কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৩৮০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23801 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کا کوئی روزہ فوت ہوجائے اور اس کی قضاء کرنی ہو تو کسی اور دن (رمضان کے علاوہ) اس کی قضاء کرلی جائے اور اگر نفلی روزہ فوت ہوجائے تو اگر چاہو تو اس کی قضاء کرو چاہو تو نہ کرو ۔ (رواہ الطبرانی عن ام ھانی (رض))
23801- "إذا كان قضاء من رمضان فاقضيه يوما آخر وإن كان تطوعا فإن شئت فاقضيه وإن شئت فلا تقضيه". (طب عن أم هانئ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23802 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام ھانی (رض) کو وصیت کی کہ اگر رمضان کا روزہ فوت ہوجائے تو اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لو اور اگر نفلی روزہ ہو تو چاہو اس کی قضاء کرو یا نہ کرو ۔ (رواہ البیہقی واحمد بن حنبل عن ام ھانی (رض))
23802- "إن كان قضاء من رمضان فاقضي يوما مكانه، وإن كان تطوعا فإن شئت فاقضيه وإن شئت فلا تقضيه". (ق حم عن أم هانئ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23803 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں اسے چاہیے کہ وہ لگاتار روزے رکھے درمیان میں وقفہ نہ کرے ۔ مرواہ الدارقطنی والبیہقی ، عن ابوہریرہ (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الآثار 212 اور بیہقی (رح) نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
23803- "من كان عليه صوم رمضان فليسرده ولا يقطعه". (قط ق: وضعفاه عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23804 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صحابی (رض) سے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر تمہاری ماں کے ذمہ کسی کا قرض ہو کیا اسے ادا کرو گے ؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حقدار ہے۔ (رواہ الطبرانی ومسلم والترمذی عن ابن عباس (رض))
23804- "أرأيت لو كان على أمك دين أكنت قاضيه عنها؟ " قال: "نعم" قال: "فدين الله أحق أن يقضى". (ط م ت عن ابن عباس) :

"أن رجلا قال: "يا رسول الله إن أمي ماتت وعليها صوم شهر" قال: "فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23805 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی ایک پر قرضہ ہو جسے وہ ایک دو ، دو درہم کر کے چکاتا رہے کیا اس طرح سے اس کا قرض ادا ہوجائے گا ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا : قضاء روزہ کی مثال بھی اس طرح سے ہے۔ (رواہ الدارقطنی عن جابر (رض)) ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی نے ماہ رمضان کی تقطیع کے بارے میں پوچھا راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا۔ مرواہ ابن ابی شیبۃ ، والدارقطنی ، والبیہقی عن ابی المنکررر وقال ابنالمنکرر بلغنی وقال الدارقطنی اسنادہ حسن الاانہ مرسل وھو اصلح من الموصول ورواہ البیہقی عن صالح بن کیسان)
23805- "أرأيت لو كان على أحدكم دين فقضاه الدرهم والدرهمين حتى يقضيه هل كان ذلك قضاء دينه؟ " قالوا: "نعم،" قال: "فذاك نحوه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23806 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن کے روزے کی جگہ کسی دوسرے دن روزہ رکھ لو ۔ (رواہ الترمذی حضرت عائشۃ صدیقہ (رض)) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں اور حفصہ (رض) روزہ میں تھیں ہمیں کھانا پیش کیا گیا جسے دیکھ کر ہم سے رہا نہ گیا چنانچہ کھانا ہم نے کھالیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی) ۔
23806- "اقضيا يوما آخر مكانه". (ت عن عائشة) : قالت: "كنت أنا وحفصة صائمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فأكلنا منه" فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23807 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس دن کے روزہ کی بجائے کسی دوسرے دن روزہ رکھ لو ۔ (رواہ ابن حبان حضرت عائشۃ صدیقہ (رض)) حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں میں اور حفصہ (رض) نے نفلی روزہ رکھا تھا ہمیں ھدیہ میں کھانا دیا گیا جو ہم نے کھالیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (پھر راوی نے حدیث بالد ذکر کی) ۔
23807- "صوما مكانه يوما آخر". (حب عن عائشة) قالت: "كنت أنا وحفصة صائمتين متطوعتين فأهدي لنا طعام فأفطرنا"، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23808 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روزہ کی حالت میں مرد کے لیے عورت کے ساتھ ہر طرح کی چھڑ چھاڑ حلال ہے سوائے مقام مخصوص کے ۔ (رواہ الطبرانی ، حضرت عائشۃ صدیقہ (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضیعف الجامع 4236 ۔ فائدہ : ۔۔۔ یعنی شوہر روزہ کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے مباشرت کرسکتا ہے البتہ ہمبستری نہیں کرسکتا ۔
23808 كل شئ لرجل حل من المرأة في صيامه ما خلا ما بين رجليها.

(طس عن عائشة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23809 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ بوڑھا شخص (روزہ کی حالت میں) اپنے نفس پر قابو پاسکتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی عن ابن عمرو (رض))
23809 إن الشيخ يملك نفسه.

(حم طب عن ابن عمرو).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23810 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس شخص پر قے غالب آجائے (یعنی خود بخود قے آئے ) اور وہ روزہ کی حالت میں ہو تو اس پر قضاء نہیں ہے اور جو شخص منہ میں انگلی وغیرہ ڈال کر (قصدا) قے کرے اسے چاہیے کہ روزہ کی قضاء کرے (رواہ اصحاب السنن الاربعۃ عن ابوہریرہ ) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکئھے حسن الاثار 204 والمعلۃ 335 ۔
23810 من ذرعه القئ وهو صائم فليس عليه قضاء ، ومن

استقاء فليقض.

( ك عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23811 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو شخص (حالت روزہ میں ) سو گیا یا جسے احتلام ہوگیا یا جس نے سینگی کھینچوائی اس کا روزہ نہیں ٹوٹا ماخرجہ ابو داؤد عن رجل ) فائدہ :۔۔۔ ایک روایت میں ” نام “ کی بجائے ” قاء “ آیا ہے یعنی جسے قے آئی اس کا روزہ نہیں ٹوٹا چنانچہ جمہور علماء کے نزدیک روزہ دار کا سنگی کھنچوانا بلا کراہت جائز ہے۔ البتہ امام احمد کے نزدیک سنگی کھینچنے والے دونوں کا روزہ باطل ہوجاتا ہے دونوں پر قضاء ہے کفارہ نہیں حدیث ضعیف بھی ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد 513
23811- "لا يفطر من نام ولا من احتلم ولا من احتجم". (د عن رجل) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23812 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سینگی کھینچے والے اور کھینچوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مرواہ احمد بن حنبل وابو داؤد والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم عن ثوبان وھو متواتر) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے التحدیث 157 والتنکتیر والا فادہ 113 ۔
23812- "أفطر الحاجم والمحجوم". (حم د ن هـ حب ك عن ثوبان، وهو متواتر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23813 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ پانچ چیزیں روزہ دار کو توڑ دیتی ہیں اور وضو کو بھی توڑ دیتی ہیں وہ یہ ہیں : (ا) جھوٹ (2) غیبت (3) چغلی (4) شہوت سے دیکھنا (5) اور جھوٹی قسم رواہ الازدی فی الضعفاء وافردوسی عن انس ) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضیعف الجامع 2839 والکشف الالہی 371 فائدہ :۔۔۔ گو کہ حدیث ضعیف ہے لیکن اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ روزہ کی پھر قضاء بھی کی جائے بلکہ مذکورہ بالا امور صادر ہوجانے کے باوجود پھر بھی فرض ادا ہوجائے گا البتہ روزہ کی روح ٹوٹ جاتی ہے وہ باقی نہیں رہتی سچ پوچھتے تو وہ روزہ کیا جو لولا لنگڑا ہو ۔
23813- "خمس خصال يفطرن الصائم وينقضن الوضوء: الكذب، والغيبة، والنميمة، والنظر بالشهوة، واليمين الكاذبة". (الأزدي في الضعفاء، فر عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23814 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو شخص روزہ میں ہو اور وہ بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے چاہے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے چونکہ اسے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے (رواہ احمد ولترمذی وابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 5621)
23814- "من نسي وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه، فإنما أطعمه الله وسقاه". (حم ت (3) هـ عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23815 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس نے بھول چوک سے کھا پی لیا اس کا روزہ نہیں ٹوٹا چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے اپنی طرف سے رزق عطا کیا ہے (رواہ الترمذی عن ابوہریرہ )
23815- "من أكل أو شرب ناسيا فلا يفطر فإنما هو رزق رزقه الله". (ت عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کے مباحات ومفسدات :
23816 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تین چیزیں روزے کو نہیں توڑتی ہیں۔ جو کہ یہ ہیں سینگی قے اور احتلام (رواہ الترمذی عن ابی سعید ) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھیے حسن الاثر 205 وخیرۃ الحفاظ 2525 ۔ لاکمال :
23816- "ثلاث لا يفطرن الصائم: الحجامة، والقيء، والاحتلام". (ت عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23817 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مرواہ احمد والنسائی والضیاء المقدسی فی المختار عن اسامۃ بن رید ) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے التحدیث 157 والتنکیت والافادۃ 113 ۔
23817- "أفطر الحاجم والمستحجم". (حم، ن، ض - عن أسامة بن زيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23818 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگونے والے کا روزہ افطارن ہوجاتا ہے۔ مرواہ احمد بن حنبان والعدنی وابن جریر والبیھقی فی السنن عن اسامۃ بن زید والبزار وابن جریر والدار قطنی والطبرنی فی الاوسط عن انس واحمد بن حنبل والنسائی وابن جریر وضعفہ والطبرانی و سعید بن المنصور عن بلال والطبرانی والرازی والنسائی وابن ماجہ والشاشی والریانی وابن جریر وابن الجارود وابو یعلی وابن جزیمۃ والھیثم بن کلیب وابن حبان والبار ودی وابن قانع والطبرانی والحاکم والبیھقی و سعید بن المنصور عن ثوبان) امام احمد حنبل (رح) کہتے ہں اس باب میں یہی روایت صحیح ترین ہے (ورواہ البزار وابن جریر عن جابر وقالو حسن وابن جریر وابن خزیمہ وابن حبان والطبرانی والحاکم والبیھقی والضیاء المقدسی عن رافع بن خدیج وابن جریر عن سعد بن ابی وقاص والبزار والطبرانی والبیھقی فی شعب الایمان و سعید بن المنصور عن سمرۃ والطبرانی ، واحمد بن حنبل ، والدارمی وابوداؤد ، وابن ماجہ وابن جریر وابن حبان والحاکم والبیہقی فی السنن و سعید بن المنصور عن شداد بن اوس والبزار وابن جریر والطبرانی عن ابن عباس (رض) ، عن ابن مسعود (رض) ، عن ابی زید الانصاری (رض) والنسائی وابن جریر ، والبزار والطبرانی والحاکم والبیہقی عن ابی موسیٰ والنسائی عن معقل بن یسار وابن سنان ، واحمد بن حنبل والنسائی والبزار وابن جریر حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) والطبرانی ، عن ابن عمرو (رض) ، احمد بن حنبل والنسائی ، وابن ماجہ وابن جریر ، والبیہقی وابن عدی عن ابوہریرہ (رض) ، وابن جریر عن علی الطبرانی عن معقل بن یسار ، والطبرانی وابن جریر ، عن معقل بن یسار وابن جریر عن الحسن مرسلا وابوداؤد عن عمر۔ کلام : ۔۔۔ اس حدیث پر بھی پہلی حدیث کی طرح کلام ہے۔
23818- "أفطر الحاجم والمحجوم". (حم والعدني وابن جرير، ق عن أسامة بن زيد؛ بز وابن جرير، قط، طس عن أنس؛ حم، ن وابن جرير: وضعفه؛ طب ص عن بلال؛ طب، حم د والدارمي، ن، هـ

والشاشي والروياني وابن جرير وابن الجارود، ع وابن خزيمة والهيثم بن كليب، حب والباوردي وابن قانع، طب، ك، ق، ص عن ثوبان) . قال (حم) : "وهو أصح ما روى في هذا الباب" (بز وابن جريرعن جابر: حسن؛ وابن جرير وابن خزيمة، حب طب ك ق ض عن رافع بن خديج ابن جرير عن سعد بن أبي وقاص؛ بز، طب هب ص عن سمرة؛ ط حم والدارمي د، هـ وابن جرير، حب، ك ق ص عن شداد بن أوس؛ بز وابن جرير، طب عن ابن عباس عن ابن مسعود عن أبي زيد الأنصاري ن وابن جرير، بز، طب ك ق عن أبي موسى؛ ن عن معقل بن يسار وابن سنان؛ حم ن بز وابن جرير عن عائشة؛ طب عن ابن عمر؛ حم ن هـ وابن جرير، ق عد عن أبي هريرة؛ بز وابن جرير عن علي؛ طب عن معقل بن يسار؛ طب وابن جرير عن معقل بن يسار، ابن جرير عن الحسن مرسلا، د عن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23819 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ رمضان شریف میں جس شخص پر (بحالت روزہ) قے کا غلبہ ہو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے جان بوجھ کر قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی ، عن ابوہریرہ (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 5297 ۔
23819- "من ذرعه القيء في شهر رمضان فلا يفطر، ومن تقيأ عامدا فقد أفطر". (د عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23820 ۔۔۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزیں روزے اور وضو کو توڑ دیتی ہیں وہ یہ ہیں (1) جھوٹ (2) غیبت (3) چغلی (4) شہوت سے دیکھنا (5) اور جھوٹی قسم ۔ (رواہ الدیلمی ، عن انس (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التنزیہ 472 اوالفوائد الجموعہ 274 ۔
23820- "خمس يفطرن الصائم وينقضن الوضوء: الكذب، والغيبة، والنميمة، والنظر بشهوة، واليمين الكاذبة". (الديلمي عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক: