কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৪২৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
24261 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کے پہلے دن کا روزہ تین سالوں کا کفارہ ہے دوسرے دن کا وزہ دو سالوں کا کفارہ ہے تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے پھر اس کے بعد ہر دن ایک ایک مہینے کا کفارا ہے (رواہ ابو محمد ان جلال فی فضائل رجب عن ابن عباس ) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے 3500 والمغیر 84 ۔ لاکمال :
24261- "صوم أول يوم من رجب كفارة ثلاث سنين، والثاني كفارة سنتين، والثالث كفارة سنة، ثم كل يوم شهرا". "أبو محمد الخلال في فضائل رجب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
24262 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے رجب کے پہلے دن روزہ رکھا تو یہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہوگا اور جس نے رجب میں سات دن روزے رکھے تو اس پر جہنم کے سات دروازے بند کردیئے جائیں گے اور جو شخص رجب میں دس دن روزے رکھے گا تو آسمان میں ایک منادی اعلان کرے تاکہ جو چیز چاہے مانگ وہ تجھے عطا کردی جائے گا ۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر عن ابن عمر (رض))
24262- "من صام أول يوم من رجب عدل ذلك بصيام سنة، ومن صام سبعة أيام أغلق عنه سبعة أبواب النار، ومن صام من رجب عشرة أيام نادى مناد من السماء أن سل تعطه". "أبو نعيم وابن عساكر عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
24263 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا تو س کا یہ ایک روزہ ایک مہینہ کے روزوں کے برابر ہوگا جس نے سات دن روزہ رکھا اس پر جہنم کے ساتھ دروازے بند کردیے جائیں گے جس نے آٹھ روزے رکھے اس کے لیے جنت کے آٹھویں دروازے کھول دیئے جائیں گے جس نے دس دن روزے رکھے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکوں میں بدل دیں گے اور جس نے اٹھارہ (18) دن روزے رکھے تو اس کے لیے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تیری بخشش کردی ہے لہٰذا پنا عمل جاری رکھیں ۔ مرواہ الخطیب عن ابوہریرہ (رض)) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھیے تنیین العجب 58 والتنزیہ (582 ا)
24263- "من صام يوما من رجب عدل صيام شهر، ومن صام منه سبعة أيام غلقت عنه أبواب الجحيم السبعة، ومن صام منه ثمانية أيام فتحت له أبواب الجنة الثمانية، ومن صام منه عشرة أيام بدل الله تعالى سيئاته حسنات، ومن صام منه ثمانية عشر يوما نادى مناد إن الله تعالى غفر لك ما مضى فاستأنف العمل". "الخطيب عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الإکمال "
24264 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا تو یہ ایک سال کے روزوں کے برابر وہ گا جس نے سات روزے رکھے اس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند کردیئے جائیں گے جس نے آٹھ روزے رکھے اس کے لیے جندت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے جس نے دس دن روزے رکھے وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے جو چیز مانگے گا اللہ تبارک وتعالیٰ اسے عطا فرمائیں گے جس نے پندرہ دن روزے رکھے تو آسمان میں ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تیری سب برائیاں معاف کردی ہیں اب نئے سرے سے عمل شروع کر تیری برائیاں نیکیوں میں بدل دی گئی ہیں اور جو شخص اس سے زیادہ روزے رکھے گا اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا اور زیادہ لطف و کرم ہوگا رجب کے مہینہ ہی میں نوح (علیہ السلام) کشتی پر سوار کیے گئے نوح (علیہ السلام) کے روزے رکھے اور اپنے متبیعن کو بھی روزے رکھنے کی تاکید کی پھر چھے مہینے تک کشتی نہیں لیے چلتی اور پھر دس (10) محرم کو (جودی پہاڑ پر ) کی (رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن انس (رض)) کلام :۔۔۔ آخری جملہ یعنی پھر چھن مہینے تک کشتی ۔۔۔ الخ کے علاوہ حدیث ثابت ہے دیکھئے تبیین الجب 48 ۔
24264- "من صام يوما من رجب كان كصيام سنة، ومن صام سبعة أيام غلقت عنه سبعة أبواب جهنم، ومن صام ثمانية أيام فتحت له ثمانية أبواب الجنة، ومن صام عشرة أيام لم يسأل الله تعالى شيئا إلا أعطاه، ومن صام خمسة عشر يوما نادى مناد من السماء قد غفر لك ما سلف فاستأنف العمل، قد بدلت سيئاتك حسنات، ومن زاد زاده الله تعالى، وفي رجب حمل نوح في السفينة فصام نوح فأمر من معه أن يصوموا، وجرت بهم السفينة ستة أشهر إلى آخر ذلك لعشر خلون من المحرم". "هب عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذی الحجہ کا بیان ۔۔۔
24265 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھے اس کے لیے عرفہ کے دن کے علاوہ ہر دن کے بارے میں ایک سال کے روزے لکھے جائیں گے اور جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اس کے لیے دو (2) سال کے روزے لکھ جائیں گے ۔ مرواہ ابن النجار) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ (5382) فائدہ :۔۔۔ روزہ ہائے عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت میں بیشمار احادیث وارد ہوئی ہیں جس میں سے اکثر صحاح ستہ میں ہیں اور صحیح احادیث بھی وارد ہوئی ہیں چنانچہ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی دن بھی ایسے نہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہوں جس میں اس کی عبادت کی جاتی ہو بجز عشرہ ذی الحجہ کے اس میں ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کی طرح ہے (رواہ الترمذی رقم (757 وقال حدیث غریب )
24265- "من صام أيام العشر كتب له بكل يوم سنة غير يوم عرفة، فإنه من صام يوم عرفة كتب له صوم سنتين". "ابن النجار عن جابر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24266 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سی بہشیش تیار کر رکھی ہیں ان سب کی بنیادیں سرح یاقوت سے بنائی گئی ہیں ان کی دیواروں کی چٹائی سونے (کی اینٹوں ) سے کی گئی ہے ان بہشتوں پر دبیز اور باریک ریشم کے پردے لٹکے ہوئے ہیں ہو جندت (بہشت) کے طول وعرض کا فاصلہ سو سال کی مسافت کے برابر ہے ہر جنت میں سو محلات ہیں ہر محل میں ایک سفید چبوترہ ہ جس کی چھت عیش و عشرت میں رہے گا کبھی مایوس نہیں ہوگا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے اس کی جوانی ڈھلے گی نہیں ۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بہشتیں ان لوگوں کے لیے بنائی گئی ہیں جو رمضان شریف کے روزے رکھیں اور عیدالفطر کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ ان بہشتوں کو ان کے مالکان کے سپرد کردیتے ہیں۔ مرواہ ابن ابی الدنیا فی فضائل رمضان وزاھر بن طاھر فی نحفۃ عیدالفطر وابن عساکر فی امانیہ ) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں نضر بن طاہر بصری ہے بزار کہتے ہیں : اس کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے ابن کہتے ہیں یہ حدیث بہت ضعیف ہے
24266- عن أبي بكر الصديق قال: "إن الله تعالى بنى جنانا كلها من ياقوت أحمر أساسها وأعاليها شبكت بالذهب عليها ستور السندس والاستبرق، فكل جنة طولها وعرضها مائة عام في كل جنة مائة ألف قصر في كل قصر قبة بيضاء سماؤها زبرجد أخضر، الأنهار تطرد في حيطانها، والأشجار دانية عليها، يقول: هذه الجنة صاحبها ينعم لا ييأس، ويخلد لا يموت، لا تبلى ثيابه، ولا يفنى شبابه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تلك جنات بنيت لمن صام رمضان يهبها الله تعالى لأهلها يوم الفطر ". "ابن أبي الدنيا في في فضائل رمضان وزاهر بن طاهر في تحفة عيد الفطر، كر في أماليه؛ وفيه: النضر بن طاهر البصري؛ قال البزار: "لا يتابع على حديثه"، وقال ابن عدي: "ضعيف جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24267 ۔۔۔ ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جب رمضان شریف آجائے تو اس میں تم اپنے اوپر اور اپنے عیال پر جو خرچ کرو گے وہ ایسا ہوگا جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا یعنی ایک درہم سات سو درہم تک بڑھ جاتا ہے۔ مرواہ سلیم الرازی فی ۔۔۔ )
24267- عن ثور بن يزيد أن عمر قال: "إذا حضر شهر رمضان فالنفقة فيه عليك وعلى من تعول كالنفقة في سبيل الله تعالى، يعني الدرهم بسبع مائة". "سليم الرازي في عواليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24268 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عبداللہ بن عکیم روایت نقل کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آتا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے خبردار اس مہنیہ کے روزے اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے اوپر فرض کیے ہیں جب کہ اس کا قیام فرض نہیں کیا سو تم میں سے جو شخص رمضان می (رات کو ) قیام کرے گا اس کا قیام خیرو بھلائی کے نوافل میں سے ہوگا چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص رمضان میں قیام اللیل نہ کرے وہ اپنے بستر پر سو جائے اور تم میں سے ہر شخص ایسا کہنے سے گریز کرے کہ اگر فلاں شخص نے روزہ رکھا تو میں بھی رکھوں گا اگر فلاں شخص نے قیام کیا تو میں بھی کروں گا جو شخص بھی روزہ رکھے یا قیام کرے اس کا عمل صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہونا چاہیے پھر حضرت عمر (رض) نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا روزے رکھو یہاں تک کہ تم رمضان کا چاند نہ دیکھ لو اگر مطلع ابر آلود ہوجائے تو گنتی کے تیس (30) دن پورے کرو اور اپنی مساجد میں نغویات کم کرو تم میں سے ہر ایک کو جان لینا چاہے کہ جب تک وہ نماز کی انتطار میں رہتا ہے وہ نماز کے حکم میں ہوتا ہے اور اس وقت تک افطار نہ کرو جب تک رات کو دیکھ نہ لو اور رات کی تاریکی ٹیلوں کو ڈھانپ نہ لے ۔ مراوہ عبدالرزاق وابن ابی الدنیا فی ٖفضائل رمضان والبیھقی والخطیب وابن عساکر فی اما لیھما )
24268- عن عبد الله بن عكيم قال: "كان عمر بن الخطاب يقول إذا دخل شهر رمضان: ألا إن هذا شهر كتب الله عليكم صيامه ولم يكتب قيامه، فمن قام منكم فإنه من نوافل الخير التي قال الله عز وجل، ومن لا فلينم على فراشه، وليتق أحدكم أن يقول: أصوم إن صام فلان وأقوم إن قام فلان، من صام أو قام فليجعل ذلك لله تعالى، ثم رفع يديه فقال: ألا لا يتقدم الشهر منكم أحد، ألا لا تصوموا حتى تروه، فإن أغمي عليكم فأتموا العدة ثلاثين، وأقلوا اللغو في مساجدكم، وليعلم أحدكم أنه في صلاة ما انتظر الصلاة، ألا ولا تفطروا حتى تروا الليل يغسق على الظراب 1. "عب وابن أبي الدنيا في فضائل رمضان، ق، خط كر في أماليهما".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24269 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ماہ رمضان آنے سے قبل لوگوں سے خطاب کرتے اور فرماتے ماہ رمضان تمہارے پاس آچکا ہے لہٰذا کے لیے تیار ہو اور اس میں اچھے کپڑے پہنو اور اس کی حرمت کی پاسداری کرو چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں اس کی حرمت عظیم تر ہے اس کی حرمت کو مت توڑو چونکہ اس مہینہ میں نیکیاں اور برائیاں دو چند ہوجاتی ہیں (رواہ الدیلمی ) کلام :۔۔۔ اس حدیث کی سند میں اسحاق ب نجیح ہے جو متکلم فیہ روای ہے۔
24269- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان قبل رمضان خطب الناس ثم قال: أتاكم شهر رمضان فشمروا له وأحسنوا نياتكم فيه، وعظموا حرمته، فإن حرمته عند الله من أعظم الحرمات فلا تنتهكوا فإن الحسنات والسيئات تضاعف فيه". "الديلمي، وفيه: إسحاق بن نجيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24270 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” مسند عمر (رض) “ عوف بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ رمضان کے علاوہ کسی دن کا روزہ رکھنا اور مسکین کو کھانا کھلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ رمضان میں روزہ رکھنا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دونوں انگلیاں ملا لیں ۔ مرواوہ ابی عساکر )
24270- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عوف بن مالك قال: "سمعت عمر بن الخطاب يقول: صيام يوم من غير شهر رمضان وإطعام مسكين كصيام يوم من رمضان، وجمع بين أصبعيه". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24271 ۔۔۔ حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک خوشی افطاری کے وقت اور دوسری اللہ تبارک وتعالیٰ سے ملاقات کرنے کے وقت قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کہ بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ مرواہ ابن جریر وصححہ والدار قطنی فی الافراد وقال ھذ حدیث غریب من حدیث ابی اسحاق السبیعی عن عبداللہ بن الحارث بن نوفل عن اعلی وتفرد بہ زید بن انیسۃ عن ابی اسحاق )
24271- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله يقول: الصوم لي وأنا أجزي به وللصائم فرحتان: عند الفطر، وحين يلقى ربه عز وجل، والذي نفسي بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك". "ابن جرير وصححه، "قط في الأفراد" وقال: "هذا حديث غريب من حديث أبي إسحاق السبيعي عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن علي، تفرد به زيد بن أبي أنيسة عن أبي إسحاق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24272 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : امام شعبی (رح) روایت نقل کرتے ہیں کہ جب رمضان آتا تو حضرت علی (رض) خطاب فرماتے اور پھر کہتے یہ بابرکت مہینہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا تاکہ کوئی آدمی یوں کہنے سے گریز کرے کہ جب فلاں شخص روزہ رکھے گا میں بھی رکھوں گا اور جب فلاں شخص افطار کرے گا میں بھ کروں گا خبردار ! صرف کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام روزہ نہیں ہے لیکن (اس کے ساتھ ساتھ ) جھوٹ باطل اور لغویات سے بچنا بھی ضروری ہے خبردار رمضان آنے سے قبل (رمضان کے ) روزے مت رکھو جب چاند دیکھو روزے رکھو اور جب چاند دیکھو افطار کرو اگر مطلع ابر آلود ہوجائے تو گنتی پوری کرو امام شعبی (رح) کہتے ہیں حضرت علی (رض) نماز فجر اور نماز عصر کے بعد یہ بیان فرماتے تھے (رواہ البیھقی ) کلام :۔۔۔ اس حدیث کی سند میں حسین بن یحییٰ قطان ہے جو متکلم فیہ راوی ہے
24272- عن الشعبي عن علي قال: "كان علي يخطب إذا حضر رمضان ثم يقول: هذا الشهر المبارك الذي فرض الله صيامه ولم يفرض قيامه ليحذر رجل أن يقول: أصوم إذا صام فلان وأفطر إذا أفطر فلان ألا إن الصيام ليس من الطعام والشراب، ولكن من الكذب والباطل واللغو ألا لا تقدموا الشهر إذا رأيتم الهلال فصوموا، وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فأتموا العدة قال: كان يقول ذلك بعد صلاة الفجر وصلاة العصر". "الحسين بن يحيى القطان في حديثه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24273 ۔۔۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ (رض) کھانا کھا رہے ہیں فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ میں نے عذر بیان کیا کہ میں روزہ میں ہوں آپ (رض) کہنے لگے : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس شخص کو روزے نے کھانے پینے سے روک رکھا ہو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائیں گے اور جنت کی شراب پلائیں گے ۔ مرواہ البیھقی فی شعب الایمان ) کلام :۔۔۔ اس حدیث کی سند میں ضعف ہے۔
24273- عن سويد بن غفلة قال: "دخلت على علي بن أبي طالب وهو يأكل فقال: ادن فكل فقلت: إني صائم فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من منعه الصيام عن الطعام والشراب وهو يشتهيه أطعمه الله تعالى من ثمار الجنة، وسقاه من شرابها". "هب وسنده ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24274 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوجاتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرماتے اے لوگو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے دشمنوں یعنی جنات کی طرف سے تمہاری کفایت کردی ہے اور تم سے قبول دعا کا وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” ادعونی استجب الکم “ یعنی مجھے پکارو میں تمہارا جواب دوں گا خبردار اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر شیطان مردود کے پیچھے سات فرشتوں کا لگا دیا ہے اور کوئی شیطان بھی رمضان گزرے تک نہیں اترنے پاتا خبردار رمضان کی اول رات سے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں رمضان میں دعا قبول کی جاتی ہے حتی کہ جب رمضان کے عشرہ کی پہلی رات ہوتی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا ازار کس لیتے اور اپنی ازواج کے درمیان سے نکل پڑتے اعتکاف میں بیٹھ جاتے اور پوری رات عبادت میں مصروف تھے کسی نے حضرت علی (رض) سے پوچھا ازار کسنا کیا ہوتا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں سے الگ ہوجاتے تھے (رواہ الا صبھانی فی الترغیب)
24274- عن علي قال: "لما كان أول ليلة من رمضان قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وأثنى على الله تعالى وقال: أيها الناس قد كفاكم الله تعالى عدوكم من الجن، ووعدكم الإجابة وقال: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} ألا وقد وكل الله عز وجل بكل شيطان مريد سبعة من الملائكة فليس بمحلول حتى ينقضي شهر رمضان، ألا وأبواب السماء مفتحة من أول ليلة منه والدعاء فيه مقبول حتى إذا كان أول ليلة منه من العشر شمر الميزر وخرج من بينهن، واعتكف وأحيى الليل، قيل: وما شد الميزر؟ قال: كان يعتزل النساء فيهن". "الأصبهاني في الترغيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24275 ۔۔۔ حضرت ابو امامہ (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ایک ایسے عمل کا حکم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے اوپر روزہ لازم کرلو چونکہ روزہ کے برابر کوئی عمل نہیں میں دوسری بار پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے اوپر روزہ لازم کرو روزہ لازم کرو چونکہ روزہ کے برابر کوئی عمل نہیں (رواہ ابن النجار)
24275- عن أبي أمامة قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله مرني بعمل يدخلني الجنة، قال: عليك بالصوم فإنه لا عدل 1 له، ثم أتيته ثانيا فقال: عليك بالصوم فإنه لا عدل له. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24276 ۔۔۔ حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شعبان کیا آخری دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا : تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے بہت مبارک مہینہ ہے اس میں ایک رات ہے (شب قدر) جو ہزار مہینوں سے افضل ہی اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس ماہ مبارک کے روزہ کو فرض کیا ہے اور اس کے قیام کو ثواب کا ذریعہ بنایا ہے جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے ۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے غمخواری کرنے کا ہے اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ ثواب تو اللہ تبارک وتعالیٰ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی رحمت فرما دیتے ہیں یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام کے بوجھ کو ہلکا کر دے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور اسے آگ سے آزادی دیتے ہیں۔ اور چار چیزوں کی اس مہینہ میں کثرت رکھا کرو جن میں دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو ۔
24276- عن سلمان قال: "خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان فقال: يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله تعالى صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا، من تقرب فيه بخصلة من الخير، كان كمن أدى فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر، والصبر ثوابه الجنة، وشهر المواساة، وشهر يزاد فيه رزق المؤمن، من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه، وعتق رقبته من النار، وكان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجره شيء، قلنا: يا رسول الله ليس كلنا يجد ما يفطر الصائم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يعطي الله تعالى هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة ماء، ومن أشبع صائما سقاه الله تعالى من حوضي شربة لا يظمأ بعدها حتى يدخل الجنة، وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار فاستكثروا فيه من أربع خصال: خصلتين ترضون بهما ربكم، وخصلتين لا غنى بكم عنهما، فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم شهادة أن لا إله إلا الله وتستغفرونه، وأما اللتان لا غنى بكم عنهما فتسألون الله تعالى الجنة وتتعوذون به من النار". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24277 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں جب رمضان شریف آتا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں یہ کلمات تعلیم کرتے تھے : یا اللہ مجھے رمضان کے لیے سلامتی عطا فرما اور رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور رمضان کے تقاضہ کو پورا کرنے کی مجھے توفیق عطا فرما ۔ مرواہ الطبرانی فی الدعا والدیلمی وسند حسن )
24277- "عن عبادة بن الصامت قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا هؤلاء الكلمات إذا جاء رمضان اللهم: سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وسلمه لي متقبلا". "طب في الدعاء والديلمي وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24278 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام (رض) کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا رمضان کا بابرکت مہینہ آچکا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزہ کو فرض کیا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو طوق ڈال دیئے جاتے ہیں اس مہینہ میں ایک رادت ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ حقیقت میں محروم ہی ہے (رواہ ابن النجار )
24278- "عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو يبشر أصحابه: قد جاءكم رمضان شهر مبارك كتب الله تعالى عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة، وتغلق فيه أبواب الجحيم، وتغل فيه الشياطين، فيه ليلة خير من ألف شهر، من حرم خيرها فقد حرم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24279 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کا روزہ رکھے اور تین چیزوں کے شر سے محفوظ رہے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں وہ یہ ہیں زبان پیٹ اور شرم گاہ (رواہ ابن عساکر )
24279- "عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صام يوما من رمضان فسلم من ثلاثة ضمنت له الجنة، فقال له أبو عبيدة ابن الجراح: يا رسول الله أعلى ما فيه سوى الثلاثة؟ قال: أعلى ما فيه سوى الثلاثة: لسانه وبطنه وفرجه". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصوم ۔۔۔ از قسم افعال :

فصل ۔۔۔ مطلق روزہ اور رمضان کی فضیلت میں :
24280 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں آدمی کا ہر عمل اس کے لیے ہے بجز روزہ کے چونکہ وہ میرے لیے ہے اس کا بدلہ میں ہی دوں گا قیامت کے دن روزہ بندہ مومن کے لیے ڈھال ہوگا جس طرح ک دنیا میں تم میں سے کوئی بچاؤ کے لیے اسلحہ استعمال کرتا ہے۔ بخدا روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے افضل ہے روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ایک افطار کے وقت چنانچہ وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے اور دوسری مجھ سے ملاقات کے وقت سو میں اسے جنت میں داخل کر دوں گا ۔ (رواہ ابن جریر)
24280- عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يقول الله تعالى: كل عمل ابن آدم هو له غير الصيام هو لي وأنا أجزي به، والصيام جنة للعبد المؤمن يوم القيامة كما يقي أحدكم سلاحه في الدنيا ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، والصائم يفرح فرحين: حين يفطر فيطعم ويشرب وحين يلقاني فأدخله الجنة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: