কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৩৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24361 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابو طیبہ نے سینگی لگائی تھی ۔ (رواہ ابن جریر)
24361- عن أنس قال: "احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صائم حجمه أبو طيبة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24362 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بحالت روزہ مسواک کرلیتے تھے لیکن آپ (رض) تر لکڑی سے مسواک کرتے تھے ۔ (رواہ ابوعبید)
24362- "عن عمر أنه كان يستاك وهو صائم ولكن يستاك بعود قد روي". "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24363 ۔۔۔ عامر بن ربیعہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حالت روزہ میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
24363- عن عامر بن ربيعة قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يستاك وهو صائم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24364 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سر مبارک سے پانی کے قطرے جھاڑ رہے تھے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان میں غسل جنابت کیا تھا ۔ (رواہ سمویہ و سعید بن المنصور)
24364- عن عمر قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح وأنه لينفض رأسه يتطاير منه الماء من غسل جنابته في رمضان". "سمويه ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24365 ۔۔۔ زیاد بن جریر روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو لوگوں میں سب سے زیادہ روزے رکھتے دیکھا ہے اور سب سے زیادہ مسواک کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
24365- عن زياد بن جرير قال: "رأيت عمر أكثر الناس صياما وأكثرهم سواكا". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24366 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کے لیے تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے غسل جنابت کی وجہ سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے نہ کہ غسل احتلام کی وجہ سے ، اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کا روزہ رکھا ۔ (رواہ ابن النجار)
24366- عن عائشة "أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج في صلاة الصبح ورأسه يقطر من جنابته لا احتلام، وصام ذلك اليوم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات روزہ :
24367 ۔۔۔ ” مسند اسامہ (رض) “ عمر بن ابی بکر بن عبدالرحمن اپنے والد ودادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے انھیں خبر دی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کے لیے تشریف لے جاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے غسل جنابت کی وجہ سے نہ کہ غسل احتلام کی وجہ سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوت پھر صبح کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں ہوتے ۔ چنانچہ یہ حدیث عبدالرحمن نے مروان کو سنائی مروان بولا ! میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس جاؤ اور انھیں بھی یہ حدیث سناؤ چنانچہ حضرت ابوہریرہ (رض) کہا کرتے تھے کہ جس شخص کو احتلام ہوجائے یا ہم بستری کرے اور پھر صبح ہو چکنے کے بعد غسل کرے اسے روزہ نہیں رکھنا چاہے چنانچہ عبدالرحمن (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس گئے اور انھیں یہ حدیث سنائی حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) (اس بارے میں) ہم سے زیادہ جانتی ہیں مجھے تو یہ حدیث اسامہ بن زید (رض) نے سنائی تھی ۔ (رواہ النسائی)
24367- "مسند أسامة رضي الله عنه" "عن عمر بن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده أن عائشة أخبرته أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخرج إلى الصبح ورأسه يقطر ماء نكاحا من غير احتلام، ثم يصبح صائما. فذكر ذلك عبد الرحمن لمروان فقال مروان: أقسمت عليك إلا ذهبت إلى أبي هريرة فحدثه هذا، وكان أبو هريرة يقول: من احتلم من الليل أو وقع ثم أدركه الصبح فاغتسل فلا يصوم، فذهب عبد الرحمن فأخبره ذلك قال أبو هريرة: فهي أعلم برسول الله صلى الله عليه وسلم منا إنما كان أسامة بن زيد حدثني بذلك". "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24368 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان میں دو غزوات کیے ہیں ایک غزوہ بدر اور دوسرا فتح مکہ ہم نے ان دونوں غزوات میں روزہ افطار کرلیا تھا ۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل والترمذی وقال : ھذا حدیث حسن)
24368- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوتين في رمضان يوم بدر ويوم الفتح فأفطرنا فيهما". 1 "ابن سعد حم ت: وهو حسن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24369 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ دوران سفر رمضان میں جو روزے رکھے ہیں ان کی قضاء کرے ۔ مرواہ عبدالرزاق وابن شاھین فی السنۃ وجعفر الفریابی فی سننہ)
24369- "عن عمر أنه أمر رجلا صام في رمضان في السفر أن يقضيه". "عب وابن شاهين في السنة وجعفر الفريابي في سننه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24370 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں سفر پر ہو اور اسے علم ہوجائے کہ وہ دن کے اول حصہ میں شہر میں داخل ہوجائے گا وہ روزہ کی نیت کرلے ۔ (رواہ مالک)
24370- عن عمر قال: "من كان في سفر في رمضان فعلم أنه داخل المدينة في أول يومه دخل وهو صائم". "مالك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24371 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رمضان کے آخر میں سفر پر نکلے اور فرمایا : مہینہ کے تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں ، اگر ہم بقیہ دنوں کے روزے رکھ لیں تو بہت اچھا ہوگا ۔ (رواہ ابو عبید فی الغریب)
24371- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر أنه سافر في آخر رمضان وقال: إن الشهر قد تشعشع فلو صمنا بقيته. "أبو عبيد في الغريب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24372 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا درآنحالیکہ وہ مقیم تھا پھر اس نے سفر کیا تو اسے روزے لازم ہوجائے گے چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “۔ یعنی جس شخص نے ماہ رمضان پالیا وہ اس کے روزے رکھے ۔ مرواہ وکیع وعبد ابن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم)
24372- عن علي قال: "من أدركه رمضان وهو مقيم ثم سافر فقد لزمه الصوم لأن الله يقول: فمن شهد منكم الشهر فليصمه". "وكيع وعبد ابن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24373 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ بنو عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ ہمارے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہسواروں نے غارت گری ڈالی ، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جاؤ اور یہ کھانا کھاؤ میں نے عرض کیا میں روزہ میں ہوں ، فرمایا : بیٹھ جاؤ میں تمہیں نماز اور روزہ یا فرمایا کہ روزہ کے متعلق بتاتا ہوں چنانچہ اللہ عزوجل نے نماز اور روزے کا آدھا بوجھ مسافر ، حاملہ اور دودھ پلانی والی عورت کے ذمہ سے ہٹادیا ہے افسوس صد افسوس ! میں اس وقت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھانا نہ کھا سکا ۔ (رواہ احمد وابو نعیم) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 571 ۔
24373- عن أنس بن مالك رجل من بني عبد الله بن كعب قال: "أغارت علينا خيل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يأكل فقال: اجلس فأصب من هذا الطعام فقلت: إني صائم فقال: اجلس أحدثك عن الصلاة والصيام أو قال الصوم إن الله عز وجل وضع شطر الصلاة والصوم عن المسافر، وعن الحبلى، وعن المرضع، فيا لهف نفسي أن لا أكون أكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم". "حم وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24374 ۔۔۔ عمروہ بن امیہ ضمری اپنے والد امیہ ضمری (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو امیہ ! صبح کا انتظار مت کرو میں نے عرض کیا : میں روزہ میں ہوں فرمایا اور میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسافر کے ذمہ سے روزہ اور آدھی نماز کو ہٹا دیا ہے۔ مرواہ الخطیب فی المتفق ورواہ ابن جریر عن ابی سلمۃ عن عمرو بن امیۃ الضمری )
24374- عن عمرو بن أمية الضمري عن أبيه قال: "قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم من سفر فقال: لا تنتظر الغداء يا أبا أمية فقلت: إني صائم، فقال: تعال أخبرك عن المسافر إن الله وضع عنه الصيام ونصف الصلاة". "خط في المتفق، ورواه ابن جرير عن أبي سلمة عن عمرو ابن أمية الضمري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24375 ۔۔۔ حضرت ابو امیہ (رض) کہتے ہیں : ایک سفر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناشتہ کیا میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب بیٹھا ہوا تھا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ ناشتہ کرو میں نے عرض کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے روزہ ہے فرمایا : آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مسافر کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں کیا آسانی ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسافر کے ذمہ سے روزہ اور آدھی نماز کو ہٹا دیا ہے۔ مرواہ الخطیب فی المتفق)
24375- عن أبي أمية قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغدى في سفر وأنا قريب منه جالس فقال: هلم إلى الغداء فقلت: يا رسول الله إني صائم فقال: هلم أحدثك ما للمسافر عند الله؟ إن الله وضع عن أمتي نصف الصلاة والصيام في السفر". "خط فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24376 ۔۔۔ حمزہ بن عمرواسلمی (رض) کہتے ہیں : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حالت سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کرو۔ (رواہ ابونعیم)
24376- عن حمزة بن عمرو الأسلمي قال: "سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر فقال: إن شئت فصم وإن شئت فأفطر". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24377 ۔۔۔ حمزہ بن محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی اپنے والد سے دادا حمزہ کی روایت نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سواری ہے میں اسے کھلاتا پلاتا ہوں تاکہ اس پر سفر کروں اور اسے کرایہ پر لگاؤں بسا اوقات مجھے رمضان میں بھی سفر کرنا پڑتا ہے اور میں اس کی قوت بھی رکھتا ہوں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پسند کرتا ہوں کہ میں رمضان میں (دوران سفر) روزہ رکھوں چونکہ بعد میں روزے رکھنے سے رمضان ہی میں روزے رکھ لینا میرے لیے بہت آسان ہے چونکہ بعد میں روزہ رکھنا میرے ذمہ ایک قسم کا قرض ہی ہوگا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجر عظیم کے لیے میں روزہ رکھ لو یا افطار کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ جونسی صورت بھی چاہو کرسکتے ہو ۔ (رواہ ابونعیم)
24377- عن حمزة بن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي أن أباه أخبره عن جده قال: "قلت يا رسول الله إني صاحب ظهر 1 أعالجه أسافر عليه وأكريه وإنه ربما صادفني هذا الشهر يعني رمضان وأنا أجد القوة وأنا سائر فأحب أن أصوم يا رسول الله أهون علي من أن أؤخره فيكون دينا علي أفأصوم يا رسول الله أعظم لأجري أم أفطر؟ قال: أي ذلك شئت يا حمزة". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24378 ۔۔۔ حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں سفر میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوران سفر روزہ میں رخصت ہے سو جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اپنایا اس نے بہت اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ (رواہ ابو نعیم)
24378- عن حمزة بن عمرو الأسلمي أنه قال: "يا رسول الله إني أجد قوة على الصيام في السفر فهل علي من جناح؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هي رخصة، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24379 ۔۔۔ ابو عبیدہ بن عقبہ بن نافع روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) کے پاس گئے حضرت معاویہ (رض) نے انھیں صبح کا کھانا پیش کیا اور کہا : اے عقبہ قریب ہوجاؤ ۔ انھوں نے جواب دیا : مجھے روزہ ہے حضرت معاویہ (رض) نے کہا : یہ سنت نہیں ہی (یعنی حالت میں سفر میں روزہ رکھنا سنت نہیں ہے) اور عقبہ سفر پر تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
24379- عن أبي عبيدة بن عقبة بن نافع أن أباه وفد على معاوية فقرب له الغداء فقال: "اقترب يا عقبة، فقلت: إني صائم قال: أما إنها ليست سنة وكان عقبة على سفر". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر کی روزہ داری :
24380 ۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں ہم (جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) 18 رمضان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ سے خیبر کی طرف نکلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک جماعت نے روزہ رکھا جب کہ بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے افطار کردیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس (روزہ افطار کرنے) کو معیوب نہیں سمجھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24380- عن أبي سعيد قال: "خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة إلى خيبر في ثنتي عشرة بقيت من رمضان فصام طائفة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأفطر آخرون فلم يعب ذلك". "ش".
tahqiq

তাহকীক: