কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ১৯০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩٠٧۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا اے پروردگار مجھے کوئی ایساکلمہ سکھائیے جس کے ذریعہ میں تجھے یاد کیا کروں اور اس کے وسیلہ سے تجھ سے مانگا کروں۔ ارشاد باری ہوا، اے موسیٰ ، لاالہ الاالہ، کہا کر، عرض کیا اے پروردگار یہ کلمہ تو تیرے سب بندے کہتے ہیں ارشاد باری ہوا ، لاالہ الا اللہ کہا کر، عرض کیا، اے پروردگار بیشک تیرے سوا کوئی معبود نہیں لیکن میں تو ایسا کلمہ جاننا چاہتاہوں جو آپ میرے لیے خاص کردیں۔ ارشاد ہوا اے موسیٰ اگر ساتوں آسمان اور ان میں میرے سوا جو کچھ آباد ہے اور ساتوں زمین ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور دوسرے پلڑے میں ، لاالہ الا اللہ رکھ دیا جائے تولاالہ والاپلڑا ان سب پر بھاری ہوجائے گا۔ المسند لابی یعلی، الحکیم، ابن حبان، المستدرک للحاکم، الحلیہ، بروایت ابی سعد ۔
1907 – "قال موسى يا رب علمني شيئا أذكرك به وأدعوك به، قال يا موسى: قل لا إله إلا الله قال: يا رب كل عبادك يقولون هذا قال: قل لا إله إلا الله قال: لا إله إلا أنت يا رب، إنما أريد شيئا تخصني به، قال يا موسى لو أن السموات السبع وعامرهن غيري والأرضين السبع في كفة ولا إله إلا الله في كفة مالت بهم لا إله إلا الله". (ع والحكيم حب ك حل ق في الأسماء عن أبي سعيد ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩٠٨۔۔ لاالہ الا اللہ، سے افضل ذکر کوئی نہیں ۔ اور استغفار سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابن عمر (رض)۔
1908 – "ما من الذكر أفضل من لا إله إلا الله ولا من الدعاء أفضل من الاستغفار". (طب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩٠٩۔۔ جوبندہ، لاالہ الا اللہ اکبر ، کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی چوتھائی جان جہنم سے آزاد فرما دیتے ہیں اور جو اس کلمہ کو دو مرتبہ کہتا ہے اللہ اس کی نصف جان جہنم سے آزاد کردیتے ہیں اور جو بندہ اس کلمہ کو چار مرتبہ کہتا ہے اللہ اس کو جہنم سے مکمل آزادی مرحمت فرماتے ہیں۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابی الدرداء (رض) ۔
1909 – "ما من عبد يقول لا إله إلا الله والله أكبر إلا أعتق الله ربعه من النار، ولا يقولها اثنتين إلا أعتق الله شطره من النار، ولا يقولها أربعا إلا أعتقه الله من النار". (طب عن أبي الدرداء)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩١٠۔۔ اے معاذ دن میں تو اللہ کا کتناذکر کرتا ہے ؟ کیا تودس ہزار بارذکر کرتا ہے ؟ تو کیا میں اس سے آسان کلمات نہ بتاؤں، کہ وہ دس ہزار اور دس ہزار سے بھی زیادہ ثواب رکھتے ہوں گے وہ یہ کہ تم یوں کہولاالہ الا اللہ، مخلوق خدا کے برابر۔ لاالہ الا اللہ، عرش خداوندی کے برابر۔ لاالہ الا اللہ، آسمانوں کے برابر۔ لاالہ الا اللہ، مزید اس کے بقدر اور اللہ اکبر، اسی کے بقدر الحمدللہ اسی کے بقدر۔ اس اس قدر کے کوئی فرشتہ نہ اور کوئی اس کو شمار کرسکے۔ ابن النجار، بروایت ابی شبل بروایت اپنے دادا کے جو صحابی رسول تھے۔
1910 – "يا معاذ كم تذكر كل يوم؟ أتذكر عشرة آلاف مرة (2) ألا أدلك على كلمات هن أهون عليك وأكثر من عشرة الآلاف وعشرة آلاف تقول (3) : لا إله إلا الله (4) عدد خلقه لا إله إلا الله زنة عرشه، لا إله إلا الله ملأ سمواته (5) لا إله إلا الله مثل ذلك معه والله أكبر مثل ذلك معه، والحمد لله مثل ذلك معه لا يحصيه (6) ملك ولا غيره. (ابن النجار عن أبي شبل عن جده وكان من الصحابة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩١١۔۔ اے معاذ۔ کیا بات ہے کہ تم ہر صبح ہمارے پاس نہیں آتے ؟ عرض کیا یارسول اللہ میں آپ کے پاس حاضر ہونے سے قبل ہر صبح کو سات ہزار بار تسبیح کرتا ہوں فرمایا کیا میں اس سے آسان کلمات نہ بتاؤں، جو میزان میں اس سے بھی زیادہ وزنی ہوں گے ؟ جن کا ثواب فرشتے شمار کرسکیں گے اور نہ ہی اہل ارض ۔ توکہو۔ لاالہ الا اللہ، اللہ کی رضا برابر، لاالہ الا اللہ، عرش خداوندی کے برابر، لاالہ الا اللہ، مخلوق خدا کے برابرلاالہ الا اللہ، آسمانوں بھرلاالہ الا اللہ، زمین بھر، لاالہ الا اللہ، آسمان و زمین کے درمیان جو کچھ ہے سب کے برابر۔ ابن برکان، الدیلمی بروایت ابن مسعود (رض)۔
1911 – "يا معاذ ما لك لا تأتنا كل غداة؟ قال: يا رسول الله إني أسبح كل غداة سبعة آلاف تسبيحة قبل أن آتيك قال: ألا أعلمك كلمات هن أخف عليك وأثقل في الميزان ولا تحصيه الملائكة ولا أهل الأرض قال: قل لا إله إلا الله عدد رضاه لا إله إلا الله زنة عرشه لا إله إلا الله عدد خلقه لا إله إلا الله ملأ سمواته لا إله إلا الله ملأ أرضه، لا إله إلا الله ملأ ما بينهما". (ابن بركان والديلمي عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩١٢۔۔ ہر شجر وحجر کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ مسنداحمد، فی الزھد، بروایت عطا بن بسار مرسلا۔
1912 – "اذكروا الله عند كل شجر وحجر". (حم في الزهد عن عطاء بن يسار مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩١٣۔۔ تو جہاں کہیں ہو اللہ کا ذکر کرتا رہ۔ لوگوں کے ساتھ عمدہ اخلاق سے پیش آنا۔ جب بھی کوئی برائی سرزد ہوجائے اس کے بعد کوئی نیکی انجام دے لے تاکہ وہ اس برائی کو محو کردے۔ ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر، بروایت ابی ذر (رض) ۔
1913 – "اذكر الله حيثما كنت وخالق الناس بخلق حسن واتبع السيئه الحسنة تمحها". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أبي ذر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے افضل ترین عمل
١٩١٤۔۔ اے بندگان خدا۔ ذکرالٰہی کرتے رہو۔ کیونکہ بندہ جب سبحان اللہ وبحمدہ کہتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس بار پڑھنے سے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور سو بار پڑھنے سے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو زیادہ کرتا ہے اللہ اس کا اجر بھی زیادہ کرتا ہے اور جو اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے اللہ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ ابن شاھین، بروایت ابن عمر (رض)۔

رواۃ الخطیب اور اس میں یہ اضافہ مذکور ہے جس کی سفارش حدود اللہ نافذ کرنے میں حائل ہوتی وہ اللہ کی سلطنت میں اللہ سے ضد اور دشمنی کرتا ہے۔ اور جس نے بغیر علم کے کسی خصومت و جھگڑے میں حمایت ومدد کی اس نے اللہ کی ناراضگی مول لے لی۔ اور جس نے کسی مومن مرد یا عورت کو تہمت زنی کی اللہ اس کو ردغۃ الخبال جہنمیوں کے خون وپیب سے بھری ہوئی جہنم کی وادی میں قید فرمائیں گے، حتی کہ وہ اس کا سبب وعذر لائے اور جو اپنے اوپرقرض لے کر مرا، اس کی نیکیوں میں سے اس کا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ وہاں دراہم و دینار نہ ہوں گے۔ التاریخ للخطیب ، بروایت ابن عمر (رض)۔
1914 – "اذكروا الله عباد الله، فإن العبد إذا قال: سبحان الله وبحمده كتبت له بها عشر ومن عشر إلى مائة ومن مائة إلى ألف ومن زاد زاده الله، ومن استغفر الله غفر الله له". (ابن شاهين عن ابن عمر) ورواه (خط) وزاد، ومن حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في ملكه ومن أعان على خصومة بغير علم فقد باء بسخط من الله، ومن قذف مؤمنا أو مؤمنة حبسه الله في ردغة الخبال حتى يأتي بالمخرج ومن مات وعليه دين اقتص من حسناته ليس ثم درهم ولا دينار. (خط عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩١٥۔۔ پروردگار عزوجل فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم جب تومیراذکر کرتا ہے تو درحقیقت میرا شکرادا کرتا ہے اور جب مجھ سے غفلت وبھول میں پڑجاتا ہے تو میری ناشکری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر ، الخطیب ، الدیلمی ، ابن عساکر، بروایت ابوہریرہ (رض)۔ لیکن اس روایت میں ایک راوی المعلی بن الفضل ہے جس کی احادیث منکر وناقاقبل قبول ہوتی ہیں۔
1915 -. (ابن شاهين في الترغيب في الذكر والخطيب والديلمي وابن عساكر عن أبي هـ قال الله تعالى: "يا ابن آدم إنك ما ذكرتني شكرتني، وما نسيتني كفرتني" ريرة وفيه المعلى بن الفضل له مناكير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩١٦۔۔ ابلیس نے کہا : اے پروردگار تو نے اپنی اور مخلوق کا رزق مقدر فرمادیا لیکن میرا رزق کیا ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہوا جس پر میرا نام نہ لیا جائے وہ تیرا رزق ہے۔ ابوالشیخ فی العظمۃ بروایت ابن عباس (رض)۔
1916 - قال إبليس: "يا رب كل خلقك قد سببت أرزاقهم فما رزقي قال: كل ما لم يذكر عليه اسمي". (أبو الشيخ في العظمة عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩١٧۔۔ ابلیس نے کہا : اے پروردگار تو نے اپنی ہر مخلوق کی روزی اور معیشت مقرر فرمادی ہے میرا رزق کیا ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہوا جس پر میرا نام نہ لیا جائے وہ تیرا رزق ہے۔ الحلیہ بروایت ابن عباس (رض)۔
1917 - قال إبليس: "يا رب ليس أحد من خلقك إلا جعلت لهم رزقا ومعيشة، فما رزقي؟ قال: ما لم يذكر عليه اسمي". (حل عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩١٨۔۔ کوئی شکار شکار ہوتا ہے تو محض اس وجہ سے کہ اس کے ذکر کرنے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو پیدا فرما دیتے ہیں اور ایک فرشتہ بھی اس پر مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور اسی طرح کوئی درخت بھی اس وقت کٹتا ہے جب اس کے ذکر کرنے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اور یونہی کسی شخص کو ناگوار بات تبھی پیش آتی ہے جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجا جاتا ہے۔ اور جن گناہوں کو اللہ درگزر فرما دیتی ہیں وہ تو بہت زیادہ ہیں۔ ابن عساکر، بروایت ابی بکر الصدیق (رض) وعمر (رض) معا۔ مصنف علامہ سیوطی فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں دوراوی بالکل ضعیف ومجہول ہیں۔
1918 – "ما صيد مصيد (2) إلا بنقص من التسبيح إلا أنبت الله نابه وإلا وكل ملكا يحصي به حتى يأتي به يوم القيامة ولا عضد من شجرة إلا بنقص في التسبيح وما دخل على امرئ مكروه إلا بذنب وما عفا الله عنه أكثر"، (ابن عساكر عن أبي بكر الصديق وعمر معا، قال: هذا حديث منكر وفي الإسناد ضعيفان ومجهولان) . (2) كذا ولعله صيد كما سيأتي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩١٩۔۔ کوئی شکار شکار نہیں ہوتا اور کوئی درخت نہیں کٹتا مگر تک تسبیح کی وجہ سے اور ہر مخلوق خدا کی تسبیح کرتی ہے اور اس کی ادائیگی میں اپنی تخلیق شدہ کیفیت سے بدل جاتی ہے کبھی تم بھی بعض چیزوں کو سنتے ہوگے وہی تسبیح ہوتی ہے۔ ابونعیم بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1919 – "ما صيد صيد ولا قطعت شجرة إلا بتضييع التسبيح وكل شيء من الخلق يسبح حتى يتغير عن الخلقة التي خلقه الله، وإن كنتم تسمعون بعض حدثكم فإنما هو تسبيح". (أبو نعيم عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٠۔۔ کوئی شکار شکار نہیں ہوتا اور نہ کوئی شاخ نہیں کٹتی اور کوئی درخت نہیں کٹتا مگر قلت تسبیح کی وجہ سے۔ ابن راھویہ، بروایت ابی بکر (رض) ۔ اس روایت کی سند انتہائی ضعیف ہے۔
1920 – "ما صيد صيد ولا عضدت عضاة ولا قطعت شجرة (2) إلا بقلة التسبيح". (ابن راهويه عن أبي بكر) وسنده ضعيف جدا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢١۔۔ تمام جانور خواہ وہ جوؤیں ، مچھر، ٹڈی، گھورے ، خچر اور گائیں وغیرہ سب کی موت تسبیح سے متعلق ہوتی ہے جب ان کی تسبیح ختم ہوجاتی ہے اللہ ان کی ارواح قبض فرمالیتی ہیں اور ملک الموت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ الضعفاء للعقیلی ، ابوالشیخ بروایت انس (رض)۔ علامہ عقیلی نے فرمایا یہ روایت غیرثابت الاصل ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔
1921 – "آجال البهائم كلها من القمل، والبراغيث والجراد والخيل والبغال كلها والبقر وغيره، آجالها في التسبيح، فإذا انقضى تسبيحها قبض الله أرواحها وليس إلى ملك الموت من ذلك شيء." (عق وأبو الشيخ عن أنس) قال عق ولا أصل له وأورده ابن الجوزي في الموضوعات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٢۔۔ جس قطعہ زمین پر اللہ کا نام لیاجاتا ہے وہ قطعہ زمین اللہ کے ذکر کی وجہ سے ساتوں زمین سے لے کر اپنی انتہاء تک خوش ہوجاتا ہے اور زمین کے دوسرے ٹکڑوں پر فخرکناں ہوتا ہے۔ اور جب مومن بندہ کسی زمین کو نماز کے لیے منتخب کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زمین اس کے لیے سنور جاتی ہے۔ ابن شاھین، فی الترغیب فی الذکر بروایت انس (رض)۔ اس روایت میں ابن موسیٰ بن عبیدہ الزبدی ، یزید الرقاشی سے روایت کرتے ہیں اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔
1922 – "ما من بقعة يذكر الله فيها إلا استبشرت بذكر الله إلى منتهاها من سبع أرضين وفخرت على ما حولها من البقاع، وما من مؤمن يقوم بفلاة من الأرض إلا تزخرفت به الأرض". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أنس) وفيه بن موسى بن عبيدة الزبدي (3) عن يزيد الرقاشي ضعيفان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٣۔۔ وہ گھر جس میں اللہ کا نام لیا جائے اور وہ گھر جس میں اللہ کا نام نہ لیا جائے زندہ اور مردہ کے مثل ہے۔ مسنداحمد، الصحیح لمسلم، ابن حبان، بروایت یزید عن ابی بردہ عن ابی موسیٰ (رض) ۔
1923 – "مثل البيت الذي يذكر الله فيه والذي لا يذكر الله فيه مثل الحي والميت". (حم م حب عن يزيد عن أبي بردة عن أبي موسى) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٤۔۔ جس نے اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ کا ذکر کیا، خواہ اس کی نماز روزے اور تلاوت قرآن قلیل ہی ہوں اور جس نے اللہ کے ذکر کو ترک کیا اس نے اللہ کی نافرمانی کی خواہ اس کی نماز روزے اور تلاوت قرآن بہت زیادہ کیوں نہ ہوں۔ الحسن بن سفیان، الکبیر للطبرانی۔ ابن عساکر، بروایت واقد مولی رسول اللہ السنن لسعید، شعب الایمان بروایت ابن ابی عمران مرسلا۔
1924 – "من أطاع الله فقد ذكر الله وإن قلت صلاته وصيامه وتلاوته للقرآن، ومن عصى الله فلم يذكره وإن كثرت صلاته وصيامه وتلاوته للقرآن". (الحسن بن سفيان طب وابن عساكر عن واقد مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم) (ص هب عن ابن أبي عمران مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٥۔۔ جس نے کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا وہ نفاق سے بری ہوگیا۔ ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر، بروایت ابوہریرہ (رض)۔ اس روایت کے راوی ثقہ لوگ ہیں۔
1925 – "من أكثر من ذكر الله فقد برئ من النفاق". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أبي هريرة) ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٦۔۔ اللہ سے محبت کی علامت ذکراللہ سے محبت ہے اور اللہ سے بغض کی علامت اللہ عزوجل کے ذکر سے بغض ہے۔ ابن شاھین، فی الترغیب فی الذکر، بروایت انس (رض)۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
1926 – "من علامة حب الله ذكر الله، ومن علامة بغض الله بغض ذكر الله". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أنس وهو ضعيف) .
tahqiq

তাহকীক: