কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৬২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24621 ۔۔۔ سلمہ بن نباتہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر (رض) سے ہماری ملاقات ہوئی ان سے ایک آدمی نے اس شخص کے متعلق پوچھا جو بجز عید الفطر اور عید الاضحی کے عمر بھر روزے رکھے حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا اس شخص نے آپ (رض) سے دوبارہ یہی سوال دہرایا آپ (رض) نے پھر یہی جواب دیا ، چنانچہ کسی نے آپ (رض) سے پوچھا : آپ کیسے روزہ رکھتے ہیں ؟ فرمایا : مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ میں عمر بھر کے روزے رکھنے کے حکم میں آجاؤں اس آدمی نے کہا : یہی تو وہ چیز ہے جس کا عیب آپ اپنے ساتھی پر تھوپ رہے تھے فرمایا : ہرگز نہیں ، میں تو ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتا ہوں اور مجھے اپنے رب تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ ہر دن کے بدلہ میں مجھے دس دن کے روزوں کا ثواب عطا فرمائے گا ، اور یہ عمر بھر کے روزوں کے مترادف ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ مآیت)” من جاء بالحسنۃ فلہ عشرامثالھا “۔ یعنی جو ایک نیکی اپنے ساتھ لایا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ۔ (رواہ ابن جریر)
24621- عن سلمة بن نباتة الحارثي قال: "لقينا أبا ذر فسأله رجل عن رجل يصوم الدهر إلا الفطر والأضحى، فقال: لم يصم ولم يفطر، فعاوده فقال مثل ذلك، فسأله بعض القوم كيف تصوم، قال: أطمع من ربي أن أصوم الدهر كله، قال: فهذا الذي عبت على صاحبي، قال: كلا أصوم من كل شهر ثلاثة أيام، وأطمع من ربي أن يجعل لي مكان كل يوم عشرة أيام، وذلك صوم الدهر كله وذلك بأن الله تعالى قال: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} ". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24622 ۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا عمر بھر روزے رکھنے کی طرح ہے حضرت ابوذر (رض) نے کہا : اللہ اور اللہ کے رسول نے قرآن مجید میں سچ فرمایا : (آیت)” من جاء بالحسنۃ فلہ عشرامثالھا “۔ یعنی جو ایک نیکی اپنے ساتھ لایا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ۔ (رواہ ابن جریر)
24622- عن أبي ذر قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صيام ثلاثة أيام من كل شهر كصيام السنة كلها، قال: وصدق الله ورسوله في كتابه فقال: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} ". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24623 ۔۔۔ ایک مرتبہ حضرت ابوذر (رض) کو کھانے کی دعوت دی گئی آپ (رض) نے فرمایا : مجھے روزہ ہے چنانچہ اس کے بعد آپ (رض) کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا ، ان سے کسی نے روزہ میں نہ ہونے کی وجہ دریافت کی تو آپ (رض) نے فرمایا : میں ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتا ہوں پس یہ عمر بھر کے روزے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24623- عن أبي ذر دعي إلى الطعام فقال: "إني صائم، ثم رؤي بعد ذلك يأكل فقيل له، فقال: إني أصوم ثلاثة أيام من كل شهر فذلك صوم الدهر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24624 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے 13 ، 14، 15، تاریخوں کے روزے رکھنے کا حکم دیا ۔ (رواہ ابن جریر)
24624- عن أبي ذر "أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بصيام ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24625: حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو شخص مہینے بھر میں تین روزے رکھنا چاہے تو وہ ایام بیض کے روزے رکھے۔ ابن جریر۔
24625- عن أبي ذر قال: "من كان صائما من الشهر ثلاثة أيام، فليصم ثلاثة البيض". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24626 ۔۔۔ ابو نوفل بن ابوعقرب اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں زیادہ طاقت رکھتا ہوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں زیادہ قوت رکھتا ہوں میں زیادہ طاقت رکھتا ہوں چلو مہینہ میں دو دن روزے رکھو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے اضافہ کیجئے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے اضافہ کیجئے اضافہ کیجئے ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو ۔ (رواہ ابن جریر)
24626- عن أبي نوفل بن أبي عقرب عن أبيه قال: "سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصوم فقال: صم يوما من الشهر قلت: يا رسول الله إني أقوى فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إني أقوى إني أقوى صم يومين من الشهر، قلت يا رسول الله زدني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: زدني زدني صم ثلاثة أيام من كل شهر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24627 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ انھیں کھانے کی دعوت کی گئی انھوں نے فرمایا : مجھے روزہ ہے اس کے بعد انھوں نے کھانا کھایا جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا : میں مہینہ میں تین دن روزے رکھ لیتا ہوں ۔ (رواہ ابن جریر)
24627- عن أبي هريرة أنه دعي إلى طعام فقال: "إني صائم، ثم أكل فقيل له فقال: إني صمت ثلاثة أيام من الشهر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24628 ۔۔۔ ابو عثمان کہتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، کھانا لایا گیا اور حضرت ابوہریرہ (رض) نماز پڑھ رہے تھے لوگوں انھیں پیغام بھیجا انھوں نے فرمایا : مجھے روزہ ہے ، لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نماز سے فارغ ہوئے اور آکر دسترخوان پر بیٹھ گئے اور کھانا کھانے لگے لوگ پیغام رساں کی طرف دیکھنے لگے (کہ شاید اس نے جھوٹ بول دیا ہو) اس نے کہا : میری طرف کیوں دیکھتے ہو انھوں نے مجھے خود بتایا ہے کہ مجھے روزہ ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور پھر ہر مہینہ میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کے برابر ہیں میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی تضعیف میں روزہ دار ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رخصت کے اعتبار سے افطار کرنے والا ہوں ۔ (رواہ ابن النجار)
24628- عن أبي عثمان قال: "كنا مع أبي هريرة في سفر فحضر الطعام وأبو هريرة يصلي، فأرسلوا إليه فقال: إني صائم، فأقبل القوم وفرغ أبو هريرة من صلاته وجاء وجلس على المائدة فجعل يأكل،فنظروا إلى الرسول، فقال الرسول: ما تنظرون إلي هو أخبرني أنه صائم فقال أبو هريرة: صدق سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: صيام شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر، فأنا صائم في تضعيف الله تعالى، ومفطر في رخصة الله". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24629 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے روزہ کے متعلق دریافت کیا انھوں نے جواب دیا : میں ضرور تجھے ایک حدیث سناؤں گا جو مجھے بہت اچھی طرح یا ہے اگر تم رب تعالیٰ کے خلیفہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کا ارادہ رکھتے ہو تو وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار سب سے زیادہ بہادر اور دشمن کے ساتھ جنگ کے وقت بھاگتے نہیں تھے اور بہتر (72) آوازوں میں زبور پڑھتے تھے اور جب قرات کرتے تو بخار زدہ آدمی بھی فرط مسرت سے جھوم اٹھتا تھا اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود رونا چاہتے تو خشکی وتری کے جانور آپ کی عبادت گاہ کے اردگرد جمع ہوجاتے تھے اور خاموشی سے آپ کی قرات سنتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ روتے بھی تھے رات کے آخری حصہ میں اللہ کے حضور گڑگڑا کر سجدہ ریز ہوجاتے تھے اور اپنی حاجت طلب کرتے نیز رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بھائی داؤد کا روزہ افضل ترین روزہ ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اگر تم داؤد کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو وہ ہر مہینہ کے شروع میں تین روزے وسط میں تین روزے اور آخر میں تین روزے رکھتے تھے چنانچہ سلیمان (علیہ السلام) مہینہ کو روزوں سے شروع کرتے وسط میں بھی روزے رکھتے اور مہینے کا اختتام بھی روزے سے کرتے تھے اگر تم عیسیٰ (علیہ السلام) کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو وہ عمر بھر کے روزے رکھتے تھے اور افطار نہیں کرتے تھے پوری رات (عبادت کے لئے) بیدار رہتے اور سوتے نہیں تھے اور بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے اور جو تناول فرماتے تھے شام ہوتے ہی گھر میں داخل ہوجاتے آئندہ کل کے لیے کچھ تھوڑا بہت بچا لیتے تھے جب شکار کا ارادہ کرتے تو تیراندازی کرتے تھے ان کا نشانہ خطا نہیں ہوتا تھا جب بنی اسرائیل کی مجالس کے پاس سے گزرتے تو ان میں سے اگر کسی کو آپ سے کوئی کام ہوتا اس کا کام پورا کردیتے سورج کو دیکھتے اور جب غروب ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ ہوجاتے حتی کہ سورج کو طلوع ہوتے دیکھ لیتے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہی حالت رہی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا اگر تم عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ مریم کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو وہ دو دن روزہ رکھتی تھیں اور ایک دن افطار کرتی تھیں اور اگر تم خیر البشر محمد عربی نبی قریشی ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ عمر بھر کے روزے ہیں اور یہ افضل ترین روزے ہیں۔ (رواہ ابن زنجویہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابوفضالہ بن الفرج بن فضالہ ضعیف راوی ہے۔
24629- عن ابن عباس أنه سأله رجل عن الصيام فقال له: "لأحدثنك حديثا هو عندي في التخت المخزون إن أردت صيام خليفة الرحمن داود كان من أعبد الناس، وأشجع الناس، وكان لا يفر إذا لاقى، وكان يقرأ الزبور باثنين وسبعين صوتا يلون فيهن، فيقرأ قراءة يطرب منها المحموم، وكان إذا أراد أن يبكي نفسه اجتمعت دواب البر والبحر حول محرابه، فينصتن لقراءته ويبكين لبكائه، وكان يسجد لله تعالى في آخر الليل سجدة يتضرع فيها إلى الله تبارك وتعالى ويسأل حاجته، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أفضل الصيام صيام أخي داود كان يصوم يوما ويفطر يوما، وإن أردت صيام ابنه سليمان فكان يصوم من أول الشهر ثلاثة أيام ومن أوسطه ثلاثة أيام، ومن آخره ثلاثة أيام، فكان يستفتح الشهر بالصيام ووسطه بالصيام وآخره بالصيام، وإن أردت صيام عيسى ابن مريم، فكان يصوم الدهر فلا يفطر، وكان يقوم الليل فلا يرقد، وكان يلبس الشعر، ويأكل الشعير، ويبيت حيث أمسى، ولا يحبس شيئا لغد، وكان راميا إذا أراد الصيد لم يخطئه، وكان يمر بمجالس بني إسرائيل فمن كانت له إليه حاجة قضاها وكان ينظر إلى الشمس، فإذا رآها قد غربت قام فصف بين قدميه فلا يزال قائما لله تعالى حتى يراها قد طلعت، فكان هذا شأنه حتى رفعه الله تعالى إليه، وإن أردت صيام أمه مريم فإنها كانت تصوم يومين وتفطر يوما، وإن أردت صيام خير البشر محمد النبي صلى الله عليه وسلم العربي القرشي أبي القاسم صلى الله تعالى عليه وآله وسلم، فكان يصوم في كل شهر ثلاثة أيام، ويقول: هي صيام الدهر، وهو أفضل الصيام". "ابن زنجويه، كر؛ وفيه أبو فضالة الفرج بن فضالة ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24630 ۔۔۔ یزید بن عبداللہ بن شخیر (رض) کہتے ہیں ہم بصرہ میں اونٹوں کے اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا اعرابی بولا : یہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطہ ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا تھا میں نے وصول کیا اور اپنی قوم کو پڑھ کر سنایا خط کا مضمون یہ ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بنو زھیر بن اقیش کو بلابہ اگر تم لوگ نماز قائم کرو گے زکوۃ دو گے مال غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کروگے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ دو گے اور صفی (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو چیز مال غنیمت میں سے اپنے لیے پسند فرما لیں) دیتے رہو گے تو تم لوگ ان میں ہوگے اور اللہ واللہ کے رسول کے امان میں ہوگے ۔ اعرابی کا بیان ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صرف یہی فرمان سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماہ صبر کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینے کے تین دن روزے رکھو اس طرح تمہارے دل کا کینہ ختم ہوجائے گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24630- عن يزيد بن عبد الله بن الشخير قال: "كنا جلوسا بهذا المربد بالبصرة فجاء أعرابي معه قطعة من أديم أو قطعة من جراب فقال: هذا كتاب كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذته وقرأته على القوم: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله لبني زهير بن أقيش إنكم إن أقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة وأعطيتم من الغنائم الخمس وسهم النبي والصفي فإنكم آمنون بأمان الله وأمان رسوله [قال: فما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول شيئا قال: سمعته يقول: صم شهر الصبر وصوم ثلاثة أيام من كل شهر يذهبن وحر الصدر] ". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24631 ۔۔۔ ابن حوتکیہ کہتے ہیں میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین فرما رہے تھے ہم اس وقت موجود تھے جب ایک عرابی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خرگوش ہدیہ میں پیش کیا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک ھدیۃ کی چیز تناول نہیں فرماتے تھے جب تک کہ صاحب ہدیہ خود بھی نہ کھا لیتا چونکہ ایک مرتبہ خیبر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زہر آلود بکری ہدیہ میں پیش کی گئی تھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی سے فرمایا : تم کھاؤ اس نے جواب دیا : مجھے روزہ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مہینہ میں کتنے روزے رکھتے ہو اس نے عرض کیا : تین دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاباش یہ روزے ایام بیض یعنی 13 ، 14، 15، تاریخوں میں رکھو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (بھونے ہوئے) خرگوش سے کچھ تناول فرمانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اعرابی بولا : رہی بات میری سو میں نے اسے خون آلود دیکھا تھا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔ (رواہ ابن جریر وصححۃ)
24631- عن ابن الحوتكية 2 قال: "قدمت على عمر بن الخطاب وهو في نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بالقاحة فقالوا: نحن كنا إذ أهدى له الأعرابي أرنبا وهو معلق، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: هذه هدية وكان النبي صلى الله عليه وسلم لا يأكل هدية حتى يأكل منها صاحبها للشاة المسمومة التي أهديت له بخيبر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: كل منها فقال: إني صائم قال: وكم تصوم من الشهر؟ قال: ثلاثة أيام قال: أحسنت اجعلهن الغر البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة فأهوى النبي صلى الله عليه وسلم إلى الأرنب ليأخذ منها، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: أما إني رأيتها تدمأ فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم يده". "ابن جرير: وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24632 ۔۔۔ سعید بن جبیر (رض) کہتے ہیں : ہر مہینہ میں تین دنوں کے روزے عمر بھر کے روزوں کی طرح ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24632- عن سعيد بن جبير قال: "صيام ثلاثة أيام من كل شهر صيام الدهر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24633 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزہ کے متعلق سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا 13 ، 14، 15، تاریخوں کے روزے رکھو میں نے رات کو نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آٹھ رکعات پڑھو اور تین وتر پڑھو میں نے عرض کیا : وتروں میں کیا پڑھا جائے ؟ ارشاد فرمایا : ” سبح اسم ربک الاعلی “” قل یا ایھا الکافروں “ اور ” قل ھو اللہ احد “۔ رواہ ابن عساکر والبزاز)
24633- عن عبد الرحمن بن سمرة قال: "سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صومه فقال: ثلاثة عشر وأربعة عشر وخمسة عشر وسألته عن الصلاة بالليل فقال: ثمان ركعات وأوتر بثلاث، قلت: ما يقرأ فيها؟ فقال: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} و {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ". "كر، ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24634 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : ہر مہینہ میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزے ہیں اور تین دن کے روزے سینہ میں پائے جانے والے کینہ کو ختم کردیتے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24634- عن علي قال: "صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر، وهو يذهب وحر الصدر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24635: حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صبر کے مہینے کے روزے اور ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کی طرح ہیں اور یہ دل کے غموں کو ختم کردیتے ہیں۔ ابن جریر
24635- عن علي قال: "صوم شهر الصبر وصوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر، وهن يذهبن بلابل الصدر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24635 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اعرابی حاضر ہوا اس کے پاس بھونا ہوا خرگوش اور روٹی تھی جسے اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا پھر اعرابی بولا : میں نے خرگوش پر خون پایا تھا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں کچھ ضرر کی بات نہیں (بلاترد) اسے کھاؤ اعرابی سے فرمایا : تم بھی کھاؤ اس نے عرض کیا ، مجھے روزہ ہے فرمایا : کیسا روزہ ہے ؟ عرض کیا ، مہینہ میں تین دن روزہ رکھتا ہوں ، حکم ہوا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر روزے رکھنا بھی چاہتے ہو تو ایام بیض کے روزے رکھو یعنی 13، 14، 15، تاریخوں میں ۔ (رواہ النسائی ، وابن جریر) کلام : ۔۔۔ امام نسائی (رح) کہتے ہیں یہ حدیث دراصل حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے جب کہ روایت میں ابی کا ذکر ہے اس میں مناسب تاویل یہ ہوسکتی ہے کہ کتاب سے ” ذر “ کا لفظ ساقط ہوگیا اور ” ابی “ باقی رہا اسے ” ابی (ذر) پڑھنے کی بجائے ابی پڑھا گیا رواہ ابن جریر کہتے ہیں یہ حدیث محدثین کی ایک بڑی جماعت عمار ابی اور ابوذر (رض) سے روایت کرتی ہے۔
24636- عن أبي جاء أعرابي النبي صلى الله عليه وسلم ومعه أرنب قد شواها وخبز فوضعها بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: "إني وجدت بها دما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يضر كلوا وقال للأعرابي: كل، قال: إني صائم، قال: صوم ماذا؟ قال: صوم ثلاثة أيام من الشهر، قال: إن كنت صائما فعليك بالغر البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة". "ن، وقال: الصواب عن أبي ذر قال ويشبه أن يكون سقط من الكتاب ذر، فقال أبي؛ وقال ابن جرير: هذا الحديث حدث به جماعة عمار وأبي وأبو ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24636 ۔۔۔ ” ایضا “ ابن حوتکیہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس آیا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ اس نے کہا : مجھے روزہ ہے آپ (رض) نے فرمایا : کونسا روزہ ہے ؟ اعرابی نے کہا : مہینہ میں تین دین روزے رکھتا ہوں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : میں اگر چاہوں تجھے ایک حدیث سنا سکتا ہوں جو میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے لیکن ابی (رض) کو میرے پاس بلا لاؤ چنانچہ لوگوں نے حضرت ابی (رض) کو بلایا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ان سے کہا : کیا تمہیں اس اعرابی والی حدیث یاد نہیں ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جواب دیا : جی ہاں مجھے یاد ہے لیکن تم اسے بیان کرو حضرت ابی (رض) نے کہا : اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھونا ہوا خرگوش اور روٹیاں لایا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا : اعرابی بولا : جب میں نے جب میں نے یہ خرگوش پکڑا تھا خون آلود تھا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھاؤ اس میں تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں بہرحال اعرابی نے کھانے سے انکار کردیا ۔ (رواہ ابن جریر وقدمر ھذا الحدیث برقم 24631)
24637- "أيضا" عن ابن الحوتكية قال: "جاء أعرابي إلى عمر فقال: ادن فكل، فقال: إني صائم، فقال عمر: أي صوم؟ قال: ثلاثة أيام من الشهر، قال عمر: أما إني لو أشاء أن أحدثكم بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لكن ادعوا لي أبيا فدعوه، فقال عمر: أما تحفظ حديث الأعرابي الذي جاء بالأرنب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: أما تحفظ أنت يا أمير المؤمنين؟ قال: بلى ولكن هاته أنت، قال: أتاه بأرنب مشوية معها خبز فوضعها بين يديه فقال: إني أصبت هذه وبها شيء من دم، قال: كل لا عليك وأبى هو أن يأكل". "ابن جرير"

مر هذا الحديث برقم 4631.
tahqiq

তাহকীক: