কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ১৯৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٩٤٧۔۔ کیا میں تمہیں اللہ کا اسم اعظم بتاؤں ؟ وہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وہ دعا حضرت یونس کے لیے خاص تھی ؟ آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کے بارے میں فرمان باری نہیں سنا۔ ونجیناہ من الغم وکذلک ننجی المومنین۔ اور ہم نے اس یونس کو نجات دی اس طرح ہم اور مومنین کو بھی نجات دیتے ہیں۔ اور جو مسلمان بھی اس دعا کو اپنے مرض میں چالیس مرتبہ پڑھے گا اگر اس کی اس مرضی میں موت آگئی تو شہادت کی موت مرے گا اور اگر صحت یاب ہوگیا ہو تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ المستدرک للحاکم، بروایت سعد۔
1947 – " هل أدلكم على اسم الله الأعظم، دعاء يونس، فقال رجل: يا رسول الله هل كانت ليونس خاصة؟ قال: ألا تسمع قوله عز وجل: {وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} . فأيما مسلم دعا بها في مرضه أربعين مرة فمات في مرضه ذلك أعطي أجر شهيد وإن برئ برئ مغفورا له". (ك عن سعد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٩٤٨۔۔ اس نے اللہ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے جس کے ذریعہ جو مانگاجاتا ہے عطا ہوتا ہے اور جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، ابوداؤد، ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، المستدرک للحاکم، ، السنن لسعید، بروایت انس (رض)۔ حضور نے کسی شخص کو یوں دعا کرتے سنا۔ اللھم انی اسئلک بان لک الحمد لاالہ الاانت وحدک لاشریک لک المنان بدیع السموات والارض ذوالجلال والاکرام۔ اے اللہ میں تجھ سے اس واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تمام تعریفیں تجھے ہی لائق ہیں تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، توتنہا ہے تیرا کوئی ساجھی نہیں تو احسان کرنے والا ہے آسمان و زمین کو بےمثل پیدا کرنے والا ہے بڑی بزرگی و عظمت والا ہے اے ہمیشہ زندہ اور ہر شے کو سنبھالنے والے۔ یہ سن کر آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
1948 – "لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي سئل به أعطى وإذا دعي به أجاب". (ش حم د ت ن هـ حب ك ص عن أنس) قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقول: "اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام يا حي يا قيوم، قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٩٤٩۔۔ تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا تھا جس کے ذریعہ جو مانگاجاتا ہے عطا ہوتا ہے اور جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے۔ ابن ابی شیبہ۔ ابن ماجہ، ابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت بریدہ۔ حضور نے کسی شخص کو یوں دعا کرتے سنا تھا۔ اللھم انی اسئلک بانک انت اللہ لاالہ الاانت لاحد الصمد، الذی لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفوا احد۔ اے اللہ میں تجھ سے اس واسطے سے سوال کرتا ہوں تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں توتنہا وبے نیاز ہے۔ جس نے کسی کو جنم دیا ہے اور نہ خود اس کو جنم دیا گیا ہے۔ یہ سن کر آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
1949 – "لقد سالت الله باسمه الأعظم الذي إذا سأل به أعطى وإذا دعي به أجاب". (ش هـ حب ك عن بريدة) قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقول: "اللهم إني أسألك بأنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفوا أحد قال: فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٩٥٠۔۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا، جس کے ذریعہ جب دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ جو مانگاجاتا ہے عطا ہوتا ہے۔ مسنداحمد، النسائی، ابن حبان، بروایت انس (رض)۔ اللھم انی اسئلک بان لک الحمد، لاالہ الاانت الحنان، المنان، بدیع السموات والارض ذو الجلال والاکرام۔

” اے اللہ میں تجھ سے اس واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تمام تعریفیں تجھے ہی لائق ہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو بڑا شفقت فرمانے والا ہے اور احسان کرنے والا ہے آسمان اور زمین کو بےمثل پیدا کرنے والا ہے اے بڑی بزرگی و عظمت والے۔ اے ہمیشہ یہ سن کر آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
1950 – "والذي نفسي بيده لقد سألت الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى". (حم ن حب عن أنس) قال: " سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت أنت الحنان المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حي يا قيوم، قال: فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥١۔۔ کیا میں تم کو وہ کلمہ نہ بتاؤں جو عرش کے نیچے خزینہ جنت سے ہے ؟ یہ کہ تم کہو : لاحول ولاقوۃ الابااللہ۔ بندہ جب یہ کلمہ کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں میرا بندہ مسلمان ہوگیا اور میرے سامنے سرتسلیم ختم ہوگیا۔ المستدرک للحاکم، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1951 - " ألا أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة، تقول: لا حول ولا قوة إلا بالله، فيقول الله: أسلم عبدي واستسلم.

(ك عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٢۔۔ کیا میں تم کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں ؟ وہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، المستدرک للحاکم، بروایت قیس بن سعید بن عبادہ۔
1952 – "ألا أدلك على باب من أبواب الجنة، لا حول ولا قوة إلا بالله". (حم ت ك عن قيس بن سعد بن عبادة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٣۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ، کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ ننانوے مصائب کے دروازے بند کرتا ہے۔ جن میں سے ادنی غم ہے۔ الضعفاء للعقلی ، (رح) بروایت جابر (رض)۔
1953 – "استكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها تدفع تسعة وتسعين بابا من الضرر أدناها الهم". (عق عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٤۔۔ وہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، اہل آسمان کا کلام ہے۔ التاریخ للخطیب، (رح) بروایت انس (رض)۔
1954 – "كلام أهل السموات لا حول ولا قوة إلا بالله". (خط عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٥۔۔ جس پر اللہ نے کوئی نعمت نازل فرمائی ہو، اور وہ اس کو آئندہ بھی باقی رکھنا چاہتا ہے تو اس کو کثرت سے ، لاحول ولاقوۃ الاباللہ، پڑھنا چاہیے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت عقبہ بن عامر (رض) ۔
1955 – "من أنعم الله عليه نعمة فأراد بقاءها فليكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله". (طب عن عقبة بن عامر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٦،۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ننانوے بیماریوں کی دواء ہے جن میں سے ادنی بیماری رنج وغم ہے۔ ابن ابی الدنیا فی الفرج عن ابوہریرہ (رض)۔
1956 – "لا حول ولا قوة إلا بالله دواء من تسعة وتسعين داء أيسرها الهم". (ابن أبي الدنيا في الفرج عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٧۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ الکامل، لابن عدی ، المسند لابی یعلی، الکبیر للطبرانی ، بروایت ابی ایوب ۔
1957 – "أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة". (عد ع طب عن أبي أيوب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٨۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ الکامل لابن عدی، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1958 – "أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنوز الجنة". (عد عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٥٩۔۔ جنت میں کثرت سے درخت لگاو، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی عمدہ ہے ، تو، لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، پڑھ کر کثرت سے درخت اگاؤ۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابن عمر (رض)۔
1959 – "أكثروا من غرس الجنة فإنها عذب ماؤها طيب ترابها، فأكثروا من غراسها لا حول ولا قوة إلا بالله". (طب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٠۔۔ کیا میں تمہیں ، لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، کی تفسیر نہ بتاؤں ؟ وہ یہ کہ مجھے کسی معصیت سے بچنے کی طاقت اللہ کی حفاظت کے بغیر نہیں ہے اور کسی نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے سوا نہیں ہے مجھے جبرائیل نے یہی بتایا ہے اے ابن ام عبد۔ عبداللہ بن مسعود، ابن النجار، بروایت ابن مسعود (رض)۔
1960 – "ألا أخبركم بتفسير قول لا حول ولا قوة إلا بالله لا حول عن معصية الله، إلا بعصمة الله، ولا قوة على طاعة الله إلا بعون الله هكذا أخبرني جبريل يا ابن أم عبد". (ابن النجار عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦١۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ، کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ ننانوے مصائب کے دروازے بند کرتا ہے جن میں سے ادنی غم ہے۔ الاوسط للطبرانی، بروایت جابر (رض)۔
1961 - "أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها تدفع تسعة وتسعين بابا من الضر أدناها الهم". (طس عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٢۔۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، کثرت سے کہا، رو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے اور جو اس کو کثرت سے پڑھے گا اللہ اس کی طرف نظررحمت فرمائیں گے۔ اور جس کی طرف اللہ نظررحمت فرمائیں ، اسے دونوں جہان کی بھلائیاں میسر ہوگئیں۔ ابن عساکر۔ بروایت ابی بکر (رض) ۔ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٦٢٣، کشف الخفاء ٥٠٢۔
1962 – "أكثروا من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة ومن أكثر منه نظر الله إليه ومن نظر الله إليه فقد أصاب خير الدنيا والآخرة". (ابن عساكر عن أبي بكر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٣۔۔ روئے زمین پر کوئی ایسابندہ نہیں ہے جوک ہے : لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، لاالہ الا اللہ واللہ اکبر، مگر اس کی تمام خطاؤں کا کفار ہوجائے گا۔ خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے بقدر ہوں۔ مسنداحمد، ترمذی، بروایت ابن عمر (رض)۔
1963 – "ما على الأرض أحد يقول لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله إلا كفرت عنه خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر". (حم ت عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٤۔۔ اے ابوذر ! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں۔ ؟ وہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ، ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، بروایت ابی ذر (رض) ۔
1964 – "يا أبا ذر ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة لا حول ولا قوة إلا بالله". (حم ت ن هـ حب عن أبي ذر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٥۔۔ اے حازم، لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ، کثرت سے کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ ابن ماجہ، بروایت حازم بن حرملہ الاسلمی (رض) ۔
1965 – "يا حازم أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنوز الجنة". (هـ عن حازم بن حرملة الأسلمي –
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسراباب۔۔۔ الحوقلہ کے بیان میں
١٩٦٦۔۔ اے عبداللہ بن قیس۔ تجھے ایک ایساکلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ، ہے۔ مسنداحمد، بخاری، مسلم، بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
1966 – "يا عبد الله بن قيس ألا أدلك على كلمة هي كنز من كنوز الجنة لا حول ولا قوة إلا بالله". (حم ق 4 (عن أبي موسى)) .
tahqiq

তাহকীক: