কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ২৫০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2506 ۔۔ اللہ نے مجھ پر جن چیزوں کا خاص احسان فرمایا ہے، انہی میں مجھے فرمایا میں تجھے فاتحۃ الکتاب عطا کرتا ہوں اور یہ میرے عرش کے نیچے خزانوں میں سے ہے۔ اس کو میں نے اپنے اور تیرے درمیان نصف نصف تقسیم کرلیا ہے۔ (ابن الضریس، شعب الایمان بروایت انس (رض)) نصف نصف تقسیم کرلیا ہے۔ یعنی الحمد سے مالک یوم الدین میں رب کی توصیف وثناء ہے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین مشترک ہے اور اھدنا سے آخر تک بندہ کے لیے دعا ہے۔
2506 – "إن الله تعالى أعطاني فيما من به علي إني أعطيتك فاتحة الكتاب وهي من كنوز عرشي ثم قسمتها بيني وبينك نصفين". (ابن الضريس هب عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2507 ۔۔ ام القرآن اپنے سوا ہر شئی کا بدل ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کا بدل کوئی شئے نہیں ہوسکتی۔ (الدار قطنی ، المستدرک للحاکم بروایت عبادۃ)
2507 – " أم القرآن عوض عن غيرها وليس غيرها منها عوض". (قط ك عن عبادة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2508 ۔۔ کیا میں تمہیں قرآن کی سورتوں میں سب سے بہتر سورت نہ بتاؤں ؟ وہ الحمد للہ رب العالمین ہے۔ (مسند احمد بروایت عبداللہ بن جابر البیاض)
2508 – "ألا أخبرك بأخير سورة في القرآن الحمد لله رب العالمين". (حم عن عبد الله بن جابر البياض) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2509 ۔۔ ہر مہتم بالشان اور اہم کام، جس کی ابتداء " الحمد للہ " سے نہ کی جائے، وہ بےبرکت رہتا ہے۔ (بیہقی بروایت ابوہریرہ (رض))
2509 – "كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه بالحمد لله أقطع". (هـ هق عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2510 ۔۔ ہر ذی شان اور اہم کام، جس کی ابتداء الحمد للہ اور مجھ پر درود سے نہ کی جائے وہ بےبرکت اور دم بریدہ انجام تک نہ پہنچنے والا رہتا ہے۔ اس سے ساری برکت اٹھ جاتی ہے۔ الرھاوی بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
2510 – "كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه بحمد الله والصلاة علي فهو أقطع أبتر ممحوق من كل بركة". (الرهاوي عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2511 ۔۔ ہر مہتم بالشان جس میں الحمد للہ سے ابتداء نہ کی جائے و ادھورا رہتا ہے۔ (ابو داؤد بروایت ابوہریرہ (رض))
2511 – "كل أمر لا يبدأ فيه بحمد الله فهو أجذم". (د عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ بندہ اور رب کے درمیان منقسم ہے
2512 ۔۔ آمین بندگان مومنین کی زبان پر رب العالمین کی مہر ہے۔ (الکامل لابن عدی (رح)، الکبیر للطبرانی (رح) فی الدعاء بروایت ابوہریرہ (رض) )

یعنی دعا اور سورة فاتحہ کے اخیر میں آمین کہنا، گویا اس کی قبولیت پر اللہ سے مہر لگوا لینا ہے۔
2512 – "آمين خاتم رب العالمين على لسان عباده المؤمنين" (عد طب في الدعاء عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2513 ۔۔ قرآن میں سب سے عظیم سورت الحمد للہ رب العالمین ہے۔ بروایت ابی سعید بن المعلی۔
2513 – "أعظم سورة في القرآن الحمد لله رب العالمين". (عن أبي سعيد بن المعلى) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2514 ۔۔ کیا میں تجھے افضل القرآن نہ بتاؤں ؟ وہ الحمد للہ رب العالمین ہے۔ (سمویہ، ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم، شعب الایمان ضض بروایت انس (رض))
2514 – "ألا أخبرك بأفضل القرآن الحمد لله رب العالمين". (سمويه ش ك هب ض عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2515 ۔۔ اے عبداللہ بن جابر ! کیا میں تمہیں فرقان کی سورتوں میں سب سے بہترین سورة نہ بتاؤں ؟ وہ الحمد للہ رب العالمین ہے۔ (مسند احمد، السنن لسعید بروایت عبداللہ بن جراد البیاضی)

عبداللہ بن جراد البیاضی کے متعلق کوئی ذکر نہیں کہ وہ کیسا شخص تھا لہٰذا اس کی روایت درست نہیں۔ (میزان ج 2 ص 400) ۔
2515 – "ألا أخبرك يا عبد الله بن جابر بأخير سورة في الفرقان (1) الحمد لله رب العالمين" (حم ص عن عبد الله بن جراد البياضي) (2)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2516 ۔۔ اے جابر ! کیا میں تمہیں وہ بہترین سورة نہ بتاؤں جو قرآن میں نازل ہوئی ہے۔ وہ فاتحۃ الکتاب ہے۔ اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے۔ (شعب الایمان بروایت جابر)
2516 – "يا جابر ألا أخبرك بخير سورة نزلت في القرآن فاتحة الكتاب فيها شفاء من كل داء". (هب عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2517 کیا میں تمہیں وہ بہترین سورة نہ بتاؤں جو توراۃ میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی انجیل و قرآن میں نازل ہوئی ؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تم جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو ؟ عرض کیا فاتحۃ الکتاب۔ فرمایا بس وہی وہی۔ اور یہ بار بار دھرائی جانے والی سورت ہے۔ یہ اور قرآن مجھے عطا کیا گیا ہے۔ (عبد بن حمید، الدارمی، ابن خزیمہ، الزواند لابن احمد، المستدرک للحاکم بروایت ابوہریرہ (رض) عن ابی بن کعب (رض))
2517 – "ألا أعلمك سورة ما أنزل في التوراة ولا في الزبور ولا في الإنجيل ولا في القرآن قال: بلى، قال: كيف تقرأ إذا قمت تصلي؟قال: بفاتحة الكتاب، قال: هي هي، وهي السبع المثاني، والقرآن العظيم الذي أوتيت". (عبد بن حميد والدارمي وابن خزيمة) (عم ك) من طريق أبي هريرة عن أبي بن كعب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2518 ۔۔ توراۃ و انجیل میں ام القرآن جیسی کوئی سورت نہیں۔ اور یہ بار بار دھرائی جانے والی سورت ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم شدہ ہے۔ اس میں جو بندے کے سوال ہیں وہ اس کو عطا ہوں گے۔ (الصحیح لابن حبان بروایت ابی (رض) بن کعب)
2518 – "ما في التوراة ولا في الإنجيل مثل أم القرآن، وهي السبع المثاني، وهي مقسومة بيني وبين عبدي، ولعبدي ما سأل". (حب) عن أبي بن كعب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2519 ۔۔ الحمد للہ رب العالمین سات آیات ہیں ان میں سے ایک " بسم اللہ الرحمن الرحیم " ہے۔ اور یہ سبع مثانی اور قرآن کریم ہے۔ یہی ام القرآن ہے۔ یہی فاتحۃ الکتاب ہے۔ (السنن للبیہقی (رح) بروایت ابوہریرہ (رض) )

حدیث ضعیف ہے۔ النافلۃ ص 145)
2519 – "الحمد لله رب العالمين سبع آيات إحداهن بسم الله الرحمن الرحيم، وهي السبع المثاني والقرآن العظيم، وهي أم القرآن، وهي فاتحة الكتاب". (ق) عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2520 ۔۔ اللہ نے مجھ پر جن چیزوں کا خاص احسان فرمایا ہے، انہی میں مجھے فرمایا میں تجھے فاتحۃ الکتاب عطا کرتا ہوں اور یہ میرے عرش کے نیچے خزانوں میں سے ہے۔ اس کو میں نے اپنے اور تیرے درمیان نصف نصف تقسیم کردیا ہے۔ (ابن الضریس، شعب الایمان بروایت انس (رض)) نصف نصف تقسیم کرلیا ہے۔ یعنی الحمد سے مالک یوم الدین میں رب کی توصیف وثناء ہے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین مشترک ہے اور اھدنا سے آخرتک بندہ کے لیے دعا ہے۔
2520 – "إن الله عز وجل أعطاني فيما من به علي إني أعطيتك فاتحة الكتاب، وهي كنز من كنوز عرشي، ثم قسمتها بيني وبينك نصفين". (ابن الضريس هب) عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2521 ۔۔ فاتحۃ الکتاب عرش کے نیچے خزانوں میں سے نازل ہوئی ہے۔ الدیلمی بروایت علی (رض)۔
2521 – "نزلت فاتحة الكتاب من كنز تحت العرش". (الديلمي) عن علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2522 ۔۔ جس نے ام القرآن اور قل ھو اللہ احد پڑھی، گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا۔ ابو نعیم بروایت ابن عباس (رض)۔
2522 – "من قرأ أم القرآن وقل هو الله أحد فكأنما قرأ ثلث القرآن". (أبو نعيم) عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البقرۃ ق
2523 قرآن میں افضل ترین سورت سورة البقرۃ ہے۔ اور اس میں عظیم ترین آیت آیۃ الکرسی ہے۔ شیطان جس گھر میں سورة البقرۃ پڑھی جاتی سن لے، اس سے نکل جاتا ہے۔ (الحارث و ابن الضریس، محمد بن نصر بروایت الحسن مرسلا)
2523 – "أفضل القرآن سورة البقرة، وأعظم آية فيها آية الكرسي وإن الشيطان ليخرج من البيت أن يسمع يقرأ فيه سورة البقرة". (الحارث وابن الضريس ومحمد بن نصر) عن الحسن مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البقرۃ ق
2524 ۔۔ اپنے گھروں میں سورة البقرۃ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورة البقرۃ پڑھی جاتی ہو۔ (المستدرک للحاکم، شعب الایمان بروایت ابن مسعود (رض))
2524 – "اقرؤوا سورة البقرة في بيوتكم، فإن الشيطان لا يدخل بيتا تقرأ فيه سورة البقرة". (ك هب) عن ابن مسعود.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البقرۃ ق
2525 ۔۔ قرآن میں افضل ترین سورت سورة البقرۃ ہے۔ اور افضل ترین آیت آیۃ الکرسی ہے۔ البغوی فی معجمہ بروایت ربیعۃ الجرشی۔
2525 – "أفضل القرآن سورة البقرة، وأفضل آي آية الكرسي". (البغوي في معجمه) عن ربيعة الجرشي
tahqiq

তাহকীক: