কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
سفر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮১ টি
হাদীস নং: ১৭৬২৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17629 ابوبکر محمد بن الحسن بن کوثر، اسماعیل بن اسحاق، مسدد، عبدالوارث، حسین المعلم، عبداللہ بن بریدۃ ، حویطب بن عبدالعزی کتے ہیں کہ مصر سے ایک قافلہ آیا جس میں گھنٹیاں (بج رہی) تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان گھنٹیوں کا کاٹنے کا حکم دیا اسی وجہ سے گھنٹیاں مکروہ قرار دی گئیں نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ملائکہ اس قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو۔ ابونعیم
17629- حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن كوثر: حدثنا إسماعيل ابن إسحاق: حدثنا مسدد: ثنا عبد الوارث عن حسين المعلم عن عبد الله بن بريدة: حدثني حويطب بن عبد العزى "أن رفقة أقبلت من مصر فيها جرس فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يقطعوه فمن ثم كره الجرس وقال: إن الملائكة لا تصحب رفقة فيها جرس". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17630 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم کسی بالائی جگہ چڑھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اور جب کسی نشیبی جگہ اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ ابن عساکر
17630- عن جابر قال: "كنا إذا صعدنا كبرنا وإذا نزلنا سبحنا". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17631 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک سفر میں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے جب ہم مدینے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جابر ! مسجد میں داخل ہو اور دو رکعات نماز پڑھ لے۔ ابن ابی شیبہ
17631- عن جابر قال: "كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فلما قدمنا المدينة قال: يا جابر ادخل المسجد فصل ركعتين". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17632 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ سے واپسی ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :
ائبون ان شاء اللہ لربنا حامدون ابن ابی عاصم، الکامل لا بن عدی، المحاملی فی الدعاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 1575 ۔
ائبون ان شاء اللہ لربنا حامدون ابن ابی عاصم، الکامل لا بن عدی، المحاملی فی الدعاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 1575 ۔
17632- عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم "كان إذا رجع من غزوته قال: آيبون إن شاء الله لربنا حامدون". "ابن أبي عاصم، عد والمحاملي في الدعاء، كر، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17633 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے تو آپ نے مجھے فرمایا : کیا تو نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : پھر دو رکعات نفل نماز پڑھ لے۔ ابن ابی شیبہ
17633- عن جابر قال: "لما قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي: يا جابر هل صليت؟ قلت: لا، قال: فصل ركعتين". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17634 حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہ پڑھتے :
تائبون عابدون لربنا حامدون ، ابوداؤد، مسند احمد، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن حبان، السنن لسعید بن منصور
تائبون عابدون لربنا حامدون ، ابوداؤد، مسند احمد، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن حبان، السنن لسعید بن منصور
17634- عن البراء قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أقبل من سفر قال: تائبون عابدون لربنا حامدون". "ط حم ن ع حب ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17635 حضرت براء (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے :
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیرا ً مغفرۃ منک ورضوانا بیداک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر، والخلیفۃ فی الاھل، اللھم ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انی اعوذبک من و عشاء السفر وکابۃ المنقلب۔ ابن جریر، الدیلمی
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیرا ً مغفرۃ منک ورضوانا بیداک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر، والخلیفۃ فی الاھل، اللھم ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انی اعوذبک من و عشاء السفر وکابۃ المنقلب۔ ابن جریر، الدیلمی
17635- عن البراء قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج إلى سفر قال: اللهم بلغ بلاغا يبلغ خيرا مغفرة منك ورضوانا بيدك الخير إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر، والخليفة في الأهل، اللهم هون علينا السفر واطو لنا الأرض، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب". "ابن جرير والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17636 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی کسی سفر کا ارادہ کیا تو اپنی جگہ سے اٹھنے سے قبل یہ کلمات ضرور پڑھے :
اللھم لک انتشرت والیک توجھت وبک اعتصمت، اللھم انت ثقتی وانت رجائی، اللھم اکفنی مااھمنی وما لا اھتم لہ وما انت اعلم بہ اللھم زودنی التقوی واغفرلی ذنبی ووھمنی للخیر اینما تو جھت
اے اللہ ! میں تیرے لیے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا، تیری رسی کو تھاما، اے اللہ ! تو میرا بھروسہ ہے اور تو ہی میری امید ہے۔ اے اللہ ! میرے اہم وغیرہ اہم کام میں اور اس کام میں جس کا تجھی کو علم ہے میری کفایت فرما۔ اے اللہ ! مجھے تقویٰ کا توشہ عطا کر، میرے گناہ بخش دے اور مجھے خیر کی طرف راغب کر جہاں کہیں میں منہ کروں۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کلمات پڑھ کر سفر پر نکل جاتے تھے۔ ابن جریر
کلام : الالحاظ 70 ۔
اللھم لک انتشرت والیک توجھت وبک اعتصمت، اللھم انت ثقتی وانت رجائی، اللھم اکفنی مااھمنی وما لا اھتم لہ وما انت اعلم بہ اللھم زودنی التقوی واغفرلی ذنبی ووھمنی للخیر اینما تو جھت
اے اللہ ! میں تیرے لیے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا، تیری رسی کو تھاما، اے اللہ ! تو میرا بھروسہ ہے اور تو ہی میری امید ہے۔ اے اللہ ! میرے اہم وغیرہ اہم کام میں اور اس کام میں جس کا تجھی کو علم ہے میری کفایت فرما۔ اے اللہ ! مجھے تقویٰ کا توشہ عطا کر، میرے گناہ بخش دے اور مجھے خیر کی طرف راغب کر جہاں کہیں میں منہ کروں۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کلمات پڑھ کر سفر پر نکل جاتے تھے۔ ابن جریر
کلام : الالحاظ 70 ۔
17636- عن أنس قال: "لم يرد رسول الله صلى الله عليه وسلم سفرا قط إلا قال حين ينهض من جلوسه: اللهم لك انتشرت وإليك توجهت وبك اعتصمت، اللهم أنت ثقتي وأنت رجائي، اللهم اكفني ما أهمني وما لا أهتم له وما أنت أعلم به، اللهم زودني التقوى واغفر لي ذنبي ووجهني للخير أينما توجهت ثم يخرج". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17637 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ داخل ہوتے وقت مدینے کی دیواریں دیکھتے ہی جس سواری پر سوار ہوتے اس کو ایڑ لگا دیتے اور اونٹ کو تیز دوڑا دیتے مدینہ کی خوشی میں۔ ابن النجار
17637- عن أنس قال: "ما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأى جدر المدينة فكان على دابة إلا حركها ولا بعير إلا أوضعه تباشيرا بالمدينة". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17638 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں سفر پر جانا چاہتا ہوں (رح) اور میں نے اپنی وصیت لکھ لی ہے، اب میں وہ وصیت کس کے حوالے کروں اپنے والد کے، اپنے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ سفر کا ارادہ کرکے کپڑے باند لیتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس اس سے بہتر کوئی خلیفہ نہیں چھوڑ کرجاتا کہ اپنے گھر میں چار رکعات پڑھے اور ہر رکعت میں سو رہ فاتح کے بعد قل ھواللہ احد پڑھے پھر یہ دعا کرے :
اللھم انی اتقرب بھن الیک فاجعلھن خلیفتی فی اھلی ومالی
اے اللہ ! میں ان رکعات کے ساتھ تیرا قرب حاصل کرتا ہوں۔ پس ان کو میرے اہل اور میرے مال میں میرا خلیفہ بنا۔
پس یہ رکعات اس کیلئے اس کے اہل، مال، گھر اور آس پاس کے گھروں میں خلیفہ بنادیتا ہے جب تک کہ وہ واپس آئے۔ الدیلمی
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ سفر کا ارادہ کرکے کپڑے باند لیتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس اس سے بہتر کوئی خلیفہ نہیں چھوڑ کرجاتا کہ اپنے گھر میں چار رکعات پڑھے اور ہر رکعت میں سو رہ فاتح کے بعد قل ھواللہ احد پڑھے پھر یہ دعا کرے :
اللھم انی اتقرب بھن الیک فاجعلھن خلیفتی فی اھلی ومالی
اے اللہ ! میں ان رکعات کے ساتھ تیرا قرب حاصل کرتا ہوں۔ پس ان کو میرے اہل اور میرے مال میں میرا خلیفہ بنا۔
پس یہ رکعات اس کیلئے اس کے اہل، مال، گھر اور آس پاس کے گھروں میں خلیفہ بنادیتا ہے جب تک کہ وہ واپس آئے۔ الدیلمی
17638- عن أنس قال: "جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أريد سفرا وقد كتبت وصيتي فإلى أي الثلاثة تأمرني أن أدفع إلى أبي أو ابني أو أخي فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما استخلف العبد في أهله من خليفة إذا هو شد عليه ثياب سفره خيرا من أربع ركعات يضعهن في بيته يقرأ في كل واحدة منهن بفاتحة الكتاب و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثم يقول: اللهم إني أتقرب بهن إليك فاجعلهن خليفتي في أهلي ومالي فهن خليفته في أهله وماله وداره ودور حول داره حتى يرجع إلى أهله". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17639 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے جب ۔ واپسی میں مقام بیداء یا حرہ پر پہنچے تو آپ نے یہ کلمات پڑھے :
آئبون تائبون عابدون انشاء اللہ لربنا حامدون، ابن ابی شیبہ
آئبون تائبون عابدون انشاء اللہ لربنا حامدون، ابن ابی شیبہ
17639- عن أنس أنه "كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما كان بظهر البيداء أو بالحرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آيبون تائبون عابدون إن شاء الله لربنا حامدون". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17640 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو ظہر کی نماز پڑھے بغیر وہاں سے کوچ نہ کرتے خواہ نصف النہار ہو۔
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شیبہ
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شیبہ
17640- عن أنس "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نزل منزلا لم يرتحل حتى يصلي الظهر وإن كان نصف النهار". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17641 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی منزل پر اترتے تو کجاوے خالی ہونے تک مسلسل تسبیح کرتے رتے تھے۔ المصنف لعبد الرزاق
17641- عن أنس "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل منزلا لم يزل يسبح حتى تحل الرحال". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17642 حفص بن عبداللہ بن انس سے مروی ہے کہ ہم حضرت انس (رض) کے ساتھ مکہ کے سفر پر تھے جب سورج کا زوال ہوتا اور آپ کسی مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوتے تو وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک کہ ظہر کی نماز نہ پڑھ لیتے۔ پھر جب کوچ کرتے اور عصر کا وقت ہوجاتا تو اگر زوال شمس سے قبل چل رہے ہوتے پھر نماز کا وقت ہوجاتا تو ہم کہتے الصلاۃ ! آپ (رض) فرماتے : چلتے رہو حتیٰ کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہوجاتا تو دونوں نمازوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ جب آپ چاشت کے وقت سے چلتے رہتے اور دن ڈھل جاتا تو ایسا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ
17642- عن حفص بن عبد الله بن أنس قال: "كنا نسافر مع أنس إلى مكة فكان إذا زالت الشمس وهو في منزل لم يركب حتى يصلي الظهر فإذا راح فحضرت العصر فإن سار من منزل قبل أن تزول الشمس فحضرت الصلاة قلنا: الصلاة، فيقول: سيروا حتى إذا كان بين الصلاتين جمع بين الظهر والعصر، ثم قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وصل ضحوته بروحته صنع هكذا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17643 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : محاق (مہینے کی آخری تین راتوں) میں سفر نہ کرو۔ اور نہ اس وقت سفر کرو جب قمر عقرب میں نزول کرتا۔ ابوالحسن بن محمد بن جیش الدینوری فی حدیثہ
17643- عن علي قال: "لا تسافروا في المحاق ولا بنزول القمر في العقرب". "أبو الحسن بن محمد بن حبيش الدينوري في حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17643 عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جب سفر کرتے تو غروب شمس کے بعد چل پڑتے جب تاریکی چھانے لگتی تو اتر کر نماز مغرب ادا فرماتے پھر عشاء کا کھانا منگواتے اور تناول کرتے پھر عشاء کی نماز ادا فرماتے پھر کوچ کرلیتے اور فرماتے یونہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے۔ ابن جریر
17644- عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده "أن عليا كان إذا سافر سار بعد ما تغرب الشمس حتى تكاد أن تظلم ثم ينزل فيصلي المغرب ثم يدعو بعشائه فيتعشى ثم يصلي العشاء، ثم يرتحل ويقول: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17645 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا کرتے :
اللھم بک اصول وبک احول وبک اسیر
اے اللہ میں تیری مدد کے ساتھ حملہ کرتا ہوں، تیرا ہی ارادہ کرتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ چلتا ہوں۔ مسنداحمد، ابن جریر و صحیحہ
اللھم بک اصول وبک احول وبک اسیر
اے اللہ میں تیری مدد کے ساتھ حملہ کرتا ہوں، تیرا ہی ارادہ کرتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ چلتا ہوں۔ مسنداحمد، ابن جریر و صحیحہ
17645- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا قال: اللهم بك أصول وبك أحول وبك أسير". "حم وابن جرير، وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17646 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ الاوسط للطبرانی
17646- عن علي "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قدم من سفر يصلي ركعتين". "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17647 عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سفر میں چلے جارہے تھے حتیٰ کہ جب سورج غروب ہوگیا اور تاریکی چھاگئی تو آپ (رض) نے پڑاؤ ڈال دیا پھر مغرب کی نماز ادا کی پھر فوراً عشاء کی نماز ادا کی پھر فرمایا : میں نے اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے۔
17647- عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده "أن عليا كان يسير حتى إذا غربت الشمس وأظلم نزل فصلى المغرب ثم صلى العشاء على أثرها ثم يقول هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع". "د، ن، عم، ع، ص" ولفظ "ع": "فيصلى المغرب ثم يدعو بعشائه فيتعشى، ثم يصلي العشاء، ثم يرتحل ويقول هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17648 ابوسلمہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن رواحۃ سے نقل کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن راحہ فرماتے ہیں میں غزوے میں تھا میں نے جلدی کی اور اپنے گھر کے دروازے تک پہنچ گیا دیکھا کہ ایک چراغ روشن ہے اور میں ایک سفید چیز کے پاس کھڑا ہوں میں نے اپنی تلوار سونت لی تلوار کو حرکت دی تو میری عورت بیدار ہوگئی اور بولی ٹھہرو ! ٹھہرو ! فلاں عورت میرے پاس ہے جو مجھے کنگھی کررہی تھی۔ عبداللہ بن رواحہ کہتے ہیں کہ میں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمادیا کہ کوئی آدمی رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آئے۔ مستدرک الحاکم
17648- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن رواحة قال: "كنت في غزاة فتعجلت فانتهيت إلى الباب فإذا المصباح يتأجج وإذا أنا بشيء أبيض فاخترطت سيفي ثم حركتها فانتبهت المرأة، فقالت: إليك إليك فلانة كانت عندي تمشطني فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته فنهى أن يطرق الرجل أهله ليلا". "ك".
তাহকীক: