কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ১৮৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٤٧۔۔ اللہ کا ذکر کثرت سے کرو، کیونکہ اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کو کوئی شے محبوب نہیں اور بندے کے لیے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز خوف وڈر سے زیادہ نجات دلانے والی نہیں لوگوں کو جس طرح ذکر کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ اس پر جمع ہوجائیں تو راہ خدا میں کوئی جہاد کرنے والانہ رہے۔ شعب الایمان بروایت معاذ (رض) حدیث ضعیف ہے۔
1847 – "أكثروا ذكر الله فإنه ليس شيء أحب إلى الله ولا أنجى لعبده من خشيته في الدنيا والآخرة من ذكر الله تعالى، ولو أن الناس اجتمعوا على ما أمروا به من ذكر الله لم يكن مجاهد في سبيل الله وإن الجهاد شعبة من ذكر الله". (هب وضعفه عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٤٨۔۔ ہرچیز کے لیے ایک صیقل ہوتا ہے جو اس کے زنگ یا کسی بھی طرح کے میل کچیل کو زائل کرتا ہے اور دلوں کو صیقل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی ذکراللہ سے بڑھ کو کوئی شے نہیں خواہ تو تلوار اس قدر چلائے کہ وہ ٹوٹ جائے۔ شعب الایمان بروایت ابن عمر (رض)۔
1848 – "إن لكل شيء صقالة صاقل وإن صقالة القلوب ذكر الله وما من شيء أنجى من عذاب الله ولو أن تضرب بسيفك حتى ينقطع". (هب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٤٩۔۔ کیا میں تمہیں سب سے بہتر عمل جو پاکیزہ اور تمہارے درجات میں سب سے زیادہ ترقی کا سبب ہے اور اللہ کی راہ میں سونے چاندی کے خرچ کرنے سے بھی افضل ہے اور یہ کہ تمہاری صبح کو دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو اور تم ان کی گردن اڑاد و اور وہ تمہاری گردن اڑادیں اس سے بھی بڑھ کر عمل ۔۔ وہ اللہ کا زکر ہے۔ شعب الایمان بروایت ابن عمر (رض)۔
1849 – "ألا أخبركم بخير أعمالكم وأزكاها وأرفعها في درجاتكم، وخير ممن أعطى الذهب والورق، وخير من أنه لو غدوتم إلى عدوكم، فضربتم رقابهم وضربوا رقابكم اذكروا الله ذكرا كثيرا". (هب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥٠۔۔ صبح وشام اللہ کا ذکر کرو، جہاد میں تلوار توڑنے سے زیادہ بہتر ہے۔ اور خوب مال لٹانے سے بھی۔ ابن شاھین، فی الترغیب، فی الذکر بروایت ابن عمر (رض)۔ ابن ابی شیبہ۔ موقوفا ضعیف ہے۔ دیکھیے التنزیہ، ج ٢ ص ٣٢٧، ذخیرہ الحفاظ، ٤٤٣٧، ذیل الآلی، ١٤٩۔
1850 – "لذكر الله بالغداة والعشي أفضل من حطم السيوف في سبيل الله، ومن إعطاء المال سحاء". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن ابن عمر ش عنه موقوفا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥١۔۔ کسی آدمی نے ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی عمل عذاب خداوندی سے زیادہ نجات دینے والا نہیں کیا، صحابہ کرام نے عرض کیا کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ فرمایا نہ جہاد فی سبیل اللہ۔ الایہ کہ تم اپنی تلوار کے ساتھ اس قدر لڑو کہ وہ ٹوٹ جائے۔ پھر دوسری کے ساتھ لڑو اور وہ بھی ٹوٹ جائے۔ اور پھر تیسری کے ساتھ لڑو اور وہ بھی ٹوٹ جائے۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، الکبیر للطبرانی، بروایت معاذ (رض)۔
1851 – "ما عمل آدمي عملا أنجى له من عذاب الله من ذكر الله، قالوا: ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: ولا الجهاد إلا أن تضرب بسيفك حتى ينقطع ثم تضرب به حتى ينقطع ثم تضرب به حتى ينقطع". (ش حم طب عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥٢۔۔ تم میں سے جو شخص اس بات سے عاجز ہو کہ رات کی مشقت برداشت کرے اور مال خرچ کرنے سے بھی بخل، رکاوٹ ہو اور دشمن سے جہاد کرنے سے بھی بزدلی مانع ہو تو اس کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرے۔ الکبیر للطبرانی، شعب الایمان، ابن النجار، بروایت انس (رض)۔
1852 – "من عجز منكم عن الليل أن يكابده، وبخل بالمال أن ينفقه، وجبن عن العدو أن يجاهده، فليكثر من ذكر الله". (طب هب وابن النجار عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥٣۔۔ تم میں سے جو شخص رات کی مشقت برداشت کرنے سے ڈرتا ہوں اور دشمن سے جہاد کرنے سے بھی خوف مانع ہو اور مال خرچ کرنے سے بھی بخل رکاٹ ہو تو اس کو چاہے کہ وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرے ، ابن الشاھین، فی الترغیب بروایت ابن عباس (رض)۔
1853 – "من هاب منكم الليل أن يكابده، وخاف العدو أن يجاهده وضن بالمال أن ينفقه فليكثر من ذكر الله". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥٤۔۔ تم میں سے جو شخص رات کی مزقت برداشت کرنے سے لرزتاہو اور مال خرچ کرنے سے بھی بخل مانع ہو، اور دشمن سے جہاد کرنے سے بھی بزدلی آڑے آئے تو اس کو چاہیے کہ کثرت سے سبحان اللہ وبحمدہ، کہتا رہے کیونکہ اللہ کے نزدیک اس کی راہ میں سونے چاندی کے پہاڑ خرچ کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ الکبیر للطبرانی، ابن الشاھین، ابن عساکر، بروایت ابی امامہ۔
1854 – "من هاله الليل أن يكابده، وبخل بالمال أن ينفقه، وجبن العدو أن يقاتله، فليكثر أن يقول: سبحان الله وبحمده فإنها أحب إلى الله من جبل ذهب وفضة ينفقان في سبيل الله". (طب وابن شاهين وابن عساكر عن أبي أمامة ولفظ ابن شاهين فإنهما أحب إلى الله من جبل ذهب وفضة ينفقهما في سبيل الله. (وهو ضعيف) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٥٥۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والاایسا ہے جیسا کہ دوران جہاد راہ فرار اختیار کرنے والوں کے درمیان جہاد میں صبر کرنے والا۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابن مسعود (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔ نصیحۃ الداعیہ، ص ٢٠۔
1855 – "ذاكر الله في الغافلين بمنزلة الصابر في الفارين". (طب عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٥٦۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والاایسا ہے جیسا کہ دوران جہاد راہ فرار اختیار کرنے والوں کے درمیان جہاد میں صبر کرنے والا اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے تاریک گھر میں چراغ۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کو اس کا ٹھکانا شناخت کروادیاجاتا ہے۔ اور اس کے بعد اس سے عذاب کو دفع کردیاجاتا ہے۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنیوالے کو ہر انسان وحیوان کے برابر اجر ملتا ہے۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے وک اللہ ایسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد اس کو عذاب نہ فرمائیں گے اور بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے قیامت کے دن ملاقات کے وقت ایک ایک نور ہوگا۔ شعب الایمان بروایت ابن عمر (رض)۔
1856 – "ذاكر الله في الغافلين كالمقاتل عن الفارين، وذاكر الله في الغافلين كالمصباح في البيت المظلم وذاكر الله في الغافلين يعرف له مقعده، ولا يعذب بعده، وذاكر الله في الغافلين له من الأجر بعدد كل فصيح وأعجم، وذاكر الله في الغافلين ينظر الله إليه نظرة لا يعذبه أبدا، وذاكر الله في السوق له بكل شعرة نور يوم يلقى الله". (هب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٥٧۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال یوں ہے جیسے غازیوں کے ہمراہ قتال کرنے والے کی۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے تاریک گھر میں چراغ۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس سرسبز شاداب درخت کی سی ہے جو پت جھڑ درختوں کے جھنڈ میں ہو جن کے پتے سردی کی وجہ سے جھڑ گئے ہوں اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی اللہ تعالیٰ ہر انسان وجانور کی تعداد برابر مغفرت فرماتے ہیں۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا ٹھکانا بھی شناخت کروا دیتے ہیں۔ الحلیہ، شعب الایمان، ابن صھری فی امالیہ، ابن النجار، ابن شاھین، فی الترغیب بروایت ابن عمر (رض)۔ فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ، اور عمدہ متن لیکن غریب و ضعیف الفاظ پر مشتمل ہے۔
1857 – "ذاكر الله في الغافلين، مثل الذي يقاتل عن الفارين، وذاكر الله في الغافلين، كالمصباح في البيت المظلم، وذاكر الله في الغافلين كمثل الشجرة الخضراء في وسط الشجر الذي قد تحات من الصريد، وذاكر الله في الغافلين يغفر الله له بعدد كل فصيح وأعجم، وذاكر الله في الغافلين يعرفه الله عز وجل مقعده من الجنة". (حل هب وابن صهري في أماليه وابن شاهين في الترغيب وقال هذا حديث صحيح الإسناد حسن المتن غريب الألفاظ وابن النجار عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٥٨۔۔ ذکر راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے۔ الکبیر للطبرانی، بروایت معاذ بن انس (رض)۔
1858 – "الذكر يفضل على النفقة في سبيل الله مائة ضعف". (طب عن معاذ بن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٥٩۔۔ ذکر صدقہ سے بہتر ہے۔ اور روزوں سے بہتر ہے۔ ابوالشیخ ، بروایت ابوہریرہ۔
1859 – "الذكر خير من الصدقة والذكر خير من الصيام". (أبو الشيخ عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٠۔۔ اگر کوئی شخص اپنے حجرہ میں بیٹھ کر دراہم خرچ کرے اور دوسرا اللہ کا ذکر کرے تو اللہ کا ذکر کرنے والا بہتر ہے۔ ابن الشاھین، فی الترغیب بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔ جابر بن الوزاع راوی ہیں جس سے امام مسلم نے روایت کی ہے لیکن امام نسائی نے فرمایا کہ وہ منکر حدیث ہے۔
1860 – "لو أن رجلا في حجره دراهم يقسمها وآخر يذكر الله لكان الذاكر أفضل". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أبي موسى) وفيه جابر بن الوازع وروى له مسلم وقال (ن) : منكر الحديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦١۔۔ ذکرراہ خد ا میں مال خرچ کرنے سے سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے۔ ابن شاھین، فی الترغیب فی الذکر بروایت معاذ بن انس (رض)۔ ابن لہیعہ کے سوا اس روایت میں کوئی متکلم فیہ راوی نہیں ہے۔
1861 – "يفضل الذكر على النفقة في سبيل الله سبعمائة ضعف". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن معاذ بن أنس) وليس في سنده من تكلم فيه سوى ابن لهيعة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٢۔۔ جو تم اللہ کا ذکر کرتے ہو تسبیح وتحمید وتکبیر یہ سب عرش خداوندی کے گردمحوگردش رہتے ہیں، شہد کی مکھیوں کی مانند ان کی بھنبھاہٹ ہوتی ہے اس طرح وہ اپنے پڑھنے والے کا ذکر کرتی رہتی ہیں، تو کیا اب بھی کوئی یہ پسند نہ کرے گا کہ رحمن کے ہاں ہمیشہ اس کا کوئی ذکر کرانے والا رہے۔ الحکیم بروایت النعمان بن بشیر۔
1862 – "إن ما تذكرون من جلال الله وتسبيحه وتحميده وتكبيره وتهليله يتعاطفن حول العرش لهن دوي كدوي النحل يذكرن بصاحبهن أفلا يحب أحدكم أن لا يزال له عند الرحمن شيء يذكر به". (الحكيم عن النعمان بن بشير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٣۔۔ جو تم اللہ کا ذکر کرتے ہو تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل، یہ سب عرش خداوندی کے گردمحو گردش رہتے ہیں شہد کی مکھیوں کی مانند ان کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے اس طرح وہ اپنے پڑھنے والے کا ذکر کرتی رہتی ہیں، تو کیا اب بھی کوئی یہ پسند نہ کرے گا کہ رحمن کے ہاں ہمیشہ اس کا کوئی ذکر کرانے والا رے۔ مسنداحمد، ابن ابی شیبہ، الکبیر للطبرانی، المستدرک للحاکم، بروایت النعمان بن بشیر۔
1863 – "إن الذين يذكرون من جلال الله وتسبيحه وتحميده وتكبيره وتهليله، يتعاطفن حول العرش لهن دوي كدوي النحل يذكرن بصاحبهن أفلا يحب أحدكم أن لا يزال له عند الرحمن شيء يذكر به". (حم ش طب ك عن النعمان بن بشير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٤۔۔ جس طرح دونوں ہونٹ پر آپس میں نہیں ملتے ، اس طرح کوئی آسمان اور اس کا کلمہ کو اوپر جانے کے لیے بند نہیں کرتا، حتی کہ وہ عرش پر جاپہنچتا ہے۔ اور شہد کی مکھی کی مانند اس کی آواز ہوتی ہے وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے شفاعت کرتا ہے الدیلمی، بروایت جابر (رض)۔
1864 – "كما لا تلتقي الشفتان على قول لا إله إلا الله، كذلك لا تحجب عن سماء سماء حتى ينتهي إلى العرش لها دوي كدوي النحل تشفع لصاحبها". (الديلمي عن جابر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٥۔۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو وحی کی اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ تیرے گھر میں رہوں ؟ حضرت موسیٰ اللہ کے آگے سرسجدہ میں گرپڑے اور عرض کیا پروردگار آپ میرے ساتھ میرے گھر میں رہیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ کیا تجھے علم نہیں کہ جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتاہوں اور بندہ جہاں کہیں مجھے تلاش کرلیتا ہے پالیتا ہے۔ ابن شاھین، فی الترغیب فی الذکر، بروایت جابر (رض)۔ اس میں ایک راوی محمد بن جعفر المدائنی ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ میں اس سے کبھی روایت نہیں کرتا، اور محمد بن جعفر المدائنی سلام بن مسلم المدائنی سے روایت کرتے ہیں اور ان کی روایت زید العمی سے روایت کرتے ہیں جو قوی نہیں ہے۔
1865 – "أوحى الله تعالى إلى موسى، أتحب أن أسكن معك بيتك فخر لله ساجدا ثم قال: فكيف يا رب تسكن معي في بيتي، فقال: يا موسى أما علمت أني جليس من ذكرني، وحيثما التمسني عبدي وجدني". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن جابر) وفيه محمد بن جعفر المدائني قال أحمد: لا أحدث عنه أبدا عن سلام بن مسلم المدائني متروك عن زيد العمي ليس بالقوي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذاکرین کی مثال
١٨٦٦۔۔ اللہ فرماتے ہیں جب بندہ خلوت میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو خلوت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابن عباس (رض)۔
1866 - قال الله تعالى: "إذا ذكرني عبدي خاليا ذكرته خاليا وإذا ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير من الملأ الذي ذكرني فيه". (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক: