কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
سفر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮১ টি
হাদীস নং: ১৭৫৮৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17589 کوئی عورت دو دونوں کا سفر نہ کرے مگر شوہر کے ساتھ یا کسی محرم کے ساتھ۔ اور دو دن روزہ رکھنا جائز نہیں یوم الفطر اور یوم الاضحی۔ دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں صبح کی نماز کے بعد جب تک کہ سورج طلوع ہو اور عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ سورج غروب ہو اور کسی مسجد کے لیے کجاوہ نہ کسا جائے (یعنی دور کا سفر نہ کیا جائے) سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ ۔ البخاری عن ابی سعید (رض)
17589- "لا تسافر المرأة مسيرة يومين إلا ومعها زوجها أو ذو محرم لها ولا صوم في يومين: الفطر والأضحى ولا صلاة بعد صلاتين بعد الصبح حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغرب الشمس ولا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام ومسجدي ومسجد الأقصى". "خ عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17590 کوئی عورت سفر نہ کرے مگر محرم کے ساتھ اور کوئی آدمی کسی عورت کے پاس نہ آئے مگر جب عورت کے پاس کوئی محرم (یا اس کا شوہر) ہو۔
مسند ابی داؤد، مسند احمد، البخاری، مسلم عن ابن عباس (رض)
مسند ابی داؤد، مسند احمد، البخاری، مسلم عن ابن عباس (رض)
17590- "لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها ذو محرم". "ط حم خ م عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17591 کوئی عورت تین دنوں کا سفر بغیر شوہر یا بغیر محرم کے نہ کرے۔
الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
17591- "لا تسافر المرأة ثلاثة أميال إلا مع زوج أو ذي محرم". "طب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
17592 کوئی عورت سفر نہ کرے مگر محرم کے ساتھ اور نہ کوئی آدمی عورت کے پاس جائے مگر جب جبکہ اس کے پاس اس کا کوئی محرم ہو اور جب کوئی کسی عورت کے پاس جائے تو یہ جان لے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی عن جابر (رض)
17592- "لا تسافر المرأة إلا ومعها محرم ولا يدخل عليها إلا وعندها محرم فإذا دخل أحدكم فليعلم أن الله يراه". "هب عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب السفر۔۔۔قسم الافعال
فصل۔۔۔سفر کی ترغیب
فصل۔۔۔سفر کی ترغیب
17593 معمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : سفر کرو صحت مند رہو گے۔ الجامع لعبد الرزاق
کلام : روایت ضعیف ہے : الالحاظ 336، ضعیف الجامع 3209 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے : الالحاظ 336، ضعیف الجامع 3209 ۔
17593- عن معمر عن أبيه قال: قال عمر: "سافروا تصحوا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل آداب سفر میں۔۔۔الوداع کرنا
17594 حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آدمی کو جب وہ سفر کو جاتا تو الوادع کرتے ہوئے یہ دعا دیا کرتے تھے :
زودک اللہ التقویٰ وغفرلک ذنبک ووجھک الی الخیر حیث توجھت۔
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ کرے، تیرے گناہ کو بخشے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں بھی تو جائے۔ ابن النجار
زودک اللہ التقویٰ وغفرلک ذنبک ووجھک الی الخیر حیث توجھت۔
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ کرے، تیرے گناہ کو بخشے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں بھی تو جائے۔ ابن النجار
17594- عن أبي هريرة "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يودع الرجل إذا أراد السفر فيقول: زودك الله التقوى وغفر لك ذنبك ووجهك إلى الخير حيث توجهت". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل آداب سفر میں۔۔۔الوداع کرنا
17595 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میرا سفر کا ارادہ ہے، آپ مجھے کچھ نصیحت فرمادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کب ؟ عرض کیا : کل انشاء اللہ تعالیٰ ۔ وہ آدمی اگلے دن حاضر خدمت ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ تھاما اور ارشاد فرمایا :
فی حفظ اللہ وکنفہ وزودک اللہ التقوی وغفرذنبک ووجھک للخیر حیث توجھت واینما کنت۔
تو اللہ کی حفاظت اور اس کے سائے میں ہے، اللہ تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے، تیرے گناہ بخش دے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں کہیں ہو۔ ابن النجار
فی حفظ اللہ وکنفہ وزودک اللہ التقوی وغفرذنبک ووجھک للخیر حیث توجھت واینما کنت۔
تو اللہ کی حفاظت اور اس کے سائے میں ہے، اللہ تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے، تیرے گناہ بخش دے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں کہیں ہو۔ ابن النجار
17595- عن أنس "أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أريد السفر فأوصني، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: متى؟ قال غدا إن شاء الله تعالى، ثم أتاه الغد فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيده وقال له: في حفظ الله وكنفه وزودك الله التقوى وغفر ذنبك ووجهك للخير حيث توجهت وأينما كنت". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل آداب سفر میں۔۔۔الوداع کرنا
17596 نہشل بن ضحاک بن مزاحم حضرت ابن عمر (رض) سے وہ اپنے والد حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی آدمی کو رخصت فرماتے تو اس کو یہ دعا دیتے :
جعل اللہ زادک التقوی ولقاک الخیر حیث کنت ورزقک حسن المآب
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے ، تو جہاں ہو تجھے خیر عطا کرے اور تجھے اچھا ٹھکانا نصیب کرے۔
ابوالحسن علی بن احمد المدینی فی امالیہ
جعل اللہ زادک التقوی ولقاک الخیر حیث کنت ورزقک حسن المآب
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے ، تو جہاں ہو تجھے خیر عطا کرے اور تجھے اچھا ٹھکانا نصیب کرے۔
ابوالحسن علی بن احمد المدینی فی امالیہ
17596- عن نهشل بن الضحاك بن مزاحم عن ابن عمر عن أبيه عمر بن الخطاب "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا ودعه الرجل قال له: جعل الله زادك التقوى ولقاك الخير حيث كنت ورزقك حسن المآب". "أبو الحسن علي بن أحمد المديني في أماليه"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17597 زید بن وھب حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تین آدمی سفر پر ہوں تو ایک کو امیر بنالیں یہ وہ امیر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر بنایا ہے۔
مسند البزار، ابن خزیمہ، الدارقطنی فی الافراد، حلیۃ الاولیاء ، مستدرک الحاکم
مسند البزار، ابن خزیمہ، الدارقطنی فی الافراد، حلیۃ الاولیاء ، مستدرک الحاکم
17597- عن زيد بن وهب عن عمر قال: "إذا كانوا ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم ذاك أمير أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم". "البزار وابن خزيمة قط في الأفراد حل ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17598 زید بن وھب سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تم سفر میں تین افراد ہو تو ایک کو اپنا امیر بنالو۔ جب تم کسی اونٹوں یا بکریوں کے چرواہے کے پاس سے گزرو تو تین مرتبہ ان کو میزبانی کا کہو۔ اگر وہ تم کو (ہاں میں) جواب دیں تو ٹھیک ورنہ اترو اور دودھ نکالو اور پیو پھر ان کو (چرنے کے لئے) چھوڑ دو ۔ عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی و صحیحہ
17598- عن زيد بن وهب قال: قال عمر: "إذا كنتم في سفر ثلاثة فأمروا عليكم أحدكم وإذا مررتم بإبل أو راعي غنم فنادوا ثلاثا فإن أجابكم أحد فاستسقوه وإلا فانزلوا فحلوا واحلبوا واشربوا ثم صروا "عب ش ق وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17599 مکحول (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، جس کا آدھا سر اور آدھی داڑھی سفید ہوچکی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تیرا کیا حال ہے ؟ آدمی بولا : میں بنی فلاں کے مقبرے کے پاس سے رات کے وقت گزرا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی آگ کا کوڑا لیے دوسرے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ جب بھی اس کو پالیتا تو کوڑا مارتا ہے، جس کے اثر سے اس کے سر سے پاؤں تک آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آدمی جب میرے قریب ہوا تو بولا : یا عبداللہ اغثنی اے اللہ کے بندے میری مدد کر۔ پکڑے نے والے نے کہا : اے اللہ کے بندے ! اس کی مدد نہ کر۔ یہ بہت برا بندہ ہے اللہ کا۔ حضرت عمر (رض) نے اس آدمی کو فرمایا : اسی وجہ سے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسند کیا ہے کہ کوئی آدمی تنہا سفر کرے۔ ہشام بن عمار فی مبعث النبی ﷺ
17599- عن مكحول "أن رجلا أتى عمر بن الخطاب وقد ابيض نصف رأسه ونصف لحيته فقال له عمر: ما بالك، فقال: مررت بمقبرة بني فلان ليلا فإذا رجل يطلب رجلا بسوط من نار كلما لحقه ضربه فاشتعل ما بين فرقه وقدمه نارا فلما دنى الرجل قال: يا عبد الله أغثني، فقال الطالب: يا عبد الله لا تغثه فبئس عبد الله هو، فقال عمر: فلذلك كره لكم نبيكم صلى الله عليه وسلم أن يسافر أحدكم وحده". "هشام بن عمار في مبعث النبي صلى الله عليه وسلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17600 حویرث بن ذباب سے مروی ہے کہ میں ایک مقام میں تھا کہ ایک آدمی قبر سے نکلا جس کا چہرہ اور سر آگ کے طوق میں بھڑک رہا تھا۔ وہ مجھے بولا : مجھے اپنے برتن سے پانی پلا پانی پلا۔ ایک دوسرا آدمی اس کے پیچھے آنکلا اور بولا : کافر کو پانی نہ پلا کافر کو پانی نہ پلا۔ آخر اس نے اس کو آلیا اور اس کے طوق کے سرے سے پکڑ کر کھینچا اور گرالیا۔ پھر اس کو کھینچتا ہوا لے گیا اور دونوں قبر میں داخل ہوگئے۔ حویرث کہتے ہیں : یہ (ہول ناک منظر) دیکھ کر میری اونٹنی بھاگ اٹھی اور میرے قابو سے نکل گئی بھاگتے بھاگتے اس کی اندام نہانی بھی پسینے سے بھیگ اٹھی اور اونٹی بل کھا کر بیٹھ گئی۔ پھر میں نے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سوار ہوگیا حتیٰ کہ صبح مدینے میں آکر کی۔ پھر میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (رض) کو ساری خبر دی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اے حویرث اللہ کی قسم ! میں تجھے مہتم نہیں کرتا (کہ تو جھوٹ بول رہا ہے) تو نے بہت بڑی خبر سنائی ہے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے میرے قبیلے کے بڑے بوڑھے لوگوں کو بلایا جنہوں نے زمانہ جاہلیت پایا تھا۔ پھر حویرث کو بھی بلایا اور فرمایا : حویرث نے مجھے ایک واقعہ سنایا ہے اور میں اس کو تہمت نہیں لگاتا ، اے حویرث ! وہ واقعہ ان کو سنا۔ ان لوگوں نے۔ واقعہ سن کر کہا : یا امیر المومنین ! یہ آدمی بنی غفار کا تھا جو جاہلیت میں مرگیا تھا حضرت عمر (رض) نے اللہ کا شکر کیا اور اس واقع کی سچائی پر خوش ہوئے اور ان لوگوں کو فرمایا : مجھے اس کا حال بتاؤ۔ انھوں نے کہا : اے امیر المومنین ! وہ آدمی جاہلیت کے اچھے آدمیوں میں سے تھا لیکن مہمان کا کوئی حق نہ سمجھتا تھا۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب من عاش بعدالموت۔
17600- عن الحويرث بن ذباب قال: "بينا أنا بالأثاية إذ خرج علينا إنسان من قبر يلتهب وجهه ورأسه نارا في جامعة من حديد فقال: اسقني اسقني من الإداوة وخرج إنسان في أثره، فقال: لا تسق الكافر لا تسق الكافر فأدركه فأخذ بطرف السلسلة فجذبه فكبه فجره حتى دخلا القبر جميعا قال الحويرث: فضربت بي الناقة ولا أقدر منها على شيء حتى التوت بعرق الظبية فبركت فصليت المغرب والعشاء الأخيرة ثم ركبت حتى أصبحت المدينة فأتيت عمر بن الخطاب فأخبرته الخبر، فقال: يا حويرث والله ما أتهمك ولقد أخبرتني خبرا شديدا ثم أرسل عمر إلى مشيخة من كنفي الصفراء قد أدركوا الجاهلية ثم دعا الحويرث فقال: إن هذا أخبرني حديثا ولست أتهمه حدثهم يا حويرث ما حدثتني فقالوا: قد عرفنا هذا يا أمير المؤمنين هذا رجل من بني غفار مات في الجاهلية فحمد الله عمر وسر بذلك وسألهم عمر عنه، فقالوا: يا أمير المؤمنين كان رجلا من خير رجال في الجاهلية ولم يكن يرى للضيف حقا". "ابن أبي الدنيا في كتاب من عاش بعد الموت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17601 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جمعہ آدمی کو سفر سے نہیں روکتا جب تک کہ اس کا وقت نہ آجائے۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
17601- عن ابن عمر قال: "إن الجمعة لا تمنعه من السفر مالم يحضر وقتها". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17602 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے جب (مدینے کے قریب مقام) جرف تک پہنچے تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے پاس رات کو نہ جاؤ اور نہ ان کو دھوکے میں رکھو (کہ اچانک ان کے پاس پہنچ جاؤ) پھر آپ (رض) نے ایک سوار کو مدینہ بھیج دیا تاکہ وہ اعلان کردے کہ لوگ صبح کو اپنے اپنے گھروں میں آئیں گے۔
الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
17602- عن ابن عمر "أن عمر قفل من غزوة فلما جاء الجرف قال: يا أيها الناس لا تطرقوا النساء ولا تغتروهن ثم بعث راكبا إلى المدينة يخبرهم أن الناس يدخلون بالغداة". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17603 حضرت عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے دو آدمیوں کے سفر کرنے سے منع فرمایا۔
مصنف ابن ابی شیبہ
مصنف ابن ابی شیبہ
17603- عن عطاء "أن عمر نهى أن يسافر الرجلان". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17604 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم سفر میں کم از کم تین آدمی جمع ہوجاؤ۔ اگر ایک مرجائے تو دو اس کا انتظام کرلیں۔ ایک آدمی ایک شیطان ہے اور دو آدمی دو شیطان ہیں۔ النسائی، ابن ابی شیبہ
17604- عن مجاهد قال: قال عمر: "كونوا في أسفاركم ثلاثة فإن مات واحد وليه اثنان، الواحد شيطان والاثنان شيطانان". "ن ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17605 قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس پر سفر کے آثار ہیں اور وہ کہہ رہا ہے : اگر جمعہ نہ ہوتا تو میں سفر پر نکل جاتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تو سفر پر نکل ، کیونکہ جمعہ سفر سے نہیں روکتا۔ الشافعی، السنن للبیہقی
17605- عن قيس قال: "أبصر عمر بن الخطيب رجلا عليه هيئة السفر فسمعه يقول: لولا الجمعة اليوم لخرجت، فقال عمر: اخرج فإن الجمعة لا تحبس عن سفر". "الشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17606 عبداللہ بن سر جس سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کرتے تو یہ دعا فرماتے : اللھم بلغنا بلاغ خیر ومغفرۃ اے اللہ ! ہم کو خیر اور مغفرت کے ساتھ (منزل تک) پہنچا ۔ حلیۃ الاولیاء
17606- عن عبد الله بن سرجس قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سافر فقال: اللهم بلغنا بلاغ خير ومغفرة". "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17607 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالتے تو منادی کو حکم کردیتے وہ اعلان کردیتا کہ رات کو اپنے گھر والوں کے پاس نہ جانا۔ ایک مرتبہ دو آدمیوں نے جلدی کی اور اپنے گھر چلے گئے۔ دونوں نے اپنی اپنی بیوی کے پاس ایک ایک آدمی پایا۔ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذکر کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا کہ رات کو گھر والوں کے پاس نہ جاؤ۔ المصنف لعبد الرزاق
17607- عن ابن المسيب قال: "لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمعرس أمر مناديا ينادى لا تطرقوا النساء فتعجل رجلان فكلاهما وجد مع امرأته رجلا فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: قد نهيتكم أن تطرقوا النساء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17608 ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ ان صحابہ کرام (رض) میں سے جب کوئی سفر پر جاتا تھا تو یہ پڑھتا :
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیراً رمغفرۃ منک ورضوانا بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر وانت اخلیفۃ فی الاھل ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انا نعوذ بک من و عشاء السفر ومآبۃ المنقلب۔
اے اللہ ! خیر تک پہنچا، اپنی مغفرت اور رضاء عطا فرما۔ تمام خیر آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی ہے، تو پیچھے گھر والوں میں خلیفہ ہے۔ ہم پر سفر کو آسان کر اور زمین کو ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے۔ ابن جریر
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیراً رمغفرۃ منک ورضوانا بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر وانت اخلیفۃ فی الاھل ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انا نعوذ بک من و عشاء السفر ومآبۃ المنقلب۔
اے اللہ ! خیر تک پہنچا، اپنی مغفرت اور رضاء عطا فرما۔ تمام خیر آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی ہے، تو پیچھے گھر والوں میں خلیفہ ہے۔ ہم پر سفر کو آسان کر اور زمین کو ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے۔ ابن جریر
17608- عن إبراهيم قال: "كان أحدهم إذا سافر قال: اللهم بلغ بلاغا يبلغ خيرا ومغفرة منك ورضوانا بيدك الخير إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر وأنت الخليفة في الأهل هون علينا السفر واطو لنا الأرض، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب". "ابن جرير".
তাহকীক: