কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ১৯২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٧۔۔ جب تک تو ذکر خدا میں مشغول رہے گا نماز و عبادت میں رہے گا خواہ تو کھڑا ہو یا بیٹھا، بازار میں ہو یا مجلس میں یا جہاں کہیں بھی ہو۔ شعب الایمان بروایت یحییٰ بن ابی کثیرمرسلا۔
1927 – "لا تزال مصليا قانتا ما ذكرت الله قائما وقاعدا أو في سوقك أو في ناديك أو حيثما كنت". (هب عن يحيى بن أبي كثير) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٨۔۔ اے مومنوں کی خواتین، تم پر تہلیل و تسبیح اور تقدیر لازم ہے اور غفلت میں نہ پڑو ورنہ رحمت سے بھی محروم ہوجاؤ گی۔ اور انگلیوں کے پوروں پر شمار کیا کرو، کیونکہ ان اعضا سے بھی سوال ہوگا اور یہ کلام کریں گے۔ مسنداحمد، ابن سعد، الکبیر للطبرانی، بروایت ھانی بن عفان، عن امہ حمیضہ بنت یاسر عن جد تھا یسیرہ۔
1928 – "يا نساء المؤمنين عليكن بالتهليل والتسبيح والتقديس ولا تغفلن فتنسين الرحمة، واعقدن بالأنامل فإنها مسؤلات مستنطقات" (حم وابن سعد طب عن هانئ بن عفان عن أمه حميضة بنت ياسر عن جدتها يسيرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٢٩۔۔ وہ ذکر جس کو نگہبان فرشتے بھی نہ سن سکیں اس ذکر پر جس کو وہ فرشتے سن سکیں ستر درجہ بہتر اور فضیلت رکھتا ہے۔ ابن ابی الدنیا شعب الایمان بروایت عائشہ (رض)۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔
1929 – "يفضل الذكر الخفي الذي لا تسمعه الحفظة على الذي تسمعه سبعين ضعفا". (ابن أبي الدنيا هب وضعفه عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٣٠۔۔ اللہ فرمائیں گے جہنم سے ہراس شخص کو نکال لوجس نے مجھے کبھی یاد کیا یا کسی مقام پر مجھ سے ڈراہو۔ ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر شعب الایمان بروایت انس (رض)۔ اس میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے جس کو ایک جماعت نے ثقہ دوسری نے ضعیف قرار دیا ہے۔
1930 - يقول الله تعالى: "أخرجوا من النار من ذكرني أو خافني في مقام". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر هب عن أنس) وفيه مبارك بن فضالة وثقه جماعة وضعفه (ن) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٣١۔۔ قیامت کے روز اللہ فرمائیں گے اب عنقریب مجمع کو اہل کرم کا علم ہوجائے گا اور پوچھاجائے گا اہل کرم کون ہیں ارشاد ہوا وہ جو مساجد میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، السنن لسعید، ابن حبان، ابن شاھین، فی الترغیب فی الذکر شعب الایمان بروایت ابی سعید (رض) ۔
1931 - يقول الرب عز وجل: "يوم القيامة سيعلم أهل الجمع من أهل الكرم قيل ومن أهل الكرم يا رسول الله، قال: أهل مجالس الذكر في المساجد". (حم ع ص حب وابن شاهين في الترغيب في الذكر هب وأبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکرالٰہی شکر کی بجاآوری ہے
١٩٣٢۔۔ تم کیا باتیں کررہے تھے ؟ میں نے دیکھا کہ رحمت تم پر نازل ہورہی ہے تو مجھے بھی خواہش ہوئی کہ تمہارے ساتھ اس میں شریک ہوجاؤں۔ المستدرک للحاکم، بروایت سلمان (رض)۔ آپ (رض) ایک جماعت کے ہمرا بیٹھے ہوئے ذکراللہ میں مشغول تھے کہ آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا اور آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
1932 – "ما كنتم تقولون فإني رأيت الرحمه تنزل عليكم فأحببت أن أشارككم فيها". (ك عن سلمان) أنه كان في عصابة يذكرون الله تعالى فمر بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
١٩٣٣۔۔ اللہ کے ننانوے اسماء گرامی ہیں یعنی سو سے ایک کم جو ان کو یاد کرے لے جنت میں داخل ہوگا۔ بخاری و مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، بروایت ابوہریرہ (رض)، ابن عساکر، بروایت عمر (رض)۔
1933 – "إن لله تسعة وتسعين اسما، مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة". (ق ت هـ عن أبي هريرة)(ابن عساكر عن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
١٩٣٤۔۔ اللہ کے ننانوے اسماء گرامی ہیں یعنی سو سے ایک کم جو ان کو یاد کرلے جنت میں ضرور داخل ہوگا اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے بخاری و مسلم، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1934 – "إن لله تسعة وتسعين اسما، مائة إلا واحدا لا يحفظها أحد إلا دخل الجنة وهو وتر يحب الوتر". (ق عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
١٩٣٥۔۔ اللہ کے ننانوے نام ہیں یعنی سو سے ایک کم، اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے اور جو بندہ ان کے ساتھ اللہ کو یاد کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ الحلیہ، بروایت علی (رض)۔
1935 – "إن لله عز وجل تسعة وتسعين اسما، مائة غير واحد، وإنه وتر يحب الوتر، وما من عبد يدعو بها إلا وجبت له الجنة". (حل عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
١٩٣٦۔۔ اللہ تعالیٰ ایک کم ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ساتھ دعا کی اللہ اس کو قبول فرمائیں گے۔ ابن مردویہ، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1936 – " إن لله مائة اسم غير اسم من دعا بها استجاب الله له". (ابن مردويه عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
١٩٣٧۔۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کرلے جنت میں داخل ہوگا۔
ترجمہ۔۔ وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں نہایت مہربان ، بہت رحم کرنے والا، بادشاہ، ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے سلامت رکھنے والا۔ امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، غلبہ رکھنے والا، زبردست، بدی کو طاقت سے دفع کرنے والا، بڑائی کا مالک، پید ا فرمانے والا، ٹھیک سلامت رکھنے والے ، امن دینے والا، بہت بخشنے والا، خوب دینے والا، رزق رساں۔ بڑا فیصلہ کرنے والا، بہت جاننے والا، رزق وغیرہ تنگ کرنے والا، وسعت فراخی بخشنے والا، پست کرنے والا، بلند کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، سننے والا، دیکھنے والا، اٹل فیصلہ کرنے والا، عین انصاف کرنے والا، بھیدوں کو جاننے والا، مکمل خبر رکھنے والا، بردبار، عظمت کا مالک، بےانتہاء بخشنے والا، قدردان، اور تھوڑے پر بہت عطا کرنے والا، بلند مرتبہ والا، بہت بڑا، حفاظت کرنے والا، خوراک رساں، حساب کرنے والا، بڑی بزرگی والا، بےمانگے عطا فرمانے والا، نگران۔ دعاؤں کو قبول کرنے والا، وسعت والا، بڑی حکمت والا، بہت محبت والا، بڑی بزرگی والا، زندہ کرکے قبروں سے اٹھانے والا، حاضر و موجود۔ اپنی سب صفات کے ساتھ ثابت۔ کام بنانے والا۔ قوت والا، نہایت قوت والا، کارساز، مستحق حمد، ذرہ ذرہ کا شمار رکھنے والا۔ پہلی بار پیدا کرنے والا۔ دوبارہ پیدا کرنے والا۔ زندہ کرنے والا۔ موت دینے والا، ہمیشہ زندہ ، سب کی ہستی قائم رکھنے والا، بالفعل ہر کمال سے متصف، بزرگی والا، ایک بےنیاز بہت زیادہ قدرت والا، آگے بڑھانے والا۔ پیچھے ہٹانے والا۔ سب سے اول ۔ سب سے آخر، آشکارا۔ پوشیدہ۔ پوری کائنات کا متولی، صفات مخلوق سے برترت۔ بہت بڑا محسن۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔ انعام کرنے والا، انتقام لینے والا۔ معاف فرمانے والا، بہت شفقت رکھنے والا، پورے ملک کا مالک۔ بزرگی و بخشش والا، سب کو روشن کرنے والا، ہدایت دینے والا، سب کو جمع کرنے والا، سب سے بےنیاز، دوسروں کو غنی بنانے والا، روکنے والا، نقصان پہنچانے والا، نفع پہنچانے والا، بےمثال پید ا فرمانے والا، ہمیشہ رہنے والا، سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا۔ ہدایت والا، بہت برداشت کرنے والا۔
ترجمہ۔۔ وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں نہایت مہربان ، بہت رحم کرنے والا، بادشاہ، ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے سلامت رکھنے والا۔ امن دینے والا، نگہبانی کرنے والا، غلبہ رکھنے والا، زبردست، بدی کو طاقت سے دفع کرنے والا، بڑائی کا مالک، پید ا فرمانے والا، ٹھیک سلامت رکھنے والے ، امن دینے والا، بہت بخشنے والا، خوب دینے والا، رزق رساں۔ بڑا فیصلہ کرنے والا، بہت جاننے والا، رزق وغیرہ تنگ کرنے والا، وسعت فراخی بخشنے والا، پست کرنے والا، بلند کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، سننے والا، دیکھنے والا، اٹل فیصلہ کرنے والا، عین انصاف کرنے والا، بھیدوں کو جاننے والا، مکمل خبر رکھنے والا، بردبار، عظمت کا مالک، بےانتہاء بخشنے والا، قدردان، اور تھوڑے پر بہت عطا کرنے والا، بلند مرتبہ والا، بہت بڑا، حفاظت کرنے والا، خوراک رساں، حساب کرنے والا، بڑی بزرگی والا، بےمانگے عطا فرمانے والا، نگران۔ دعاؤں کو قبول کرنے والا، وسعت والا، بڑی حکمت والا، بہت محبت والا، بڑی بزرگی والا، زندہ کرکے قبروں سے اٹھانے والا، حاضر و موجود۔ اپنی سب صفات کے ساتھ ثابت۔ کام بنانے والا۔ قوت والا، نہایت قوت والا، کارساز، مستحق حمد، ذرہ ذرہ کا شمار رکھنے والا۔ پہلی بار پیدا کرنے والا۔ دوبارہ پیدا کرنے والا۔ زندہ کرنے والا۔ موت دینے والا، ہمیشہ زندہ ، سب کی ہستی قائم رکھنے والا، بالفعل ہر کمال سے متصف، بزرگی والا، ایک بےنیاز بہت زیادہ قدرت والا، آگے بڑھانے والا۔ پیچھے ہٹانے والا۔ سب سے اول ۔ سب سے آخر، آشکارا۔ پوشیدہ۔ پوری کائنات کا متولی، صفات مخلوق سے برترت۔ بہت بڑا محسن۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔ انعام کرنے والا، انتقام لینے والا۔ معاف فرمانے والا، بہت شفقت رکھنے والا، پورے ملک کا مالک۔ بزرگی و بخشش والا، سب کو روشن کرنے والا، ہدایت دینے والا، سب کو جمع کرنے والا، سب سے بےنیاز، دوسروں کو غنی بنانے والا، روکنے والا، نقصان پہنچانے والا، نفع پہنچانے والا، بےمثال پید ا فرمانے والا، ہمیشہ رہنے والا، سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا۔ ہدایت والا، بہت برداشت کرنے والا۔
1937 – "إن لله عز وجل تسعة وتسعين اسما، من أحصاها دخل الجنة، هو الله الذي لا إله إلا هو الرحمن الرحيم الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الخالق البارئ المصور الغفار القهار الوهاب الرزاق الفتاح العليم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السميع البصير الحكم العدل اللطيف الخبير الحليم العظيم الغفور الشكور العلي الكبير الحفيظ المقيت الحسيب الجليل الكريم الرقيب المجيب الواسع الحكيم الودود المجيد الباعث الشهيد الحق الوكيل القوي المتين الولي الحميد المحصي المبدئ المعيد المحيي الميت الحي القيوم الواجد الماجد الواحد (الأحد – ) الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الأول الآخر الظاهر الباطن الوالي المتعال البر التواب (المنعم ) المنتقم العفو الرؤوف مالك الملك ذو الجلال والإكرام، المقسط الجامع (المعطي ) المانع الضار النافع الغني المغني النور الهادي البديع الباقي الوارث الرشيد الصبور". (ت حب ك هب عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
1938 ۔۔ اللہ رب العزت کے ننانے نام ہیں جو ان تمام کو یاد کرے گا تو جنت میں داخل ہوگا۔ میں سوال کرتا ہوں اللہ سے جو نہایت مہربان ہے رحم کرنے والا ہے ، معبود ، پالنے والا۔ بادشاہ ، ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے سلامت رکھنے والا، امن دینے والا۔ نگہبان۔ زبردست ۔ بدی کو طاقت میں دفع کرنے والا۔ بڑائی والا۔ پیدا کرنے والا۔ ٹھیک ٹھیک بنانے ولا۔ صورت بنانے والا، بڑی حکمت والا، بہت جاننے ولا، خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا۔ زندہ ۔ سب کو قائم کرنے والا، وسعت والا، باریک بین، سب خبر رکھنے والا، نرمی کرنے والا۔ احسان کرنے ولا۔ بےمثال پیدا کرنے والا۔ محبت کرنے والا۔ بےانتہا بخشنے ولا۔ قدردان ، بزرگی والا۔ ہدایت دینے والا۔ پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا۔ سب کو روشن کرنے والا۔ ہدایت دینے والا۔ سب سے اول۔ سب سے آخر۔ آشکارہ۔ پوشیدہ۔ بےانتہا بخشنے والا۔ خوب دینے والا۔ نرالا۔ اکیلا۔ بےنیاز۔ سارے کام بنانے والا۔ کفایت کرنے والا۔ ہمیشہ باقی رہنے والا۔ تعریف کے لائق ۔ قوت والا۔ ہمیشہ رہنے والا۔ صفات مخلوق سے برتر۔ بزرگی اور بخشش والا۔ متولی مدد کرنے والا۔ اپنی سب صفات کے ساتھ ثابت۔ الحق المبین۔ منیب زندہ کرکے قبروں سے ا ٹھانے والا۔ دعاؤں کو قبول کرنے والا۔ زندہ کرنے والا۔ موت دینے والا۔ خوبصورت۔ سچا، حفاظت کرنے والا۔ سب کو گھیرنے والا۔ بہت بڑا ۔ نزدیک۔ نگہبان۔ بڑا فیصلہ کرنے والا۔ خوب قبول کرنے والا۔ سب سے قدیم۔ تنہا۔ بنانے والا۔ رزق رساں۔ خوب خوب جاننے والا۔ بلند عظمت والا۔ بے پروا۔ بادشاہ۔ پوری قدرت رکھنے والا۔ معزز۔ بڑا مشفق (شفقت کرنے والا) فضل کرنے والامخلوق پر اور کفالت کرنے والا باہمت۔ حقیقی بادشاہ ۔ غلبہ والا۔ ہدایت دینے والا۔ قدردان۔ بہت کرم کرنے والا۔ بلند حاضر و موجود۔ اکیلا۔ مستدرک حاکم، ابوالشیخ ، وابن مردویہ، معافی التفسیر، و ابونعیم فی الاسما الحسن عن ابوہریرہ (رض)۔
1938 – "إن لله تسعة وتسعين اسما من أحصاها كلها دخل الجنة أسأل الله الرحمن الرحيم الإله الرب الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الخالق الباري المصور الحكيم (2) العليم السميع البصير الحي القيوم الواسع اللطيف الخبير الحنان المنان البديع الودود الغفور الشكور المجيد المبدي المعيد النور الهادي الأول الآخر الظاهر الباطن الغفور الوهاب الفرد الأحد الصمد الوكيل الكافي الباقي الحميد المقيت الدائم المتعالي ذو الجلال والإكرام الولي النصير الحق المبين المنيب الباعث المجيب المحيي المميت الجميل الصادق الحفيظ المحيط الكبير القريب الرقيب الفتاح التواب القديم الوتر الفاطر الرزاق العلام العلي العظيم الغني المليك المقتدر الأكرم الرؤوف المدبر المالك القاهر الهادي الشاكر الكريم الرفيع الشهيد الواحد ذو الطول والمعارج (2) ذو الفضل الخلاق الكفيل الجليل". (ك أبو الشيخ وابن مردويه معا في التفسير وأبو نعيم في الأسماء الحسنى عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم ۔۔ اسماء حسنی کے بیان میں
1935 ۔۔ بیشک اللہ رب العزت کے ننانے نام ہیں۔ یعنی اکم کم سو۔ وہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ جو ان کو یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اکیلا ہے۔ بےنیاز ہے۔ سب سے اول۔ سب سے آخر۔ ظاہر ۔ پوشیدہ ۔ اپنی سب صفات کے ساتھ ثابت ہر آفت سے سلامت رکھنے والا۔ امن دینے والا، نگہبان۔ زبردست ۔ بدی کو طاقت سے دفع کرنے والا۔ بڑائی کا مالک۔ نہایت مہربان ، بہت رحم کرنے والا۔ بھیدوں کو جاننے والا۔ مکمل خبر رکھنے والا۔ خوب سننے والا۔ خوب دیکھنے والا۔ خوب علم رکھنے والا۔ عظمت والا۔ حسن سلوک کرنے والا۔ صفات مخلوق سے برتر۔ بڑی بزرگی والا۔ زندہ۔ سب کو قائم رکھنے والا۔ قدرت والا۔ غلبہ والا۔ بہت بلند۔ حکمت والا۔ نزدیک۔ دعاؤں کو قبول کرنے والا۔ بے پروا۔ خوب جاننے والا۔ خوب دینے والا۔ محبت کرنے والا۔ قدردان۔ بزرگی والا۔ بالفعل ہر کمال سے متصف۔ متولی۔ ہدایت دینے والا۔ معاف کرنے والا۔ بخشنے والا۔ بردبار۔ بزرگی والا۔ توبہ قبول کرنے والا۔ پالنے والا۔ بزرگی والا۔ وارث۔ حاضر۔ واضح ۔ برہان شفقت کرنے والا۔ رحم کرنے والا۔ پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا۔ دوبارہ پیدا کرنے والا۔ پست کرنے والا۔ بلند کرنے والا۔ رزق وغیرہ تنگ کرنے والا۔ وسعت دینے والا۔ عزت دینے والا۔ ذلت دینے والا۔ انصاف دینے والا۔ رزق دینے والا۔ رزق رساں۔ بےانتہاقوت والا۔ قائم رکھنے والا۔ حفاظت کرنے والا۔ کام بنانے والا۔ پوشیدہ سننے والا۔ دینے والا۔ زندہ کرنے والا۔ موت دینے والا۔ روکنے والا۔ جمع کرنے والا۔ ہدایت دینے والا۔ کافی۔ ہمیشہ رہنے والا۔ جاننے والا۔ سچا روشن کرنے والا۔ کامل نواز نیت والا۔ بےنیاز۔ سب سے مقدم ۔ اکیلا۔ ایک بےنیاز وہ ہے جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔ بیہقی عن ابوہریرہ (رض)۔
1939 – "إن لله عز وجل تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا، إنه وتر يحب الوتر من حفظها دخل الجنة، الواحد الصمد الأول الآخر الظاهر الباطن الخالق البارئ المصور الملك الحق السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الرحمن الرحيم اللطيف الخبير السميع البصير العليم العظيم البار المتعالي الجليل الحي القيوم القادر القاهر العلي الحكيم القريب المجيب الغني الوهاب الودود الشكور الماجد الواجد الوالي الراشد العفو الغفور الحليم الكريم التواب المجيد الولي الشهيد المبين البرهان الرؤوف الرحيم المبدئ المعيد الباعث الوارث القوي الشديد الضار النافع الباقي والوافي الخافض الرافع القابض الباسط المعز المذل المقسط الرزاق ذو القوة المتين القائم الحافظ الوكيل الباطن السامع المعطي المحي المميت المانع الجامع الهادي الكافي الأبد العالم الصادق النور المنير التام القديم الوتر الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد". (هـ عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٩٤٠۔۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں تمام قرآن میں ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا جنت میں داخل ہوگا۔ ابن جریر۔ بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1940 – "إن لله تسعة وتسعين اسما، كلهن في القرآن من احصاها دخل الجنة". (ابن جرير عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
١٩٤١۔۔ اللہ کا اسم اعظم ان دوآیتوں میں ہے۔ والھکم الہ واحد، لاالہ الاھوالرحمن الرحیم۔ الم ، اللہ لاالہ الاھو الحی القیوم۔ مسنداحمد، ترمذی، ابن ماجہ، بروایت اسماء بنت یزید۔
1941 - "اسم الله الأعظم في هاتين الآيتين: {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} وفاتحة آل عمران {آلم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} . (حم د ت هـ عن اسماء بنت يزيد)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
١٩٤٢۔۔ اللہ کا اسم اعظم وہ ہے جس کے ذریعہ سے جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے اور وہ قرآن کی تین سورتوں میں ہے۔ البقرہ ، آل عمران طہ۔ ابن ماجہ۔ المستدرک للحاکم، الکبیر للطبرانی ، بروایت ابی امامہ۔
1942 – "اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب، في ثلاث سور في القرآن في البقرة وآل عمران وطه". (هـ ك طب عن أبي أمامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
١٩٤٣۔۔ اللہ کا اسم اعظم وہ ہے جس کے ذریعہ جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے وہ اس آیت میں ہے۔ قل اللھم مالک الملک ، الکبیر للطبرانی بروایت ابن عباس (رض)۔
1943 - "اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب في هذه الآية {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} الآية. (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
1944 ۔۔ اللہ کا اسم اعظم وہ جس کے ذریعہ سے جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے جو مانگا جائے عطا ہوتا ہے وہ حضرت یونس بن متی کی دعا لاالہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ ابن جریر بروایت سعد۔
1944 – "اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى دعوة يونس بن متى". (ابن جرير عن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
١٩٤٥۔۔ اللہ کا اسم اعظم سورة حشر کی آخری چھ آیات ہیں۔ الفردوس للدیلمی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1945 – "اسم الله الأعظم في ستة آيات من آخر سورة الحشر". (فر عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ اللہ کے اسم اعظم کے بیان میں
١٩٤٦۔۔ اے عائشہ ! کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ نے مجھے وہ اسم بتا دیتا ہے جس کے ذریعہ جب بھی دعا کی جائے قبول ہوتی ہے حضرت عائشہ نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا اے عائشہ ! وہ تیرے لیے مناسب نہیں ہے۔ ابن ماجہ۔ بروایت عائشہ (رض)۔
1946 – "يا عائشة هل علمت أن الله دلني على الإسم الذي إذا دعي به أجاب، قالت: إياه، قال: إنه لا ينبغي لك يا عائشة". (هـ عن عائشة) .
তাহকীক: