কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ২৩৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2346 ۔۔ جس نے تہائی قرآن یاد کرلیا اور اس پر عمل پیرا ہوگیا اس نے تہائی امر نبوت حاصل کرلیا۔ اور جس نے نصف قرآن یاد کرلیا اور اس پر عمل پیرا وگیا اس نے نصف امر نبوت حاصل کرلیا۔ اور جس نے مکمل قرآن یاد کرلیا اور اس پر عمل پیرا ہوگیا اس نے مکمل امر نبوت حاصل کرلیا۔ (اور جس نے مکمل قرآن یاد کرلیا اور اس پر عمل پیرا ہوگیا اس نے مکمل قرآن یاد کرلیا اور اس پر عمل پیرا ہوگیا اس نے مکمل امر نبوت حاصل کرلیا۔ (ابن الانباری فی المصاحف شعب الایمان بروایت الحسن مرسلا)
2346 – " من أخذ ثلث القرآن وعمل به فقد أخذ أمر ثلث النبوة، ومن أخذ نصف القرآن وعمل به فقد أخذ أمر نصف النبوة ومن أخذ القرآن كله فعمل به فقد أخذ النبوة كلها". (ابن الانباري في المصاحف هب) عن الحسن مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2347 ۔۔ جس نے قرآن پڑھا، اس نے نبوت کو اپنی پسلیوں کے درمیان لے لیا۔ صرف یہ کہ اس پر وحی نہیں اترتی۔ صاحب قرآن کو ہرگز زیب نہیں دیتا کہ کسی غصہ ور کے ساتھ غصہ کرے ۔ اور کسی جاہل کے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے۔ جبکہ اس کے سینے میں اللہ کا کلام ہے۔ (المستدرک للحاکم، شعب الایمان بروایت ابن عمرو)
2347 – "من قرأ القرآن فقد استدرج النبوة من جنبيه غير أنه لا يوحى إليه، لا ينبغي لصاحب القرآن أن يحد (1) مع من حد ولا يجهل مع من يجهل وفي جوفه كلام الله". (ك هب) عن ابن عمرو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2348 ۔۔ جس نے تہائی قرآن یاد کرلیا اس کو تہائی امر نبوت عطا کردیا گیا اور جس نے نصف قرآن یاد کرلیا اس کو نصف امر نبوت عطا کردیا گیا۔ اور جس نے دو تہائی قرآن یاد کرلیا اس کو دو تہائی امر نبوت عطا کردیا گیا اور جس نے مکمل قرآن یاد کرلیا اس کو مکمل امر نبوت عطا کردیا گیا۔ صرف یہ کہ اس پر وحی نہیں اترتی، اور اس کو کہا جائے گا پڑھتا جا چڑھتا جا۔ پھر وہ ہر آیت پر ایک ایک درجہ بلند ہوتا جائے گا۔ حتی کہ قرآن کا آخری مقام آجائے گا۔ پھر اس کو کہا جائے گا کہ اپنی مٹھی بند کر۔ وہ مٹھی بند کرے گا۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا کیا جانتے ہو تمہاری مٹھی میں کیا ہے ؟ دیکھے گا تو ایک ہاتھ میں جنت الخلد کا پروانہ اور دوسری میں جنت النعیم کا پروانہ ہے۔ (ابن الانباری فی المصاحف، شعب الایمان، ابن عساکر بروایت ابی امامۃ (رض) )
علامہ ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ (الخطیب بروایت ابن عمر (رض)۔
علامہ ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں۔ (الخطیب بروایت ابن عمر (رض)۔
2348 – "من قرأ ثلث القرآن فقد أعطي النبوة، ومن قرأ نصف القرآن فقد أعطي نصف النبوة، ومن قرأ ثلثيه فقد أعطي ثلثي النبوة، ومن قرأ القرآن كله فقد أعطي النبوة كلها غير أنه لا يوحى إليه، ويقال له يوم القيامة اقرأ وارقه فيقرأ ويصعد بكل آية درجة حتى ينجز ما معه من القرآن ثم يقال له اقبض فيقبض ثم يقال له هل تدري ما في يدك فإذا في يده اليمنى الخلد وفي يده الأخرى النعيم". (ابن الأنباري في المصاحف هب وابن عساكر عن أبي أمامة) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب. (الخطيب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2349 ۔۔ جس نے قرآن پڑھا، اس نے نبوت کو اپنی پسلیوں کے درمیان لے لیا۔ صرف یہ کہ اس پر وحی نہیں اترتی۔ اور جس نے قرآن پڑھا۔ پھر اس نے کسی اور دنیاوی شان و شوکت والے کے متعلق گمان کیا کہ وہ اس سے افضل نعمت ہے۔ تو درحقیقت اس نے ذلیل و پست چیز کو عظیم خیال کیا۔ اور افضل ترین نعمت کی حقارت و ناقدری کی۔ اور حامل قرآن کو مناسب نہیں کہ کسی بیوقوف کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرے اور یہ کہ کسی غصہ ور کے ساتھ غصہ کرے۔ اور کسی سخت طبع کے ساتھ سختی و تیزی کا سلوک کرے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ فضیلت قرآنیہ کی وجہ سے عفو و درگزر سے کام لے۔ (محمد بن نصر، الکبیر للطبرانی (رح) بروایت ابن عمرو (رض) ابن ابی شیبہ عنہ موقوف)
2349 – "من قرأ القرآن فكأنما استدرجت النبوة بين جنبيه غير أنه لا يوحى إليه، ومن قرأ القرآن فرأى أن أحدا أعطي أفضل مما أعطى فقد عظم ما صغر الله وصغر ما عظم الله وليس ينبغي لحامل القرآن أن يسفه فيمن يسفه أو يغضب فيمن يغضب أو يحتد فيمن يحتد ولكن يعفو ويصفح لفضل القرآن". (محمد بن نصر طب) عن ابن عمرو (ش عنه) موقوفا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2350 ۔۔ جس نے قرآن پڑھا، پھر اس نے کسی اور دنیاوی شان و شوکت والے کے متعلق گمان کیا کہ وہ اس سے افضل نعمت ہے۔ تو درحقیقت اس نے ذلیل و پست چیز کو عظیم خیال کیا۔ اور افضل ترین نعمت کی حقارت و ناقدری کی۔ اور حامل قرآن کو مناسب نہیں کہ کسی سخت طبع کے ساتھ سختی و تیزی کا سلوک کرے۔ اور نہ یہ کہ کسی جاھل کے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ عظمت قرآنیہ کی وجہ سے عفو درگزر سے کام لے۔ (الخطیب بروایت ابن عمر (رض))
2350 – "من قرأ القرآن فرأى أن من خلق الله أعطي أفضل مما أعطي فقد صغر ما عظم الله وعظم ما صغر الله لا ينبغي لحامل القرآن أن يحد فيمن يحد ولا يجهل فيمن يجهل ولكن يعفو ويصفح لعز القرآن" (الخطيب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2351 ۔۔ تم میں بہترین شخص و ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ (ابن عساکر بروایت عثمان)
2351 – "خيركم من تعلم القرآن وعلمه". (كر عن عثمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2352 ۔۔ تم میں بہترین اور معزز شخص و ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ ابن عساکر بروایت عثمان)
2352 – "إن من خياركم وأفاضلكم من تعلم القرآن وعلمه". (كر) عن عثمان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2353 ۔۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ اور قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے، جیسے اللہ کی فضیلت تمام مخلوق پر۔ نیز یہ کہ یہ قرآن کا منبع بھی وہی ذات قدسی ہے۔ ابن الضریس، شعب الایمان بروایت عثمان۔
2353 – "خيركم من تعلم القرآن وعلمه، وفضل القرآن على سائر الكلام كفضل الله على خلقه وذلك أنه منه". (ابن الضريس هب) عن عثمان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2354 ۔۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ الکبیر للطبرانی (رح) بروایت ابن مسعود (رض)۔
2354 – "خيركم من قرأ القرآن وأقرأه- انتهى". (طب) عن ابن مسعود.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2355 ۔۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔ حامل قرآن کی دعا قبول ہوتی ہے وہ جو مانگتا ہے قبول ہوتا ہے۔ (شعب الایمان بروایت ابی امامۃ (رض))
2355 – "خيركم من قرأ القرآن وأقرأه، لحامل القرآن دعوة مستجابه يدعو بها فيستجاب له" (هب) عن أبي أمامة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2356 ۔۔ یہ قرآن اللہ کا دستر خوان ہے۔ سو جتنا ہوسکے ، سیکھ لو۔ اور یہ قرآن اللہ کی رسی اور واضح نور ہے۔ شفاء دینے والا نفع مند ہے۔ جس نے اس کو تھاما وہ محفوظ ہوگیا۔ جس نے اس کی پیروی کی، اس کے لیے نجات دہندہ ہے۔ اس کی راہ کج نہیں ہوتی، جس کو درست کیا جائے۔ نہ جادہ حق سے منحرف ہوتی کہ اس کو واپس لایا جائے۔ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ بار بار دھرانے سے بوسیدہ نہیں ہوتا۔ اس کی تلاوت کرو۔ اللہ تمہیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں مرحمت فرمائے گا۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے۔ جس پر دس نیکیاں ملیں گی۔ لام ایک حرف ہے۔ اور میں کسی کو نہ پاؤں کہ وہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے نخوت و غرور سے سورة بقرہ کو ترک کیے بیٹھا ہے۔ اس کی تلاوت کرو کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جس میں سورة بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔ گھروں میں خالی و ویران گھر وہ دل ہے جو کتاب اللہ سے خالی ہو۔ (ابن ابی شیبہ، محمد بن نصر، ابن الانباری فی کتاب المصاحف، المستدرک للحاکم، شعب الایمان بروایت ابن مسعود (رض))
2356 – "إن هذا القرآن مأدبة الله، فتعلموا من مأدبته ما استطعتم إن هذا القرآن هو حبل الله والنور المبين، والشفاء النافع عصمة لمن تمسك به، ونجاة لمن اتبعه لا يعوج فيقوم ولا يزيغ فيستعتب ولا تنقضي عجائبه ولا يخلق عن كثرة الرد، فاتلوه فإن الله تعالى يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات، أما إني لا أقول آلم حرف ولكن ألف ولام وميم ولا ألفين أحدكم واضعا إحدى رجليه يدع أن يقرأ سورة البقرة فإن الشيطان يفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة، وإن أصفر البيوت لجوف أصفر (1) من كتاب الله". (ش ومحمد بن نصر وابن الانباري في كتاب المصاحف ك هب عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2357 ۔۔ افضل ترین عبادت تلاوت قرآن ہے۔ ابن قانع بروایت اسیر بن جابر التمیمی۔ (ابو نصر السجزی فی الابانۃ بروایت انس (رض))
2357 – "أفضل العبادة قراءة القرآن". (ابن قانع عن أسير بن جابر التميمي) (أبونصر السجزي في الابانة عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2358 ۔۔ میری امت کی افضل ترین عبادت دیکھ کر تلاوت قرآن کرنا ہے۔ (الحکیم بروایت عبادۃ بن الصامت)
2358 – "أفضل عبادة أمتي قراءة القرآن نظرا". (الحكيم عن عبادة بن الصامت) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2359 ۔۔ میری امت کی افضل ترین عبادت قراءت قرآن ہے۔ (شعب الایمان السجزی فی الابانۃ بروایت النعمان بن بشیر)
2359 – "أفضل عبادة أمتي قراءة القرآن". (هب والسجزي في الابانة والديلمي) عن النعمان بن بشير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2360 ۔۔ قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے ، جیسے اللہ کی فضیلت تمام مخلوق پر۔ (ابن الضریس بروایت شہر بن حوشب مرسلا)
2360 – " إن فضل كلام الله على سائر الكلام كفضل الله على سائر خلقه". (ابن الضريس) عن شهر بن حوشب مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں صاحب قرآن کا اونچا مقام۔
2361 ۔۔ قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے، جیسے اللہ کی فضیلت تمام مخلوق پر۔ کیونکہ وہی اس کا منبع و سرچشمہ ہے اور وہی انتہاء و معاد۔ (ابن النجار بروایت عثمان)
2361 – "إن فضل القرآن على سائر الكلام كفضل الله على خلقه، وذلك أن القرآن منه خرج وإليه يعود". (ابن النجار عن عثمان رضي الله عنه – (1) إنكم لن ترجعوا إلى الله بشيء أحب إليه من شيء خرج منه يعني القرآن. (ك عن جبير بن نفير عن بن عامر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پاک افضلیت کا بیان
2362 ۔۔ قرآن اللہ کے سوا ہر چیز سے افضل ہے۔ قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے۔ جیسے اللہ کی فضیلت تمام مخلوق پر۔ جس نے قرآن کی توقیر کی، اس نے اللہ کی توقیر کی۔ جس نے قرآن کی توقیر نہ کی، اس نے اللہ کے حق کی اہانت کی۔ اللہ کے ہاں قرآن کی حرمت و عظمت ایسی ہے، جیسے کہ والد کے ہاں اپنی اولاد کی۔ قرآن ایسا شفاعت کنندہ ہے، جس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے اور ایسا مدعی ہے، جس کا دعوی تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس کے لیے قرآن نے شفاعت کی، سن لی گئی۔ جس کے خلاف جھگڑا کیا، اسے تسلیم کیا گیا۔ جس نے اس کو اپنے آگے آگے رکھا، یہ اس کو جنت تک پہنچا دے گا۔ اور جس نے اس کو پسِ پشت ڈال دیا، اسے جہنم تک ہانک کر آئے گا۔ حاملین قرآن ہی اللہ کی رحمت کے سائے میں ہیں۔ اس کے نور کے ساتھ متصف ہیں۔ کلام الہی کو سیکھنے والے ہیں۔ جس نے ان سے دشمنی مول لی، اس نے درحقیقت اللہ سے جنگ مول لی۔ جس نے ان سے دوستی نبھائی، درحقیقت اللہ سے دوستی کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے حاملین کتاب اللہ ! اس کی کتاب کی عزت و عظمت قائم کرو، اور اللہ کی اس پکار کا جواب دو ۔ وہ تم سے بڑھ کر محبت کرے گا اور اپنی مخلوق کے ہاں بھی تم کو ہر دلعزیز کردے گا۔ سننے کے لیے قرآن کی طرف کان لگانے والے سے دنیا کی تکلیف دفع کردی جاتی ہے اور پڑھنے والے سے آخرت کی مصیبت دفع کردی جاتی ہے۔ قرآن کی ایک آیت سنے والے کے لیے یہ سونے کے پہاڑ سے بہتر ہے۔ اور قرآن کی ایک آیت تلاوت کرنے والے کے لیے یہ آسمان کے تلے کی تمام اشیاء سے بہتر ہے۔ قرآن میں ایک سورت ہے، جس کو اللہ کے ہاں عظیمہ سے پکارا جاتا ہے۔ اس کے پڑھنے والے کو اللہ کے ہاں بلایا جائے گا اور یہ سورت اس کے لیے قبیلہ ربیعۃ و مضر سے زیادہ افراد کے بارے میں شفاعت کرے گی۔ اور یہ " سورة یس " ہے۔ (السجزی فی الابانۃ بروایت عائشۃ (رض))
یہ حدیث حسن ہے اس کی اسناد میں مقبول سے کم سے کم درجہ راوی نہیں ہے۔ (الحکیم بروایت محمد بن علی مرسلا) (المستدرک للحاکم فی تاریخہ بروایت محمد بن الحنفیہ عن علی بن ابی طالب موصولا)
یہ حدیث حسن ہے اس کی اسناد میں مقبول سے کم سے کم درجہ راوی نہیں ہے۔ (الحکیم بروایت محمد بن علی مرسلا) (المستدرک للحاکم فی تاریخہ بروایت محمد بن الحنفیہ عن علی بن ابی طالب موصولا)
2362 – "القرآن أفضل من كل شيء دون الله، وفضل القرآن على سائر الكلام كفضل الله على خلقه فمن وقر القرآن فقد وقر الله ومن لم يوقر القرآن فقد استخف بحق الله وحرمة القرآن عند الله كحرمة الوالد على ولده القرآن شافع مشفع وماحل مصدق فمن شفع له القرآن شفع، ومن محل (2) به القرآن صدق ومن جعل القرآن أمامه قاده إلى الجنة، ومن جعله خلفه ساقه إلى النار، حملة القرآن هم المحفوفون برحمة الله الملبسون نور الله المتعلمون كلام الله من عاداهم فقد عادى الله، ومن والاهم فقد والى الله يقول الله عز وجل يا حملة كتاب الله، استجيبوا لله بتوقير كتابه يزدكم حبا ويحببكم إلى خلقه يدفع عن مستمع القرآن سوء الدنيا ويدفع عن تالي القرآن بلوى الآخرة، ولمستمع آية من كتاب الله خير له من صبير ذهبا (1) وتالي آية من كتاب الله خير له مما تحت أديم السماء وإن في القرآن لسورة تدعى العظيمة عند الله يدعى صاحبها الشريف عند الله تشفع لصاحبها (2) يوم القيامة في أكثر من ربيعة ومضر وهي يس. "
(أبو نصر السجزي في الابانة عن عائشة وقال: هذا من أحسن الحديث وأعز به (3) وليس في إسناده إلا مقبول ثقة الحكيم عن محمد بن علي مرسلا) (ك في تاريخه عن محمد بن الحنفية عن علي بن أبي طالب موصولا) .
(أبو نصر السجزي في الابانة عن عائشة وقال: هذا من أحسن الحديث وأعز به (3) وليس في إسناده إلا مقبول ثقة الحكيم عن محمد بن علي مرسلا) (ك في تاريخه عن محمد بن الحنفية عن علي بن أبي طالب موصولا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پاک افضلیت کا بیان
2363 ۔۔ قرآن اللہ کے ہاں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (ابو نعیم بروایت ابن عمرو)
2363 – "القرآن أحب إلى الله من السموات والأرض، ومن فيهن". (أبو نعيم عن ابن عمرو) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پاک افضلیت کا بیان
2364 ۔۔ قرآن کے ساتھ تبرک لو کیونکہ وہ کلام الہی ہے۔ (الکبیر للطبرانی (رح)، ابن قانع بروایت الحکیم بن عمیر)
2364 – "تبرك بالقرآن، فإنه كلام الله". (طب وابن قانع عن الحكيم بن عمير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پاک افضلیت کا بیان
2365 ۔۔ خود اللہ سے جو چیز نکلی ہے، بندہ اس کے سوا کسی اور چیز کے ساتھ اللہ کا زیادہ تقرب حاصل نہیں کرسکتا، یعنی قرآن (مطین، ابن مندہ بروایت زید بن ارطاۃ عن جبیر بن نوفل (رض) ۔
2365 – "ما يقرب عبد إلى الله بأفضل مما خرج منه يعني القرآن". (مطين وابن مندة عن زيد بن ارطأة عن جبير بن نوفل (1)
তাহকীক: