কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ১৮২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٢٧۔۔ جس نے کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا وہ نفاق سے بری ہوگیا۔ الصغیر للطبرانی، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1827 – "من أكثر ذكر الله فقد برئ من النفاق". (طص عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٢٨۔۔ جو کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہے اللہ اسکواپنا محبوب بنالیتا ہے۔ الدارقطنی ، بروایت عائشہ (رض)۔
1828 – "من أكثر ذكر الله أحبه الله تعالى". (قط عن عائشة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٢٩۔۔ جو کسی چیز سے محبت رکھتا ہے طبعا کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے۔ الفردوس للدیلمی، بروایت عائشہ (رض)۔
1829 – "من أحب شيئا أكثر ذكره" . (فر عن عائشة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٠۔۔ جس شخص نے اللہ کا ذکر کر کیا، پھر خشیت کی وجہ سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔۔ حتی کہ زمین پر بھی کچھ قطرات گرگئے تو اللہ قیامت کے روز اس کو عذاب نہ فرمائیں گے۔ المستدرک للحاکم، بروایت انس (رض)۔
1830 – "من ذكر الله ففاضت عيناه من خشية الله حتى يصيب الأرض من دموعه لم يعذبه الله يوم القيامة". (ك عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣١۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والاایسا ہے جیسا کہ غازیوں کے ہمراہ جہاد کرنے والا۔ الکبیر للطبرانی، بروایت ابن مسعود (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔ نصیحہ ، الداعیہ ص ٢٠
1831 – "ذاكر الله في الغافلين بمنزلة الصابر في الغازين" (2) . (طب عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٢۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال یوں ہے جیسے غازیوں کے ہمراہ قتال کرنے والے کی۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے تاریک گھر میں چراغ۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس سرسبز شاداب درخت کی سی ہے جو پت جھڑ درختوں کے جھنڈ میں ہو جن کے پتے سردی کی وجہ سے جھڑ گئے ہوں اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا ٹھکانا بھی شناخت کروا دیتے ہیں ، اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی اللہ تعالیٰ ہر انسان وجانور کی تعداد برابر مغفرت فرماتے ہیں۔ الحلیہ، بروایت ابن عمر (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھئے، ذخیرۃ الحفاظ ص ٢٩٠٩، الکشف الٰہی ص ٣٩٧۔۔
1832 – "ذاكر الله في الغافلين مثل الذي يقاتل مع الغازين وذاكر الله في الغافلين مثل المصباح في البيت المظلم، وذاكر الله في الغافلين كمثل الشجرة الخضراء في وسط الشجر الذي قد تحات من الصريد، وذاكر الله في الغافلين يعرفه الله عز وجل مقعده من الجنة، وذاكر الله في الغافلين يغفر الله له بعدد كل فصيح وأعجم". (حل عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٣۔۔ خلوت میں اللہ کا ذکر کرنے والاایسا ہے جیسا کہ کفار کی صفوں میں دشمنوں کو للکارنے والا۔ الشیرازی، فی الالقاب، بروایت ابن عباس (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔
1833 – "ذاكر الله خاليا كمبارزة إلى الكفار من بين الصفوف". (الشيرازي في الألقاب عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٤۔۔ میں طہارت کے بغیر اللہ کے ذکر کو ناپسندیدہ سمجھتاہوں۔ ابوداؤد، النسائی، ابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت مہاجر بن قفذ۔
1834 – "إني كرهت أن أذكر الله إلا على طهر". (د ن حب ك عن المهاجر بن قنفذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٥۔۔ لوگوں میں عظیم ترین درجات کے مالک اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ شعب الایمان بروایت ابی سعد۔
1835 – "أعظم الناس درجة الذاكرون الله". (هب عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٦۔۔ ہر حال میں اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ کیونکہ اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی شی اللہ کو محبوب نہیں اور بندے کے لیے بھی دنیا و آخرت میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کو کوئی چیز عذاب سے زیادہ نجات دلانے والی نہیں ۔ شعب الایمان بروایت معاذ (رض) نعہ۔
1836 – "أكثروا ذكر الله تعالى على كل حال، فإنه ليس عمل أحب إلى الله ولا أنجى لعبده من ذكر الله تعالى في الدنيا والآخرة". (هب عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٧۔۔ اللہ کا ذکر شفاء ہے اور لوگوں کا ذکر بیماری ہے۔ شعب الایمان بروایت مکحول مرسلا۔ حدیث ضعیف ہے۔
1837 – " إن ذكر الله شفاء وإن ذكر الناس دآء". (هب عن مكحول مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٨۔۔ صبح یاشام میں اللہ کا ذکر جہاد میں تلواریں توڑنے سے زیادہ بہتر ہے۔ الفردوس للدیلمی، بروایت انس (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھئے۔ التنزیہ، ج ٢ ص ٣٢٧، ذخیرۃ الحفاظ ٤٤٣٧، ذیل الآلی ١٤٩۔
1838 – "لذكر الله في الغداة والعشي خير من حطم السيوف في سبيل الله". (فر عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قطعہ زمین کا مقرر ہونا
١٨٣٩۔۔ وہ لوگ جو اپنی زبان اللہ کے ذکر میں تروتازہ رکھتے ہیں وہ جنت میں ہنستے مسکراتے داخل ہوجائیں گے۔ ابوالشیخ فی الثواب۔ بروایت ابی الدردائ۔ (رض) ۔
1839 – "الذين لا تزال ألسنتهم رطبة من ذكر الله يدخل أحدهم الجنة وهو يضحك". (أبو الشيخ في الثواب عن أبي الدرداء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت کلام قساوت قلب کا سبب ہے
١٨٤٠۔۔ ذکراللہ کے سوا کثرت کلام سے اجتناب کرو کیونکہ ذکراللہ کے سوا کثرت کلام دل کی قساوت کا شکار کردیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دورقسی القلب سخت دل شخص ہے۔ ترمذی، بروایت ابن عمر (رض)۔
1840 – "لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة القلب وإن أبعد الناس من الله القلب القاسي". (ت عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت کلام قساوت قلب کا سبب ہے
١٨٤١۔۔ تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر میں تروتازہ رہے۔ مسنداحمد، ترمذی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت عبداللہ بن بسر۔
1841 – "لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله". (حم ت هـ حب ك عن عبد الله بن بسر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت کلام قساوت قلب کا سبب ہے
١٨٤٢۔۔ اے لوگو اللہ کا ذکر کرتے رہو، راجفہ صو ر اول گویا کہ آچکا ہے۔ اس کے پیچھے پیچھے ردافہ صور ثانی بھی آگیا ہے راجفہ آچکا ، اس کے پیچھے پیچھے رادفہ بھی آگیا ہے۔ کیونکہ موت آئی تو ان سمیت آگئی۔ مسنداحمد، ترمذی، المستدرک للحاکم، بروایت ابی ۔ راجفہ صور اول پھونکے جانے کا نام ہے جس کا معنی زلزلہ وبھونچال ہے کیونکہ صور اول کی وجہ سے اس سے بھی ہول ناک کیفیت پیدا ہوگی اور تمام مخلوق فنا کے گھاٹ اتر جائے گی پھر چالیس سال بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس کو رارفہ کہا گیا جس کے معنی پیچھے آنے والا، چونکہ اول کے بعدیہ آئے گا اور اس سے تمام مردے جی اٹھیں گے۔
1842 – "يا أيها الناس اذكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه". (حم ت ك عن أبي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت کلام قساوت قلب کا سبب ہے
١٨٤٣۔۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جہنم سے ہراس شخص کو نکال لاؤ جس نے مجھے کسی دن بھی یاد کیا ہو، یا کسی موقع پر بھی مجھ سے ڈراہو۔ ترمذی، المستدرک للحاکم، بروایت انس (رض)۔
1843 - "يقول الله تعالى: أخرجوا من النار من ذكرني يوما أو خافني في مقام". (ت ك عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کثرت کلام قساوت قلب کا سبب ہے
١٨٤٤۔۔ اللہ جب کسی چیز کا ذکر فرماتے ہیں تو اس کا نام و مرتبہ عظیم و برتر ہوجاتا ہے۔ المستدرک للحاکم بروایت معاویہ (رض)۔
1844 – "إن الله إذا ذكر شيئا تعاظم ذكره" (ك عن معاوية) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٤٥۔۔ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک سب سے بلند مرتبہ وہ لوگ ہوں گے جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے تھے پوچھا گیا کہ فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو کفار و مشرکین سے اس قدر شمشیر زنی کریں کہ ان کی شمشیر ٹوٹ جائے اور خون آلود ہوجائے تو اللہ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والا اس سے بھی افضل درجہ میں ہوگا۔ مسنداحمد، ترمذی، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن الشاھین فی الذکر بروایت ابی سعید (رض) ۔
1845 – "أفضل العباد درجة عند الله يوم القيامة الذاكرون الله كثيرا، قيل ومن الغازي في سبيل الله، قال: لو ضرب بسيفه في الكفار والمشركين حتى ينكسر ويختضب دما لكان الذاكرون الله كثيرا أفضل منه درجة". (حم ت غريب (ع) وابن شاهين في الذكر عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٨٤٦۔۔ فرمایا ان میں سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے والا ! مسنداحمد، طبرانی، بروایت معاذ بن انس (رض)۔ حضور سے پوچھا گیا کہ کون سا مجاہد سب سے زیادہ اجرکامستحق ہے ؟ اور کون ساروزہ دار سب سے زیادہ اجرکامستحق ہے ؟ اسی طرح نماز زکوۃ ، اور صدقہ سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے سب کے جواب میں مذکورہ بالاارشاد فرمایا۔
1846 – "أكثرهم لله ذكرا". (حم طب عن معاذ بن أنس) قال: "سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي المجاهدين أعظم أجرا وأي الصائمين أعظم أجرا، وكذا الصلاة والزكاة والحج والصدقة " قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক: