কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৭ টি
হাদীস নং: ২৪৩২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24321 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے قضاء رمضان کے بارے میں فرمایا کہ لگاتار روزے رکھے جائیں ۔ (رواہ عبدالرزاق والبیہقی)
24321- عن علي في قضاء رمضان قال: "تباعا". "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے کا کفارہ :
24322 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ “۔ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ عرض کیا میں رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کر بیٹھا ہوں ، حکم ہوا غلام آزاد کرو عرض کیا : میرے پاس غلام نہیں ہے کہا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔ کہا : میرے پاس کھانا بھی نہیں ہے فرمایا : بیٹھ جاؤ چنانچہ وہ آدمی (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس) بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک ٹوکری لائی گئی اس میں کھجوریں تھیں ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے جاؤ اور صدقہ کرو۔ عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے ! اہل مدینہ میں مجھ سے بڑھ کر زیادہ محتاج کوئی بھی نہیں ہے ، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی بات سن کر ہنس دیئے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے فرمایا : جاؤ اور اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ ۔ مرواہ البخاری فی کتاب الصوم باب اذا جامع فی رمضان ولم یکن لہ شیء ابن ابی شیبۃ)
24322- "مسند أبي هريرة رضي الله عنه" جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "هلكت قال: وما أهلكك؟ قال: وقعت على امرأتي في رمضان قال: أعتق رقبة، قال: لا أجد، قال: صم شهرين، قال: لا أستطيع قال: أطعم ستين مسكينا قال: لا أجد قال: اجلس فجلس فبينما هو كذلك إذ أتي بفرق فيه تمر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب فتصدق به، قال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتي المدينة أهل بيت أفقر إليه منا فضحك حتى بدت أنيابه، ثم قال: انطلق فأطعمه عيالك". "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے کا کفارہ :
24323 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کفارہ صوم میں وہ آدمی روزے رکھے جو غلام آزاد کرنے کی گنجائش نہ پاتا ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
24323- عن أبي هريرة قال: "إنما الصوم في الكفارة لمن لم يجد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے کا کفارہ :
24324 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہلاک ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیرا ناس ہو تجھے کیا ہوا ؟ عرض کیا : میں رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کر بیٹھا ، حکم ہوا غلام آزاد کرو ، عرض کیا : میرے پاس غلام نہیں ہے : حکم ہوا پھر لگاتار دو مہینے روزے رکھو کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ہوں ، فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، راوی نے پوری حدیث بیان کی اور آخر میں اس آدمی نے کہا مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ہنس دیئے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک بھی دکھائی دینے لگے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ (کھجوریں) لے لو اور اپنے رب سے مغفرت طلب کرو (رواہ ابن عساکر)
24324- عن أبي هريرة قال: "بينما أنا جالس عند النبي صلى الله عليه وسلم جاءه رجل فقال: يا رسول الله هلكت، قال: ويحك ما شأنك؟ قال: وقعت على أهلي في رمضان، قال أعتق رقبة قال: لا أجد، قال فصم شهرين متتابعين قال: لا أطيقه قال: فأطعم ستين مسكينا وذكر الحديث ثم قال في آخره: ما بين ظهري المدينة أحوج إليه مني قال: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت أنيابه ثم قال: خذه واستغفر ربك". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے کا کفارہ :
24325 ۔۔۔ ” مسند حضرت انس بن مالک (رض)) ایوب بن ابو تمیمہ روایت کرتے ہیں کہ آخری عمر میں حضرت انس بن مالک (رض) بہت ضعیف ہوگئے تھے اور روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے چنانچہ آپ (رض) ثرید کی ایک دیگ بنائی اور تیس (30) مسکینوں کو بلا کر کھانا کھلایا۔ مرواہ ابو یعلی وابن عساکر)
24325- "مسند أنس رضي الله عنه" عن أيوب بن أبي تميمة قال: "ضعف أنس عن الصوم فصنع جفنة من ثريد ودعا بثلاثين مسكينا فأطعمهم". "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24326 ۔۔۔ مسلم روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے رمضان میں ایک مرتبہ بارش کے دن روزہ افطار کیا وہ سمجھے کہ شام ہوچکی ہے اور سورج بھی غروب ہوچکا ہے اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے امیر المؤمنین سورج نکل چکا ہے آپ (رض) نے فرمایا : معاملہ ہلکے درجے کا ہے اور ہم نے اجتھاد کرلیا ہے۔ (رواہ مالک والشافعی والبیہقی)
24326- "عن أسلم أن عمر بن الخطاب أفطر ذات يوم في رمضان في يوم غيم، ورأى أنه قد أمسى وغابت الشمس، فجاءه رجل فقال: يا أمير المؤمنين قد طلعت الشمس، فقال: الخطب يسير وقد اجتهدنا". "مالك والشافعي ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24327 ۔۔۔ حنظلہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں رمضان میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس تھا چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کیا اتنے میں مؤذن اذان دینے کے لیے چبوترے پر چڑھا اور کہنے لگا اے لوگو ! سورج تو یہ رہا اور غروب نہیں ہوا : سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : جس شخص نے روزہ افطار کرلیا وہ اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھے ۔ (رواہ البیہقی)
24327- عن حنظلة قال: "كنت عند عمر في رمضان فأفطر وأفطر الناس فصعد المؤذن ليؤذن فقال: أيها الناس هذه الشمس لم تغرب فقال عمر: من كان أفطر فليصم يوما مكانه". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24328 ۔۔۔ زید بن وھب کہتے ہیں : ایک مرتبہ رمضان میں ہم لوگ مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے آسمان ابر آلود تھا ہم سمجھے سورج غروب ہوچکا ہے اور شام ہوچکی ہے چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے پانی پی لیا اور ہم نے بھی پانی پیا ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ بادل چھٹ گئے اور سورج ظاہر ہوگیا ۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے : ہم اس روزہ کی قضاء کریں گے، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : بخدا ! ہم اس روزہ کی قضاء نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ (رواہ ابوعبید فی الغریب والبیہقی)
24328- عن زيد بن وهب قال: "بينما نحن جلوس في مسجد المدينة في رمضان والسماء متغيمة رأينا أن الشمس قد غابت وإنا قد أمسينا، فشرب عمر وشربنا فلم نلبث أن ذهب السحاب وبدت الشمس فجعل بعضنا يقول لبعض: نقضي يومنا هذا، فقال عمر: والله ما نقضيه ولا تجانفنا 1 لإثم. "أبو عبيد في الغريب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24329 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے : مجھے ایک چیز کے متعلق فتوی دو جو میں نے آج کردی ہے لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین وہ کیا ہے ؟ فرمایا : میرے پاس سے (میری) ایک باندی گزری جو میرے دلکو بھا گئی میں نے اس کے ساتھ ہمبستری کرلی حالانکہ میں روزہ میں بھی تھا ، چنانچہ لوگ ان پر بڑی بڑی باتیں کرنے لگے جب کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) خاموش تھے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تم کیا کہتے ہو ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : آپ سے حلال کام سرزد ہوا ہے ایک دن کی جگہ دوسرا دن سہی سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تم فتوی کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو ۔ مرواہ ابن سعد)
24329- عن سعيد بن المسيب قال: "خرج عمر بن الخطاب على أصحابه فقال: أفتوني في شيء صنعته اليوم فقال: ما هو يا أمير المؤمنين؟ قال: مرت بي جارية فأعجبتني فوقعت عليها وأنا صائم، فعظم عليه القوم وعلي ساكت فقال: ما تقول يا ابن أبي طالب؟ قال: جئت حلالا ويوم مكان يوم، فقال: أنت خيرهم فتوى". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24330 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں جب کوئی شخص بھولے سے کھانا کھالے حالانکہ وہ روزہ میں ہو تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے اپنا رزق عطا کیا ہے اور جب روزہ دار جان بوجھ کر قے کرے اس کے ذمہ قضاء واجب ہوجاتی ہے اور جب خود بخود اسے قے آجائے اس کے ذمہ قضاء واجب نہیں ہوتی ۔ (رواہ البیہقی)
24330- عن علي قال: "إذا أكل الرجل ناسيا وهو صائم فإنما هو رزق رزقه الله تعالى إياه، وإذا تقيأ وهو صائم فعليه القضاء وإذا ذرعه القيء فليس عليه القضاء". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24331 ۔۔۔ ” مسند ثوبان مولی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معدان بن ابی طلحہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابودارداء (رض) نے انھیں حدیث سنائی کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کردی اور پھر روزہ توڑ دیا معدان کہتے ہیں میں ثوبان (رض) سے ملا اور ان سے یہ بات بیان کی : انھوں نے کہا : ابو درداء (رض) نے سچ کہا : میں نے ہی ان کے وضو کے لیے پانی ڈال کے دیا تھا ۔ (رواہ ابو نعیم)
24331- "مسند ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم" عن معدان بن أبي طلحة أن أبا الدرداء حدثه أن النبي صلى الله عليه وسلم قاء فأفطر، فلقيت ثوبان فقال: "صدق، أنا صببت له وضوءه". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24332 ۔۔۔ ” مسند جابر (رض) “۔ عبید اللہ حضرت جابر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کے پاس سے گزرے وہ دونوں رمضان میں کسی آدمی کی غیبت کر رہے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ مرواہ ابن جریر)
24332- "من مسند جابر رضي الله عنه" عن عبيد الله عن جابر قال: "إنما قال النبي صلى الله عليه وسلم: أفطر الحاجم والمحجوم لأنه مر بهما وهما يغتابان رجلا في رمضان". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24333 ۔۔۔ فضالہ بن عبید روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پینے کے لیے پانی منگوایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ، آپ تو اس دن روزہ رکھتے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ، میں نے قے کردی تھی اور روزہ توڑ دیا تھا ۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
24333- عن فضالة بن عبيد أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا ذات يوم بشربة فقيل: "يا رسول الله إن هذا يوم كنت تصومه فقال: أجل لكن قئت فأفطرت". "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24334 ۔۔۔ ایک آدمی بھولے سے کھانا کھا رہا تھا حالانکہ وہ روزہ میں تھا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : اس آدمی کا روزہ نہیں ٹوٹا اسے تو اللہ تعالیٰ نے کھانا کھلایا ہے۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث کا حوالہ نہیں دیا گیا حالانکہ یہ حدیث مرفوعا روایت کی گئی ہے دیکھئے صحیح بخاری ، باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا عن ابوہریرہ )
24334- عن علي في الرجل يأكل وهو صائم ناسيا فقال: "لا يفطر إنما هي طعمة أطعمه الله تعالى إياها".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24335 ۔۔۔ حضرت معقل بن سنان اشجعی (رض) کہتے ہیں رمضان کی 18 تاریخ کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے میں سینگی لگوا رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24335- عن معقل بن سنان الأشجعي قال: "مر علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أحتجم في ثماني عشرة من رمضان فقال: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24336 ۔۔۔ ” مسند ابی درداء (رض) “ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (جان بوجھ کر) قے کردی اور روزہ توڑ دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی لایا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق وقال صحیح)
24336- "مسند أبي الدرداء" استقاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فأفطر وأتي بماء فتوضأ. "عب: صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24337 ۔۔۔ حضرت شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں رمضان کی 18 تاریخ کو میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جارہا تھا چانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام بقیع میں ایک آدمیکو سینگی لگواتے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑے ہوئے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔ مرواہ ابن جریر)
24337- عن شداد بن أوس قال: "مررت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمانية عشر خلت من رمضان فأبصر رجلا يحتجم بالبقيع فقال وهو آخذ بيدي: أفطر الحاجم والمحجوم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24338 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ ! میں بھول کر کھانا کھالیا ہے اور پانی پی لیا ہے حالانکہ میں روزہ میں تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں کھانا کھلایا ہے اور پانی پلایا ہے اپناروزہ مکمل کرو ۔ مرواہ ابن النجار)
24338- عن أبي هريرة قال: "جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني كنت صائما فأكلت وشربت ناسيا فقال: الله أطعمك وسقاك أتم صومك". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24339 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ آسمان سے اولے برسے حضرت ابو طلحہ (رض) نے کہا یہ اولے مجھے پکڑاؤ میں نے انھیں اولے تھما دیئے اور وہ کھانے لگے حالانکہ وہ روزہ میں تھے ، میں نے کہا : آپ اولے کھا رہے ہیں حالانکہ آپ کو روزہ تھا ؟ چنانچہ ابو طلحہ (رض) نے مجھے کہا : اے بھتیجے یہ نہ تو کھانا ہے اور نہ ہی پانی یہ تو آسمان سے اترنے والی برکت ہے جس سے ہم اپنے بطون کو پاک کر رہے ہیں۔ اس کے بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ان سے یہ سارا واقعہ بیان کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے چچا کے عادت کو اختیار کرو ۔ (رواہ الدیلمی)
24339- عن أنس قال: "أمطرت السماء بردا فقال أبو طلحة: ناولني من هذا البرد فناولته فجعل يأكل وهو صائم، فقلت: تأكل وأنت صائم؟ فقال لي: يا ابن أخي إنه ليس بطعام ولا شراب وإنما هو بركة من السماء تطهر به بطوننا، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له ذلك فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ من أدب عمك". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موجب افطار اور روزہ کے مفسدات وغیر مفسدات :
24340 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ روزہ دار اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو پھول کا سونگھنا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ الدیلمی)
24340- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل عن الصائم يقبل، فقال: "ريحانة يشمها ولا بأس بذلك". "الديلمي".
তাহকীক: