وہ چیز دے رہا ہوں جو تمہارے لیے بہتر ہے اس میں سے اپنے خوشگوار پانی سے پانی پلانا ہے اور تم اس میں سستی نہ کرو (ابن سعد مستدرک حاکم بروایت علی) راوی نے کہا : میں نے : عباس (رض) سے کہا : آپ ہمارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کعبہ کی دربانی مانگ لیں تو انھوں نے کہا راوی نے آگے یہ حدیث ذکر کی۔
34786- "أعطيكم ما هو خير لكم، منها السقاية بروائكم ولا تزروا بها " ابن سعد، ك - عن علي" قال قلت للعباس: سل لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الحجابة، فسأله، قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال میں سے حاجیوں کو پانی پلانے کا ذکر
34787 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کام کرتے رہو ! کیونکہ تم نیک کام پر ہو اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں تم میں اترتا یہاں تک کہ میں اس پر رکھتا یعنی گردن پر (اس کام سے مراد پانی پلانا ہے زمزم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اس کی خواہش کا اظہار کیا۔ )(احمد بن حنبل بخاری بروایت ابن عباس) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمزم پر تشریف لائے اور وہ لوگ پانی پلا رہے تھے اور کام کررہے تھے تو فرمایا راوی نے آگے یہ حدیث ذکر کی۔
34787- "اعملوا فإنكم على عمل صالح، لولا أن تغلبوا لنزلت حتى أضع الحبل على هذه - يعني عاتقه. " حم، خ - عن ابن عباس" أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي زمزم وهم يسقون ويعملون فيها قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال میں سے حاجیوں کو پانی پلانے کا ذکر
34788 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نیک کام کررہے ہو ؟ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور تمہارے ساتھ پانی نکالتا (ابن سعد بروایت مجاہد) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمزم پر تشریف لائے اور فرمایا اس سے میرے لیے ایک ڈول نکالو ! پھر فرمایا : راوی نے آگے یہ حدیث ذکر کی ۔
34788- "إنكم لعلى عمل صالح؛ لولا أن تغلبوا عليه لنزلت فنزعت معكم. " ابن سعد - عن مجاهد" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى زمزم فقال: استقوا لي منها دلوا ثم قال - فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال میں سے حاجیوں کو پانی پلانے کا ذکر
34789 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنوعبدالمطلب پانی نکالتے رہو اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ تمہارے پلانے پر غالب آجائیں تو میں خود تمہارے ساتھ نکلتا (مسلم ابوداؤد ابن ماجہ بروایت جابر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنوعبدالمطلب کے پاس اور وہ زمزم پر پانی پلا رہے تھے تو فرمایا۔ راوی نے آگے یہ حدیث ذکر کی ۔ (طبرانی بروایت ابوالطفیل)
34789- "انزعوا بني عبد المطلب! فلولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم. " م د، هـ - عن جابر" أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بني عبد المطلب وهم يسقون على زمزم قال - فذكره. "طب - عن أبي الطفيل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال میں سے حاجیوں کو پانی پلانے کا ذکر
34790 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ اس کو (پانی زمزم سے پلانے کو) عبادت بنالیتے اور تم پر غالب آجائے تو میں تمہارے ساتھ پانی نکالتا (احمدبن حنبل بروایت ابن عباس) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی پلانے کی جگہ تشریف لائے تو فرمایا۔ راوی نے آگے یہ حدیث ذکر کی۔
34790- "لولا أن الناس يتخذونه نسكا ويغلبونكم عليه لنزعت معكم. " حم - عن ابن عباس" أن النبي صلى الله عليه وسلم أتى السقاية قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المصلی۔۔۔ من الاکمال
34791 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثنیة الشعب یعنی مکہ کا قبرستان اچھا قبرستان ہے۔ (الفاکھی دیلمی بروایت ابن عباس)
34791- "نعم المقبرة ثنية الشعب - يعني مقبرة مكة. " الفاكهي والديلمي - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وادی السرور
34792 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ منیٰ کے درمیان ہوں تو وہاں ایک وادی ہے جس کو سرورکہا جاتا ہے اس میں میدان ہے اس کے نیچے 70 انبیاء مدفون ہیں۔ (نسائی بیہقی بروایت ابن عمر)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :682
34792- "إذا كنت بين الأخشبين من منى فإن هناك واديا يقال له السرر به سرحة سر تحتها سبعون نبيا " ن، هق - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد خیف ۔۔۔ من الاکمال
34793 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد خیف میں 70 انبیاء نے نماز پڑھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہیں گویا کہ میں انھیں دیکھ رہا ہوں ان پر دو قطوانی عباء ہیں اور احرام کی حالت میں ایک ایسے اونٹ پر ہیں جو شؤنہ کے اونٹوں میں سے جس کو کھجور کی چھا ل کی نکیل لگی ہوئی ہے اور اس کی دو مینڈھیاں ہیں۔ (طبرانی تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عباس)
34793- "صلى في مسجد الخيف سبعون نبيا منهم موسى فكأني أنظر إليه وعليه عباءتان قطوانيتان وهو محرم على بعير من إبل شنوءة مخطوم بخطام من ليف وله ضفيرتان. " طب وابن عساكر - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ البیت المعمور
34794 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المعمور ساتویں آسمان میں ہے اس میں ہر روزستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ اس کی طرف قیامت کے قائم ہونے تک واپس نہیں آتے(ہر روز الگ الگ ستر ہزار فرشتے آتے ہیں جو ایک مرتبہ آجائے دوبارہ اس کو موقع نہیں ملتا) ۔ (احمد بن حنبل نسائی مستدرک حاکم بیہقی بروایت انس)
34794- "البيت المعمور في السماء السابعة يدخله كل يوم سبعون ألف ملك ثم لا يعودون إليه حتى تقوم الساعة. " حم، ن، ك، هب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34795 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المعمور آسمان میں ہے جسے ضراح کہا جاتا ہے اور وہ بیت الحرام کی مثل پر اسی کی برابری میں ہے اگر وہ گرے تو وہ اسی پر گرے گا اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جنہوں نے اس کو کبھی نہیں دیکھا ہوتا اور آسمان میں مکہ کے احترام کے بقدر اس کا احترام ہے (طبرانی ابن مردو یہ بروایت ابن عباس اور انھوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے)
34795- "البيت المعمور في السماء يقال له الضراح وهو على مثل البيت الحرام بحياله، لو سقط لسقط عليه، يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لم يروه قط، وإن له في السماء حرمة على قدر حرمة مكة. " طب وابن مردويه - عن ابن عباس، وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عسفان ۔۔۔ من الاکمال
34796 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وادی اصفہان میں ہود صالح، نوح (ٕعلیہم السلام) سرخ رنگ کی جوان اونٹیوں پر گذرے جنکی نکیل کھجور کی چھال کی تھی ان کے ازار عباء اور ان کی اوپر کی چاددیں کھال کی تھیں تلبیہ پڑھ رہے تھے بیت العتیق کا حج کررہے تھے۔ (احمد بن حنبل تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عباس)
34796- "لقد مر به يعني بوادي عسفان هود وصالح ونوح على بكرات حمر خطمها الليف، أزرهم العباء وأرديتهم النمار، يلبون يحجون البيت العتيق. " حم وابن عساكر - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عسفان ۔۔۔ من الاکمال
34797 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وادی اصفہان میں ابراہیم ہود صالح ، شعیب (علیہم السلام) سرخ رنگ کی جوان اونٹنیوں پر گذرے ان کے ازار عباء اور ان کی اوپر کی چادریں کھال کی تھیں اور ان کے جوتوں کے تسمے کھجور کے پتے اور ان کی اونٹنیوں کی لگام کھجور کی چھال کی تھیں بیت عتیق کا قصہ کررہے تھے۔ (دیلمی بروایت ابن عباس)
34797- "مر بهذا الوادي عسفان إبراهيم وهود وصالح وشعيب على بكرات حمر، أزرهم العباء، وأرديتهم النمار، وشراك نعلهم الخوص، وأزمة نوقهم الليف، يؤمون البيت العتيق." الديلمي - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عسفان ۔۔۔ من الاکمال
34798 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام ) کو صبح حکم دیاجاتا ہے کہ وہ بحرنور میں داخل ہوں پس اس میں وہ ایک غوطہ لگاتے ہیں پھر وہ نکلتے ہیں پھر وہ اپنے آپ کو جھاڑتے ہیں پھر اس سے سفر قطرے گرتے ہیں ہر قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا کرتے ہیں پس ان کو بیت العمور کا حکم دیا جاتا ہے پس وہ اس میں نماز پڑھتے ہیں پھر ان کو حکم دیا جاتا ہے جہاں چاہے تسبیح بیان کرتے رہیں قیامت کے دن تک۔ (دیلمی بروایت ابوہریرة الموضوعات 1471)
34798- "يؤمر جبريل في كل غداة يدخل بحر النور فينغمس فيه انغماسة ثم يخرج فينتفض انتفاضة فيسقط منه سبعون ألف قطرة يخلق الله من كل قطرة ملكا فيؤمر بهم إلى البيت المعمور فيصلون فيه ثم يؤمر بهم إلى حيث شاء فيسبحون إلى يوم القيامة. " الديلمي - عن أبي هريرة".

ذكر منى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرمنی
34799 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منی کی مثال رحم کی طرح ہے اور وہ تنگ ہوتی ہے جب وہ حاملہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو کشادہ کردیتے ہیں۔ (طبرانی اوسط بروایت ابودوداء)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :5250
34799- "مثل منى كالرحم وهي ضيقة فإذا حملت وسعها الله. " طس - عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ اور اس کے اردگرد کے فضائل
34800 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ حرم ہے امن والا ہے۔ (ابوعوانہ بروایت مھل بن حنیف)
34800- " المدينة حرم امن." أبو عوانة - عن سهل بن حنيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ اور اس کے اردگرد کے فضائل
34801 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ مکہ سے بہتر ہے۔ (طبرانی دارقطنی افراد بروایت رافع بن خدیج ذخیرة الحفاظ :5390)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :5920
34801- " المدينة خير من مكة. " طب، قط في الأفراد - عن رافع بن خديج".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ اور اس کے اردگرد کے فضائل
34802 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ اسلام کا قبر ہے او ایمان کا گھر ہے اور ہجرت کی زمین ہے اور حلال اور حرام کا ٹھکانا ہے۔ (طبرانی اوسط بروایت ابوہریرة)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :59210 الضعیفہ 761
34802- " المدينة قبة الإسلام ودار الإيمان وأرض الهجرة ومتبوأ الحلال والحرام. " طس - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: