কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৩৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24381 ۔۔۔ ” مسند عامر بن مالک ، المعروف بلاعب اسننہ “ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے ایک شخص جسے عامر بن مالک کہا جاتا تھا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک سائل آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز موقوف کردی ہے۔ مرواہ الخطیب فی المتفق واوردہ ابن الاثیر فی اسدالغابۃ 1413 وقال اخرجہ ابو موسیٰ وھذا اخرجہ احمد فی مسندہ 3373 عن انس)
24381- "من مسند عامر بن مالك المعروف بملاعب الأسنة" عن زرارة بن أوفى عن رجل من قومه يقال له عامر بن مالك قال: "كنت عند نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاءه سائل فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: هلم فلنحدثك إن الله تعالى قد وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة". "خط في المتفق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24382 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی راویت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے موقع پر رمضان میں مدینہ سے نکلے درآنحالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں تھے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام کدید تک پہنچے تھے کہ روزہ افطار کردیا (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ پورا نہیں کیا بلکہ توڑ دیا) ۔ مرواہ عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ)
24382 - عن ابن عباس قال: "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح في شهر رمضان فصام حتى بلغ الكديد ثم أفطر". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24383 ۔۔۔ ! کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے اور یہ رمضان کا مہینہ تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روزہ تھا حتی کہ راستہ میں قدید نامی جگہ سے گزرے لگ بھگ یہ دوپہر کا وقت تھا لوگوں کو سخت پیاس لگ گئی اور اپنی گردنیں مائل کرنے لگے اور پانی کی سخت خواہش ظاہر کی ، چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ ہاتھ پر رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی پیا اور لوگ بھی پانی پر ٹوٹ پڑے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
24383- "أيضا" "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح في شهر رمضان فصام حتى مر بقديد 2 في الطريق وذلك في نحو الظهيرة فعطش الناس وجعلوا يمدون أعناقهم وتتوق أنفسهم إليه، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدح فيه ماء فأمسكه على يده حتى رآه الناس، ثم شرب فشرب الناس". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24384 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوران سفر رمضان میں روزے رکھنے کے متعلق دریافت کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روزہ افطار کرلو عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں روزے پر قوت رکھتا ہوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم زیادہ قوت والے ہو یا پھر اللہ تعالیٰ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریضوں اور مسافروں پر افطار روزہ کا صدقہ کیا ہے تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ وہ کسی دوسرے پر صدقہ کرے اور پھر وہ واپسی کا مطالبہ کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن رافع ہے جو کہ متروک راوی ہے۔
24384- عن ابن عمر أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الصوم في شهر رمضان في السفر، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفطر، قال: إني أقوى على الصوم يا رسول الله، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أنت أقوى أم الله؟ إن الله تعالى تصدق بإفطار الصائم على مرضى أمتي ومسافريهم، أفيحب أحدكم أن يتصدق على أحد بصدقة ثم يظل يردها عليه". "عب وفي سنده إسماعيل بن رافع متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24385 ۔۔۔ طاؤس (رح) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر میں روزہ رکھا اور افطار بھی کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھنے والے کو معبود سمجھا اور نہ ہی افطار کرنے والے کو ، حالانکہ روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے سے بہتر ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
24385- "عن طاوس أن النبي صلى الله عليه وسلم صام في السفر وأفطر فلا يعاب على من صام ولا على من أفطر، ومن صام خير ممن أفطر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24386 ۔۔۔ طاؤس ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی ایک اور حدیث نقل کرتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
24386- "عن طاوس عن ابن عباس مثله". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24387 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حمزہ اسلمی (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کرو۔ (رواہ عبدالرزاق)
24387- عن عروة أن حمزة الأسلمي "سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الصيام في السفر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: إن شئت فصم وإن شئت فأفطر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24388 ۔۔۔ ابو جعفر کہتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے موقع پر گھر سے تشریف لے گئے اور جب عسفان یا کدید پہنچے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا پیالہ منگویا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر تشریف فرماتے تھے اور یہ رمضان کا مہینہ تھا ، چنانچہ لوگوں کی ٹولیاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزرنے لگیں اور پیالہ آپ کے ہاتھ پر تھا پھر آپ نے پانی پی لیا اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی لوگ نافرمان ہیں ، یہ کلمہ تین بار ارشاد فرمایا۔ (رواہ عبدالرزاق)
24388- عن أبي جعفر قال: "لما أن كان النبي صلى الله عليه وسلم مخرجه للفتح بعسفان أو بالكديد نول قدحا وهو على راحلته في شهر رمضان فجعلت الرقاق تمر به والقدح على يده، ثم شرب فبلغه بعد ذلك أن ناسا صاموا فقال: أولئك العاصون ثلاث مرات". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ روزہ وافطار کے آداب :

روزہ کے آداب :
24389 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کہتے ہیں : صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام روزہ نہیں ہے لیکن جھوٹ باطل لغویات اور جھوٹی قسم سے رکنا بھی ضروری ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24389- عن عمر قال: "ليس الصيام من الطعام والشراب وحده ولكنه من الكذب والباطل واللغو والحلف". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24390 ۔۔۔ حمید بن عبدالرحمن بن عوف (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) اس وقت نماز پڑھتے تھے جب افطاری سے قبل رات کی تاریکی دیکھ لیتے پھر نماز کے بعد افطار کرتے ۔ اور ان کا یہ عمل رمضان میں ہوتا تھا ۔ رواہ مالک وعبدالرزاق ، وابن ابی شیبۃ والبیہقی)
24390- "عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أن عمر وعثمان كانا يصليان المغرب في رمضان حين ينظران إلى الليل قبل أن يفطروا ثم يفطران بعد الصلاة وذلك في رمضان". "مالك 1 عب ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24391 ۔۔۔ ابن مسیب (رح) اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شام سے آنے والا ایک سوار آیا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اس سے اہل شام کے حالات دریافت کرنے لگے اور فرمایا : اہل شام روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس نے جواب دیا : جی ہاں ، فرمایا : جب تک لوگ ایسا کرتے رہیں گے اور اہل عراق کی طرح انتظار نہیں کریں گے برابر خیر و بھلائی پر قائم رہیں گے ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ والبیہقی ، وجعفر الفریابی فی سننہ وانجوھر فی امالیہ)
24391 - عن ابن المسيب عن أبيه قال : كنت جالسا عند عمر إذ جاءه راكب من الشام فطفق عمر يستخبر عن حالهم فقال : هل يعجل أهل الشام الفطر ؟ قال : نعم ، قال : لن يزالوا بخير ما فعلوا ذلك ولم ينتظروا انتظار أهل العراق.

(عب ش ق وجعفر الفريابي في سننه والجوهري في أماليه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24392 ۔۔۔ ابن مسیب (رح) کہتے ہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے مختلف شہروں کے امراء کی طرف خطوط لکھے کہ روزہ افطار کرنے میں اسراف مت کرو اور اپنی نماز کا انتظار بھی مت کرو کہ ستارے نکل آئیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24392 عن ابن المسيب قال : كتب عمر بن الخطاب إلى أمراء الامصار أن لا تكونوا من المسرفين بفطركم ولا المنتظرين بصلاتكم اشتباك النجوم. (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24393 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ یہ امت جب تک جلدی روزی افطار کرتی رہے گی برابر خیر و بھلائی پر قائم رہے گی لہٰذا تم میں سے جب کوئی روزہ رکھے اور وہ کلی کرے تو منہ کا پانی تھوکے نہیں بلکہ پی لے چونکہ پہلا پانی بھلائی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ یعنی افطاری کے وقت کلی کا پانی پی لے تھوکے نہیں ۔
24393 عن عمر قال : لا تزال هذه الامة بخير ما عجلوا الفطر فإذا كان يوم صوم أحدكم فمضمض فاه فلا يمجه ولكن يشربه فان خيره أوله.

(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24394 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے روزہ دار کی کلی کے متعلق دریافت کی گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کلی کا پانی تھوکے نہیں بلکہ پی لے چونکہ وہ اس کا اول پانی ہے جو اس کے لیے بہتر ہے۔ (رواہ ابو عبید)
24394 عن عطاء أنه ذكر لعمر المضمضة للصائم قال : لا يمجه ولكن يشربه فان أوله خيره.

(أبو عبيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24395 ۔۔۔ ابن عوسجہ کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ہمیں نماز سے قبل افطار کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس طرح کرنا تمہاری نماز کے لیے اچھا ہے۔ (سمویہ)
24395 عن ابن عوسجة قال : كان علي يأمرنا أن نفطر قبل الصلاة ويقول : إنه أحسن لصلاتكم (سمويه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24396 ۔۔۔ حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں روزہ جلدی افطار کرنے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ النسائی)
24396 عن سهل بن سعد قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعجل الافطار.

(ن).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افطاری کے آداب :
24397 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ ہاتھ میں کھجور لیے غروب آفتاب کا انتظار کر رہے ہیں چنانچہ جب سورج غروب ہوگیا آپ نے کھجور منہ میں ڈال لی ۔ (رواہ ابن النجار)
24397 عن عائشة قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صائم يترصد غروب الشمس بتمرة ، فلما توارت ألقاها في فيه.

(ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات متفرقہ :
24398 ۔۔۔ ” مسند حضرت انس بن مالک (رض) “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے پہلے روزہ افطار کرتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
24398 (مسند أنس رضي الله عنه) عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر قبل الصلاة.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات متفرقہ :
24399 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت روزہ افطار کرتے تھے جب روزہ دار دودھ پر ہوتا تھا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لاتا اور آپ کے ایک طرف رکھ دیتا پیالہ اوپر سے ڈھانپ دیا جاتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
24399 عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر إذا كان صائما على اللبن وجئته بقدح من لبن فوضعته إلى جنبه فغطي عليه وهو يصلي.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنوں کے اعتبار سے روزہ کے ممنوعات :
24400 ۔۔۔ ” مسند انس “ عمرو بن جمیع ابان سے حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان بھی روزہ افطار کرتا ہے اور افطاری کے وقت یہ دعا پڑھتا ہے۔ ” یا عظیم یا عظیم انت الھی لا الہ غیرک اغفرلی الذنب العظیم فانہ لا یغفرالذنب العظیم الا العظیم “۔ ے عظمت والے اے عظمت والے تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میرے عظیم گناہوں کو معاف فرما اور گناہوں کو عظمت والا ہی معاف کرتا ہے “۔ وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ یہ دعا بعد میں آنے والوں کو بھی سکھلاؤ چونکہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں اور اس سے دنیا و آخرت کے معاملات سلجھتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ ابن عساکر کرتے ہیں یہ حدیث شاذ ہے اور اس کی اسناد میں مجاھیل (مجہول راوی) ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھتے تذکرۃ الموضوعات 160 والتزیۃ 3342 نیز عمرو بن جمیع کی کنیت ابو منذکوفی ہے حلوان کا قضی رہا ہے ابن معین نے اس کی تکذیب کی ہے جب کہ امام بخاری (رح) نے اسے منکر حدیث کہا ہے دیکھئے میزان الاعتدال 2513 ۔
24400 (أيضا) عن عمرو بن جميع (1) عن أبان عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ما من مسلم يصوم ويقول عند إفطاره : يا عظيم يا عظيم أنت إلهي لا إله غيرك اغفر لي الذنب العظيم فانه لا يغفر الذنب العظيم إلا العظيم ، إلا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه ، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : علموها عقبكم فانها كلمة يحبها الله ورسوله ويصلح بها أمر الدنيا

والآخرة.

(كر وقال شاذ بمرة وفي اسناده مجاهيل).
tahqiq

তাহকীক: