কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غلام آزاد کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৪ টি
হাদীস নং: ২৯৭৬৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدبر کا بیان :
29767 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنا غلام بطور مدبر آزاد کردیا اس شخص کے پاس غلام کے علاوہ اور مال نہیں تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ اس شخص پر سخت غصہ ہوئے پھر غلام بلایا اور اسے سات سو درہم میں بیچ دیا پھر رقم اس کے پاس بھیجوادی اور فرمایا اسے اپنے لیے خرچ کرو۔ (رواہ سعید بن المنصور)
29767- عن عطاء "أن رجلا أعتق غلاما له عن دبر ليس له مال غيره فبلغ ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فغضب من ذلك فدعا الغلام وباعه بسبعمائة درهم، ثم دفع الثمن إليه فقال: استنفقه". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৬৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدبر کا بیان :
29768 ۔۔۔ ” مسند علی “ شعبی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور عن ابن مسعود (رض) نے فرمایا : مدبر مالک کے جمیع مال سے آزاد ہوگا ۔ (رواہ سفیان الثوری فی الفرائض)
29768- "مسند علي" عن الشعبي عن علي وعبد الله قالا: من جميع المال يعني المدبر. سفيان الثوري في الفرائض.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৬৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29769 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : مکاتب پر اگر ایک درہم بھی باقی ہو وہ تب بھی غلام ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، والطحاوی ، والبیہقی)
29769- عن عمر قال: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم. "ش" والطحاوي، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29770 ۔۔۔ ابن سیرین (رح) روایت کی ہے کہ ایک مکاتب نے اپنے مالک سے کہا میں بدل کتابت قسطوں میں ادا کروں گا مالک سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس آیا اور معاملہ بیان کیا عثمان (رض) نے غلام بلایا اور کہا : اپنی مکاتبت لو ! غلام نے کہا : میں بدل صرف قسطوں میں ادا کروں گا غلام سے کہا مال لے آؤ غلام مال لایا اور اس کے لیے آزادی کا پروانہ لکھ دیا اور فرمایا : یہ مال بیت المال میں رکھ دو میں یہ قسطوں میں دوں گا جب مالک نے یہ صورت دیکھی مال لے لیا ۔ (رواہ البیھقی)
29770- عن ابن سيرين أن مكاتبا قال لمولاه: خذ مني مكاتبتك نجوما فأتى عثمان بن عفان فذكر ذلك له فدعاه فقال: خذ مكاتبتك فقال: لا إلا نجوما فقال له: هات المال فجاء به فكتب له عتقه فقال: ألقه في بيت المال، فأدفعه إليك نجوما، فلما رأى ذلك أخذه. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29771 ۔۔۔ ایک شخص کا بیان ہے کہ میں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کا غلام تھا انھوں نے مجھے تجارت کے لیے بھیجا میں تجارت سے واپس آیا اور ایک دن عثمان (رض) کے سامنے کھڑا تھا میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ آپ مجھ سے کتابت کرلیں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے ترش روئی سے کہا : جی ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کتابت کا ذکر نہ ہوتا میں ایسا نہ کرتا میں تمہارے ساتھ ایک لاکھ دراہم پر کتابت کا معاملہ کرتا ہوں یہ رقم تمہیں دو قسطوں میں ادا کرنی ہوگی بخدا اس میں سے میں تمہیں ایک درہم بھی نہیں دوں گا میں باہر نکل گیا باہر جا کر حضرت زبیر (رض) سے میری ملاقات ہوئی میں نے اس سے اس کا تذکرہ کیا زبیر (رض) مجھے عثمان (رض) کے پاس واپس لے گئے اور لے جا کر ان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا : اے امیر المؤمنین آپ نے فلاں شخص کے ساتھ مکاتبت کی ہے اور آپ نے ترش روئی کا مظاہرہ کیا ہے عثمان (رض) نے کہا : جی ہاں اگر کتاب میں بلاشبہ ایک آیت نہ ہوتی میں ایسا نہ کرتا میں نے ایک لاکھ دراہم پر اس سے مکاتبت کی ہے اور بدل کتابت دو قسطوں میں اسے ادا کرنا ہوگا بخدا ! اس میں سے میں اسے ایک درہم بھی واپس نہیں کروں گا زبیر (رض) عثمان (رض) کا ٹکا سا جواب سن کر غصہ ہوگئے اور کہا : غلام آپ کے سامنے کھڑا ہے میں آپ سے ایک حاجت کا خواہستگار ہوں اور آپ نے اپنے دو ٹوک فیصلے پر قسم اٹھالی ہے چنانچہ مکاتبت پر ہمارا معاملہ حضرت زبیر (رض) مجھے اپنے گھر لے گئے اور ایک لاکھ دراہم مجھے دئیے پھر فرمایا جاؤ اور اس رقم کے بارے اللہ تعالیٰ سے خیر وفضل طلب کرو میں باہر نکلا اور اللہ سے فضل و برکت کی دعا کی پھر اس رقسم سے تجارت شروع کی اللہ تعالیٰ نے مجھے بیش بہا نفع عطا کیا ، حتی کہ عثمان (رض) کو بدل کتابت بھی ادا کیا حضرت زبیر (رض) کو مال بھی واپس کیا پھر بھی میرے پاس اسی ہزار دراہم باقی بچ گئے ۔ (رواہ البیہقی)
29771- عن رجل قال كنت مملوكا لعثمان فبعثني في تجارة فقدمت عليه فقمت بين يديه ذات يوم فقلت: يا أمير المؤمنين أسألك الكتابة فقطب وقال: نعم لولا أنه في كتاب الله ما فعلت، أكاتبك على مائة ألف على أن تعدها في عدتين والله لا أعطيك منها درهما، فخرجت فلقيني الزبير، فذكرت له ذلك فردني إليه فقام بين يديه فقال: يا أمير المؤمنين فلان كاتبته فقطبت قال نعم ولولا آية في كتاب الله ما فعلت، أكاتبه على مائة ألف على أن يعدها لي في عدتين والله لا أعطيه منها درهما فغضب الزبير وقال: أمثل بين يديك قائما أطلب إليك حاجة تحول دونها بيمين، ثم كاتبه فكاتبته فانطلق بي الزبير إلى أهله فأعطاني مائة ألف، ثم قال: انطلق فاطلب فيها من فضل الله فانطلقت فطلبت فيها من فضل الله، فأديت إلى عثمان ماله وإلى الزبير ماله وفضل في يدي ثمانون ألفا. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29772 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب مکاتب نصف بدل کتابت ادا کر دے اسے غلامی کے پھندے میں نہیں جکڑا جائے گا ۔ (رواہ سفیان الثوری فی الفرائض والبیہقی)
29772- عن عمر قال: إذا أدى المكاتب النصف لم يسترق. سفيان الثوري في الفرائض، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29773 ۔۔۔ عبدالعزیز بن رفیع ابوبکر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کتابت پر اپنا غلام آزاد کردیا اور بدل کتابت کی قسطیں مقرر کردیں ، غلام بدل کتابت کی پوری رقم لے کر حاضر ہوا مالک نے یک مشت رقم لینے سے انکار کردیا پھر مکاتب سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس گیا اور ان سے شکایت کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مالک کو اپنے پاس بلوایا مالک جب حاضر ہوا اسے رقم پیش کی مگر اس نے لینے سے انکار کردیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا میں یہ رقم بیت المال میں رکھتا ہوں مالک سے کہا تم بیت المال سے قسطوں میں لیتے رہو مکاتب سے فرمایا : تم جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ ۔ رواہ البیہقی)
29773- عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي بكر أن رجلا كاتب غلاما له فنجمها2 نجوما فأتى بمكاتبته كلها فأبى أن يأخذها إلا نجوما، فأتى المكاتب عمر، فأرسل عمر إلى مولاه، فجاء فعرضت عليه فأبى أن يأخذها فقال عمر: فأني أطرحها في بيت المال وقال للمولى: خذها نجوما وقال للمكاتب: اذهب حيث شئت. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29774 ۔۔۔ قاسم بن محمد کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اس مکاتب کی کتابت کے منقطع کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے جس پر سونا ہو یا چاندی پھر وہ تین یا چار پر قطع ہوجائے اور فرمایا کرتے تھے یہ صورت سامان میں رکھ لو جیسے بھی تم چاہو ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ والبیہقی)
29774- عن القاسم بن محمد أن عمر بن الخطاب كان يكره قطاعة المكاتب الذي يكون عليه الذهب والورق ثم يقاطعه على ثلاثة أو أربعة أو ما كان ويقول: اجعلوا ذلك في العرض على ما شئتم. "عب، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29775 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب مکاتب کتابت کا کچھ حصہ ادا کر دے تو اسے غلامی کے پھندے میں نہیں جکڑا جائے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ والبیہقی)
29775- عن عمر قال: إذا أدى المكاتب الشطر فلا رق عليه. "عب، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29776 ۔۔۔ عامر شعبی کی روایت ہے جو مکاتب کچھ بدل کتابت ادا کر دے پھر مرجائے اس کے متعلق حضرت زید بن ثابت (رض) نے فرمایا : جب تک اس مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہے عن ابن مسعود (رض) کا قول ہے کہ جب مکاتب ایک تہائی یا چوتھائی بدل کتابت ادا کر دے تو وہ تاوان دہندہ کے حکم میں ہے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا قول ہے کہ مکاتب نے جتنا بدل کتابت ادا کیا اسی حساب سے وہ آزاد تصور ہوگا اور اسی حساب سے اس کی اولاد بھی وارث ہوگی جابر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) ، حضرت عبداللہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) کو مکاتب کے معاملہ میں جمع کیا زید (رض) نے کہا ہم کاتبوں کے لیے قیاس کریں گے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر مکاتب پر حد آئے اور وہ امہات المؤمنین کے پاس داخل ہوتا ہو کہا : ہم اس کی مانند قیاس کریں گے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کی رائے کو ترجیح دی ۔ (رواہ ابن عساکر)
29776- عن جابر عن عامر الشعبي عن زيد بن ثابت في المكاتب يموت وقد بقي عليه من مكاتبته قال: هو عبد ما بقي عليه درهم، وقال عبد الله: إذا أدى الثلث أو النصف فهو غريم، وقال علي: يعتق بحساب ما أدى ويرثه ولده بحساب ذلك، قال جابر: بلغني أن عمر بن الخطاب جمع عليا وعبد الله وزيدا في المكاتب فقال زيد: نقيس لهم فقال: أرأيتم إن أصاب حدا وكيف يدخل على أمهات المؤمنين فجعل يقيس لهم بنحو هذا ففضله عمر عليهما في المكاتب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29777 ۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) نے فرمایا : جب مکاتب مرجائے اور ان کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کے مالکان کا ہے اس کی اولاد کے لیے کچھ نہیں ہوگا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ، والبیہقی)
29777- عن قتادة أن عمر بن الخطاب وزيد بن ثابت قالا: إذا مات المكاتب وله مال فهو لمواليه وليس لولده شيء. "ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29778 ۔۔۔ حکیم بن حزام کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمیر بن سعد (رض) کو خط لکھا اما بعد ! مسلمانوں میں سے جو لوگ اپنے غلاموں کو مکاتب بنائیں لوگوں کے سوال پر اسے قبول کرو۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ، والبیہقی)
29778- عن حكيم بن حزام قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمير بن سعد: أما بعد فإنه من قبلك من المسلمين أن يكاتبوا أرقاءهم على مسألة الناس. "عب، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৭৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29779 ۔۔۔ عکرمہ (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنا غلام مکاتب بنایا اسے ابو امیۃ کی کنیت سے پہچانا جاتا تھا وہ وقت ہونے پر قسط لایا ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا جاؤ اور اپنی کتابت میں اس سے مدد لو غلام نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اگر میں اسے چھوڑ دوں حتی کہ یہ آخری قسط ہوجائے فرمایا مجھے خوف ہے کہ میں اسے شاید نہ پا سکوں پھر یہ آیت تلاوت کی ” اتوھم من مال اللہ الذی اتکم “۔ انھوں اللہ تعالیٰ کا مال دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے عکرمہ کہتے ہیں اسلام میں ادا ہونے والی نہ پہلی قسط ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن سعد وابن ابی حاتم والبیہقی)
29779- عن عكرمة أن عمر كاتب عبدا له يكنى بأبي أمية فجاء بنجمه حين حل قال: اذهب به فاستعن به في مكاتبتك فقال: يا أمير المؤمنين لو تركته حتى يكون آخر نجم قال: إني أخاف أن لا أدرك ذلك ثم قرأ {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} قال عكرمة: كان أول نجم أدي في الإسلام. "عب" وابن سعد وابن أبي حاتم، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29780 ۔۔۔ انس بن سیرین اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک (رض) نے بیس ہزار دراہم پر مکاتب بنادیا چنانچہ فتح تستر میں میں بھی شامل تھا میں نے سطحی قسم کا سازوسامان خرید لیا مجھے اس میں کافی نفع ہوا میں بدل کتابت کی پوری رقم کر حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس آیا انھوں نے یکمشت بدل کتابت لینے سے انکار کردیا اور کہا میں قسطوں میں لوں گا ۔ میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا : کیا وہ تمہی ہو مجھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دیکھا تھا میرے پاس کپڑے تھے میرے لیے برکت کی عا کی میں نے عرض کیا جی ہاں میں وہی ہوں فرمایا : کیا انس میراث چاہتا ہے پھر حضرت انس بن مالک (رض) کو خط لکھا کہ رقم قبول کرو چنانچہ حضرت انس بن مالک (رض) نے بدل کتابت کی رقم قبول کرلی ۔ (رواہ ابن سعد والبیہقی)
29780- عن أنس بن سيرين عن أبيه قال: كاتبني أنس بن مالك على عشرين ألف درهم فكنت فيمن فتح تستر فاشتريت رثة فربحت فيها، فأتيت أنس بن مالك بكتابته فأبى أن يقبلها مني إلا نجوما فأتيت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له فقال: أنت هو وقد كان رآني ومعي أثواب فدعا لي بالبركة؟ قلت: نعم فقال: أراد أنس الميراث وكتب إلى أنس أن اقبلها فقبلها. ابن سعد، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29781 ۔۔۔ ابو سعید مقبری روایت کی ہے کہ مجھے میری مالکن نے کتابت پر آزاد کیا اور بدل کتابت چالیس ہزار دراہم ٹھہرے میں نے اکثر مال ادا کردیا پھر باقی مال اکٹھا لے کر مالکن کے پاس آیا اس نے یک مشت مال لینے سے انکار کردیا اور کہا میں مہینہ مہینہ یا سال سال کی قسط لوں گی میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا : یہ مال بیت المال میں رکھ دو پھر میری مالکہ کو پیغام بھیجا کہ یہ تیر مال بیت المال میں ہے ابو سعید آزاد ہوچکا ہے جب چاہوں یہاں سے لیتی رہو مہینہ مہینہ یا سال سال میں جیسے بھی چاہو چنانچہ مالکہ نے آدمی بھیج کر سارا مال لے ۔ (رواہ ابو سعد والبیہقی وحسنہ)
29781- عن أبي سعد المقبري قال: كاتبتني مولاتي على أربعين ألف درهم فأديت إليها عامة ذلك، ثم حملت ما بقي إليها فقلت: هذا مالك فاقبضيه، قالت: لا حتى آخذه منك شهرا بشهر وسنة بسنة، فذكرت ذلك لعمر بن الخطاب، فقال: ادفعه إلى بيت المال، ثم بعث إليها فقال: هذا مالك في بيت المال وقد عتق أبو سعيد، فإن شئت فخذي شهرا بشهر وسنة بسنة فأرسلت فأخذته. ابن سعد، "ق" وحسنه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29782 ۔۔۔ قتادہ روایت کی ہے کہ ابو محمد سیرین (رح) نے حضرت انس بن مالک (رض) سے کتابت کرلینے کا مطالبہ کیا حضرت انس بن مالک (رض) نے انکار کیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خبر ہوئی تو درہ اٹھایا اور یہ آیت پڑھی ۔ ” فکاتبوھم “ غلاموں کو مکاتب بناؤ“ ۔ جبکہ حضرت انس بن مالک (رض) نے سیرین کے ساتھ کتابت کرلی ۔ (رواہ عبدالرزاق وابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر ورواہ البیہقی موصولا عن قتادۃ عن انس)
29782- عن قتادة قال: سأل سيرين أبو محمد أنس بن مالك الكتابة فأبى أنس فرفع عمر الدرة وتلا {فَكَاتِبُوهُمْ} فكاتبه أنس. "عب" وابن سعد وعبد بن حميد وابن جرير؛ ورواه "ق" موصولا عن قتادة عن أنس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29783 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مکاتب جس قدر بدل کتابت ادا کرے گا اسی کے بقدر آزاد ہوجائے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق ، و سعید بن المنصور والبیہقی)
29783- عن علي قال: المكاتب يعتق منه بقدر ما أدى. "عب، ص، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29784 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جب لگا تار دو قسطیں گزر جائیں اور غلام ادا نہ کرے اس کی غلامی لوٹ آتی ہے اور کتابت کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والبیہقی والحاکم)
29784- عن علي قال: إذا تتابع نجمان فلم يؤد نجومه رد في الرق. "ش، ق، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29785 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلاموں کو اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں میں سے دو ۔ (رواہ عبدالرزاق والشافعی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم والبیہقی سعید بن المنصور)
29785- عن علي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} "عب" والشافعي وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه، "ك، ق، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭৮৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام کتابت :
29786 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : : باری تعالیٰ ” وآتوھم من مال اللہ الذی اتکم “۔ غلاموں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے دو “ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : مکاتب کو بدل کتابت کا چوتھائی حصہ چھوڑ دیا جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی صححہ و سعید بن المنصور)
29786- عن أبي عبد الرحمن السلمي أن عليا قال في قوله: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} قال: يترك للمكاتب ربع مكاتبته. "عب، ص" وعبد بن حميد، "ن" وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه، "ق" وصححه، "ص".
তাহকীক: