কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ২৪২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2426 ۔۔ قرآن دس لاکھ ستائیس ہزار حروف کا مجموعہ ہے۔ جس نے اس کو صبر اور ثواب کی امید کے ساتھ پڑھا اس کے لیے ہر حرف کے بدلہ ایک حور عین ہوگی۔ (الاوسط للطبرانی (رح)۔ ابن مردویہ، ابو نصر السجزی فی الابانۃ روایت عمر (رض))

حدیث ضعیف ہے مصنف فرماتے ہیں ابو نسر کی روایت سند و متن دونوں ضعف رکھتے ہیں۔ نیز اس میں قرآن کے مضمون کی مخالفت بھی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ تلاوت منسوخ ہوگئی ہو، جبکہ مضمون کی افادیت یونہی موجود و ثابت ہو۔

خلاصہ کلام ۔۔۔ احقر عرض کرتا ہے حدیث ضعیف ہے، دیکھئے المغیر 106 ۔
2426 – "القرآن ألف ألف حرف وسبعة وعشرون ألف حرف فمن قرأه صابرا محتسبا فله بكل حرف زوجة من الحور العين". (طس وابن مردويه وأبو نصر السجزي في الابانة) عن عمر قال: أبو نصر غريب الإسناد والمتن وفيه زيادة على ما بين اللوحين ويمكن حمله على ما نسخ منه تلاوة مع المثبت بين اللوحين اليوم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2427 ۔۔ جس نے حالت قیام میں نماز میں قرآن پڑھا، اس کے لیے ہر حرف کے عوض سو نیکیاں ہوں گی۔ جس نے بیٹھ کر نماز میں قرآن پڑھا، اس کے لیے ہر حرف کے عوض پچاس نیکیاں ہوں گی۔ جس نے بغیر نماز کے پڑھا اس کے لیے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ہوں گی۔ جس نے قرآن کوسنا اس کے لیے ہر حرف کے عوض ایک نیکی ہوگی۔ الدیلمی بروایت انس (رض)۔
2427 – " من قرأ القرآن في صلاة قائما كان له بكل حرف مائة حسنة ومن قرأه قاعدا كان له بكل حرف خمسون حسنة ومن قرأه في غير صلاة كان له بكل حرف عشر حسنات ومن استمع إلى كتاب الله كان له بكل حرف حسنة". (الديلمي) عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2428 ۔۔ نماز میں قرآن پڑھنا غیر نماز میں قرآن پڑھنے سے افضل و بہتر ہے۔ غیر نماز میں قرآن پڑھنا دوسرے ذکر و اذکار سے بہتر ہے۔ ذکر صدقہ سے بہتر ہے۔ صدقہ روزے سے بہتر ہے۔ روزہ جہنم سے ڈھال ہے۔ عمل کے بغیر قول کا اعتبار نہیں۔ عمل اور قول ہر دو کا نیت کے بغیر اعتبار نہیں۔ عمل، قول اور نیت کسی چیز کا اتباع سنت کے بغیر اعتبار نہیں۔ (ابو نصر السجزی فی الابانۃ بروایت ابوہریرہ (رض) )

حدیث کا مضمون و سند ہر دو ضعیف ہیں۔
2428 – " قرآن في صلاة خير من قرآن في غير صلاة، وقرآن في غير صلاة خير مما سواه من الذكر والذكر خير من الصدقة والصدقة خير من الصيام والصيام جنة حصينة من النار، ولا قول إلا بعمل ولا قول ولا عمل إلا بنية ولا قول ولا عمل ولا نية إلا باتباع السنة". (أبو نصر السجزي) في الابانة عن أبي هريرة وقال: غريب المتن والإسناد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2429 ۔۔ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف سنا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ دس خطائیں محو کی جائیں گی۔ دس درجات بلند کیے جائیں گے۔ جس نے بیٹھ کر نماز میں قرآن پڑھا، اس کے لیے ہر حرف کے عوض پچاس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ پچاس خطائیں محو کی جائیں گی۔ پچاس درجات بلند کیے جائیں گے۔

اور جس نے حالت قیام میں نماز میں قرآن کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے عوض سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔ سو خطائیں محو کی جائیں گی ۔ سو درجات بلند کیے جائیں گے۔ اور جس نے اتنا پڑھا کہ ختم تک پہنچا دیا اللہ اس کی دعا قبول فرمائیں گے خواہ تاخیر کیوں نہ ہوجائے۔ (الکامل لابن عدی (رح)، شعب الایمان بروایت ابن عباس (رض))
2429 – "من استمع حرفا من كتاب الله ظاهرا كتبت له عشر حسنات ومحيت عنه عشر سيئات ورفعت له عشر درجات ومن قرأ حرفا من كتاب الله في صلاة قاعدا كتبت له خمسون حسنة ومحيت عنه خمسون سيئة ورفعت له خمسون درجة ومن قرأ حرفا من كتاب الله قائما كتبت له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة ورفعت له مائة درجة ومن قرأ فختمه كتب الله عنده دعوة مستجابة أو مؤخرة". (عد هب) عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2430 ۔۔ جو قرآن کی فاتحہ میں یعنی کسی کے قرآن شروع کرتے وقت حاضر ہوا وہ گویا کہ راہ خدا میں کسی معرکہ کی فتح میں شریک ہوا۔ جو ختم قرآن پر حاضر ہوا گویا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے موقعہ پر حاضر ہوا۔ محمد بن نصر، ابن الضریس بروایت ابی قلابہ مرسلا۔
2430- "من شهد فاتحة الكتاب حين يستفتح كان كمن شهد فتحا في سبيل الله ومن شهد خاتمته حين يختمه كان كمن شهد الغنائم حين تقسم". (محمد بن نصر وابن الضريس) عن أبي قلابة مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2431 ۔۔ جو قرآن کی فاتحہ میں حاضر ہوا وہ گویا کہ راہ خدا میں لڑے جانے والے معرکوں کی فتح میں شریک ہوا۔ جو ختم قرآن پر حاضر ہوا وہ گویا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے موقعہ پر حاضر ہوا۔ ابو الشیخ۔ الدیلمی بروایت مختلف اسناد کے حضرت ابن مسعود (رض) سے۔
2431- "من شهد فتح القرآن فكأنما شهد فتوح المسلمين حين تفتح ومن شهد ختم القرآن فكأنما شهد الغنائم حين تقسم". (الشيخ والديلمي من طريقين) عن ابن مسعود.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے درجات کی تعداد
2432 ۔۔ قرآن پڑھتا رہ، قرآن پر سکینہ نازل ہوتی ہے۔ (مسند احمد، الصحیح للبخاری (رح)۔ الصحیح لمسلم بروایت البراء (رض)) ۔ ایک شخص نے سورة کہف کی تلاوت کی تو گھر میں بندھا ایک جانور بدکنے لگا دیکھا تو ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ اس کا ذکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
2432- "اقرأ فانها السكينة تنزلت للقرآن". (حم خ م) عن البراء قال: قرأ رجل الكهف وفي الدار دابة فجعلت تنفر فاذا ضبابة غشيته فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2433 ۔۔ اے اسید پڑھتا رہتا ۔ کیونکہ ملائکہ تیری آواز سن رہے تھے۔ اگر تو یوں ہی پڑھتا رہتا تو آسمان و زمین کے درمیان بادل کا سا سائبان رونما ہوجاتا، جسے تمام لوگ دیکھتے اور اس میں ملائکہ ہوتے۔ (الکبیر للطبرانی (رح) بروایت محمود بن لبید عن اسید بن حضیر)

حضرت اسید (رض) بن حضیر سے مروی ہے کہ انھوں نے رات کے پہر تلاوت شروع کی۔ ان کا گھوڑا بندھا ہوا تھا، وہ اپنے دائرے میں چکر کاٹنے لگا۔ تو انھوں نے تلاوت موقوف کردی۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔
2433- "اقرأ يا أسيد فإن الملائكة لم تزل يستمعون صوتك فلو قرأت أصبحت ظلة بين السماء والأرض يترآها الناس فيها الملائكة". (طب) عن محمود بن لبيد عن أسيد بن حضير إنه قرأ ليلة وفرسه مربوطة فادار الفرس في رباطه فانصرف فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2434 ۔۔ اے اسید پڑھتا رہتا۔ کیونکہ یہ تو ایک فرشتہ تھا، جو قرآن سن رہا تھا۔ (المصنف لعبد الرزاق (رح) الکبیر للطبرانی (رح)۔ بروایت ابی سلمۃ حضرت اسید (رض) بن حضیر شب کو نماز میں مشغول تھے۔ وہ خود فرماتے ہیں اچانک میں نے دیکھا کہ مجھے ابر کے ٹکڑے نے ڈھانپ لیا اور اس میں چراغ سے جل رہے ہیں۔ تو میں نے نماز موقوف کردی۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔
2434 – "اقرأ يا أسيد فإن ذلك ملك استمع القرآن" (عب في المصنف طب عن أبي سلمة) قال: بينا أسيد بن حضير يصلي بالليل قال: إذ غشيتني مثل السحابة فيها مثل المصابيح فانصرفت فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم حين أصبحت قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2435 ۔۔۔ کوئی قوم مجتمع ہو کر کتاب اللہ کا آپس میں دور نہیں کرتی، مگر وہ اللہ کی مہمان بن جاتی ہے۔ اور ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس مجلس سے کھڑے ہوجائیں یا کسی اور گفتگو میں مصروف ہوجائیں۔

اور جو بندہ اس خطرہ کے پیش نظر، کہ کہیں علم ناپید ہوجائے، علم کی تلاش و جستجو میں نکل کھڑا ہوا۔ یا کوئی بندہ اس خوف کے دامن گیر ہونے پر کہ کہیں علم مٹ جائے، اس کو لکھنے اور نقل کرنے کی غرض سے نکلا۔ وہ شب و روز جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف غازی کی طرح ہوگا۔ اور جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ جائے، اس کا حسب نسب اس کو کبھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ (الکبیر للطبرانی (رح) بروایت ابی الرزین)
2435 – " ما من قوم يجتمعون على كتاب الله عز وجل يتعاطونه بينهم إلا كانوا أضيافا لله وإلا حفتهم الملائكة حتى يقوموا أو يخوضوا في حديث غيره وما من عبد يخرج في طلب علم مخافة أن يموت أو في انتساخه مخافة أن يدرس إلا كان كالغادي الرائح في سبيل الله عز وجل ومن يبطيء به عمله لا يسرع به نسبه". (طب) عن أبي الرزين (1)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2436 ۔۔ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کوئی قوم مجتمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور آپس میں اس کا درس نہیں دیتی، مگر ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے۔ رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر خیر اپنے پاس حاضر ملائکہ سے فرماتے ہیں۔ اور جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ جائئے، اس کا حسب و نسب اس کو کبھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ (المصنف لعبد الرزاق بروایت ابوہریرہ (رض))
2436 – "ما جلس قوم في مسجد من مساجد الله يتلون كتاب الله ويتدارسون بينهم إلا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده ومن أبطأ به عمله لم يسرع به نسبه". (عب) عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2437 ۔۔۔ جس گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کی جاتی ہے، اس مبارک گھر میں ملائکہ حاضری دیتے ہیں۔ شیاطین اور آسیبی اثرات وہاں سے دفعان ہوجاتے ہیں۔ اس گھر والوں میں وسعت و فراخی خوب ہوجاتی ہے۔ خیر بڑھ جاتا ہے، شر کم ہوجاتا ہے۔ اور جس گھر میں قرآن کی تلاوت نہیں کی جاتی۔ شیاطین اور برے اثرات اس گھر میں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں۔ ملائکہ وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اس گھر والوں کے مال و رزق وغیرہ میں عسرت و تنگدستی ہوجاتی ہے۔ خیر کم ہوجاتا ہے۔ شر بڑھ جاتا ہے۔ (محمد بن نصر بروایت انس (رض)، ابن ابی شیبہ، محمد بن نصر بروایت انس (رض)، ابن ابی شیبہ ، محمد بن نصر بروایت ابوہریرہ (رض) موقوفا)
2437 – "البيت إذا قرئ فيه القرآن حضرته الملائكة وتنكبت عنه الشياطين واتسع على أهله وكثر خيره وقل شره وإن البيت إذا لم يقرأ فيه حضرته الشياطين وتنكبت عنه الملائكة وضاق على أهله وقل خيره وكثر شره". (محمد بن نصر عن أنس) (ش) ومحمد بن نصر عن أبي هريرة موقوفا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2438 ۔۔ یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو فرمایا اے بنی اسرائیل ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم فرماتا ہے اس کی کتاب پڑھو۔۔ اور اس کی کتاب پڑھنے والوں کی مثال یوں ہے کہ ایک قوم اپنے قلعہ میں ہے۔ ان کا دشمن اس قلعہ کا رخ کرتا ہے۔ اہل قلعہ قلعہ کے ہر ہر گوشہ میں پہرا بٹھا دیتے ہیں۔ دشمن آ کر جس جانب کا بھی رخ کرتا ہے وہاں محافظین قلعہ کو چوکس پاتا ہے، جو اس کو ہر اطراف سے دھکیل دیتے ہیں۔ تو بس یہی مثال قرآن پڑھنے والوں کی ہے۔ جو اپنے قلعہ و حفاطت گاہ میں محفوظ و پر امن ہیں۔ (السنن للبیہقی (رح) بروایت علی (رض))
2438 – "قال يحيى بن زكريا: يا بني إسرائيل إن الله تعالى يأمركم أن تقرؤوا الكتاب، ومثل ذلك كمثل قوم في حصنهم سار إليهم عدوهم وقد تبدو له (2) في كل ناحية من نواحي الحصن قوم فليس يأتيهم عدوهم من ناحية إلا وجد (3) من يردهم من حصنهم وكذلك من يقرأ القرآن لا يزال في حرز وحصن". (ق) (1) عن علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2439 ۔۔۔ اے معاذ ! اگر تو خواہشمند ہے۔۔ سعادت مندوں کی زندگی کا ! شہیدوں کی موت کا ! یومِ حشر کی نجات کا ! یوم خوف سے امن کا ! تاریکیوں کے دن روشنی کا ! تپتے دن سائے کا ! پیاس و تشنگی کے دن سیرابی کا ! بےسروسامانی کے دن وزن اعمال کا ! گمراہی و بھٹکنے کے دن سیدھی راہ کا ! تو ۔۔۔ تو قرآن کو سینے سے لگا اور اس کو پڑھ۔ بیشک وہ رحمن کا ذکر ہے۔ شیطان سے حفاظت ہے اور میزان عمل میں گراں وزن ہے۔ (الدیلمی بروایت غضیف بن الحارث)
2439 - "يا معاذ إن أردت عيش السعداء وميتة الشهداء والنجاة يوم الحشر والأمن يوم الخوف والنور يوم الظلمات والظل يوم الحرور والري يوم العطش والوزن يوم الخفه والهدى يوم الضلالة فادرس القرآن فإنه ذكر الرحمن وحرز من الشيطان ورجحان في الميزان. (الديلمي) عن غضيف بن الحارث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2440 ۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں جس کو تلاوت قرآن نے مجھ سے دعا وسوال کرنے سے مشغول رکھا، میں اس کو شکر گزاروں سے افضل عطا کروں گا۔ (ابن الانباری فی الوقف و ابو عمرو الدانی فی طبقات القراء بروایت ابی سعید)
2440 - "يقول الله تبارك وتعالى: من شغله قراءة القرآن عن دعائي ومسألتي أعطيته أفضل ثواب الشاكرين". (ابن الأنباري) في الوقف وأبو عمر والداني في طبقات القراء عن أبي سعيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2441 ۔۔۔ دل بھی لوہے کی مانند زنگ آ لود ہوجاتے ہیں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! ان کی جلاء کیا ہے ؟ فرمایا تلاوت قرآن۔ (محمد بن نصر، الخرائطی فی اعتلال القلوب، الحلیہ، شعب الایمان، الخطیب بروایت ابن عمر (رض))
2441 - "إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد قيل يا رسول الله فما جلاؤها قال: تلاوة القرآن". (محمد بن نصر والخرائطي) في اعتلال القلوب. (حل هب) والخطيب عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2442 اس کی تلاوت قرآن کریم عنقریب اس کو اس سے روک دے گی۔ (السنن لسعید بروایت جابر (رض)) حضرت جابر (رض) راوی حدیث کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نے کہا کہ فلاں شخص رات کو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے لیکن صبح کو چوری کرتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
2442 - "ستنهاه قراءته". (ص عن جابر) قال: قيل يا رسول الله إن فلانا يقرأ بالليل كله فإذا أصبح سرق قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کہف کی فضیلت
2443 ۔۔۔ جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تفسیر و معانی کو بھی جان لیا لیکن پھر بھی اس پر عمل نہ کیا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ (ابو نعیم بروایت انس (رض))
2443 - "من قرأ القرآن وعرف تأويله ومعانيه ولم يعمل به تبوأ مضجعه من النار". (أبو نعيم عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی شفاعت
2444 ۔۔ روز قیامت قرآن آدمی کے حلیہ میں آئے گا۔ پس ایک شخص کو پیش کیا جائے گا، جس نے اس قرآن کو آدمی کے حلیہ میں اٹھا رکھا ہوگا۔ لیکن اس اٹھانے والے نے اس کا حق نہ ادا کیا ہوگا ۔ تو وہ اس کے خلاف مدعی بنے گا اور کہے گا اے پروردگار ! اس نے مجھے اٹھایا۔ لیکن یہ برا اٹھانے والا ہے۔ اس نے میری حدود کو پامال کیا ۔ میرے فرائض کو ضائع کیا۔ میری نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ میری طاعت کو خیر آ باد کہا۔ سو اس طرح قرآن اس کے خلاف طرح طرح کے الزامات عائد کرے گا۔ آخر اس کو کہا جائے گا تمہارا اختیار ہے، اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ لے گا اور اس وقت تک نہیں چھوڑے گا۔ جب تک کہ اس کو منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دے۔ پھر ایک نیکو کار شخص کو لایا جائے گا اس نے بھی اس کو اٹھا رکھا ہوگا۔ اور اس کے حقوق کی حفاظت کی ہوگی۔ اس کے لیے اس پر سوار قرآن حمایتی بن کر سامنے آئے گا اور کہے گا اس مجھے اٹھایا اور میری حدود کی رعایت کی۔ میرے فرائض پر عمل کیا۔ میری نافرمانی سے اجتناب کیا۔ میری طاعت کا متبع رہا۔ اس طرح قرآن اس کے حق میں طرح طرح کی خوبیاں شمار کرائے گا۔ حتی کہ اسے کہا جائے گا جا تیرا اختیار ہے، اس کے ساتھ جو چاہے کر۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ لے گا اور اس وقت تک نہیں چھوڑے گا۔ جب تک کہ اس کو ریشم کا حلہ زیب تن نہ کرا دے اور بادشاہت کا تاج اس کے سر پر نہ رکھوا دے اور جام شراب نہ پلوا دے۔ (ابن ابی شیبہ، ابن الضریس بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ)
2444 – "يمثل القرآن يوم القيامة رجلا فيؤتى بالرجل قد حمله فما نفد أمره (1) فيتمثل له خصما فيقول: يا رب حملته أياي فبئس حاملي تعدى حدودي وضيع فرائضي وركب معصيتي وترك طاعتي فما يزال يقذف عليه بالحجج حتى يقال فشأنك به فيأخذه بيده فما يرسله حتى يكبه على منخره في النار، ويؤتى بالرجل الصالح قد كان حمله وحفظ أمره فيتمثل له خصما دونه فيقول: يا رب حملته أياي فحفظ حدودى وعمل بفرائضي واجتنب معصيتي واتبع طاعتي فما يزال يقذف له بالحجج حتى يقال له شأنك به، فيأخذ بيده فما يرسله حتى يلبسه حلة الاستبرق ويعقد عليه تاج الملك ويسقيه كأس الخمر". (ش وابن الضريس عن عمرو) بن شعيب عن أبيه عن جده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم کی شفاعت
2445 ۔۔۔ جس نے کسی امیر کے پاس حرص کے تقاضا سے کتاب اللہ پڑھی، اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلے اس پر لعنت فرمائیں گے۔ اور پھر اس پر یہ ایک لعنت دس لعنتیں بن کر برسیں گی۔ اور روز قیامت قرآن اس سے جھگڑے گا۔ تب یہ شخص اپنی ہلاکت کو روئے گا۔ انہی لوگوں کے متعلق کہا گیا ہے آج اپنے لیے صرف ای 9 ک ہلاکت پر اکتفاء نہ کرو بلکہ اپنے لیے بہت سی ہلاکتیں پکارو۔ الآیۃ۔ (المسند لابی یعلی بروایت ابن عمر (رض) الدیلمی بروایت ابی الدرداء (رض)) دیلمی کی روایت میں ایک راوی عمرو بن بکر السلس کی ہے۔ اور یہ راوی غیر معتبر ہے اس کی مرویات منکر ہیں۔ مزید تفصیل دیکھئے میزان الاعتدال ج 5 ص 300 ۔
2445 – "من قرأ عند أمير كتاب الله لعنه الله بكل حرف قرأ عنده لعنة، ولعن عشر لعنات ويحاجه القرآن يوم القيامة فينادي هنالك ثبورا فهو ممن يقال له {لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوراً وَاحِداً وَادْعُوا ثُبُوراً كَثِيراً} الآية. (الديلمي) عن أبي الدرداء وفيه عمروبن بكر السكسكي (2) (ع) عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক: