কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

سفر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮১ টি

হাদীস নং: ১৭৬০৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17609 ابراہیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام جب کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک کہ ظہر کی نماز نہ پڑھ لیں خواہ ان کو جلدی ہو۔ السنن لسعید بن منصور
17609- عن إبراهيم قال: "كانوا إذا نزلوا في منزل لم يرتحلوا حتى يصلوا الظهر وإن عجلوا". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17610 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے گھر سے سفر کے لیے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز (نفل) ضرور ادا فرماتے ۔ ابن جریر وصححہ
17610- عن ابن عباس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج من أهله مسافرا صلى ركعتين حتى يرجع إلى أهله". "ابن جرير، وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17611 ابراہیم سے مروی ہے کہ کہا جاتا تھا جب تو سفر میں نماز پڑھے اور تجھے شک ہو کہ سورج کا زوال ہوگیا ہے یا نہیں تو کوچ کرنے سے قبل نماز پڑھ لے۔ السنن لسعید بن منصور
17611- عن إبراهيم قال: "كان يقال إذا صليت في سفر فشككت زالت الشمس أم لم تزل فصل قبل أن ترتحل". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17612 مکحول (رح) سے مروی ہے کہ کوئی بندہ سفر کا ارادہ کرکے یہ کلمات نہیں پڑھتا مگر اللہ پاک اس کو تکیہ کرتا ہے، اس کی کفایت کرتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔

اللھم لاشیء الاانت ولا شیء الا ماشئت ولا حول ولا قوۃ الا بک لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولانا وعلی اللہ فلیتوکل المومنون حسبی اللہ لا الہ الا ھو اللھم فاطر السموات والارض انت ولی فی الدنیا والآخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصالحین

اے اللہ ! کوئی چیز نہیں سوائے تیرے، کوئی چیز نہیں مگر جو توچا ہے ، بدی سے بچنے کی اور نیکی کرنے کی قوت صرف تیری بدولت ممکن ہے، ہم کو صرف وہی (مصیبت یا رحمت) پہنچتی ہے جو تو نے ہمارے لیے لکھ دی، وہ (اللہ) ہمارا آقا ہے، اللہ ہی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ ! تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ تو ہی دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے۔ اے اللہ ! مجھے مسلمان حالت میں فوت کر اور صالحین کے ساتھ مجھے شامل کر۔ ابن جریر
17612- عن مكحول: "ما أراد عبد سفرا فقال هؤلاء الكلمات إلا كلأه الله وكفاه ووقاه: اللهم لا شيء إلا أنت ولا شيء إلا ما شئت ولا حول ولا قوة إلا بك لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا هو مولانا وعلى الله فليتوكل المؤمنون حسبي الله لا إله إلا هو اللهم فاطر السموات والأرض أنت وليي في الدنيا والآخرة توفني مسلما وألحقني بالصالحين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب کا بیان
17613 معمر زہری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ آدمی (سفر سے واپسی کے بعد) عشاء کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔ المصنف لعبد الرزاق
17613- عن معمر عن الزهري قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يطرق الرجل أهله بعد العتمة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17614 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : پانچ چیزیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں چھوڑتے تھے اور نہ حضر میں۔ آئینہ، سرمہ دانی، کنگھی، مدری۔ کھجانے کے لیے بال درست کرنے کے لیے باریک سینگ اور مسواک۔ ابن النجار

کلام : روایت محل کلام ہے : ذخیرۃ الحفاظ 2793، المتناھیۃ 1146 ۔
17614- عن عائشة قالت: "خمس لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعهن في سفر ولا حضر: المرآة والمكحلة والمشط والمدري والسواك". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17615 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو پہلے وضو کرتے اور اچھی طرح کامل وضو کرتے، پھر دو رکعات نماز پڑھتے پھر قبلہ رو ہو کر وہیں بیٹھے ہوئے یہ دعا پڑھتے :

الحمد للہ الذی خلقنی ولم اک شئا رب اعنی علی اھوال الدھر وبوائق الدھر وکربات الآخرۃ و مصیبات اللیانی والایام رب فی سفری فاحفظنی فی اھلی فاخلفنی وفیما رزقتنی قبارک فی ذلک

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے مجھے پیدا کیا حالانکہ میں کچھ نہیں تھا، اے پروردگار ! میری مدد فرما زمانے کی ہول ناکیوں پر اور زمانے کی مصیبتوں پر اور آخرت کے عذابوں پر۔ راتوں اور دنوں کی تکالیف پر میرے اس سفر میں اے پروردگار ! پس میرے گھر والوں کی حفاظت فرما اور ان میں میرا خلیفہ بن اور تو جو رزق مجھے نصیب کرے اس میں مجھے برکت عطا کر۔ الدیلمی
17615- عن عائشة قالت: " كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا توضأ فأسبغ الوضوء ثم صلى ركعتين ويقول في مجلسه مستقبل القبلة: الحمد لله الذي خلقني ولم أك شيئا رب أعني على أهوال الدهر وبوائق الدهر وكربات الآخرة ومصيبات الليالي والأيام رب في سفري فاحفظني في أهلي فاخلفني وفيما رزقتني فبارك في ذلك". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17616 حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :

اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم اصحب لنا بنصح واقبلنا بذمۃ، اللھم ازولنا الرض وھون علینا السفر، اللھم انی اعوذبک من و عشاء السفر وکابۃ المنقلب وسوء المنظر فی الاھل والمال اللھم اطولنا الارض وھون علینا السفر۔

اے اللہ ! تو ہی سفر میں میرا ساتھی ہے، میرے گھر والوں میں میرا خلیفہ ہے، اے اللہ ! خیر خواہی کے ساتھ ہمارا ساتھی بن، ہماری ذمہ داری قبول کر، اے اللہ ! زمین کو ہمارے لیے سکیڑ دے اور سفر کو ہم پر آسان کردے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے، بری واپسی سے اور اہل ومال میں برے منظر سے، اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو ہم پر آسان کردے۔ ابن جریر
17616- عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا قال: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم اصحب لنا بنصح واقلبنا بذمة، اللهم ازو لنا الأرض وهون علينا السفر، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17617 ابورائطہ عبداللہ بن کر اتہ المذحجی سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسافر قوم کو ارشاد فرمایا :

کوئی فالتو پھرنے والا جانور تمہارے ساتھ نہ ہونا چاہیے، نہ تم میں سے کوئی کسی گمشدہ شے کا ضامن بنے، نہ کوئی سائل کو واپس کرے اگر تم کو نفع و سلامتی مقصود ہے۔ اور اگر تم اللہ اور پوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو کوئی جادو گر یا جادو گرنی سفر میں تمہاری ساتھی نہ بنے، نہ کاہن اور کاہنہ (آئندہ کا حال بتانے والے) ، نہ کوئی نجومی اور نجومیہ اور نہ شاعر اور شاعرہ۔ اور ہر عذاب جو اللہ پاک اپنے بندوں میں سے کسی کو دینا چاہتا ہے تو پہلے اس کو آسمان دنیا پر بھیجتا ہے۔ پس میں تم کو شام کے وقت اللہ کی نافرمانی سے روکتا ہوں۔ الدولابی فی الکنی، ابی مندہ ، الکبیر للطبرانی، ابن عساکر

کلام : روایت ضعیف ہے۔ کنز العمال
17617- عن أبي رائطة عبد الله بن كرامة المذحجي قال: "كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لقوم سفر: لا يصحبنكم جلال من هذه النعم يعني الضوال ولا يضمن أحدكم ضالة ولا يردن سائلا إن كنتم تريدون الربح والسلامة ولا يصحبنكم من الناس إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر ساحر ولا ساحرة ولا كاهن ولا كاهنة ولا منجم ولا منجمة ولا شاعر ولا شاعرة، وإن كل عذاب يريد الله أن يعذب أحدا به من عباده فإنما يبعث به إلى السماء الدنيا فأنهاكم عن معصية الله عشيا"."الدولابي في الكنى وابن منده طب كر وهو ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17618 حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : اپنے سفروں میں اللہ کا ذکر کرتے رہو ہر پتھر اور درخت وجھاڑی کے پاس۔ شاید قیامت کے دن وہ تمہاری گواہی دینے آجائے۔

ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر
17618- عن أبي الدرداء قال: "اذكروا الله في أسفاركم عند كل حجيرة وشجيرة لعلها أن تأتي يوم القيامة فتشهد لكم". "ابن شاهين في الترغيب في الذكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১৯
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17619 ابوثعلبۃ الخشنی سے مروی ہے کہ لوگ جب سفر کے دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کہیں اترتے تو وادیوں اور گھاٹیوں میں پھیل جاتے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ایک مرتبہ) فرمایا : تمہارا وادیوں اور گھاٹیوں میں (ادھر ادھر) پھیل جانا شیطان کی طرف سے ہے۔ پھر اس کے بعد لوگ جب بھی کسی پڑاؤ پر اترتے اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل مل کر بیٹھتے کہ اگر ایک کپڑا ان پر ڈالا جاتا تو سب کو چھا جاتا تھا۔ ابن عساکر 17570 ۔
17619- عن أبي ثعلبة الخشني قال: "كان الناس إذا نزلوا مع النبي صلى الله عليه وسلم تفرقوا في الشعاب والأودية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن تفرقكم في هذه الشعاب والأودية إنما ذلكم من الشيطان. فلم ينزلوا بعد ذلك منزلا إلا انضم بعضهم إلى بعض حتى لو بسط عليهم ثوب لوسعهم". "كر" مر برقم [17570] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২০
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17620 عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ بنی الحارث بن خزرج کے ایک بوڑھے محمد بن اسلم بن بجرہ کے دل میں خیال ہوا کہ مدینے جاکر بازار سے اپنی ضرورت کا سامان لایا جائے۔ چنانچہ وہ مدینہ گیا اور بازار سے اپنا سامان لیا اور پھر گھر آگیا۔ جب اس نے چادر اتاری تو اس کو یاد آیا کہ اس نے مسجد نبوی میں نماز نہیں پڑھی اور یونہی واپس آگیا ہے۔ بولا : اللہ کی قسم ! میں نے مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دو رکعتیں نفل بھی نہیں پڑھیں حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : تم میں سے جو اس (مدینے کی) بستی میں اترے وہ واپس اپنے گھر نہ جائے جب تک اس مسجد میں دو رکعت نماز نہ پڑھ لے۔

چنانچہ اس نے دوبارہ چادر اٹھائی اور مدینہ گیا اور مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دو رکعتیں پڑھ کر پھر واپس اپنے گھر آگیا۔ الحسن بن سفیان و ابونعیم فی المعرفۃ
17620- عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن محمد ابن أسلم بن بجرة أخي بني الحارث بن الخزرج وكان شيخا كبيرا قد حدث نفسه قال: "إن كان ليدخل المدينة فيقضي حاجته بالسوق ثم يرجع إلى أهله فإذا وضع رداءه ذكر أنه لم يصل في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول: والله ما صليت في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين فإنه قد قال لنا: " من هبط منكم هذه القرية فلا يرجعن إلى أهله حتى يركع في هذا المسجد ركعتين" ثم يأخذ رداءه فيرجع إلى المدينة حتى يركع في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم يرجع إلى أهله". "الحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২১
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17621 حضرت کعب بن مالک سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر سے چاشت کے وقت واپس تشریف لاتے تھے، جب آلیتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے پھر وہیں بیٹھ جاتے۔ ابن جریر
17621- عن كعب بن مالك " أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يقدم من سفره إلا نهارا في الضحى فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم يقعد فيه". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২২
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17622 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سفر کا ارادہ کرے تو تو یہ پڑھے :

اللھم بلاغا یبلغ خیراً مغفرۃ منک ورضوانا بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل اللھم انا نعوذ بک من وعثاء السفر وکابۃ المنقلب، اللھم اطولنا الارض وھون علینا السفر۔

اے اللہ ! مجھے خیر تک پہنچا ایسی خیر تک جس سے تیری مغفرت اور تیری رضا حاصل ہو، بیشک تمام چیزیں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ اے اللہ ! تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! تو سفر کا ساتھی ہے۔ اہل و عیال میں خلیفہ (دیکھ بھال کرنے والا) ہے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان کردے۔

ابن جریر
17622- عن ابن مسعود قال: "إذا أراد الرجل منكم السفر فليقل: اللهم بلاغا يبلغ خيرا مغفرة منك ورضوانا بيدك الخير إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب، اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৩
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17623 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اونٹ پر بیٹھ جاتے سفر پر نکلتے ہوئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے :

سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون اللھم انا نسالک فی سفرنا ھذا البر والتقویٰ والعمل بما تحب وترضی اللھم ھون علینا السفر واطوعنا بعد ہ، اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل اللھم انی اعوذبک من عثاء السفر وکابۃ المنقلب وسوء المنظر فی الاھل والمال۔

پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس (سواری) کو مسخر کیا اور ہم اس کو تابع کرنے کی سکت نہیں رکھنے والے اور ہم اپنے رب کی طرف واپسی لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور اس عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے محبوب ہو، جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ ! ہم پر سفر کو آسان کر اور ہم سے دوری کو سمیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل میں خلیفہ ہے اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے ، بری واپسی سے اور گھر اور مال میں برے منظر سے۔

اور پھر جب سفر سے واپسی ہوتی تو یہی دعا پڑھتے اور یہ اضافہ فرما دیتے :

آئبون تائبون لربنا حامدون، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ ابن جریر
17623- عن ابن عمر "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى سفره كبر ثلاثا ثم قال: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى والعمل بما تحب وترضى، وفي لفظ: ومن العمل ما ترضى، اللهم هون علينا السفر واطو عنا بعده، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال وإذا رجع قالها وزاد: آيبون تائبون لربنا حامدون". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৪
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17624 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزہ پر جاتے یا سفر پر جاتے اور آپ کو رات ہوجاتی تو یہ کہتے :

یا ارض ربی، وربک اللہ اعوذ باللہ من شرک وشرما فیک وشر ماخلق فیک وشرما یدب علیک اعوذ باللہ من شرکل اسد واسود وحیۃ وعقرب ومن ساکن البلدو من شروالدوماولد۔

اے زمین ! میرے رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تیرے شر سے ، تیرے اندر کے شر سے ، جو تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے اور جو تجھ پر چلتے ہیں ان کے شر سے ، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر درندے اور شیر سے ، بچھو اور سانپ سے۔ اس جگہ کے رہنے والوں سے اور والد اور اولاد کے شر سے۔ ابن النجار
17624- عن ابن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غزا أو سافر فأدركه الليل قال: يا أرض ربي؛ وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك وشر ما يدب عليك أعوذ بالله من شر كل أسد وأسود وحية وعقرب ومن ساكن البلد ومن شر والد وما ولد". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৫
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17625 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو بھی (سفر سے واپسی کے بعد) رات کو گھر آنے سے منع فرمایا۔ ابن عساکر
17625- عن ابن عباس "نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يطرق الرجل أهله ليلا". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৬
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17626 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :

اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من الضعبۃ فی السفر والکابۃ فی المنقلب ، اللھم اقبض لنا الارض وھون علینا السفر۔

اے اللہ ! تو سفر میں میرا ساتھی ہے اور اہل و عیال میں میرا خلیفہ ہے۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر میں تباہی سے اور واپسی میں رنج وغم سے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو سمیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان کردے۔

پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر سے واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :

آئبون تائبون لربنا حامدون

ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔

جب گھر میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے : توبا لربنا اوما لا یغادر حوبا ۔ ہم اپنے رب سے سفر سے واپسی پر ایسی توبہ کرتے ہیں جو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑے۔

اور جس دن مدینہ داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو یہ پڑھتے ، توبا الی ربنا توبا لا یغادر علیہ منا حوبا، ہم اپنے رب سے توبہ کرتے ہیں ایسی توبہ جو ہم پر کسی گناہ کو نہ چھوڑے۔ ابن جریر
17626- عن ابن عباس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج إلى سفر قال: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من الضيعة في السفر والكآبة في المنقلب، اللهم اقبض لنا الأرض وهون علينا السفر فإذا أراد الرجوع قال: آيبون تائبون لربنا حامدون، وإذا دخل بيته قال: توبا لربنا أوبا لا يغادر حوبا 1، وفي لفظ: فإذا كان يوم يدخل المدينة قال: توبا إلى ربنا توبا لا يغادر عليه منا حوبا". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৭
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17627 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :

اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ فی السفر والکابۃ فی المنقلب ، اللھم اقبض لنا الارض وھون علینا السفر۔

اور جب واپسی کا ارادہ ہوتا تو یہ پڑھتے :

تائبون عابدون لربنا حامدون۔

اور جب اپنے گھر والوں کے پاس آتے تو یہ پڑھتے :

توباتو بالربنا اولا لا یغادر علینا حوباً ۔ ابن ابی شیبہ
17627- وعنه: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج في سفر قال: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من الفتنة في السفر والكآبة في المنقلب، اللهم اقبض لنا الأرض وهون علينا السفر، فإذا أراد الرجوع من السفر قال: تائبون عابدون لربنا حامدون وإذا دخل على أهله قال: توبا توبا لربنا أوبا لا يغادر علينا حوبا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২৮
سفر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توشہ سفر
17628 عبداللہ بن سر جس سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :

اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من وعثاء ، السفرو کا بۃ المنقلب والحور بعد الکور ودعوۃ المظلوم وسوء المنظر فی الاھل والمال

اے اللہ تو میرا ساتھی ہے سفر میں اور خلیفہ ہے اہل میں۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے اور رنج وغم کی واپسی سے۔ معاملے کے سلجھنے کے بعد الجھنے سے ۔ مظلوم کی بددعا سے اور اہل ومال میں برے منظر سے۔ ابن جریر
17628- عن عبد الله بن سرجس قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا قال: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: