কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৭ টি
হাদীস নং: ২৪৩৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24341 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) اپنے والد محترم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کی اٹھارھویں تاریخ کو نکلا ، اچانک ایک آدمی سینگی لگوا رہا تھا ، جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا تو فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوچکا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تبارک وتعالیٰ آپ پر رحمت نازل کرے ! میں اس کی گردن پکڑ کر توڑ نہ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑو تمہارے چاہنے سے زیادہ کفارہ اسے لازم نہیں ہوتا ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ فرمایا : اس دن کی جگہ ایک دن اور روزہ رکھنا میں نے عرض کیا : جب یہ نہ پائے تو ؟ فرمایا : تب مجھے کچھ پروا نہیں ۔ (رواہ ابن جریر) کلام : ۔۔۔ ابن جریر کہتے ہیں : یہ حدیث باطل ہے اور دین میں اس حدیث سے حجت پکڑنا کسی طرح جائز نہیں ہے چونکہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرنے کا مخرج غیر معروف ہے اور صرف اسی طریق سے یہ معروف ہے نیز اس کی سند میں ابوبکر عبسی نامی راوی ہے اور اس کی روایات پر کسی طرح بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا نیز اس حدیث کو نقل کرنے سے حجت لازم نہیں ہوتی ۔ نیز ذہبی (رح) کہتے ہیں ابوبکر عبسی عن عمر مجہول سند ہے دیکھئے میزان الاعتدال 4994 ۔
24341- عن ابن عمر عن أبيه قال: "خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثماني عشرة ليلة خلت من شهر رمضان، فإذا برجل يحتجم، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أفطر الحاجم والمحجوم، فقلت: يا رسول الله صلى الله عليك أفلا آخذ بعنقه حتى أكسره؟ قال: ذره فما لزمه من الكفارة أعظم مما تريد به، قلت: وما كفارة ذلك يا رسول الله؟ قال: يوم مثله، قلت إذا لا يجده، قال: إذا لا أبالي". "ابن جرير، وقال: "خبر باطل لا يجوز الاحتجاج به في الدين وذلك أنه لا يعرف له مخرج عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه وفيه أبو بكر العبسي 1 ممن لا يعتمد على روايته ولا يلزم بنقله حجة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24342 ۔۔۔ ثوبان کہتے ہیں کہ وہ رمضان کی اٹھارھویں تاریخ کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بقیع کی طرف نکلے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سینگی لگواتے ہوئے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوچکا ہے۔ (رواہ ابن جریر وابن عساکر)
24342- عن ثوبان أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لثماني عشرة ليلة خلت من شهر رمضان إلى البقيع فنظر إلى رجل يحتجم فقال: أفطر الحاجم والمحجوم. "ابن جرير كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24343 ۔۔۔ روایت ہے کہ حضرت ابوسعید (رض) روزہ دار کے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اندیشہ ضعف کی وجہ سے روزہ دار کے لیے سینگی لگوانا مکروہ سمجھا گیا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24343- عن أبي سعيد أنه كان لا يرى بالحجامة للصائم بأسا وقال: "إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة الضعف". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24344 ۔۔۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ دار کو بوسہ لینے اور سینگی لگوانے میں رخصت عنایت فرمائی ہے ۔۔ (رواہ ابن جریر)
24344- عن أبي سعيد قال: "رخص النبي صلى الله عليه وسلم في القبلة للصائم والحجامة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24345 ۔۔۔ ابو رافع (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک رات میں حضرت ابو موسیٰ (رض) کے پاس گیا اس وقت وہ سینگی لگوا رہے تھے میں نے کہا : اگر یہ کام دن کے وقت ہو ؟ جواب دیا : کیا تم مجھے بحالت روزہ خون بہانے کا حکم دیتے ہو ؟ حالانکہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ افطار ہوچکا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24345- عن أبي رافع قال: "دخلت على أبي موسى ليلا وهو يحتجم فقلت: لو كان هذا نهارا؟ فقال: أتأمرني أن أهريق دمي وأنا صائم، وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24346 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں تھے ۔۔ (رواہ ابن النجار)
24346- "عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو صائم". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24347 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام قاحہ جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقعہ ہے میں سینگی لگوائی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں تھے اور احرام بھی باندھ رکھا تھا ۔ (رواہ ابن جریر)
24347- عن ابن عباس قال: "احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقاحة بين مكة والمدينة وهو صائم محرم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24348 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ سینگی لگوا رہا تھا (اسے دیکھ کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوچکا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24348- عن عائشة قالت: "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل وهو يحتجم فقال: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24349 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوائی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھ رکھا تھا اور بحالت روزہ تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
24349- "عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم بين مكة والمدينة وهو محرم صائم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24350 ۔۔۔ حسن بصری (رح) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سینگی لگانے والے کو بلایا حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تھوڑی دیر انتظار کرو تاکہ سورج غروب ہوجائے نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔۔ (رواہ ابن جریر)
24350- عن الحسن أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا حجاما وهو صائم فقال: "انتظر حتى تغيب الشمس وقال: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24351 ۔۔۔ عطاء (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام قاحہ میں سینگی لگوائی جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کچھ غشی طاری ہوگئی تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ دار کو سینگی لگوانے سے منع فرمایا : (رواہ ابن جریر و سعید بن المنصور فی سننہ)
24351- "عن عطاء أن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم بالقاحة وهو محرم صائم فغشي عليه فنهى أن يحتجم الرجل وهو صائم". "ابن جرير، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24352 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ رمضان کی اٹھارہویں تاریخ کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ سینگی لگوا رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوگیا۔ (رواہ ابن جریر، وصححہ)
24352- "عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم مر برجل يحتجم في ثماني عشرة من رمضان فقال: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير: وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24353 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24353- عن علي قال: "أفطر الحاجم والمستحجم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24354 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ حارث روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص بحالت روزہ حمام میں داخل ہو یا سینگی لگوائے ۔ (رواہ ابن جریر)
24354- "مسند علي رضي الله عنه" "عن الحارث عن علي أنه كان يكره أن يدخل الحمام وهو صائم، وأن يحتجم وهو صائم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24355 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ حارث بن عبداللہ کہتے ہیں مجھے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے بحالت روزہ سینگی لگوانے سے منع فرمایا ہے ۔۔ (رواہ ابن جریر)
24355- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحارث بن عبد الله قال: "نهاني علي أن أحتجم وأنا صائم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24356 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : روزہ کی حالت میں سینگی نہ لگواؤ اور بحالت روزہ حمام میں بھی داخل نہ وہ ۔ (رواہ ابن جریر)
24356- عن علي قال: "لا تحتجم وأنت صائم، ولا تدخل الحمام وأنت صائم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24357 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حاجم اومحجوم کا روزہ افطار ہوجاتا ہے۔ (رواہ مسدد) فائدہ : ۔۔۔ حاجم سینگی لگانے والا اور محجوم سینگی لگوانے والا ۔ حجامہ کو پچھنے سے بھی تفسیر کیا جاتا ہے۔
24357- عن علي: "أفطر الحاجم والمحجوم". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24358 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : اندیشہ ضعف کی وجہ سے روزہ دار کے لیے سینگی لگوانا مکروہ سمجھا گیا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24358- عن أنس قال: "إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة الضعف". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24359 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان میں سینگی لگوائی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبل ازیں فرما چکے تھے کہ حاجم اور محجوم کا روزہ افطار ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابونعیم)
24359- عن أنس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم في رمضان وهو صائم بعد ما قال: أفطر الحاجم والمحجوم". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا سینگی لگوانا :
24360 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ پچھنے لگوا رہا تھا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حاجم اور محجوم کا روزہ افطار ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24360- عن أنس قال: "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل يحتجم في رمضان فقال: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক: