কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৭ টি
হাদীস নং: ২৪২৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24281 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سال بھر رمضان کے لیے جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام ( ) ہے جس کے جھونکوں سے جنت کے درختوں کے پتے اور کوڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دل آویز سریلی آواز نکلتی ہے ک سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں کے درمیان کھڑ ہو کر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا تاکہ حق شانہ اس کو ہم سے جوڑ دیں پھر وہی حوریں جنت کے داروغۃ رضوان سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے وہ لبیک کہہ کر جواب دیتے ہیں کہ رمضان شریف کی پہلی رات ہے جنت کے دروازے محمد کی امت کے لیے کھول دیئے جاتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رضوان سے فرما دیتے ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دے اور مالک دراوغہ جہنم سے فرما دیتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کردے اور جبرائیل کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو تاکہ میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رمضان کی ہر رات میں ایک منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز دے کہ ہے کوئی مانگنے والا جس کو میں عطا کروں ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کر دوں کوئی ہے مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں کون ہے جو غنی کو قرض دے ایسا غنی جو نادار نہیں ایسا پورا پورا دا کرنے والا جو ذرا بھی کمی نہیں کرتا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہوتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت جبرائیل کو حکم دیتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور ان کے پاس ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے جس کو کعب کے اوپر نصب کرتے ہیں حضرت جبرائیل فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ جو مسلمان آج کی رات کھڑا ہو یا بیٹھا ہو نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کررہا ہو اس کو سلام کریں ور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں صبح تک یہی حالت رہتی ہے جب صبح ہوجاتی ہے تو جبرائیل آواز دیتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعت ! اب کوچ کرو اور چلو فرشتے حضرت جبرائیل سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا صحابہ کرام (رض) نے پوچھا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ چار شخص کون ہیں ؟ ارشاد ہوا ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرے والا ہو تیسرا وہ شخص جو قطع کرنے والا ہو ناطہ توڑنے والا ہو اور چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں میں قطع تعلق کرنے والا ہو پھر جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے اس کا نام (آسمان پر) الجائزہ یعنی انعام کی رات سے لیا جاتا ہے۔ اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو شہروں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اتر کر گلیوں راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جسے جنات اور انسان کے سو ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ! اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں : کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو وہ جواب دیتے ہیں : اے ہمارے معبود ومالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری مل جائے حق تعالیٰ فرماتے ہیں اے فرشتوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو ! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم ! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے میں عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کر دوں گا ۔ میری عزت کی قسم ! کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں کو معاف کرتا رہوں گا ، میری عزت کی قسم اور میری جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ، پس فرشتے اس اجر وثواب کو دیکھ جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ مرواہ شعب الایمان للبیہقی وابن عساکر وھو ضعیف) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے المتناھیۃ 880 لیکن امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو شعب الایمان میں ذکر کیا ہے اور بیہقی (رح) نے اس بات کا التزام کیا ہوا ہے کہ اسی حدیث کو ذکر کریں گے جس کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہوگی اور موضوع حدیث کو وہ اپنی تصانیف میں ذکر نہیں کرتے ۔ ملا علی القاری (رح) نے مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث مختلف طرق دلالت کرتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل موجود ہے۔ واللہ اعلم ۔
24281- عن ابن عباس قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الجنة لتنجد 1 وتزين من الحول إلى الحول لدخول شهر رمضان، فإذا كان أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش يقال لها: المثيرة تصفق ورق أشجار الجنة، وحلق المصاريع فيسمع لذلك طنين لم يسمع السامعون أحسن منه فتبرز الحور العين، ويقفن بين شرف الجنة فيقلن: هل من خاطب إلى الله فيزوجه، ثم يقلن: يا رضوان ما هذه الليلة؟ فيجيبهم بالتلبية فيقول: ياخيرات حسان هذه أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنان للصائمين من أمة أحمد ويقول الله تعالى: يا رضوان افتح أبواب الجنان، يا مالك أغلق أبواب الجحيم عن الصائمين من أمة أحمد، يا جبريل اهبط إلى الأرض فصفد مردة الشياطين وغلهم بالأغلال، ثم اقذف بهم في لجج البحار حتى لا يفسدوا على أمة حبيبي صيامهم، ويقول الله تعالى في كل ليلة من شهر رمضان ثلاث مرات: هل من سائل فأعطيه سؤله؟ هل من تائب فأتوب عليه؟ هل من مستغفر فأغفر له، من يقرض الملي غير المعدوم الوفي غير الظلوم، ولله تعالى في كل ليلة من شهر رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار فإذا كان ليلة الجمعة أعتق في كل ساعة منها ألف ألف عتيق من النار، كلهم قد استوجبوا العذاب، فإذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق الله تعالى في ذلك اليوم بعدد ما أعتق من أول الشهر إلى آخره، فإذا كان ليلة القدر أمر الله تعالى جبريل فيهبط في كبكبة من الملائكة إلى الأرض ومعه لواء أخضر فيركزه على ظهر الكعبة وله ست مائة جناح منها جناحان لا ينشرهما إلا في ليلة القدر فينشرهما تلك الليلة فيجاوزان المشرق والمغرب، ويبث جبريل الملائكة في هذه الأمة فيسلمون على كل قائم وقاعد ومصل وذاكر ويصافحونهم ويؤمنون على دعائهم حتى يطلع الفجر، فاذا طلع الفجر نادى جبريل يا معشر الملائكة الرحيل الرحيل، فيقولون: يا جبريل ما صنع الله تعالى في حوائج المؤمنين من أمة أحمد؟ فيقول: إن الله تعالى نظر إليهم وعفا عنهم وغفر لهم إلا أربعة: رجل مدمن الخمر، وعاق والديه، وقاطع رحم، ومشاحن وهو المصارم، فاذا كان ليلة الفطر سميت تلك الليلة ليلة الجائزة، فاذا كان غداة الفطر يبعث الله تعالى الملائكة في كل البلاد فيهبطون إلى الأرض، ويقومون على أفواه السكك، فينادون بصوت يسمعه جميع من خلق الله إلا الجن والإنس فيقولون: يا أمة أحمد اخرجوا إلى رب كريم يعطي الجزيل، ويغفر العظيم، فاذا برزوا في مصلاهم يقول الله تعالى للملائكة: يا ملائكتي ما جزاء الأجير إذا عمل عمله؟ فيقولون: جزاؤه أن يوفى أجره، فيقول: فاني أشهدكم أني جعلت ثوابهم من صيامهم شهر رمضان وقيامهم رضائي ومغفرتي ويقول: يا عبادي سلوني فوعزتي وجلالي لا تسألوني اليوم شيئا في جمعكم لآخرتكم إلا أعطيتكم ولا لدنياكم إلا نظرت لكم وعزتي لأسترن عليكم عثراتكم ما راقبتموني، وعزتي لا أخزيكم ولا أفضحكم بين يدي أصحاب الحدود انصرفوا مغفورا لكم قد أرضيتموني ورضيت عنكم فتفرح الملائكة وتستبشر بما يعطي الله تعالى هذه الأمة إذا أفطروا من شهر رمضان" "هب كر، وهو ضعيف"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24282 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) نے رمضان آجانے پر عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان آچکا ہے میں کیا دعا پڑھوں ؟ حکم ہوا یہ دعا پڑھتی رہو ” اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنا “۔ یعنی اے اللہ ! تو معاف و درگزر کرنے والا ہے اور درگزر کو پسند فرماتا ہے لہٰذا ہمیں معاف فرما دے ۔ (رواہ ابنالنجار)
24282- "عن عائشة أنها قالت وحضر رمضان: يا رسول الله قد حضر رمضان فما لا أقول؟ قال: قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24283 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب رمضان المبارک آجاتا ہے تو خوشنما آنکھوں والی حوریں آراستہ ہوجاتی ہیں ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ جب ماہ رمضان کا آخری دن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اتنے کثیر لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزادی مرحمت فرماتے ہیں جتنوں کو رمضان بھر میں آزاد کرچکے ہوتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
24283- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أتاكم شهر رمضان تزين فيه الحور العين، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق فيه مثل جميع ما أعتق يعني في رمضان". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24284 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں گناہ جل جاتے ہیں (یعنی ختم ہوجاتے ہیں) اور شوال کو شوال اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گناہوں کو اٹھا دیتا ہے جیسے اونٹنی اپنی دم اٹھالیتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
24284- عن ابن عمر قال: "إنما سمي رمضان لأن الذنوب ترمض 1 فيه وإنما سمي شوال لأنه يشول 2 الذنوب كما تشول الناقة ذنبها". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24285 ۔۔۔ ام عمارہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے ان کے خاندان کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر توبہ کی چنانچہ ام عمارۃ (رض) نے ان لوگوں کے پاس کھجوریں لائیں یہ لوگ کھجوریں کھانے لگے لیکن ایک آدمی الگ ہوگیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ عرض کیا : میں روزہ میں ہوں ، اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک روزہ دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہی ، (رواہ ابن زنجویہ)
24285- "عن أم عمارة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاها فناب رجال من أهلها وبني عمتها فأتتهم بتمر فأكلوا واعتزل رجل منهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك لا تأكل؟ فقال: إني صائم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما إنه ليس من صائم يأكل عنده مفاطير إلا صلت عليه الملائكة ما داموا يأكلون". "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24286 ۔۔۔ حسن روایت بیان کرتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رب تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ جو نیکی بھی کرتا ہے وہ دس گنا تک بڑھا دی جاتی ہے اور روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا ۔ (رواہ ابن جریر)
24286- عن الحسن قال: "بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال ربكم تبارك وتعالى: كل حسنة يعملها عبدي بعشر أمثالها، والصوم لي وأنا أجزي به". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24287 ۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کرنے کے وقت اور دوسری روزہ افطار کے وقت روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی افضل ہے۔ (رواہ ابن جریر)
24287- عن ابن مسعود قال: قال الله تبارك وتعالى: "الصوم لي وأنا أجزي به، وللصائم فرحتان: فرحة حين يلقى ربه، وفرحة عند إفطاره، ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24288 ۔۔۔ ابو جعفربن علی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رمضان کا چاند دیکھتے تو اس کی طرف رخ کرکے یہ دعا پڑھتے تھے ۔ للہم اھلہ بالامن والایمان والسلامۃ والاسلام والعافیۃ والمحاملۃ ودفاع الاسقام والعون علی الصلوۃ والصیام وتلاوۃ القرآن اللہم سلمنا رمضان وسلمہ لنا وسلمہ منا حتی یحرج رمضان وقد غفرت لنا ورحمتنا وعفوت عنا “۔ ” یا اللہ اس چاند کو ہمارے امن و ایمان سلامتی واسلام کا باعث بنانا اور عافیت و بیماری سے دفاع کا سبب بنانا اور نماز ، روزہ کے لیے مدد بنانا اور تلاوت قرآن کے لیے مددگار بنانا یا اللہ ہمیں رمضان کے لیے سلامت رکھ اور رمضان کو ہمارے لیے سلامت رکھ حتی کہ رمضان گزر جائے درآنحالیکہ تو ہماری مغفرت کرچکا ہو ہم پر رحمت نازل کرچکا ہو اور ہمیں معاف کرچکا ہو ۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے : اے لوگو ! جب رمضان کا چاند نکل آتا ہے تو مردودشیاطین کو قید کرلیا جاتا ہے جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر رات آسمان پر ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ کوئی ہے توبہ کرنے والا ؟ کوئی ہے مغفرت کا طلبگار ؟ یا اللہ ہر خرچ کرنے والے کو بہترین بدلہ عطا فرما اور مال نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے حتی کہ جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے آسمان پر ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ آج یوم جائزہ ہے لہٰذا چل پڑو اور اپنے اپنے انعامات حاصل کرلو، محمد بن علی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات امراء کے انعامات کے مشابہ نہیں ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
24288- عن أبي جعفر بن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استهل شهر رمضان استقبله بوجهه، ثم يقول: اللهم أهله علينا بالأمن والأيمان والسلامة والإسلام والعافية المجللة ودفاع الأسقام، والعون على الصلاة والصيام وتلاوة القرآن، اللهم سلمنا لرمضان، وسلمه لنا، وسلمه منا حتى يخرج رمضان وقد غفرت لنا ورحمتنا وعفوت عنا، ثم يقبل على الناس بوجهه فيقول: أيها الناس إنه إذا أهل هلال شهر رمضان غلت فيه مردت الشياطين وغلقت أبواب جهنم، وفتحت أبواب الرحمة، ونادى مناد من السماء كل ليلة هل من تائب؟ هل من مستغفر؟ اللهم اعط كل منفق خلفا، وكل ممسك تلفا حتى إذا كان يوم الفطر نادى مناد من السماء هذا يوم الجائزة فاغدوا فخذوا جوائزكم. قال محمد بن علي لا تشبه جوائز الأمراء". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24289 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا ذکر کرتے ہوئے اس مہینہ کو باقی مہینوں پر فضیلت دی کہ اس مہینہ کے روزے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو تمہارے لیے سنت قرار دیتا ہوں جس شخص نے اس مہینہ میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے گا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ۔
24289- "عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان ففضله على الشهور بما فضله الله تعالى إن شهر رمضان كتب الله صيامه على المسلمين فرضا، وسننت لكم قيامه، فمن صامه إيمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه". "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24290 ۔۔۔ حارث سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں خود روزہ کا بدلہ دوں گا ۔ (رواہ ابن ابی عاصم فی الصوم)
24290- عن الحارث عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الله تعالى: "الصوم لي وأنا أجزي به". "ابن أبي عاصم في الصوم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24291 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کا چاند دیکھتے تو قبلہ رو ہو کر یہ دعا پڑھتے ۔ للہم اھلہ علینا بالامن والامانۃ والسلامۃ والعافیۃ والمجللہ ودفاع الاسقام والعون علی الصلوۃ والصیام والقیام وتلاوۃ القرآن اللہم سلمنا لرمضان وسلمہ منا حتی ینقضی وقد غفرت لنا ورحمتنا وعفوت عنا “۔ ” یا اللہ اس چاند کو ہمارے امن امانتداری ، سلامتی عافیت اور بیماریوں سے دفاع کا باعث بنانا اور نماز ، روزہ قیام اور تلاوت قرآن کے لیے مددگار بنانا یا اللہ ہمیں رمضان کے لیے سلامت رکھ اور رمضان کو ہمارے لیے سلامت رکھ حتی کہ گزر جائے درآنحالیکہ تو ہماری مغفرت کردی ہو ہمیں غریق رحمت کرچکا ہو اور ہمیں معاف کرچکا ہو ۔ (رواہ الدیلمی)
24291- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استهل شهر رمضان استقبل القبلة بوجهه، ثم قال: اللهم أهله علينا بالأمن والأمانة والسلامة والعافية المجللة ودفاع الأسقام والعون على الصلاة والصيام والقيام وتلاوة القرآن، اللهم سلمنا لرمضان وسلمه منا حتى ينقضي، وقد غفرت لنا ورحمتنا وعفوت عنا. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24292 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ افضل روزہ کونسا ہے ؟ فرمایا : شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے رکھے جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کونسا صدقہ اضل ہے فرمایا وہ صدقہ جو رمضان میں کیا جائے ۔ (رواہ ابن شاھین فی الترغیب)
24292- "مسند أنس رضي الله عنه" سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أفضل الصيام فقال: "صيام شعبان تعظيما لرمضان فقيل: فأي الصدقة أفضل؟ قال: صدقة في رمضان". "ابن شاهين في الترغيب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24293 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (رض) نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعبان کو شعبان کیوں کہا جاتا ہے ؟ چونکہ اس مہینہ میں رمضان کے لیے خیر کثیر بانٹی جاتی ہے تمہیں معلوم ہے رمضان کو رمضان کیوں کہتے ہیں ؟ چونکہ یہ مہینہ گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ رمضان میں تین راتیں ہیں جن میں خیر کثیر ہے وہ یہ ہیں سترھویں رات اکیسویں رات اور آخری رات سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رتیں لیلۃ القدر کے علاوہ ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں جس کی مغفرت ماہ رمضان میں نہ ہوئی اس کی مغفرت پھر کس مہینہ میں ہوگی ۔ (رواہ ابوالشیخ فی الثواب والدیلمی) کلام : حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں زیادہ بن میمون صاحب فاکہہ راوی ہے جو کذاب ہے۔
24293- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تدرون لم سمي شعبان شعبان لأنه يتشعب فيه لرمضان خير كثير، تدرون لم سمي رمضان رمضان لأنه يرمض الذنوب، وإن في رمضان ثلاث ليال من فاتته فاته خير كثير ليلة سبع عشرة وليلة إحدى وعشرين وآخرها ليلة فقال عمر: يا رسول الله هي سوى ليلة القدر؟ قال: نعم ومن لم يغفر له في شهر رمضان فأي شهر يغفر له". "أبو الشيخ في الثواب والديلمي؛ وفيه: زياد بن ميمون صاحب الفاكهة كذاب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24294 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ شعبان کے آخری دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور یہ رمضان کی پہلی رات تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں وعظ کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے سامنے کیا آنا چاہتا ہے اور تم کس کا سامنا کرنے لگے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا وحی نازل ہوئی ہے یا کوئی دشمن آگیا ہے یا کوئی اور نیا واقعہ پیش آگیا ہے ؟ فرمایا : یہ ماہ رمضان تمہارے پاس آنا چاہتا ہے اور تم اس کا سامنا اور تم اس کا سامنا کرنے لگے ہو خبردار اللہ تبارک وتعالیٰ روزہ کی صبح کو اہل قبلہ میں سے کسی آدمی کو نہیں چھوڑتا جس کی بخشش نہ کرچکا ہو لوگوں کے پیچھے بیٹھا ہوا ایک آدمی پکار کر کہنے لگا ۔ منافقین کے لیے خوشخبری ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس آدمی کو میرے پاس لاؤ فرمایا کیا وجہ ہے میں تیرے سینے کو تنگ کیوں پاتا ہوں ؟ کہا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے تو اہل قبلہ کا ذکر کیا ہے اور منافقین ہم میں سے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو کافر ہیں (رواہ ابن عساکر )
24294- عن أنس قال: "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان وأول ليلة من شهر رمضان فقال: أيها الناس هل تدرون ما تستقبلونه وهل تدرون ما يستقبلكم؟ قلنا: يا رسول الله هل نزل وحي أو حضر عدو أو حدث أمر؟ فقال: هذا شهر رمضان يستقبلكم وتستقبلونه ألا إن الله تعالى ليس بتارك يوم صبيحة الصوم أحدا من أهل القبلة إلا غفر له، ثم نادى رجل من أقصى الناس: يا طوبى للمنافقين،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علي بالرجل مالي أراك ضاق صدرك؟ فقال: يا رسول الله ذكرت أهل القبلة، والمنافقون هم من أهل القبلة فقال: لا ليس لهم ها هنا حظ ولا نصيب ألا إن المنافقين ليس هم منا ألا إن المنافقين هم الكافرون". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24295 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے فرمایا ۔ آمین دوسرے زینے پر پہنچے فرمایا آمین پھر تیسرے زینے پر چڑھے فرمایا : میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا : اے محمد ! اس آدمی کی ناک خاک آلود جس نے اپنے والدین کو پایا یا ان میں سے ایک کو پایا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرسکے میں نے کہا : آمین پھر کہا : اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس نے رمضان شریف پایا لیکن اس نے اپنی بخشش نہ کرسکی میں نے کہا آمین (رواہ ابن النجار )
24295- عن أنس قال: "ارتقى رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال: آمين ثم ارتقى ثانية فقال: آمين، ثم ارتقى ثالثة فقال: آمين، ثم استوى فقال: آمين، فقال أصحابه على ما أمنت يا رسول الله؟ قال: أتاني جبريل فقال: يا محمد رغم أنف امرئ ذكرت عنده فلم يصل عليك، فقلت آمين، ثم قال: رغم أنف امرئ أدرك والديه أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة، قلت آمين، وقال: رغم أنف امرئ أدرك شهر رمضان فلم يغفر له، فقلت آمين". "ابن النجار"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24296 ۔۔۔ سلام طویل زیاد بن میمون سے حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ جب رمضان شریف قریب آجاتا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں مختصر سے خطاب ارشاد فرماتے کہ تمہارے سامنے رمضان آنا چاہتا ہے اور تم اس کا سامنا کرو گے خبردار اہل قبلہ میں کوئی ایسا نہیں جس کی رمضان کی پہلی رات میں بخشش نہ کی جاتی ہو (رواہ ابن النجار )
24296- "أيضا" "عن سلام الطويل عن زياد بن ميمون عن أنس قال: لما قرب رمضان خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عند صلاة المغرب خطبة خفيفة فقال: استقبلكم رمضان واستقبلتموه ألا وإنه لا يبقى أحد من أهل القبلة إلا غفر له أول ليلة من رمضان". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24297 ۔۔۔ خراش حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے بجز روزہ کے چنانچہ روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا (رواہ ابن عساکر ) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الالحفاظ (561)
24297- "أيضا" عن خراش قال: "حدثني مولاي أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله تبارك وتعالى: كل عمل ابن آدم له إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24298 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب ماہ رمضان داخل ہوتا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : یہ مہینہ تمہارے اوپر آچکا ہے یہ بابرکت مہینہ ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ ہر طرح کی بھلائی سے محروم رہا اور اس کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہا ہے جو حقیقت میں محروم ہی ہو ۔ (رواہ ابن النجار )
24298- عن أنس قال: "لما دخل شهر رمضان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا الشهر دخل عليكم وهو شهر الله المبارك فيه ليلة خير من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله، ولا يحرم خيرها إلا كل محروم". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24299 ۔۔۔ ابو دائل کہتے ہیں : ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا تھا : بسا اوقات پہلی تاریخ کا چاند بڑا ہوتا ہے جب تم دن کے وقت چاند دیکھو تو روزہ مت افطار کرو حتی کہ دو مسلمان گواہی نہ دے دیں کہ انھوں نے گزشتہ کل شام چاند دیکھ لیا تھا ۔ مرواہ ابن ابی شیبہ والدار قطنی و صحیحہ )
24299- عن أبي وائل قال: "أتانا كتاب عمر أن الأهلة بعضها أكبر من بعض فإذا رأيتم الهلال نهارا فلا تفطروا حتى يشهد رجلان مسلمان أنهما أهلاه 1 بالأمس". "ش قط: وصححاه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ـ۔۔۔ روزہ کے احکام کے بیان میں
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
رویت ہلال ۔۔۔ رویت ہلال کی شہادت :
24300 ۔۔۔ ابراہیم روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو خبر پہنچی کہ فلاں قوم نے زوال کے بعد چاند دیکھا اور روزہ افطار کرلیا آپ (رض) نے ان لوگوں کی طرف ملامت بھر اخط لکھا کہ جب تیس دن پورے ہونے پر زوال سے قبل چاند دیکھیو تو روزہ افطار کرلو اور اگر زوال کے چاند دیکھو تو روزہ مت افطار کرو (رواہ عبدالرزاق وابو بکر الشافعی فی الغیلا نیات والبیھقی )
24300- عن إبراهيم قال: "بلغ عمر أن قوما رأوا الهلال بعد زوال الشمس فأفطروا، فكتب إليهم يلومهم فقال: إذا رأيتم الهلال قبل زوال الشمس لتمام ثلاثين فأفطروا، وإذا رأيتموه بعد زوال الشمس فلا تفطروا". "عب وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات ق".
তাহকীক: