কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৭ টি
হাদীস নং: ২৪৪০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24401 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی کو دیکھ کر نشاط میں آگیا اور اس کا بوسہ لے لیا حالانکہ مجھے روزہ تھا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : آج مجھ سے امر عظیم سرزد ہوا ہے (وہ یہ کہ) میں نے بوسہ لے لیا حالانکہ مجھے روزہ ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے بتاؤ بحالت روزہ تم پانی سے کلی کرلو ؟ میں نے عرض کیا اس میں کوئی حرج نہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر بوسہ لینے میں کیا حرج ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، واحمد العدنی والدارمی والنسائی والشاشی وابن خزیمہ وابن حبان والحاکم والدیلمی فی الفردوس والضیاء المقدسی) کلام : ۔۔۔ امام نسائی (رح) نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے لیکن حدیث حاکم نے مستدرک 731 میں ذکر کی ہے اور کہا ہے کہ صحیح شرط شیخین ہے اور علامہ ذھبی نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔
24401- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "هششت إلى المرأة يوما فقبلتها وأنا صائم فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: صنعت اليوم أمرا عظيما قبلت وأنا صائم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أرأيت لو تمضمضت بماء وأنت صائم؟ قلت: لا بأس بذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ففيم؟ ". "ش حم والعدني والدارمي د ن وقال: حديث منكر والشاشي وابن خزيمة حب ك فر، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24402 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ دار کو بوسہ لینے سے منع فرماتے تھے اور کہتے تھے تمہیں پاکدامنی کا وہ مقام حاصل نہیں ہے جو مقام رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل تھا ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والدارقطنی فی الافراد)
24402- عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب أنه كان ينهى الصائم أن يقبل ويقول: "إنه ليس لأحدكم من العصمة ما كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم". "طس قط في الأفراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24403 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) روزہ دار کو بوسہ لینے سے منع فرماتے تھے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے کہا گیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : نفس کی حفاظت و پاکدامنی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کون ہوسکتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ)
24403- عن سعيد بن المسيب أن عمر كان ينهى عن القبلة للصائم فقيل له: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقبل وهو صائم فقال: ومن ذا له من الحفظ والعصمة ما لرسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24404 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف نظر نہیں فرما رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری کیا حالت ہے ؟ فرمایا : کیا تو نے حالت روزہ میں بوسہ نہیں لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں اس کے بعد روزہ کی حالت میں بوسہ نہیں لوں گا ۔ مرواہ ابن راھویہ وابن ابی شیبۃ والبزار وابن ابی الدنیا فی کتاب المنامات وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی)
24404- عن ابن عمر قال: "قال عمر: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المنام فرأيته لا ينظر إلي فقلت: يا رسول الله ما شأني؟ فقال: ألست الذي تقبل وأنت صائم؟ فقلت: والذي بعثك بالحق لا أقبل بعدها وأنا صائم". "ابن راهويه، ش والبزار وابن أبي الدنيا في كتاب المنامات، حل، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24405 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی بیوی عاتکہ بنت زید بنت عمرو بن نفیل (رض) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے سر پر بوسہ دے دیتی تھی حالانکہ آپ (رض) روزہ میں ہوتے تھے اور عاتکہ کو بوسہ لینے سے منع نہیں فرماتے تھے ۔ مرواہ مالک وابن سعد، رواہ ابن سعد ایضا عن یحی بن سعید ، ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عبید اللہ بن عبداللہ بن عمران عاتکہ امراۃ عمر قبلہ وھو صائم ولم ینؤ)
24405- "عن يحيى بن سعيد أن عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل امرأة عمر بن الخطاب كانت تقبل رأس عمر وهو صائم ولا ينهاها". "مالك وابن سعد؛ ورواه ابن سعد أيضا عن يحيى بن سعيد بن أبي بكر ابن محمد بن عمرو بن حزم عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر أن عاتكة امرأة عمر قبلته وهو صائم ولم ينهها".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24406 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک بوڑھے اور ایک نوجوان نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزہ دار کے بوسلہ لینے کے متعلق دریافت کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوجوان کو بوسہ لینے سے منع فرمایا اور بوڑھے کو اجازت دے دی ۔ (رواہ ابن النجار) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 1885 ۔
24406- عن أبي هريرة "أن شيخا وشابا سألا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القبلة للصائم، فنهى الشاب ورخص للشيخ". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات صوم ۔۔۔ بوسہ لینا :
24407 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : میں رمضان میں (بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہوں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دوسرا آدمی آیا اس نے بھی یہی سوال کیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بوسہ لینے سے منع فرمایا حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے پہلے آدمی کو اجازت دے دی اور اسے منع کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جسے میں نے اجازت دی ہے وہ بوڑھا شخص ہے وہ اپنی حاجت پر قابو پاسکتا ہے اور جسے میں نے منع کردیا ہے وہ نوجوان آدمی ہے وہ اپنی حاجت پر قابو نہیں پاسکتا ۔ (رواہ ابن النجار)
24407- عن عائشة قالت: "أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فقال: أقبل في رمضان؟ قال: نعم، ثم أتاه آخر فقال: أقبل في رمضان؟ قال: لا، فقلت يا رسول الله أذنت لذلك ومنعت هذا، قال: إن الذي أذنت له شيخ كبير يملك إربه، والذي منعته رجل شاب لا يملك إربه فلذلك منعته". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات متفرقہ :
24408 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : روزہ دار شام کے وقت مسواک نہ کرے لیکن رات کو مسواک کرسکتا ہے چونکہ قیامت کے دن اس ہونٹوں کی خشکی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی مانند ہوگی ۔ (رواہ البیہقی)
24408- عن علي قال: "لا يستاك الصائم بالعشي ولكن بالليل، فإن يبوس شفتي الصائم نور بين عينيه يوم القيامة". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات متفرقہ :
24409 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں جب تم روزہ رکھو تو صبح کو مسواک کرلو اور شام کو مسواک نہ کرو چونکہ روزہ دار کے ہونٹوں کی خشکی قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے درمیان نور ہوگا ۔ (رواہ البیہقی والدارقطنی) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) اور دارقطنی (رح) نے یہ حدیث ضعیف قرار دی ہے نیز دیکھئے حسن الاثر 210 و ضعیف الجامع 579)
24409- عن علي قال: "إذا صمتم فاستاكوا بالغداة، ولا تستاكوا بالعشي فإنه ليس من صائم تيبس شفتاه بالعشي إلا كانت نورا بين عينيه يوم القيامة". "قط ق: وضعفاه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنوں کے اعتبار سے روزہ کے ممنوعات :
24410 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن حذافہ (رض) کو بھیجا کہ منی میں جا کر اعلان کرو کہ ان دنوں میں روزہ مت رکھو چونکہ یہ کھانے پینے اور ذکر باری تعالیٰ کے دن ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
24410- عن أبي هريرة "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عبد الله بن حذافة يطوف في منى أن لا تصوموا في هذه الأيام فإنها أيام أكل وشرب وذكر الله". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنوں کے اعتبار سے روزہ کے ممنوعات :
24411 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
24411- عن أبي هريرة قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفرد يوم الجمعة بصوم". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کے روز روزہ ممنوع ہے۔
24412 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء نہ کرو اور اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو اور بحالت روزہ سینگی نہ لگواؤ ۔ (رواہ البیہقی)
24412 عن علي قال : لا تقض رمضان في ذي الحجة ، ولا تصم يوم الجمعة منفردا ولا تحتجم وأنت صائم.
(ق).
(ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24413 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے یعنی عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن ، چونکہ عید الفطر روزوں کے بعد افطار کا دن ہوتا ہے اور عیدالاضحی کے دن تم لوگ اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ۔ مرواہ مالک وعبدالرزاق والحمیدی وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل العدنی والبخاری ومسلم وابو داؤد الترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن ابی عاصم فی الصوم وابن خزیمۃ وابن الجارود وابو عوانۃ والطحاوی وابو یعلی وابن حبان والبیہقی)
24413 (مسند عمر رضي الله عنه) عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام هذين اليومين : يوم الفطر ، ويوم الاضحى ، أما يوم الفطر فيوم فطركم من صومكم ، وإما يوم الاضحى فكلوا من لحم نسككم (مالك ، عب والحميدي ، ش ، ح والعدني ، خ ، م (1) ، د ، ت ن ، ه وابن أبي عاصم في الصوم وابن خزيمة وابن الجارود وأبو عوانة
والطحاوي ، ع حب ق).
والطحاوي ، ع حب ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24414 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت کہ ایک مرتبہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اچانک ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : اس شخص نے اتنے اور اتنے دنوں سے روزہ افطار نہیں کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا ، جب میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غضبناک دیکھا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن روزہ اور دو دن افطار کیسا ہے ؟ فرمایا : کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایک دن روزہ ایک دن افطار یہ تو میرے بھائی داؤد کا طریقہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایک دن روزہ اور دو دن افطار فرمایا : اس کی کون طاقت رکھتا ہے میں نے عرض کیا : پیر کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟ فرمایا : اس دن میں پیدا ہوا اسی دن مجھ پر نبوت نازل ہوئی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عرفہ اور عاشوراء کے دن کا روزہ فرمایا ان میں سے ایک تو پورے سال کا کفارہ ہے اور دوسرا اگلے پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (رواہ النسائی وابو یعلی وابن جریر وصححہ ومسلم فی صححہ فی کتاب الصوم وذخیرۃ الحفاظ 4300)
24414 عن عمر قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتى على رجل فقالوا : ما أفطر منذ كذا وكذا ، قال : لا صام ولا أفطر ، أو ما صام وما أفطر فلما رأيت غضب رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت : يا رسول الله صوم يومين وإفطار يوم ؟ قال : ويطيق ذلك أحد ؟ قلت : يا رسول الله صوم يوم وإفطار يوم ذاك صوم أخي داود قلت : يا رسول الله صوم يوم وإفطار يومين ، قال : ومن يطيق ذاك ؟ قلت يا رسول الله صوم يوم الاثنين ؟ قال : ذاك يوم ولدت فيه ويوم أنزل علي النبوة قلت : يا رسول الله صوم يوم عرفة ويوم عاشوراء ؟ قال : أحدهما يكفر سنۃ والآخر يكفر ما قبلها وما بعدها.
(ن ع وابن جرير : وصححه)
(ن ع وابن جرير : وصححه)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24415 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام تشریق میں ایک منادی کو حکم دیا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہوتے ہیں اس دن منادی حضرت بلال (رض) تھے ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الحلیۃ)
24415 عن عمر قال : أمر النبي صلى الله عليه وسلم مناديا في أيام التشريق أنها أيام أكل وشرب والمنادي يومئذ بلال.
(طس حل).
(طس حل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24416 ۔۔۔ شعبی روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) رمضان سے یوم شک سے منع فرماتے تھے ۔ مرواہ ابن ابی شیبۃ ، والبیہقی)
24416 عن الشعبي قال : كان عمر وعلي ينهيان عن صوم يوم يشك فيه من رمضان.
(ش ق).
(ش ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24417 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے قبل از وفات دو سال لگاتار روزے رکھنا شروع کردیئے تھے بجز عید الاضحی اور عید الفطر کے اور رمضان میں بھی روزہ رکھتے تھے ۔
24417 عن عمر بن الخطاب أنه كان يسرد الصيام قبل أن يموت بسنتين إلا يوم الاضحى والفطر وفي السفر.
(ابن جرير وجعفر الفريابي في السنن ، ق).
(ابن جرير وجعفر الفريابي في السنن ، ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24418 ۔۔۔ ” مسند سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) “ ابو عبید مولی عبدالرحمن بن ازھر (رض) کہتے ہیں میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس عید الفطر اور عید الاضحی کے دن حاضر تھا ان دونوں حضرات نے نماز پڑھی پھر واپس لوٹے اور لوگوں کو نصیحتیں کرنے لگے چنانچہ میں نے انھیں سنا فرما رہے تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ تین دن بعد تمہارے پاس قربانی کے گوشت میں سے کچھ بچا ہو ۔ مرواہ احمد والنسائی ، وابو یعلی الطحاوی والبغوی فی سند عثمان)
24418 (مسند عثمان رضي الله عنه) عن أبي عبيد مولى عبد الرحمن بن أزهد قال : شهدت عليا وعثمان يوم الفطر والنحر يصليان
ثم ينصرفان فيذكران الناس فسمعتهما يقولان : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبقى من نسككم عندكم شئ بعد ثلاث.
(حم ، ن ، ع والطحاوي والبغوي في مسند عثمان).
ثم ينصرفان فيذكران الناس فسمعتهما يقولان : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبقى من نسككم عندكم شئ بعد ثلاث.
(حم ، ن ، ع والطحاوي والبغوي في مسند عثمان).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24419 ۔۔۔ ” مسند سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) “ عمرو بن سلیم زرقی اپنی والدہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مٹی میں تھے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہنے لگے : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ان دونوں میں کوئی شخص بھی ہرگز روزہ نہ رکھے ایک جملہ جو کہا گیا تھا لوگوں نے اس کی اتباع کرلی ۔ (رواہ احمد بن حنبل والعدنی وابن جریر وصححہ و سعید بن المنصور)
24419 (مسند علي رضي الله عنه) عن عمرو بن سليم الزرقي عن أمه قال : بينا نحن بمنى إذا علي بن أبي طالب يقول : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن هذه أيام أكل وشرب فلا يصومنها أحد واتبع الناس على جمله يصرخ بذلك.
(حم والعدني وابن جرير ، وصححه ص).
(حم والعدني وابن جرير ، وصححه ص).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وصال صوم کی ممانعت
24420 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “۔ بشر بن سحیم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایام تشریق کے موقع پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منادی باہر نکلا اور اعلان کیا : جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جو تابع فرمان ہوگا ، خبردار یہ دن کھانے پینے کے دن ہیں۔ مرواہ النسائی وابن جریر)
24420 (مسند علي رضي الله عنه) عن بشر بن سحيم عن علي بن أبي طالب أن منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج في أيام التشريق فقال : إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة ، ألا وإن هذه الايام أيام أكل وشرب.
(ن وابن جرير : وصححه والطحاوى).
(ن وابن جرير : وصححه والطحاوى).
তাহকীক: