কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৫৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ رجب کے روزے :
24581 ۔۔۔ ابو قلابہ کہتے ہیں : رجب کا روزہ رکھنے والں کے لیے جنت میں ایک محل ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
24581- عن أبي قلابة قال: "في الجنة قصر لصوام رجب". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ رجب کے روزے :
24582 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ عامر بن شبل حرمی کہتے ہیں میں نے ایک آدمی کو حدیث بیان کرتے سنا ہے کہ حضرت انس (رض) نے فرمایا : جنت میں ایک (عالیشان) محل ہے اس میں صرف رجب میں روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے (رواہ ابن شاھین فی الترغیب )
24582- "مسند أنس رضي الله عنه" عن عامر بن شبل الحرمي سمعت رجلا يحدث أنه سمع أنس بن مالك يقول: "في الجنة قصر لا يدخله إلا صوام رجب". "ابن شاهين في الترغيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے :
24583 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سال بھر میں کسی مہینہ میں اتنے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے جتنے شعبان میں رکھتے تھے چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ اتنا عمل کرو جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا جب تک کہ دتم نہ اکتا جاؤ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کو وہ نماز نہایت ہی محبوب ہے جس پر ہمیشگی کی جائے گو کہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھتے اس پر ہمشیگی کرتے تھے (رواہ ابن زنجویہ واخرجہ البخاری فی کتا اب الصوم )
24583- عن عائشة "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يصوم من شهر من السنة أكثر من صيامه من شعبان فإنه كان يصوم شعبان كله، وكان يقول: خذوا من العمل ما تطيقون، فإن الله تعالى لا يمل حتى تملوا وأنه كان أحب الصلاة إليه ما دووم عليها وإن قلت، فكان إذا صلى داوم عليها". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے :
24584 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماہ شعبان میں روزے رکھنا بہت محبوب تھا اور پھت حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے بعد رمضان کے روزے رکھتے تھے (رواہ ابن زنجویہ )
24584- عن عائشة قالت: "كان أحب الشهور إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصومه شعبان ثم يصله برمضان". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے :
24585 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کے سامنے ایک عورت کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ ماہ رجب میں روزے رکھتی ہے آپ (رض) اس عورت سے فرمایا : اگر تو لامحالہ کسی مہینہ میں روزے رکھنا ہی چاہتی ہے تو پھر شعبان کے روزے رکھ چونکہ اس مہینہ میں روزہ رکھنے کی بڑی فضلیت ہے مرواہ ابن زنجویہ )
24585- عن عائشة أن امرأة ذكرت لها أنها تصوم رجب فقالت: "إن كنت صائمة شهرا لا محالة فعليك بشعبان فإن فيه الفضل". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے :
24586 ۔۔۔” مسند ام سلمہ (رض) “ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے مہینہ کے روزے نہیں رکھتے تھے بجز شعبان کے چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا کر روزے رکھتے تھے (رواہ ابن عساکر)
24586- "مسند أم سلمة رضي الله عنها" قالت: "كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يصوم شهرا كاملا إلا شعبان فإنه كان يصله برمضان". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شعبان کے روزے :
24587 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید “ میں نے عرض کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو کسی مہینہ میں اس قدر روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جس قدر کہ آپ کو شعبان میں روزے رکھتے دیکھا ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ مہینہ رجب و رمضان کے بیچ میں ہونے کہ وجہ سے لوگ اس سے غافل ہوجاتے ہیں اس مہینہ میں اعمال اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں مجھے پسند ہے کہ روزے کی حالت میں میرے اعمال اوپر اٹھائے جائیں ۔ مرواہ ابن ابی شیبۃ وابن زنجویہ وابو یعلی وابن ابی عاصم والبارودی و سعید بن المنصور )
24587- "مسند أسامة بن زيد رضي الله عنهما" قلت: "يا رسول الله لم أرك تصوم من شهر من الشهور ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان، وهو شهر ترفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم". "ش وابن زنجويه، ع وابن أبي عاصم والباوردي ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہ شوال کے روزے :
24588 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید (رض) “ محمد بن ابراہیم تیمی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید (رض) اشھر حرم (حرمت والے مہینوں ) میں روزے رکھتے تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ ماہ شوال میں روزے رکھو چنانچہ انھوں نے اشہر حرم میں روزے ترک کردیے اور پھر تاوقت وفات شوال کے روزے رکھتے رہے (رواہ العدنی و سعید بن المنصور)
24588- "مسند أسامة رضي الله عنه" عن محمد بن إبراهيم التيمي أن أسامة بن زيد كان يصوم الأشهر الحرم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صم شوالا، فترك الأشهر الحرم ولم يزل يصوم شوالا حتى مات". "العدني ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24589 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے حارث بن ہشام کو پیغام بھیجا کہ (آئندہ) کل یوم عاشورا ہے خود بھی روزہ رکھو اور اپنے اہل خانہ کو بھی روزہ رکھنے کا کہو۔ رواہ مالک و ابن جریر
24589- "عن عمر أنه أرسل إلى الحارث بن هشام أن غدا يوم عاشوراء فصم وامر أهلك أن يصوموا". "مالك وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24590 ۔۔۔ مسند عمر (رض) کریب بن سعد کہتے ہیں میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن تم سے صرف رمضان شریف کے روزوں کے متعلق سوال کرے گا اور اس کے علاوہ یوم زینت یعنی یوم عاشوراء کے متعلق بھی سوال کرے گا مرواہ ابن مردویہ )
24590- "مسند عمر رضي الله عنه" عن كريب بن سعد قال: "سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن الله تبارك وتعالى لا يسألكم يوم القيامة إلا عن صيام رمضان، وصيام يوم الزينة يعني يوم عاشوراء". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24591 ۔۔۔ اسود بن یزید کہتے ہیں میں نے حضرت علی اور حضرت ابو موسیٰ (رض) سے زیادہ کسی کو بھی یوم عاشوراء کے روزے کا حکم دیتے ہوئے نہیں دیکھا (رواہ ابن جریر)
24591 عن الاسود بن يزيد قال : ما رأيت أحدا كان آمر بصيام يوم عاشوراء من علي وأبي موسى.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24592 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں عاشوراء کے روزے کا حکم دیتے تھے ہمیں اس پر ابھارتے اور اس کا پابند بھی بناتے تھے چنانچہ جب رمضان فرض کیا گیا تو آپ نے ہمیں عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی ہمیں اس کا پابند کیا ۔ مرواہ ابن النجار)
24592 عن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر بصيام يوم عاشوراء ويحثنا عليه ويتعاهدنا عنده ، فلما فرض رمضان لم يأمرنا ولم يتعاهدنا عنده.

(ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24593 ۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ ہمیں رمضان کے فرضیت سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھے کا حکم دیا گیا اور جب رمضان کا حکم نازل ہوا ہمیں عاشوراء کا حکم نہیں دیا گیا (رواہ ابن جریر )
24593 عن عمار بن ياسر قال : أمرنا بصيام عاشوراء قبل أن ينزل رمضان ، فلما نزل رمضان لم نؤمر به.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24594 ۔۔۔ قیس بن سعد کہتے ہیں ہم رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور صدقہ فطر بھی ادا کرتے تھے جب رمضان کا حکم نازل ہوا ہمیں اس سے نہیں روکا گیا اور ہم ایسا کر بھی رہے ہیں (رواہ ابن جریر)
24594 عن قيس بن سعد قال : كنا نصوم عاشوراء ، ونعطى زكاة الفطر قبل أن ينزل علينا صوم رمضان ولزكاة ، فلما نزل لم نؤمر به ولم ننه عنه ونحن نفعل.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24595 ۔۔۔ محمد بن صیفی انصاری (رض) کی روایت ہے کہ عاشوراء کے دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تم نے آج روزہ رکھا ہے ؟ بعض لوگوں نے اثبات میں جواب دیا اور بعض نے نفی می حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن کے بقیہ حصہ کو مکمل کرو نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کو حکم دیا کہ اہل عرب میں اعلان کرو کہ اس دن کو مکمل کریں (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم فی المعرفۃ والبزاز)
24595 عن محمد بن صيفي الانصاري قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء فقال : أصمتم يومكم هذا ؟ فقال بعضهم نعم ، وقال بعضهم : لا قال : فأتموا بقية يومكم هذا ، وأمرهم أن يؤذنوا أهل العروض أن يتموا يومهم ذلك.

(الحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة ، ز).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24596 ۔۔۔ محمد بن صیفی انصاری (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاشوراء کے دن اپنے منادی کو اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جو شخص روزہ میں ہو وہ اپنے روزے کو جاری رکھے اور جو شخص کھا پی چکا ہو اوہ بقیہ دن کھانے پینے سے رکا رہے (رواہ ابو نعیم)
24596 (أيضا) أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديه في يوم عاشوراء من كان صائما فليمض في صومه ، ومن كان أكل وشرب فليتم

صومه.

(أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24597 ۔۔۔ حضرت خباب بن ارت (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھیجا اور حکم دیا کہ اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انھیں حکم دو کہ اس دن کا روزہ رکھیں ۔ میں نے عرض کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ان کے پاس اس وقت پہنچوں گا جب وہ کھانا کھاچکے ہوں گے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان سے کہو کہ اس دن کے بقیہ حصہ میں کھانے سے رکے رہیں (رواہ احمد والطبرانی والحاکم عن اسحاء بن حارثۃ )
24597 (مسند خباب بن الارت) بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء فقال : إئت قومك فمرهم أن يصوموا هذا اليوم ، قلت : يا رسول الله ما أراني آتيهم حتى يطعموا ، فقال : مر من طعم منهم فليصم بقية يومه.

(حم طب ك عن أسماء بن حارثة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24598 ۔۔۔ مسند عبداللہ بن ابی اوفی۔ بعجہ بن عبداللہ بن بدر جہنی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کو حکم دیا کہ آج کا دن یوم عاشورا ہے لہٰذا آج روزہ رکھو بنو عمرو بن عوف میں سے ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگایا رسول اللہ ! میں اپنی قوم سے آیا ہوں اور میری قوم کے بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور بعض کو روزہ نہیں تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ جو شخص افطار کرچکا ہو وہ بقیہ دن کھانے پینے سے رکا رہے۔ رواہ ابن عساکر۔
24598 (من مسند عبد الله بن أبي أوفى) عن بعجة بن عبد الله ابن بدر الجهني أن أباه أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهم : يومنا هذا يوم عاشوراء فصوموه ، فقام رجل من بني عمرو بن عوف فقال : يا رسول الله إني تركت قومي منهم صائم ، ومنهم مفطر ، فقال : اذهب إليهم فمن كان مفطرا فليتم صومه.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৫৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24599 ۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے منبر پر کھڑ؁ ہو کر فرمایا : آج یوم عاشوراء ہے لہٰذا آج روزہ رکھو چونکہ کحضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے (رواہ ابن جریر) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الالحفاظ 765)
24599 عن عبد الله بن الزبير أنه قال على المنبر : هذا يوم عاشوراء فصوموه فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر بصومه.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشوراء کا روزہ :
24600 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فضیلت حاصل کرنے کے لیے کسی دن کے روزہ کی تلاش میں نہیں رہتے تھے بجز رمضان اور یوم عاشوراء کے روزے کے (رواہ ابن زنجویہ )
24600 عن ابن عباس قال : ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحرى صيام يوم يبتغي فضله إلا صيام رمضان وهذا اليوم يوم عاشوراء.

(ابن زنجويه).
tahqiq

তাহকীক: