কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৭ টি
হাদীস নং: ২৪৫৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24561 ۔۔۔ ” مسند شداد بن اوس (رض) “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر مہینہ میں ایک دن روزہ رکھو اور بقیہ مہینہ میں تمہارے لیے اجر وثواب ہوگا۔ دو دن روزہ رکھو اور بقیہ مہینہ میں تمہارے لیے اجر وثواب ہوگا تین دن روزے رکھو بقیہ میں تمہارے لیے ثواب ہوگا چار دن روزے رکھو بقیہ مہینہ میں تمہارے لیے ثواب ہوگا افضل روزہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ۔ مرواہ ابنزنجویہ والطبرانی عن ابن عمرو)
24561- "من مسند شداد بن أوس" "صم من كل شهر يوما ولك أجر ما بقي، وصم يومين ولك أجر ما بقي، وصم ثلاثة أيام ولك أجر ما بقي، وصم أربعة أيام ولك أجر ما بقي، وأفضل الصوم صيام داود صيام يوم وإفطار يوم". "ابن زنجويه، طب عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24562 ۔۔۔ ” ایضا “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مہینہ میں ایک دن روزہ رکھو بقیہ مہینہ میں تمہارے لیے اجر وثواب ہوگا تین دن روزہ رکھو بقیہ مہینہ میں تمہارے لیے اجر وثواب ہوگا ، اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے چنانچہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ (رواہ ابن حبان عن ابن عمرو)
24562- "أيضا" "صم يوما من كل شهر ولك أجر ما بقي، صم يومين من كل شهر ولك أجر ما بقي، صم ثلاثة أيام من كل شهر ولك أجر ما بقي، إن أحب الصيام إلى الله تعالى صوم داود كان يصوم يوما ويفطر يوما". "حب عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24563 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے اور دو دن افطار کرتے تھے چنانچہ ایک دن قضاء کے لیے مختص ہوتا ایک دن عورتوں کے لیے ۔ (رواہ ابن عساکر)
24563- عن علي قال: "كان داود عليه السلام يصوم يوما ويفطر يومين: يوما لقضائه ويوما لنسائه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24564 ۔۔۔ ” ایضا “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے روزے رکھو اور اس کے بعد شوال کے بھی روزے رکھو پھر ہر بدھ جمعرات کا روزہ رکھو یوں اس طرح سے تم عمر بھر کے روزے رکھو لو گے اور افطار بھی کرتے رہو گے ۔ (رواہ الدیلمی عن مسلم القرشی) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3489 ۔
24564- "أيضا" صم رمضان والذي يليه وكل أربعاء وخميس فإذا أنت صمت الدهر كله وأفطرت. "الديلمي عن مسلم القرشي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24565 ۔۔۔ حضرت ابو قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : ہم کیسے روزے رکھیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصہ ہوئے حتی کہ غصہ کے اثرات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر نمایاں تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سوال دہرایا ، ہم کیسے روزے رکھیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ ٹھنڈا ہوا تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ہم اللہ تعالیٰ سے بطور رب ہونے کے راضی ہیں اسلام سے دین ہونے کے اعتبار سے راضی ہیں ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبی ہونے کے ناطے سے راضی ہیں اور بیعت کے اعتبار سے اپنی بیعت سے راضی ہیں ، ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا تھا جو عمر بھر کا روزہ رکھتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن فطار کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قوت عطا فرمائے پھر فرمایا : یہ دادؤ (علیہ السلام) کا طریقہ صوم ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوموار کے دن روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی دن مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور اسی دن میں پیدا ہوا فرمایا کہ ہر مہینہ میں تین دن کے روزے اور پھر رمضان تا رمضان کے روزے عمر بھر کے روزے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرفہ کے دن کے روزہ کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرفہ کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عاشوراء کے روزہ کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (رواہ ابن زنجویہ وابن جریر ورواہ بطولہ مسلم)
24565- عن أبي قتادة قال: "سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كيف نصوم؟ فغضب حتى رأى الغضب في وجهه، وردد قوله كيف نصوم فلما سكت عنه الغضب، أقبل عليه عمر فقال: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وببيعتنا بيعة، فسئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل صام الدهر فقال: لا صام ولا أفطر أو ما صام وما أفطر، فسئل عن صيام يومين وإفطار يوم، فقال: من يطيق ذلك؟ فسئل عن صيام يوم وإفطار يومين، فقال: وددنا أن الله تعالى قوانا على ذلك، فسئل عن صيام يوم وإفطار يوم، فقال: ذاك صيام أخي داود، فسئل عن صيام يوم الأثنين؟ فقال: ذاك يوم بعثت فيه وولدت فيه، وقال: صوم ثلاثة أيام من كل شهر، ورمضان إلى رمضان صوم الدهر، وسئل عن صوم يوم عرفة، فقال: يكفر السنة الماضية والباقية، وسئل عن صوم يوم عاشوراء، فقال: يكفر السنة الماضية". "ابن زنجويه وابن جرير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24566 ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص عمربھر کا روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہوجاتی ہے جس طرح یہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوے کا ہندسہ بنایا ۔ (رواہ ابن جریر)
24566- عن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الذي يصوم الدهر تضيق عليه جهنم كضيق هذه وعقد تسعين". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24567 ۔۔۔ یزید بن مزین اور ابو ملیکہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ تم (دونو) روزے رکھو چونکہ روزہ جہنم کی آگ اور حوادث زمانہ کے خلاف ایک ڈھال ہے۔ (رواہ ابن جریر) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3502 ۔ نفل روزہ توڑنے کی قضاء :
24567- عن يزيد بن مزين وعن أبي مليكة قالا: "قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوما فإن الصيام جنة من النار ومن بوائق الدهر". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24568 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حفصہ (رض) کو ایک بکری ہدیہ میں دی گئی اور ہم دونوں کو روزہ تھا چنانچہ حفصہ (رض) نے مجھے روزہ افطار کروا دیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ دو ۔ مرواہ ابن عساکر)
24568- عن عائشة قالت: "أهديت لحفصة شاة ونحن صائمتان، فأفطرتني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أبدلا يوما مكانه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24569 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اور حفصہ (رض) نے بحالت روزہ صبح کی ہمارے سامنے کھانا لایا گیا ہم نے جلدی سے کھانا کھالیا اتنے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے حفصہ (رض) نے جلدی جلدی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھو ۔ (رواہ ابن عساکر)
24569- عن عائشة قالت: "أصبحت أنا وحفصة صائمتين فقرب إلينا طعاما فابتدرناه فأكلناه، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فبدرتني حفصة فذكرت ذلك له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوما يوما". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ نفلی روزہ کے بیان میں :
نفلی روزہ کی فضلیت :
نفلی روزہ کی فضلیت :
24570 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن روزہ رکھو تمہیں دس (10) دنوں کا ثواب ملے گا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے اور اضافہ فرمائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دن روزہ رکھو اور نو دنوں کا ثواب تمہارے لیے ہوگا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے اور اضافہ کریں : فرمایا : تین دن روزہ رکھو اور تمہارے لیے آٹھ دنوں کا ثواب ہوگا ۔ (رواہ ابن عساکر)
24570- عن ابن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "صم يوما ولك عشرة أيام، قال: زدني يا رسول الله قال صم يومين ولك تسعة أيام قال زدني يا رسول الله قال: صم ثلاثة ولك ثمانية أيام". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوال کے چھ روزوں کا بیان :
24571 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ثوبان (رض) کی روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھ لے اسے پورا سال روزہ رکھنے کا ثواب مل جاتا ہے چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “۔ یعنی جو شخص ایک نیکی لایا اسے دس گنا کا ثواب ملے گا (رواہ ابن عساکر)
24571- عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من صام ستة بعد الفطر كان تمام السنة" {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} . "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24572 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرماتے تھے چنانچہ پہلا روزہ پیر یا جمعرات کا ہوگا ۔ (رواہ ابن جریر)
24572- عن أم سلمة قالت: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرني بصيام ثلاثة أيام من كل شهر أولها الإثنين والخميس". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24573 ۔۔۔ مکحول (رح) سے مروی ہے کہ وہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوموار کے دن پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور بنی آدم کے اعمال جمعرات کے دن اوپر اٹھائے جاتے ہیں مرواہ ابن عساکر)
24573- عن مكحول أنه كان يصوم يوم الإثنين والخميس وكان يقول: "ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين، وتوفي يوم الاثنين، وترفع أعمال بني آدم يوم الخميس". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24574 ۔۔۔ مکحول روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ سوموار کا روزہ مت چھوڑو کہ سوموار کے دن میں پیدا ہوا اور سوموار ہی کے دن مجھ پر وحی نازل کی گئی میں نے سوموار کے دن ہجرت کی اور اسی دن میں وفات بھی پاؤں گا (رواہ ابن عساکر)
24574- عن مكحول أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لبلال: "لا تغادر صيام يوم الاثنين فإني ولدت يوم الاثنين وأوحي إلي يوم الاثنين، وهاجرت يوم الاثنين، وأموت يوم الاثنين". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24575 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید (رض) “ حضرت اسامہ (رض) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے رکھتے ہیں یوں لگتا ہے گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افطار ہی نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے ہیں یوں لگتا ہے گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ رکھیں گے ہی نہیں بجز دو دنوں کے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزوں میں داخل ہوجاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا روزہ رکھ لیتے ہیں : فرمایا : کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کیا : پیر اور جمعرات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دو دنوں میں اعمال اللہ رب العزت کے حضور پیش کیے جاتے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ بحالت روزہ میرے اعمال پیش کیے جائیں ۔ (رواہ احمد والنسائی وابن زنجویہ والضیاء ولفظ ابن ابی شیبۃ)
24575- "مسند أسامة بن زيد رضي الله عنهما" قلت: "يا رسول الله إنك تصوم حتى لا تكاد تفطر، وتفطر حتى لا تكاد أن تصوم إلا يومين إن دخلا في صيامك وإلا صمتهما قال: أي يومين؟ قلت: يوم الاثنين ويوم الخميس، قال: ذانك يومان تعرض فيهما الأعمال على رب العالمين فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم". "حم ن وابن زنجويه، ض؛ ولفظ "ش": فأحب أن لا يرفع عملي إلا وأنا صائم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24576 ۔۔۔ اسامہ بن زید (رض) کے آزاد کردہ غلام کی روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید (رض) مقام وادی القری میں اپنے مال کی دیکھ بھال کے لیے جایا کرتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے میں نے عرض کیا : آپ روزہ رکھتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہوچکے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سوموار اور جمعہ کا روزہ رکھتے تھے۔ (رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل والدارمی وابو داؤد والنسائی وابن حزیمۃ)
24576- "أيضا" عن مولى أسامة بن زيد أن أسامة بن زيد كان يركب إلى مال له بوادي القرى وكان يصوم يوم الاثنين والخميس، فقلت له: "أتصوم وقد كبرت ورققت؟ فقال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم الاثنين والخميس". "ط، حم والدارمي، د ، ن وابن خزيمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24577 ۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے براب رہے کہ یہ دن آپ کے روزہ میں آجاتے یا نہ آتے اس کے متعلق آپ سے پوچھا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دو دنوں میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور انہی دو دنوں میں اعمال کی پیشی ہوتی ہے لہٰذا مجھے پسند ہے کہ میرے عمل پیش ہوں اور میں بحالت روزہ ہوں ۔ (رواہ الباری)
24577- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم الاثنين والخميس دخلا في صيامه أو لم يدخلا، فسئل عن ذلك فقال: إنهما يومان تفتح فيهما أبواب السماء وتعرض فيهما أعمال العباد فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم. "الباوردي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کا روزہ :
24578 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن شریک “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوموار اور جمعرات کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے : چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کو نہیں دیکھتے کہ آپ ان دو دنوں کے روزے چھوڑتے ہوں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دو دنوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور اعمال کی پیشی ہوتی ہے لہٰذا مجھے محبوب ہے کہ ان دنوں میں میرا عمل صالح پیش کیا جائے (رواہ ابو نعیم فی المعرفہ )
24578- "مسند أسامة بن شريك" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدع الصيام يوم الاثنين والخميس فقيل: يا رسول الله ما نراك تدع صيام هذين اليومين؟ قال: "هما يومان يعرض فيهما الأعمال على الله تبارك وتعالى فأحب أن يعرض لي فيهما عمل صالح". "أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذی الحجہ :
24579 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے پورے عشرہ ذی الحجہ کا روزہ رکھا ہے اور میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ بیت الخلاء سے باہر نکلے ہوں اور وضو نہ کیا ہے (رواہ الضیاء المقدسی والخرجہ الترمذی وابو داؤد )
24579- عن عائشة قالت: "ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صام العشر قط" [ولا خرج من الخلاء إلا توضأ] . "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ رجب کے روزے :
24580 ۔۔۔ خرشہ بن حر کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رجب کے روزے رکھنے پر لوگوں کی ہتھیلیوں پر مارتے تھے حتی کہ لوگ اس ماہ کے روزے چھوڑ دیتے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں رجب اور رجب کیا ہے رجب تو ایک مہینہ ہے جس کی جاہلیت میں تعظیم کی جاتی تھی لیکن جب اسلام آیا تو اس کی عظمت کو ترک کردیا (ابن ابی شیبۃ والطبرانی فی الا وسط)
24580- عن خرشة بن الحر قال: "رأيت عمر بن الخطاب يضرب أكف الرجال في صوم رجب حتى يضعوها في الطعام فيقول رجب وما رجب إنما رجب شهر كانت تعظمه الجاهلية فلما جاء الإسلام ترك". "ش طس".
তাহকীক: