কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৬০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24601 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ عروہ نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ماہ رجب میں روزے رکھتے تھے ابن عمر (رض) نے جواب دیا جی ہاں اور اسے باعث شرف سمجھتے تھے ۔ مرواہ ابو الحسن علی بن محمد بن شجاع الربعی فی فضل رجب ورجالہ کلھم ثقات )
24601 عن عطاء أن عروة قال لعبد الله بن عمر : هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم في رجب ؟ قال : نعم ويشرفه.

(ابو الحسن على ابن محمد بن شجاع الربعي في فضل رجب ، ورجاله كلهم ثقات).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24602 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے (رواہ ابن النجار)
24602 عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر بصيام عاشوراء (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24603 ۔۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : اہل جاہلیت یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے اس دن روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے (رواہ ابن جریر)
24603 عن ابن عمر قال : كان يوم عاشوراء يوما يصومه أهل الجاهلية فلما فرض صوم رمضان سئل عنه النبي صلى الله عليه وسلم فقال هو يوم من أيام الله تعالى ، فمن شاء صامه ، ومن شاء تركه ذكره ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24604 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ اہل جاہلیت یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان بھی رمضان کی فرضیت سے قبل یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جب رمضان کی فرضیت ہوچکی تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یوم عاشوراء اللہ تبارک وتعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے (رواہ ابن جریر )
24604 عن ابن عمر أن أهل الجاهلية كانوا يصومون يوم عاشوراء وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم صامه والمسلمون قبل أن يفترض رمضان ، فلما افترض رمضان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن يوم عاشوراء يوم من أيام الله تعالى : فمن شاء صامه ، ومن شاء تركه.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24605 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یوم عاشوراء کا تذکرہ کیا گیا احضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس دن اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے لہٰذا تم میں سے جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ایک روایت میں ہے کہ جو شخص پسند کرتا ہو وہ اس دن روزے رکھے اور جو شخص اس دن کا روزہ چھوڑنا پسند کرتا ہو وہ چھوڑ دے (راوہ ابن جریر)
24605 عن ابن عمر أنه ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء فقال : هو يوم كان يصومه أهل الجاهلية ، فمن شاء منكم فليصمه ، ومن كره منكم فليتركه وفي لفظ فمن أحب أن يصومه فليصمه ، ومن أحب أن يتركه فليتركه.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24606 ۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
24606 عن سعيد بن المسيب أن النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر أمروا بصوم عاشوراء.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24607 ۔۔۔ جسرہ بنت دجاجہ کی روایت ہے کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے کہا گیا کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں ، حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین (یعنی جو آج زندہ اور باقی ہیں) میں سب سے زیادہ سنت کا علم رکھنے والے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24607 عن جسرة بنت دجاجة قالت : قيل لعائشة : إن عليا أمر بصيام يوم عاشوراء قالت : هو أعلم من بقي بالسنة.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24608 ۔۔۔ ابو ماریہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے یوم عاشوراء کے متعلق فرمایا : اے لوگو ! جس شخص نے تم میں سے کھانا کھالیا ہو وہ بقیہ دن کھانے سے رکا رہے اور جس شخص نے کھانا نہ کھایا ہو وہ اپنے روزے کو مکمل کرے ۔ (رواہ ابن جریر)
23608 عن أبي مارية قال سمعت عليا يقول يوم عاشوراء : يا أيها الناس من أكل منكم فليصم بقية يومه ، ومن لم يكن أكل فليتم صومه.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24609 ۔۔۔ اسود بن یزید کہتے ہیں : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے بجز حضرت علی (رض) وابو موسیٰ (رض) کے کسی کو نہیں پایا جو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ حکم دیتا ہو ۔ (رواہ ابن جریر)
24609 عن الاسود بن يزيد قال : ما أدركت أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كان آمر بصوم عاشوراء من علي وأبي موسى.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24610 ۔۔۔ اسماء بنت حارثہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھیجا اور فرمایا کہ : اپنی قوم کو آج کے دن یعنی یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دو اسماء (رض) نے عرض کیا : مجھے بتائیے اگر میں اپنی قوم کو اس حال میں پاؤں کہ وہ کھانا کھاچکے ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں چاہیے کہ وہ بقیہ دن کھانے سے رکے رہیں ۔ رواہ احمد وابو نعیم۔
24610 عن أسماء بن حارثة أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه فقال : مر قومك بصيام هذا اليوم يعني يوم عاشوراء ، قال : أرأيت إن وجدتم قد طعموا ؟ قال فليتموا آخر يومهم.

(حم و أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24611 ۔۔۔ ” مسند عمر “ ابن جوتی کہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس کھانا لایا گیا ، آپ (رض) نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی وہ بولا ، مجھے روزہ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کونسا روزہ رکھا ہوا ہے ؟ اگر می کمی زیادتی کو ناپسند نہ کرتا تو میں تمہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سناتا ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی خرگوش لے کر آیا تھا لیکن آپ (رض) نے حضرت عمار (رض) کے پاس پیغام بھیجا ، چنانچہ جب حضرت عمار (رض) تشریف لائے تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : کیا تم اس دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھے جس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا تھا :؟ جواب دیا جی ہاں ! اعرابی خرگوش لایا تھا اور صاف ستھرا کرکے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ پیش کیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : کھاؤ ایک شخص بولا : یا رسول اللہ میں اسے خون آلود دیکھ رہا ہوں چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے خرگوش کھالیا لیکن وہ اعرابی نے نہ کھایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ عرض کیا : میں روزہ میں ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کونسا روزہ رکھتے ہو جواب دیا : ہر مہینہ کے شروع اور آخر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا بھی چاہتے ہو تو ایام بیض یعنی 13 ، 14، 15، تاریخوں کے روزے رکھو۔ (رواہ الدارقطنی والطبرانی وابن ابی شیبۃ ، واحمد بن حنبل والحارث وابن جریر وابو یعلی والحاکم والبیہقی) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سنت میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہیں انھیں اختلاط ہوجاتا تھا دیکھئے مجمع الزوائد 1953 ۔
24611- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن الحوتكية قال: "أتي عمر بن الخطاب بطعام فدعا إليه رجلا فقال: إني صائم قال: وأي الصيام تصوم لولا كراهية أن أزيد أو أنقص لحدثتكم بحديث النبي صلى الله عليه وسلم حين جاءه الأعرابي بالأرنب، ولكن أرسلوا إلى عمار، فلما جاء عمار قال: أشهدت أنت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جاء الأعرابي؟ قال: نعم جاء بها الأعرابي وقد نظفها وصنعها يهديها لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلوا، فقال رجل من القوم: يا رسول الله إني رأيتها تدمأ فأكل القوم ولم يأكل الأعرابي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ألا تأكل؟ فقال: إني صائم، قال: وأي الصيام تصوم؟ قال: أول الشهر وآخره، قال: إن كنت صائما فصم الليالي البيض: الثلاث عشرة، والأربع عشرة، والخمس عشرة". "قط، ط، ش، حم والحارث وابن جرير، ع، ق، ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24612 ۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) لوگوں کو صبح کا کھانا کھلا رہے تھے اتنے میں قبیلہ اسلم کا ایک شخص گزرا آپ (رض) نے اسے بھی کھانے کی دعوت دی اس نے جواب دیا : میں روزہ میں ہوں آپ (رض) نے فرمایا : تم کون سے مہینے کے روزے رکھتے ہو اس نے جواب دیا : ہر مہینہ کے شروع اور درمیان میں روزے رکھتا ہوں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) ، ابی بن کعب (رض) اور آپ (رض) نے بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے نام لیے میرے پاس بلا لاؤ چنانچہ یہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آگئے تو آپ (رض) نے فرمایا : کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ایک اعرابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فلاں یا فلاں وادی میں خرگوش لے کر آیا تھا ان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : جی ہاں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اس شخص کو حدیث سناؤ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس آدمی کو حدیث سنانی شروع کی اور کہا : ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فلاں دن فلاں وادی میں اترے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چرواہا بھونا ہوا خرگوش بطور ہدیہ لے کر آیا چرواہا بولا میں اسے خون آلود دیکھ رہا ہوں آپ (رض) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا انھوں نے خرگوش کھایا چرواہے نے نہ کھایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : بیٹھو اور ان کے ساتھ تم بھی کھاؤ اس نے کہا : مجھے روزہ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا کیسا روزہ ہے ؟ عرض کیا : میں ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتا ہوں فرمایا : کون سے تین دن روزہ رکھتے ہو ؟ عرض کیا جیسے بی ہو مہینہ کے درمیان اور آخر میں روزہ رکھتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایام بیض کے تین روزے رکھا کرو ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں سہل بن عمارنیشاپوری ہے جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
24612- عن موسى بن طلحة أنه دفع إلى عمر بن الخطاب وهو يغدي الناس فمر به رجل من أسلم فقال له عمر: "هلم، قال: إني صائم قال: فأي شهر تصوم؟ قال: من كل شهر أوله وأوسطه، قال عمر: ادعوا لي عبد الله بن مسعود وأبي بن كعب فسمى رجالا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فجاؤا فقال: هل تحفظون يوم جاء الرجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأرنب في وادي كذا أو كذا؟ فقالوا: نعم، قال عمر: فحدثوا الرجل فأنشأوا يحدثون الرجل فقال: نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بوادي كذا يوم كذا، فأتاه راع بأرنب مشوية هدية، فقال الراعي: أما إني رأيت بها دما، فأمر القوم أن يأكلوا ولم يأكل فقال للراعي: اجلس فكل معهم فقال: إني صائم، فقال: كيف صومك؟ قال: أصوم من كل شهر ثلاثة أيام، قال: وأي ثلاث تصوم؟ قال: من أوسطه وآخره كما يكون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صم الثلاث البيض". "طس، وفيه سهل ابن عمار النيسابوري ضعيف"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24613 ۔۔۔ ابن حوتی کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ کو بطور ہدیہ خرگوش پیش کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیا ہے اس نے جواب دیا : یہ ھدیہ ہے چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک ہدیہ کی چیز تناول نہیں فرماتے تھے جب تک کہ آپ صاحب ہدیہ کو خودکھانے کا حکم نہ دے دیتے اور وہ کھا نہ لیتا چونکہ ایک مرتبہ خیبر میں آپ کو زہر آلود بکری ہدیہ میں پیش کی گئی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم بھی کھاؤ اس نے جواب دیا : مجھے روزہ ہے فرمایا : کیسا روزہ ہے ؟ جواب دیا : میں ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاباش ان روزوں کو ایام بیض یعنی 13، 14، 15، تاریخوں میں رکھا کرو ۔ مرواہ ابن ابی الدنیا وابن جریر وصحح و شعب الایمان للبیہقی)
24613- عن ابن الحوتكية عن عمر بن الخطاب "أن أعرابيا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم بأرنب يهديها إليه فقال: ما هذه؟ قال: هدية وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يأكل الهدية حتى يأمر صاحبها فيأكل منها من أجل الشاة المسمومة التي أهديت إليه بخيبر، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كل منها قال: إني صائم قال: صوم ماذا؛ قال: ثلاث من كل شهر، قال: أحسنت فاجعلها البيض الغر الزهر ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة". "ابن أبي الدنيا وابن جرير وصححه، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24614 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مہینہ میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کے برابر ہیں چونکہ ہر ایک دن دس دنوں کے برابر ہے۔ (رواہ ابن مردویہ والخطیب)
24614- "عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم صيام ثلاثة أيام من كل شهر صيام الدهر كل يوم عشرة أيام {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} ". "ابن مردويه، خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24615 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزہ کے متعلق سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے اعراض کرلیا چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا : رمضان کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو اس شخص نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزہ کے متعلق بتائیے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے کہا : رمضان کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھو وہ شخص بولا : اے عبداللہ ! میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کیا چاہتا ہے ؟ رمضان کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو۔ (رواہ ابن زنجویہ وسندہ حسن)
24615- عن جابر قال: "جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن الصيام فشغل عنه، فقال له ابن مسعود: صم رمضان وثلاثة أيام من كل شهر فقال الرجل: يا رسول الله أخبرني عن الصيام، فقال عبد الله: "صم رمضان وثلاثة أيام من كل شهر، فقال الرجل: إني أعوذ بالله منك يا عبد الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما تبغي؟ صم رمضان وثلاثة أيام من كل شهر". "ابن زنجويه، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24616 ۔۔۔ قتادہ بن ملحان قیسی کی روایت ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایام بیض یعنی 13، 14، 15 تاریخوں کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے اور یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ روزے عمر بھر کے روزے کی طرح ہیں۔ (رواہ ابن زنجویہ وابن جریر)
24616- عن قتادة بن ملحان القيسي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا أن نصوم الثلاث البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة قال: هو كهيئة الدهر". "ابن زنجويه وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24617 ۔۔۔ حضرت کہمس ہلالی کہتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلام لانے کی خبر دی پھر میں سال بھر غائب رہا پھر میں (ایک سال کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور درآنحالیکہ میرا بطن سکڑ چکا تھا اور میرا جسم کمزور اور لاغر ہوچکا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک نظر دیکھ کر نظر جھکالی اور پھر اوپر اٹھائی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گویا کہ آپ مجھے نہیں جانتے ؟ فرمایا : جی ہاں ، بھلا تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں کہمس ہلالی ہوں جو گزشتہ سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا فرمایا : تم اس حالت کو کیونکہ پہنچ چکے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس وقت سے میں آپ سے جدا ہوا ہوں اس وقت سے دن کو افطار نہیں کیا اور رات کو سویا نہیں ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا کرنے گا تمہیں کس نے حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا رکھو تم ماہ صبر کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینہ میں ایک دن روزہ رکھو میں نے عرض کیا : میرے لیے اضافہ کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماہ صبر کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو ۔ مرواہ الطبرانی وابن جریر ، ورواہ ھذ الحدیث ابن الاثیر فی اسد الغابۃ 5024 فی ترجمۃ کھمس الھلالی وقال واخرجہ ابن مندہ وابو نعیم)
24617- عن كهمس الهلالي قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته بإسلامي، ثم غبت عنه حولا، ثم أتيته وقد ضمر بطني ونحل جسمي فخفض في الطرف ثم رفعه فقلت: يا رسول الله كأنك تنكرني؟ فقال: أجل من أنت؟ قلت: أنا كهمس الهلالي الذي أتيتك عام أول قال: ما بلغ بك ما رأى؟ فقلت: يا رسول الله ما أفطرت منذ فارقتك نهارا ولانمت ليلا، فقال: ومن أمرك بهذا أن تعذب نفسك، صم شهر الصبر، ومن كل شهر يوما، قلت زدني، قال: صم شهر الصبر ومن كل شهر يومين، قلت زدني، فإني أجد قوة قال: صم شهر الصبر ومن كل شهر ثلاثة أيام". "ط وابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24618 ۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کے مترادف ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24618- عن معاذ بن جبل قال: "صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر كله". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24619 ۔۔۔ عبدالملک بن منہال اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ مہینہ بھر کے روزے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
24619- عن عبد الملك بن منهال عن أبيه قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بأيام البيض وقال: هو صوم الشهر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایام بیض کا بیان :
24620 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر غفاری (رض) کو حکم دیا کہ اے ابوذر ! جب تم روزہ رکھنا چاہو تو مہینہ میں تین دن روزہ رکھو یعنی 13، 14، 15، تاریخوں کے روزے رکھو ۔ (رواہ الطبرانی والترمذی وقال حسن والنسائی والبیہقی عن ابی ذر)
24620- "يا أبا ذر إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة". "ط، ت: حسن، ن ق عنه".
tahqiq

তাহকীক: