কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪৩০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24301 ۔۔۔ ابراہیم روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عتبہ بن فرقد کی طرف خط لکھا کہ جب تم دن کے اول حصہ میں چاند دیکھو تو روزہ افطار کرلو چونکہ یہ چاند گزشتہ رات کا ہوتا ہے اور جب تم دن کے آخری حصہ میں چاند دیکھو تو اپنے روزے کو مکمل کرو چونکہ یہ آئندہ رات کا چاند ہے (رواہ ابن ابی شیبہ وابو بکر الشافعی )
24301- عن إبراهيم قال: "كتب عمر بن الخطاب إلى عتبة بن فرقد إذا رأيتم الهلال من أول النهار فأفطروا، فإنه من الليلة الماضية، وإذا رأيتموه من آخر النهار فأتموا صومكم فإنه لليلة المقبلة". "ش وأبو بكر الشافعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24302 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : مہینے بارہ ہوتے ہیں اور ایک مہینہ کبھی تیس دنوں کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس دنوں کا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24302- عن عمر قال: "الشهور اثنا عشر الشهر ثلاثون وشهر تسع وعشرون". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24303 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عید الفطر اور عید الاضحی کے متعلق رویت ھلال میں ایک آدمی کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے۔ (رواہ الدارقطنی والبیہقی) کلام : ۔۔۔ دارقطنی اور امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
24303- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عمر أجاز شهادة رجل واحد في رؤية الهلال في فطر وأضحى. "قط ق: وضعفاه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24304 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جب تم دن دن کے اول حصہ میں چاند دیکھو تو روزہ افطار کرلو ، (رواہ ابوبکر فی الغیلانیات)
24304- عن علي قال: "إذا رأيتم الهلال أول النهار فأفطروا". "أبو بكر في الغيلانيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24305 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ مہینہ تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (رواہ مسدد)
24305- عن علي قال: "الشهر ثلاثون، ومن الشهر تسعة وعشرون". "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24306 ۔۔۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں مجھے میری پھوپھیوں نے حدیث سنائی ہے کہ جو انصار میں سے ہیں اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ہیں چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے ہمیں شوال کا چاند نہ دکھائی دیا ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا تاہم دن کے پچھلے پہر کچھ شہسوار آئے اور انھوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر گواہی دی کہ انھوں نے گزشتہ شام چاند دیکھ لیا تھا چانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کرلیں اور صبح کو عیدگاہ میں نماز کے لیے آجائیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
24306- عن أبي عمير بن أنس قال: "حدثني عمومتي من الأنصار من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: أغمي علينا هلال شوال فأصبحنا صياما فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند النبي صلى الله عليه وسلم أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يفطروا وأن يخرجوا إلى عيدهم من الغد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24307 ۔۔۔ کریب (رح) روایت کرتے ہیں کہ مجھے ام فضل بنت حارث (رض) نے شام میں حضرت معاویہ (رض) کے پاس بھیجا میں نے وہاں جمعہ کی شام رمضان کا چاند دیکھا چنانچہ سب لوگوں نے روزہ رکھا حضرت معاویہ (رض) نے بھی روزہ رکھا پھر میں مہینہ کے آخر میں مدینہ میں آیا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے مجھ سے پوچھا تم نے چاند کب دیکھا میں نے کہا جمعہ کی شام حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لیکن ہم نے ہفتہ کی شام دیکھا تھا ہم روزہ میں کمی نہیں کریں گے ہم تو تیس دن پورے کریں گے یا اس سے پہلے چاند دیکھ لیں میں نے کہا : کیا ہمارے لیے حضرت معاویہ (رض) کی روایت کے مطابق روزے رکھنا کافی نہیں ہوگا ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : نہیں چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ حکم دیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
24307- عن كريب أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال: "فاستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام فرأيت الهلال ليلة الجمعة ورآه الناس وصاموا وصام معاوية، فقدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني عبد الله بن عباس متى رأيتم الهلال؟ قلت: ليلة الجمعة، قال: لكنا رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نكمل ثلاثين أو نراه، فقلت: ألا نكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ فقال: لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24308 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر کرو اگر مطلب ابر آلود ہوجائے تو تیس دن پورے کرو ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم رمضان سے ایک یا دو دن قبل روزہ نہیں رکھ سکتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصہ میں ہو کر فرمایا : نہیں ۔ (رواہ ابن النجار)
24308- عن ابن عباس قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوموا لرؤية الهلال وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين، فقلنا: يا رسول الله أولا نتقدم قبله بيوم أو يومين؟ فغضب وقال: لا". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24309 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب چاند دیکھتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے : ” اللہم اھلہ علینا بالامن والامان والسلامۃ والاسلام والتوفیق لما تحب وترضی ربنا وربک اللہ “۔ یعنی یا اللہ اس چاند کو ہمارے لیے امن وامان ، سلامتی اور فرمان برداری کا باعث بنانا اور اپنے پسندیدہ اعمال کے لیے توفیق کا باعث بنا میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
24309- عن ابن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأي الهلال قال: الله أكبر اللهم أهله علينا بالأمن والأمان والسلامة والإسلام والتوفيق لما تحب وترضى ربنا وربك الله". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24310 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “۔ حارث روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے : ” اللہم انی اسالک خیر ھذا الشھر وفتحہ ونصرہ وبرکتہ ورزقہ ونورہ وطھورہ وھداہ واعوذبک من شرہ وشرما فیہ وشرما بعدہ “۔ یا اللہ ! میں تجھ سے اس مہینہ کی خیر و بھلائی کی فتح ونصرت برکت ورزق ، نور ، پاکیزگی، اور اس کی ہدایت کا سوال کرتا ہوں اور میں اس مہینہ کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
24310- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحارث عن علي أنه كان إذا رأى الهلال قال: "اللهم إني أسألك خير هذا الشهر وفتحه ونصره وبركته ورزقه ونوره وطهوره وهداه، وأعوذ بك من شره وشر ما فيه وشر ما بعده". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24311 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی عمل رمضان میں فوت ہوجاتا تو عشرہ ذی الحجہ میں اس کی قضاء کرتے تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذی الحجہ کے مہینہ میں اس کی قضاء کرتے تھے ۔ مرواہ القطیعی فی القطعیات والطبرانی فی الصغری وھو ضعیف والطبرانی فی الاوسط)
24311- عن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فاته شيء من شهر رمضان قضاه في عشر ذي الحجة - وفي لفظ - في شهر ذي الحجة". "القطيعي في القطعيات طص: وهو ضعيف، طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24312 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشرہ ذی الحجہ میں رمضان (کے کسی عمل) کی قضاء میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے (رواہ البیہقی) کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے۔
24312- عن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرى بأسا بقضاء رمضان في عشر ذي الحجة". "ق: وهو ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24313 ۔۔۔ اسود بن قیس اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے قضاء رمضان کے متعلق دریافت کیا آپ (رض) نے اسے عشرہ ذی الحجہ میں قضاء رمضان کا حکم دیا ۔ (رواہ مسدد)
24313- عن الأسود بن قيس عن أبيه أن رجلا سأل عمر بن الخطاب عن قضاء رمضان فأمره بقضاء رمضان في عشر ذي الحجة. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24314 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جب کوئی آدمی رمضان میں بیمار پڑجائے حتی کہ بحالت مرض دوسرا رمضان آگیا اور وہ اس دوسرے رمضان کے روزے بھی نہ رکھ سکا تو وہ رمضان کے ہر دن کے بدلہ میں ایک مد کھانا کھلائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
24314- عن عمر قال: "من مرض في رمضان فأدركه رمضان آخر مريضا فلم يصم هذا الآخر لم يصم الأول ويطعم عن كل يوم من رمضان الأول مدا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24315 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : عشرشہ میں رمضان کی قضاء میں کوئی حرج نہیں ایک روایت میں ہے عشرہ ذی الحجہ میں ۔ (رواہ البیہقی مسدد)
24315- عن عمر قال: "لا بأس بقضاء رمضان في العشر - وفي لفظ - في عشر ذي الحجة". "ق ومسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24316 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو کوئی دن زیادہ محبوب نہیں جس میں رمضان کی قضاء کی جائے (رواہ البیہقی)
24316- عن عمر قال: "ما من أيام أحب إلي أن أقضي فيها شهر رمضان من أيام العشر". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24317 ۔۔۔ ” مسند بریدہ وبن خطیب اسلمی “۔ حضرت بریدہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : میری والدہ کے ذمہ دو مہینوں کے روزے ہیں کیا میں اس کی طرف سے رکھ سکتی ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کی طرف سے روزے رکھو مجھے بتاؤ ! اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہو تمہاری ادائیگی اس کی طرف سے کافی ہوگئی ؟ عرض کیا : جی ہاں : فرمایا : پھر اس کی طرف سے روزے بھی رکھو ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والضیاء)
24317- "مسند بريدة بن الخطيب الأسلمي" عن بريدة قال: "كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ جاءته امرأة فقالت: إنه كان على أمي شهرين فأصوم عنها؟ قال: صومي عنها أرأيت لو كان على أمك دين فقضيته أكان يجزيء عنها؟ قالت: بلى قال: فصومي عنها". "ش ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24318 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) اپنے خاندان والوں سے کہا کرتی تھیں کہ جس کے ذمہ رمضان کی کوئی قضاء ہو وہ عید الفطر کے بعد دوسرے دن صبح سے قضاء شروع کر دے وہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ اس نے رمضان میں روزے رکھے ۔ (رواہ ابن زنجویہ)
24318- عن أم سلمة أنها كانت تقول لأهلها: "من كان عليه شيء من رمضان فليصمه من الغد من يوم الفطر فمن صام الغد من يوم الفطر فكأنما صام من رمضان". "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24319 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ احمد بن منصور کہتے ہیں : مجھے ایک آدمی نے خبر دی ہے جو سفیان بن عینیہ کے پاس حاضر تھا اور سفیان بن عینیہ کے پاس وکیع بن جراح اور یحییٰ بن آدم بھی تھے ، ابن عینیہ نے وکیع (رح) سے کہا : اے ابو سفیان سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء کو کیوں مکروہ سمجھتے تھے ؟ وکیع (رح) نے جواب دیا : چونکہ یہ ایام عظمت ہیں اس لیے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے چاہا وہ اکیلے ہی ان دنوں کے روزے رکھیں ۔ ابن عینیہ نے یحییٰ بن آدم سے کہا : اے ابو زکریا آپ بھی یہی کہتے ہیں : جواب دیا نہیں کہا : پھر آپ کیا کہتے ہیں : یحییٰ (رح) نے جواب دیا : کیا آپ نہیں جانتے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کی قضاء لگا تار کی جائے ؟ کہا جی ھاں یحییٰ (رح) نے کہا : اسی لیے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء مکروہ سمجھتے تھے چونکہ ذی الحجہ میں قربانی کا دن بھی آتا ہے اور اس میں روزہ رکھنا جائز نہیں یہ جواب ابن عینیہ (رح) کو بہت پسند آیا ۔ (رواہ عبیداللہ ابن زیادہ الکاتب فی امالیہ)
24319- "مسند علي رضي الله عنه" عن أحمد بن منصور قال: "أخبرني من حضر سفيان بن عيينة وعنده وكيع بن الجراح ويحيى بن آدم فقال ابن عيينة لوكيع: يا أبا سفيان لم كره علي بن أبي طالب قضاء رمضان في ذي الحجة؟ فقال له وكيع: لأنها أيام عظام، فأراد علي أن ينفرد بصيامها، قال: ابن عيينة ليحيى بن آدم: كذا تقول يا أبا زكريا؟ قال: لا قال: فما تقول؟ قال: ألست تعلم أن علي بن أبي طالب كان يقول يقضى رمضان تباعا؟ قال: بلى فكره علي بن أبي طالب أن يقضى رمضان في ذي الحجة لئلا يمر فيه يوم النحر فلا يحل فيه صيام فأعجب به ابن عيينة". "عبيد الله ابن زياد الكاتب في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں

رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24320 ۔۔۔ ولید کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے دور خلافت میں 28 دن روزے رکھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک دن قضاء کرنے کا حکم دیا ۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والبیہقی فی السنن)
24320- عن الوليد قال: "صمنا على عهد علي ثمانية وعشرين يوما فأمرنا بقضاء يوم". "خ في تاريخه هق".
tahqiq

তাহকীক: