কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

غلام آزاد کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৪ টি

হাদীস নং: ২৯৭২৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29727 ۔۔۔ عبداللہ بن شبرمہ روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ، عن ابن مسعود (رض) ، اور حضرت زید بن ثابت (رض) نے فیصلہ صادر کیا کہ نسب کی طرح حق ولاء بھی منتقل ہوتا ہے جو شخص نعمت آزادی کا ولی ہو وہی حق ولاء پر ہمیشہ براجمان نہیں رہتا لیکن حق ولاء ولی نعمت کے اقرب کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
29727- عن عبد الله بن شبرمة أن عليا وعبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت قضوا أن الولاء ينقل كما ينقل النسب لا يحرزه الذي يرث ولي النعمة ولكنه ينقل إلى أولى الناس بولي النعمة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭২৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29728 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کے آزاد کردہ غلام کے حق ولاء کو اپنی طرف منسوب کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور سب کے سب لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ اس سے فدیہ قبول کریں گے اور نہ توبہ ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29728- عن علي قال: من تولى مولى قوم بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭২৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29729 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بہت ساری امہات ولد آزاد کیں اور فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی انھیں آزاد کیا ہے۔ (رواہ الخطیب وفیہ عبدالرحمن الافریقی ضعیف)
29729- عن سعيد بن المسيب أن عمر أعتق أمهات الأولاد وقال: أعتقهن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "خط"، وفيه عبد الرحمن الإفريقي ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29730 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : باندی کو اس کا بیٹا آزاد کردیتا ہے اگرچہ وہ ناتمام بچہ ہی کیوں نہ ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ ، والبیہقی)
29730- عن عمر قال: الأمة يعتقها ولدها وإن كان سقطا. "عب، ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29731 ۔۔۔ سلیمان بن یسار (رض) روایت کی ہے کہ میں نے ابن مسیب (رح) سے پوچھا کیا عمر (رض) نے امہات ولد کو آزاد کیا ہے ابن مسیب (رح) نے جواب دیا نہیں لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں آزاد کیا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، والبیہقی وضعفہ)
29731- عن سليمان بن يسار قال: قلت لابن المسيب أعمر أعتق أمهات الأولاد؟ قال: لا ولكن أعتقهن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "عب، ق" وضعفه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29732 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے امہات ولد کے متعلق حکم دیا کہ ان کے بیٹوں کے اموال میں ان کی انصاف پر مبنی قیمت لگائی جائے اور پھر انھیں آزاد کیا جائے چنانچہ حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دور میں اس میں ٹھہراؤ رہا پھر قریش کا ایک شخص مرگیا اس کی ام ولد کا ایک بیٹا تھا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اس لڑکے پر عجب کرتے تھے چنانچہ باپ بلال کی وفات کے بعد یہ لڑکا مسجد میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس سے گزرا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے تم نے اپنی ماں کے متعلق کیا کیا ؟ لڑکا بولا : امیر المؤمنین ! میں نے بہتر کیا ہے چنانچہ میرے بھائیوں نے مجھے دو چیزوں کا اختیار دیا ایک یہ کہ میری ماں کو بدستور غلامی میں رکھیں دوسرا یہ کہ مجھے میرے باپ کی میراث سے محروم کردیں تاہم میں نے میراث کی محرومیت کو ماں کی غلامی سے کمتر سمجھا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کیا تمہیں اس معاملہ میں انصاف بھری قیمت کا حکم نہیں دیا گیا میں ایک الگ رائے دیکھ رہا ہوں اور الگ ایک اور چیز کا حکم دے رہا ہوں الا یہ کہ تم اس میں اپنے اقوال شروع کردیتے ہو پھر آپ (رض) منبر پر تشریف لے گئے اور آہستہ آہستہ لوگ جمع ہونے لگے حتی کہ جب اچھی خاصی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے آپ (رض) نے فرمایا : میں نے تمہیں امہات اولاد کے متعلق ایک حکم دیا تھا تم اسے بخوبی جانتے ہو پھر میرے سامنے ایک بات آئی ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس ام ولد ہو جب تک وہ زندہ ہے وہ اس کی ملکیت میں ہے اور جب مرجائے وہ ام ولد آزاد ہے اس پر کسی کا اختیار نہیں ۔ (رواہ یعقوب بن سفیان والبیہقی وابن عساکر)
29732- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب أمر بأمهات الأولاد يقومن في أموال أبنائهن بقيمة عدل ثم يعتقن فمكث بذلك صدرا من خلافته، ثم توفي رجل من قريش كان له ابن أم من ولد فكان عمر يعجب بذلك الغلام، فمر ذلك الغلام على عمر في المسجد بعد وفاة أبيه بلال فقال له عمر: ما فعلت يا ابن أخي في أمك؟ قال: قد فعلت يا أمير المؤمنين خيرا خيرني إخوتي في أن يسترقوا أمي أو يخرجوني من ميراثي من أبي فكان ميراثي من أبي أهون علي من أن تسترق أمي فقال عمر: أولست إنما أمرت في ذلك بقيمة عدل ما أرى رأيا وآمر بشيء إلا قلتم فيه، ثم قام فجلس على المنبر فاجتمع إليه الناس حتى إذا رضي جماعتهم قال: يا أيها الناس إني قد كنت أمرت في أمهات الأولاد بأمر قد علمتموه ثم قد حدث لي رأي غير ذلك، فأيما امرئ كانت عنده أم ولد يملكها بيمينه ما عاش، فإذا مات فهي حرة لا سبيل عليها. يعقوب بن سفيان، "ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29733 ۔۔۔ زیدبن وہب کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے امہات اولاد کو پہلے فروخت کرنے کا حکم دیا پھر اس سے رجوع کرلیا ۔ (رواہ البیہقی)
29733- عن زيد بن وهب قال: باع عمر أمهات الأولاد ثم رجع. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29734 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جو باندی بھی اپنے مالک کے نطفہ سے بچہ جنم دے وہ تاحیات اس کی ملکیت میں ہوتی ہے اور مرنے کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے۔ (رواہ البیہقی)
29734- عن عمر قال أيما وليدة ولدت لسيدها فهي له متعة ما عاش فإذا مات فهي حرة من بعده، ومن وطئ وليدة فضيعها فالولد له والضيعة عليه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29735 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ام ولد کے متعلق حکم جاری کیا کہ اسے نہ بیچا جائے اور نہ ہبہ کیا جائے اور نہ وراثت میں منتقل ہو اس کا مالک تاحیات اس سے نفع اٹھاسکتا ہے جب مالک مرجائے وہ آزاد ہوجاتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، مسددوالبیہقی)
29735- عن ابن عمر أن عمر قضى في أم الولد أن لا تباع ولا توهب ولا تورث يستمتع بها صاحبها ما عاش، فإذا مات فهي حرة. "عب" ومسدد، "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29736 ۔۔۔ ” مسند عمر “ ابو اسحاق ہمدانی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) امہات اولاد کو اپنے دور خلافت میں بیچتے تھے پھر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے نصف دور خلافت میں بھی امہات اولاد کی خریدو فروخت جاری رہی پھر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حکم جاری کیا کہ ام ولد کو کیسے فروخت کیا جائے حالانکہ اس کا بیٹا آزاد ہوتا ہے۔ آپ (رض) نے ام ولد کی بیع کو حرام قرار دیا حتی کہ عثمان (رض) کے دور میں لوگوں نے اس کی شکایت کی اور گاہے گاہے اس فعل کا ارتکاب بھی کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29736- "مسند عمر" عن أبي إسحاق الهمداني أن أبا بكر كان يبيع أمهات الأولاد في إمارته وعمر في نصف إمارته ثم إن عمر قال: كيف تباع وولدها حر؟ فحرم بيعها، حتى إذا كان عثمان شكوا وركبوا في ذلك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29737 ۔۔۔ ابو جحفاء کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب باندی اسلام قبول کرے پاکدامنی اختیار کرے اور اپنی حفاظت کرے تو اس کا بیٹا اسے آزاد کردیتا ہے اگر باندی کفر کرے اس سے فسق وفجور سرزد ہو اور زنا کرے غلامی کے پھندے میں جکڑی رہتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
29737- عن أبي العجفاء أن عمر قال: الأمة إذا أسلمت وعفت وحصنت فإن ولدها يعتقها وإن فجرت وكفرت - أو قال: زنت رقت. " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29738 ۔۔۔ محمد بن عبداللہ ثقفی روایت کی ہے کہ ان کے والد عبداللہ بن فارط نے چار ہزار دراہم میں باندی خریدی پھر تھوڑے عرصہ میں باندی نے ناتمام بچہ جنم دیا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اس کی خبر ہوئی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے میرے والد کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلوایا میرے والد عبداللہ بن فارط سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے دوست تھے آپ (رض) نے میرے والد کو سخت ملامت کی اور فرمایا : بخدا ! میں تمہیں اس عیب سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں پھر باندی فروخت کرنے والے کی طرف کوڑا لے کر متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم ایسی حالت میں باندیاں فروخت کرتے ہو جب تمہارا گوشت اور باندیوں کے گوشت تمہارے خون اور ان کے خون خلط ملط ہوجائیں تم اس حالت میں انھیں بیچ کر ان کے پیسے ہڑپ کرنا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ یہودیوں کا برا کرے ان پر چربی حرام کی گئی انھوں نے چربی بیچ کر اس کی رقم کھانا شروع کردی جس طرح بھی ہو باندی واپس کرو ۔ چنانچہ میرے والد نے باندی واپس کردی ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
29738- عن محمد بن عبد الله الثقفي أن أباه عبد الله بن فارط اشترى جارية بأربعة آلاف ثم أسقطت لرجل سقطا فسمع بذلك عمر بن الخطاب، فأرسل إليه قال: وكان أبي عبد الله بن فارط صديقا لعمر بن الخطاب فلامه شديدا وقال: والله إن كنت لأنزهك عن هذا - أو عن مثل هذا - وأقبل على الرجل ضربا بالدرة وقال: الآن حين اختلط لحومكم ولحومهن ودماؤكم ودماؤهن تبيعوهن وتأكلون أثمانهن قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فباعوها، وأكلوا أثمانها، ارددها فردها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29739 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ہم امہات اولاد کی خریدو فروخت کرتے تھے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ ہوتے تھے اور آپ یہ معاملات دیکھتے تھے اور منع نہیں کرتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
29739- عن جابر كنا نبيع أمهات الأولاد والنبي صلى الله عليه وسلم حي لا يرى بذلك بأسا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29740 ۔۔۔ ” مسند خلاد انصاری “ خلاد انصاری (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص مرگیا کچھ وصیت کی اور وصیت کا ذمہ دار مجھے مقرر کیا من جملہ جن چیزوں کی وصیت کی تھی ان میں ایک ام ولد اور ایک آزاد عورت تھی ام ولد اور آزاد عورت میں کچھ تنازع کھڑا ہوگیا آزاد عورت نے ام ولد سے کہا اے کمینی عورت ! کل تجھے اپنی اوقات معلوم ہوجائے گی جب سر بازار فروخت ہورہی ہوگی ۔ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : ام ولد ہرگز فروخت نہ کی جائے ۔ (رواہ الطبرانی)
29740- "من مسند خلاد الأنصاري" مات رجل وأوصى إلي فكان مما أوصى به أم ولده وامرأة حرة، فوقع بين أم الولد والمرأة كلام فقالت المرأة: يالكعاء غدا يأخذ بأذنك فتباعي في السوق، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "لا تباع قط". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29741 ۔۔۔ خوات بن جبیر ابو سعید سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں امہات اولاد کی خرید فروخت کرتے تھے ۔ (رواہ الترمذی) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 4328 ۔
29741- عن خوات بن جبير عن أبي سعيد قال: كنا نبيع أمهات الأولاد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29742 ۔۔۔ ابن مسیب کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام ولد کے بارے میں فرمایا : ام ولد کو اس کا بیٹا آزاد کردیتا ہے ، ام ولد آزاد عورت کی عدت شمار کرے گی ۔ (رواہ عبدالرزاق، وسندہ ضعیف)
29742- عن ابن المسيب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في أم الولد: " أعتقها ولدها وتعتد عدة الحرة". "عب"؛ وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29743 ۔۔۔ عمرو بن دینار کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اپنی وصیت میں لکھا : امابعد ! میری وہ باندیاں جن کے پاس میں چکر لگاتا ہوں ان کی تعداد انیس (19) ہے ان میں سے بعض امہات اولاد ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اولاد ہے ان میں سے بعض حاملہ ہیں ان میں سے بعض غیر حاملہ ہیں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر اس غزوے میں مجھے موت آجائے تو وہ باندیاں جو غیر حاملہ ہیں اور ان کے ہاں کوئی بچہ نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے آزاد ہیں ان پر کسی کا کوئی اختیار نہیں جن باندیوں کے ہاں اولاد ہو یا وہ حاملہ ہوں وہ اپنے بچے پر روکی جائے گی ایسی باندی بچے کے حصہ میں ہے اگر اس باندی کا بچہ مرجائے دراں حالیکہ باندی زندہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے یہ فیصلہ میں نے اپنی انیس (19) باندیوں کے متعلق صادر کیا ہے ” واللہ المستعان “ اس فیصلہ پر گواہان ھیاج بن ابی سفیان اور عبید اللہ بن ابی رافع تھے یہ فیصلہ جمادی الاولی 37 ھ میں لکھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29743- عن عمرو بن دينار قال: كتب علي في وصيته: أما بعد فإن ولائدي اللاتي أطوف عليهن تسع عشرة وليدة منهن أمهات أولاد معهن أولادهن ومنهن حبالى، ومنهن من ولا ولد لهن، فقضيت إن حدث بي حدث في هذا الغزو فإن من كانت منهن ليست بحبلى وليس لها ولد فهي عتيقة لوجه الله ليس لأحد عليها سبيل، ومن كانت منهن حبلى أو لها ولد فإنها تحبس على ولدها، وهي من حظه، فإن مات ولدها وهي حية فإنها عتيقة لوجه الله، هذا ما قضيت في ولائدي التسع عشرة، والله المستعان شهد هياج بن أبي سفيان وعبيد الله بن أبي رافع وكتب في جمادى سنة سبع وثلاثين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29744 ۔۔۔ حکم بن عتیبہ روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اختلاف کیا کہ ام ولد آزاد نہیں ہوتی بشرطیکہ جب ام ولد نے اپنے آقا کے نطفہ سے بچہ جنم دیا ہو۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
29744- عن الحكم بن عتيبة أن عليا خالف عمر في أم الولد أنها لا تعتق إذا ولدت لسيدها. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29745 ۔۔۔ عبیدہ سلمانی کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ امہات اولاد کو نہ بیچنے میں میری اور عمر (رض) کی رائے ایک ہے پھر اس کے بعد امہات اولاد کو بیچنے کے متعلق میری رائے قائم ہوئی عبیدہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : آپ دونوں کی اکٹھی رائے آپ کی متفرد رائے سے مجھے زیادہ محبوب ہے میری بات سن کر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ہنس پڑے ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن عبدالبر فی العلم والبیہقی فی السنن)
29745- عن عبيدة السلماني قال سمعت عليا يقول: اجتمع رأيي ورأي عمر في أمهات الأولاد أن لا يبعن ثم رأيت بعد أن يبعن قال عبيدة قلت له: فرأيك ورأى عمر في الجماعة أحب إلي من رأيك وحدك في الفرقة - أو قال - في الفتنة - فضحك علي. "عب" وابن عبد البر في العلم، "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استیلاد :
29746 ۔۔۔ ابراہیم (رح) کہتے ہیں : ایک شخص ادائیگی قرض کے معاملہ میں اپنی ام ولد بیچنا چاہتا تھا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو خبر ہوئی انھوں نے فرمایا : اے باندی ! تم جاؤ تمہیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے آزاد کردیا ہے (رواہ عبدالرزاق)
29746- عن إبراهيم قال: أعتق أمهات الأولاد فأتت امرأة منهن عليا أراد سيدها أن يبيعها في دين كان عليه فقال: اذهبي فقد أعتقك عمر. "عب".
tahqiq

তাহকীক: