কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৪৭৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34743 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے یا قوتوں میں سے دو یاقوت ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان دونوں کے نور کو نہ مٹاتے تو یہ مشرق اور مغرب کے درمیان جگہ کو روشن کردیتے۔ (الطحاوی بروایت ابن عمرو)
34743- "الحجر والمقام ياقوتتان من يواقيت الجنة، ولولا أن الله طمس نورهما لأضاء ما بين المشرق والمغرب. " ط ... عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34744 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حجر اسود اللہ تعالیٰ کا دایاں ہے پس جس نے حجراسود پر ہاتھ پھیرا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ بیعت کرلی کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ (دیلمی بروایت انس)
34744- "الحجر الأسود يمين الله، فمن مسح يده على الحجر فقد بايع الله أن لا يعصيه." الديلمي - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34745 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حجراسود جنت کے پتھروں میں سے ہے اور زمزم جبرائیل (علیہ السلام) کے ایک پر سے ایک گڑھا ہے (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے زمین پر ایک پر مارا جس سے یہ چشمہ پھوٹا۔ (دیلمی بروایت عائشہ)
34745- "الحجر الأسود من حجارة الجنة وزمزم حفنة من جناح جبريل." الديلمي - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34746 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حجراسود جنت کے پتھروں میں سے ہے اور زمزم جبرائیل (علیہ السلام) کا نکالا ہوا ہے اور عنقریب بنی عباس کا ایک جھنڈا ہوگا جس نے اس کی پیروی کی وہ راہ پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہا وہ ہلاک ہوا اور اختیار ان سے کسی اور کی طرف کبھی نہیں نکلے گا۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت عائشہ)
34746- " الحجر الأسود من حجارة الجنة، وزمزم خطية مقام جبريل، وسيكون لبني عباس راية من تبعها رشد، ومن تخلف عنها هلك ولن يخرج الأمر منهم إلى غيرهم. " كر - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34747 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ نہ ہوتا کہ درکن حجراسود کو جاہلیت کی گندگیوں اور ارجاس سے اور ظالموں اور اماموں کے ہاتھوں نے میلا کچیلا کردیا تو ہر مصیبت زدہ کو اس سے شفادی جاتی اور یہ اس حالت میں اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کو سیاہی میں بدل دیا تاکہ دنیا والے جنت کی خوبصورتی نہ دیکھیں اور تاکہ اس کی طرف لوگ لوٹیں اور بیشک یہ جنت کے یا قوتوں میں سے ایک سفید یاقوت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس وقت رکھاجب آدم (علیہ السلام) کو کعبہ کے بننے سے پہلے کعبہ کی جگہ اتارا گیا اور زمین اسوقت پاک تھی اس میں کوئی گناہ نہیں ہوا تھا اور نہ اس میں ایسے لوگ تھے جو اس کو ناپاک کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے لیے حرم کے اطراف فرشتوں کی ایک صف بنائی جو زمین میں رہنے والوں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس دن اس زمین کے رہنے والے جن تھے ان کے لیے اس کی طرف دیکھنا مناسب نہیں تھا کیونکہ جنت کی چیز ہے اور جس نے جنت کی طرف دیکھا وہ جنت میں داخل ہوا پس جنت کی طرف دیکھنا اسی شخص کے لیے جائز ہے جس کے لیے جنت واجب ہوچکی ہو اور فرشتے ان کو اسی حجراسود سے دوررکھتے تھے اور حرم کے اطراف کھڑے ہو کر اس کو ہرجانب سے گھیر لیتے تھے اس لیے اس کا نام حرم رکھا گیا کیونکہ وہ فرشتے ان کے درمیان اور اس حرم کے درمیان حائل تھے۔ (طبرانی بروایت ابن عباس الضعیفہ :426)
34747- " لولا ما طبع الركن من أنجاس الجاهلية وأرجاسها وأيدي الظلمة والأثمة لاستشفي به من كل عاهة ولألفي اليوم كهيئته يوم خلقه الله وإنما غيره الله بالسواد لئلا ينظر أهل الدنيا إلى زينة الجنة، وليصيرن إليها، وإنها لياقوتة بيضاء من ياقوت الجنة وضعه الله حين أنزل آدم في موضع الكعبة قبل أن تكون الكعبة، والأرض يومئذ طاهرة لم يعمل فيها بشيء من المعاصي وليس لها أهل ينجسونها، فوضع لها صف من الملائكة على أطراف الحرم يحرسونه من سكان الأرض، وسكانها يومئذ الجن لا ينبغي لهم أن ينظروا إليه لأنه شيء من الجنة ومن نظر إلى الجنة دخلها فليس ينبغي أن ينظر إليها إلا من قد وجبت له الجنة، والملائكة يذودونهم عنه وهم وقوف على أطراف الحرم يحدقون به من كل جانب، ولذلك سمي الحرم لأنهم يحولون فيما بينهم وبينه. " طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34748 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حجراسود کو اٹھائیں گے اور اس کی دوآنکھیں ہونگیں جس سے وہ دیکھے گا اور اس کی ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا اس شخص کے حق میں ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا ہوگا۔ (احمدبن حنبل ابن حبان طبرانی بیہقی بروایت ابن عباس ذخیرة الحفاظ :4644)
34748- "ليبعثن الله الحجر يوم القيامة وله عينان ينظر بهما ولسان ينطق به، يشهد لمن استلمه بحق. " حم، حب، طب، ق - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34749 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو حجراسود کے برابر ہوابیشک وہ رحمان کے ہاتھ کے برابر ہوا ۔ (دیلمی بروایت ابوہریرہ)
34749- "من فاوض الحجر الأسود فإنما يفاوض يد الرحمن. " الديلمي - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34750 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حجرا سود قیامت کے دن آئے گا اس کی دوآنکھیں ہونگیں جس سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا اور اس شخص کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا ہوگیا۔ (احمد بن حنبل بروایت ابن عباس )
34750- " يأتي هذا الحجر يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد لمن استلمه بحق. " حم - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34751 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حجراسود کے ساتھ قیامت کے دن رکنی یمانی آئے گا اس کی صحیح زبان ہوگی یہ اس شخص کے لیے گواہی دے گا جس نے اس کا توحید کے ساتھ استلام کیا ہوگا۔ (مستدرک حاکم ھب بروایت علی)
34751- " يأتي الركن يوم القيامة بالحجر الأسود وله لسان ذلق يشهد لمن يستلمه بالتوحيد. " ك، هب - عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34752 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ حجراسود اور رکن یمانی کو اٹھائے گا ان کی دوآنکھیں ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے یہ دونوں اس شخص کے لیے گواہی دیں گے جس نے وفا کے ساتھ ان دونوں کا استلام کیا ہوگا۔ (طبرانی بروایت ابن عباس)
34752- " يبعث الله الحجر الأسود والركن اليماني يوم القيامة ولهما عينان ولسان وشفتان يشهدان لمن استلمهما بالوفاء. " طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34753 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں ۔۔۔ سوجوشخص کہے گا : اللھم انی اسالک العفو والعافیة فی الدنیا والاخرة اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت اور درگذر کرنا مانگتاہوں۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنة وفی الاخرة حسنة وقنا عذاب النار اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں اچھائی اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ تو وہ کہیں گے آمین اور جو شخص اسود کا برابر ہوا تو وہ (رحمن کے ہاتھ کے برابر ہوا) ۔ ابن ماجہ بروایت ابوہریرة
34753- " أوكل بالركن اليماني سبعون ملكا، فمن قال: اللهم! إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة، ربنا! آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، قالوا: آمين، ومن فاوض الركن الأسود فإنما يفاوض يد الرحمن. " هـ - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34754 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (اس وقت سے) رکن یمانی پر ایک فرشتہ متعین ہے جب تم اس (رکن یمانی) کے پاس سے گزر وتو کہو : ربنا اتنا فی الدنیا حسنة الایة (اے ہمارے رب تو ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما) کیونکہ وہ (فرشتہ آمین ! آمین ! کہتے ۔ (خطیب بغدادی بروایت ابن عباس بیہقی بروایت ابوہریرة موقوفا)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :3733
34754- "على الركن اليماني ملك موكل منذ خلق الله السماوات والأرض، فإذا مررتم به فقولوا: ربنا! آتنا في الدنيا حسنة - الآية، فإنه يقول: آمين آمين. " خط - عن ابن عباس، هب - عنه موقوفا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34755 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکن یمانی ہے۔ (عقیلی ضعفاء بروایت ابوھریرة)
34755- " الركن يمان. " عق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34756 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جب رکن یمانی کے پاس آیا تو میں نے ہزار ہزار فرشتوں سے ملاقات کی جنہوں نے اس سے پہلے حج نہیں کیا۔ (دیلمی بروایت ابوہریرة)
34756- "ما أتيت الركن اليماني إلا لقيت عنده ألف ألف ملك لم يحجوا قبل ذلك. " الديلمي - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34757 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکنین ( رکن ایمان حجراسود) کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے۔ (ترمذی حسن مستدرک حاکم نسانی بیہقی بروایت ابن عمر)
34757- "إن مسحهما كفارة للخطايا - يعني الركنين. " ت: 2 حسن، ك، ن، هب - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34758 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے بھی ملتزم پر کوئی بھی دعا کی تو اس کی دعا قبول کی گئی۔ (ٕمسند الفردوس بروایت ابن عباس)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :5064
34758- "ما دعا أحد بشيء في هذا الملتزم إلا استجيب له"."فر - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکن یمانی
34759 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رکن یمانی اور مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان ملتزم ہے کوئی بھی مصیبت زدہ دعا کرے گا توٹھیک ہوگا ۔ (طبرانی بروایت ابن عباس)
34759- " ما بين الركن والمقام ملتزم، ما يدعو به صاحب عاهة إلا برئ. " طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحجر
34760 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حجر میں آپ نماز پڑھیں اس لیے کہ وہ بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے لیکن آپ کی قوم نے جب بیت اللہ کی تعمیر کی توخرچہ کم پڑگیا تو اس کو انھوں نے نکال دیا۔ (احمد بن حنبل ترمذی بروایت عائشہ)
34760- " صلي في الحجر إن أردت دخول البيت، فإنما هو قطعة من البيت، ولكن قومك استقصروه حين بنوا الكعبة فأخرجوه من البيت. " حم، ت - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34761 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کی قوم نے جس وقت بیت اللہ کی تعمیر کی تو ان کے پاس خرچہ کم پڑگیا تو انھوں نے حجر میں بیت اللہ کی کچھ جگہ چھوڑ دی آپ جائیں دو رکعتیں نماز پڑھیں۔ (بیہقی بروایت عائشہ)
34761- " إن قومك حين بنوا البيت قصر بهم النفقة فتركوا بعض البيت في الحجر، فاذهبي فصلي في الحجر ركعتين. " ق - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34762 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کی قوم نے کعبہ کی تعبیر میں کمی کی اور اگر ان کا شرک کے قریب کا وقت دورنہ ہوتا تو اس میں وہ حصہ دوبارہ بنادیتا جو انھوں نے چھوڑ دیا ہے میں حجر سے سات گز کے قریب (جگہ ) گمان کرتا ہوں۔ اور میں اس کے زمین میں دو دروازے بناتا مشرقی اور مغربی کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی قوم نے اس کا دروازہ کیوں اونچا کیا ؟ فخر کے طور پر کہ جسے وہ چاہیں وہی داخل ہو اور جس شخص کے داخل ہونے کو یہ براسمجھتے اس کو بلاتے جب وہ داخل ہونے کے قریب ہوتا تو ہٹا دیتے یہاں تک کہ وہ گرجاتا۔ (ابن سعدبروایت عائشہ)
34762- "إن قومك استقصروا من بنيان الكعبة ولولا حداثة عهدهم بالشرك أعدت فيه ما تركوا منه، فإن بدا لقومك من بعدي أن يدعوه فهلمي أريك ما تركوا منه فأراها قريبا من سبع أذرع في الحجر - ولجعلت لها بابين موضوعين في الأرض شرقيا وغربيا،أتدرين لم كان قومك رفعوا بابها؟ تعززا أن لا يدخلها إلا من أرادوا، وكان الرجل إذا كرهوا أن يدخل يدعونه حتى إذا كاد أن يدخل دفعوه حتى يسقط. " ابن سعد - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: