কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৫০১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5012: ۔۔ اسماء بنت عمیس (رض) فرماتی ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ کلمات سکھائے ہیں جو میں مصیبت کے وقت پڑھتی ہوں :

اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر، 3848 ۔
5012- عن أسماء بنت عميس قالت "علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن عند الكرب: الله الله ربي لا أشرك به شيئ ا". "ش وابن جرير". مر برقم [3848] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5013: ۔۔ اسماء بنت عمیس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی غمزدہ بات پیش آتی یا کوئی تکلیف لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے :

اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا۔ رواہ ابن جریر۔
5013- عن أسماء بنت عميس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا نزل به أمر يغمه، أو نزل به هم أو كرب قال: الله الله ربي لا أشرك به شيئا". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم بادشاہ سے خوف کے وقت پڑھے۔
5014: ۔۔ (علی بن الحسین) عامر بن صالح سے مروی ہے کہ میں فضل بن ربیع کو اپنے والد ربیع کی طرف سے یہ قصہ نقل کرتے ہوئے سنا :

کہ جب خلیفہ منصور مدینہ آیا تو اس کے پاس چند لوگوں نے آ کر حضرت جعفر بن محمد (رح) کی چگل خوری کی اور بولے وہ تو آپ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتا، آپ کی عیب جوئی کرتا ہے اور آپ کو سلام تک کرنا روا نہیں رکھتا۔ خلیفہ منصور نے ربیع کو کہا : اے ربیع ! جعفر بن محمد کو میرے پاس لاؤ۔ اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو اللہ مجھے قتل کردے۔ ربیع کہتے ہیں۔ میں نے ان کو بلایا اور وہ تشریف لائے اور خلیفہ منصور سے بات چیت کی یہاں تک کہ خلیفہ منصور کا غصہ فرو ہوگیا۔ جب جعفر نکل کر جانے لگے تو میں نے ان سے پوچھا :

اے ابو عبداللہ ! آپ نے کوئی دعا پڑھی تھی میں بھی وہ جاننا چاہتا ہوں۔ فرمایا : ہاں میرے دادا حضرت علی (رض) بن حسین (رض) (زین العابدین (رح)) فرماتے تھے جس کو کسی بادشاہ کے ظلم اور غصہ کا خوف ہو تو وہ یہ دعا پڑھ لے :

اللهم احرسني بعينک التی لا تنام ، وأکنفني بکنفک الذی لا يرام واغفر لي بقدرتک علي ، والا هلكت وأنت رجائي ، فکم من نعمة قد انعمت بها علي قل لک عندها شكرى ؟ وکم من بلية قد ابتليتنی بها قل لک عندها صبری ، يا من قل عند نعمته شكري فلم يحرمني ، ويا من قل عند بليته صبری فلم يخذلني ، ويا من رأني علی الخطايا فلم يفضحني ويا ذا النعماء التی لا تحصی ويا ذا الايادي التی لا تنقضي ، أستدفع مکروه ما أنا فيه ، وأعوذ بک من شره يا أرحم الراحمين۔

اے اللہ میری حفاظت فرما اپنی اس آنکھ کے ساتھ جو سوتی نہیں، مجھے اپنی امان میں رکھ جو کبھی جھکتی اور زائل نہیں ہوتی۔ مجھ پر اپنی قدرت کے باوجود میری مغفرت کر، ورنہ میں تو ہلاکت میں جا پڑوں گا تو ہی میرا آسرا ہے۔ تیری کتنی نعمتیں ہیں جو تو نے مجھ پر انعام فرمائیں لیکن میں نے ان کا شکر بہت تھوڑا کیا۔ کتنی مصیبتوں کے ساتھ تو نے میری آزمائش کی لیکن میں زیادہ صبر نہ کرسکا۔ اے وہ ذات جس کی نعمتوں کا میں نے بہت کم شکر ادا کیا لیکن پھر بھی اس نے مجھے محروم نہیں کیا اے وہ ذات جس کی آزمائشوں پر میں نے بہت کم صبر کیا لیکن اس نے مجھے شرمندہ نہ کیا۔ اے وہ ذات جس نے مجھے گناہوں میں ملوث دیکھا مگر مجھے رسوا نہ کیا اے نعمتوں والی ذات جس کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں اے احسانوں والے جو کبھی ختم نہیں ہوتے میں تجھ سے اس تکلیف سے نجات مانگتا ہوں جس میں میں مبتلا ہوں اور میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں یا ارحم الراحمین۔ رواہ ابن النجار۔
5014- "علي بن الحسين" عن عامر بن صالح قال: سمعت الفضل بن الربيع يحدث عن أبيه الربيع، قال: "قدم المنصور المدينة فأتاه قوم فوشوا بجعفر بن محمد، وقالوا: إنه لا يرى الصلاة خلفك، ولا ينقصك ولا يرى التسليم عليك، فقال: يا ربيع ائتني بجعفر بن محمد، قتلني الله إن لم أقتله، فدعوت به، فلما دخل عليه كلمه إلى أن زال عنه الغضب، فلما خرج قلت له يا أبا عبد الله همست بكلام أحببت أن أعرفه، قال نعم كان جدي علي ابن الحسين يقول: من خاف من سلطان ظلامة أو تغطرسا فليقل: اللهم احرسني بعينك التي لا تنام، وأكنفني بكنفك الذي لا يرام واغفر لي بقدرتك علي، وإلا هلكت وأنت رجائي، فكم من نعمة قد أنعمت بها علي قل لك عندها شكري؟ وكم من بلية قد ابتليتني بها قل لك عندها صبري، يا من قل عند نعمته شكري فلم يحرمني، ويا من قل عند بليته صبري فلم يخذلني، ويا من رآني على الخطايا فلم يفضحني ويا ذا النعماء التي لا تحصى ويا ذا الأيادي التي لا تنقضي، أستدفع مكروه ما أنا فيه، وأعوذ بك من شره يا أرحم الراحمين". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم بادشاہ سے خوف کے وقت پڑھے۔
5015: ۔۔ (مرسل ابی جعفر محمد بن علی بن الحسین) ابو جعفر (رح) سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا : فراخی و کشادگی کے کلمات یہ ہیں :

لا إله الا اللہ العلي العظيم ، سبحان اللہ رب العرش الکريم ، الحمد لله رب العالمين ، اللهم اغفر لي وارحمني و تجاوز عني ، واعف عني فانک غفور رحيم۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عالی (و) عظیم ہے، پاک ہے وہ اللہ عرش کریم کا پروردگار، تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اے اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھ سے در گذر فرما اور مجھے معاف فرما بیشک تو معاف کرنے والا مہربان ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
5015- "مرسل أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين" عن أبي جعفر قال: كلمات الفرج: "لا إله إلا الله العلي العظيم، سبحان الله رب العرش الكريم، الحمد لله رب العالمين، اللهم اغفر لي وارحمني وتجاوز عني، واعف عني فإنك غفور رحيم". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم بادشاہ سے خوف کے وقت پڑھے۔
5016: ۔۔ (درمک بن عمرو عن ابی اسحاق عن البراء) حضرت براء (رض) فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور اپنی وحشت (اور تنہائی کا شکوہ کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو یہ وظیفہ زیادہ پڑھنے کی تلقین فرمائی :

سبحان الملک المقدوس رب الملائکۃ والروح، جللت السموات والارض بالعزۃ والجبروت۔

پاک ہے بادشاہ برکت والا جو ملائکہ اور روح الامین (جبرئیل (علیہ السلام)) کا رب ہے۔ (اے اللہ بیشک تو) نے آسمانوں اور زمین کو اپنی عزت و طاقت کے ساتھ عظمت بخشی۔

اس آدمی نے یہ کلمات کہے تو اس کی وحشت دور ہوگئی۔ (ابن السنی، الاوسط للطبرانی، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، ابن شاہین، ابو نعیم، ابن عساکر)

کلام : ۔۔۔ المغنی میں ہے درمک بن عمرو کی ابو اسحاق سے ایک ہی روایت ہے اور وہ اس میں متفرد ہے۔ میزان میں ہے کہ درمک بن عمرو ابو اسحاق سے منکر خبر کو تفردا روایت کرتا ہے۔ ابو حاتم (رح) فرماتے ہیں (درمک) مجہود ہے۔ علامہ عقیلی (رح) فرماتے ہیں ان کی حدیث کا کوئی تابع (مثال) نہیں ملتی۔ امام طبرانی فرماتے ہیں : درمک اسی روایت کے ساتھ معروف ہے۔ ابن شاہین (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت حسن غریب ہے۔ میزان الاعتدال 2/26 بحوالہ کنز ج 2 ص 663
5016- عن درمك بن عمرو عن أبي إسحاق عن البراء "أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فشكى إليه الوحشة، فقال أكثر من أن تقول: سبحان الملك القدوس رب الملائكة والروح، جللت السموات والأرض بالعزة والجبروت، فقالها ذلك الرجل فذهب عنه الوحشة ". "ابن السني طس والخرائطي في مكارم الأخلاق وابن شاهين وأبو نعيم كر" قال في المغني درمك بن عمرو عن أبي إسحاق له حديث واحد تفرد به، وقال في الميزان: درمك بن عمرو عن أبي إسحاق تفرد بخبر منكر، قال أبو حاتم مجهول، وقال عق: لا يتابع على حديثه، وقال طس: لا يعرف إلا به وقال ابن شاهين: حسن غريب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان سے حفاظت کی دعا
5017: ۔۔ (زبیر بن عوام (رض)) ہشام بن عروۃ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خلافت پر بیٹھنے سے قبل میرے والد حضرت عروہ بن زبیر کے پاس آئے اور بتایا کہ میں نے گزشتہ رات عجیب قصہ دیکھا۔ میں اپنے مکان کی چھت پر چت لیٹآ ہوا تھا۔ میں نے راستے میں چلنے پھرنے کی آوازیں سنیں۔ نیچے جھانک کر دیکھا تو سمجھا کہ شاید چوکیداروں کی جماعت ہے۔ لیکن اچھی طرح دیکھا تو وہ شیاطین (جن) تھے جو دستے کے دستے گھوم رہے تھے۔

حتی کہ وہ سب میرے مکان کے پچھواڑے میں ویران جگہ پر اکٹھے ہوگئے۔ پھر (بڑا) ابلیس آیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو ابلیس نے بلند آواز کے ساتھ پکارا اور سب شیاطین ایک دوسرے سے آگے بڑھ گئے۔ ابلیس نے کہا : عروہ بن زبیر کی ذمہ داری کون لیتا ہے ؟ ایک جماعت بولی : ہم۔ پھر وہ گئے اور واپس آئے اور بولے : ہم اس پر کچھ بھی قادر نہیں ہوسکے۔ ابلیس نے پہلے سے زیادہ زور دار چنگھاڑ ماری۔ اور بولا کون عروہ بن زبیر کو سنبھالے گا ؟ دوسری جماعت بولی ہم ۔ پھر وہ گئے اور کافی دیر کے بعد واپس آئے اور بولے کہ ہم بھی اس پر قادر نہیں ہوسکے۔ اس بار ابلیس اس قدر شدت سے چنگھاڑا میں سمجھا کہ زمین کی چھاتی شق ہوگئی ہے۔ اور سب شیاطین آگے بڑھے۔ ابلیس پھر بولا کون عروہ بن زبیر کو بہکائے گا ؟ اس بار سب شیاطین مل کر بولے : ہم (سب جاتے ہین) چنانچہ سب شیاطین چلے گئے اور کافی دیر تک واپس نہیں لوٹے پھر واپس آئے اور ہتھیار ڈال کر بولے : ہم سب بھی اس پر قادر نہیں ہوسکے۔ آخر ابلیس بڑے غصے میں چلا گیا اور دوسرے شیاطین بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا : مجھے میرے والد حضرت زبیر بن عوام (رض) نے فرمایا :

میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس دعا کو پڑھے شروع رات میں یا شروع دن میں تو اللہ پاک اس کی ابلیس اور اس کے لشکر سے حفاظت فرماتے ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ذی الشان، عظیم البرھان، شدید السلطان ماشاء اللہ کان اعوذ باللہ من الشیطان۔

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی شان کا مالک ہے، عظیم برہان اور مضبوط بادشاہت والا ہے جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے میں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ رواہ ابن عساکر۔
5017- "الزبير" عن هشام بن عروة قال: "جاء عمر بن عبد العزيز قبل أن يستخلف إلى أبي، فقال له: رأيت البارحة عجبا كنت فوق سطحي مستلقيا على فراشي، فسمعت جلبة في الطريق، فأشرفت فظننت عسكر العسس، فإذا الشياطين تجول كردوسا كردوسا حتى اجتمعوا إلى خربة خلف منزلي، قال: ثم جاء إبليس: فلما اجتمعوا هتف إبليس بصوت عال، فتسارعوا، فقال: من لي بعروة بن الزبير؟ فقالت طائفة منهم: نحن فذهبوا ورجعوا، وقالوا: ما قدرنا منه على شيء، فصاح الثانية أشد من الأولى، فقال: من لي بعروة بن الزبير؟ فقالت طائفة أخرى: نحن فذهبوا فلبثوا طويلا، ثم رجعوا، وقالوا ما قدرنا منه على شيء، فصاح الثالثة صيحة ظننت أن الأرض قد انشقت، فتسارعوا فقال: من لي بعروة بن الزبير؟ فقال جماعتهم: نحن فذهبوا فلبثوا طويلا، ثم رجعوا، فقالوا: ما قدرنا منه على شيء، فذهب إبليس مغضبا، فاتبعوه، فقال عروة بن الزبير لعمر بن عبد العزيز: حدثني أبي الزبير بن العوام، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من رجل يدعو بهذا الدعاء، في أول ليله وأول نهاره إلا عصمه الله من إبليس وجنوده: بسم الله الرحمن الرحيم ذي الشان، عظيم البرهان، شديد السلطان ما شاء الله كان، أعوذ بالله من الشيطان ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان سے حفاظت کی دعا
5018: ۔۔ ابو التیاح سے مروی ہے میں نے عبدالرحمن بن حبیش سے جو بڑی عمر کے بزرگ تھے پوچھا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے ؟ فرمایا : ہاں میں نے پوچھا اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کہا جب شیطان آپ کے قریب آگئے تھے ؟ فرمایا : شیاطین مختلف وادیوں سے اکٹھے ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تھے اور پہاڑ بھی آپ پر اتر آئے تھے۔ بڑا شیطان آگ کا شعلہ لے کر آپ کے قریب آیا تاکہ آپ کو اس کے ساتھ جلا دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وقتی طور پر) ان سے مرعوب ہوگئے اور پیچھے ہٹنے لگے تھے۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور فرمایا کہو : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا کہوں ؟ فرمایا یہ کہو !

أعوذ بکلمات اللہ التامات التی لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق ، وذرأ وبرأ ، ومن شر ما ينزل من السماء ، ومن شر ما يعرج فيها ، ومن شر ما ذرأ في الارض ، ومن شر ما يخرج منها ، ومن شر فتن الليل والنهار ، ومن شر کل طارق ، الا طارقا يطرق بخير ، يا رحمن ۔

میں اللہ کے تام کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جن سے نیک تجاوز کرسکتا اور نہ بد ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور جس کو اس نے وجود بخشا اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور رات و دن کے فتنوں کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر ساتھ لائے اے رحمن ذات۔

پس آپ کا یہ پڑھنا تھا کہ شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، البزار، حسین بن سفیان، ابوذر عفی مندہ، ابن مندہ، ابو نعیم والبیہقی معا فی الدئال روایت صحیح ہے۔
5018- عن أبي التياح قال: قلت لعبد الرحمن بن حبيش وكان شيخا كبيرا: "أدركت النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، قلت كيف صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأودية، وتحدرت عليه الجبال، وشيطان معه شعلة نار، يريد أن يحرق بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فأرعب منهم، وجعل يتأخر وجاءه جبريل عليه السلام، فقال "يا محمد قل، قال ما أقول؟ قال قل: أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق، وذرأ وبرأ، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق، إلا طارقا يطرق بخير، يا رحمن"، فطفئت نار الشياطين، وهزمهم الله تعالى". "ش حم والبزار والحسن بن سفيان وأبو زرعة في مسنده وابن منده وأبو نعيم ق معا في الدلائل" وهو صحيح. ومر برقم [3980] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفاظت کی دعا
5019: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اس دعا کے ساتھ انبیاء کرام (علیہم السلام) ظالم بادشاہوں سے اللہ کی حفاظت حاصل کرتے تھے :

بسم اللہ الرحمن الرحيم ، قال اخسؤا فيها ولا تکلمون ، إنى أعوذ بالرحمن منک ان کنت تقيا ، أخذت بسمع اللہ وبصره ، وقوته علی أسماعکم وأبصارکم وقوتکم ، يا معشر الجن والانس والشياطين والاعراب والسباع والهوام واللصوص ، مما يخاف ويحذر فلان بن فلان سترت بينه وبينكم بسترة النبوة التی استتروا بها من سطوات الفراعنة ، جبريل عن ايمانکم ، وميكائيل عن شمائلكم ، ومحمد صلی اللہ عليه وسلم أمامکم ، والله تعالیٰ من فوقکم ، يمنعکم من فلان بن فلان في نفسه وولده وأهله وشعره وبشره وماله وما عليه وما معه وما تحته وما فوقه : (وإذا قرأت القرآن جعلنا بينک وبين الذين لا يؤمنون بالاخرة حجابا مستورا) إلى قوله (ونفورا) ۔

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا والا ہے، اس جہنم میں چپ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ میں رحمن کی پناہ مانگتا ہوں تجھ سے اگر تو ڈرنے والا ہے (اللہ سے) میں اللہ کے سننے، دیکھنے اور اس کی قوت کے ساتھ تمہارے سننے، دیکھنے اور تمہاری طاقت پر مدد پکڑتا ہوں۔

اے جن، انس، شیاطین ، بدوؤں، درندوں، (رینگنے والوں اور) چیونٹیوں اور چوروں کے گروہ ! جن سے فلاں بن فلاں کو خوف اور خطرہ لاحق ہے میں اس کے اور تمہارے درمیان نبوت کا پردہ حائل کرتا ہوں، جس کے طفیل انبیاء فراعنہ (اور ظالم بادشاہوں) کے ظلم سے محفوظ رہے۔ جبرائیل تمہارے دائیں ہے، میکائیل تمہارے بائیں، مجھ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے آگے اور اللہ تمہارے پیچھے ہے پس تم کو فلاں بن فلاں کی جان، اہل و عیال، اولاد، اہل و عیال، بال، کھال، مال، جو اس پر ہے، جو اس کے ساتھ ہے، جو اس کے نیچے ہے اور جو اس کے اوپر ہے سب سے تم کو روکتا اور دھتکارتا ہوں۔

اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے درمیان مخفی پردہ کی آڑ کردیتے ہیں الخ۔ (ابن عساکر، وولدہ القاسم فی کتاب آیات الحرز)
5019- "علي رضي الله عنه" عن علي بن أبي طالب "أن هذا الحرز كانت الأنبياء تحرز به من الفراعنة: بسم الله الرحمن الرحيم، قال اخسئوا فيها ولا تكلمون، إني أعوذ بالرحمن منك إن كنت تقيا، أخذت بسمع الله وبصره، وقوته على أسماعكم وأبصاركم وقوتكم، يا معشر الجن والإنس والشياطين والأعراب والسباع والهوام واللصوص، مما يخاف ويحذر فلان ابن فلان سترت بينه وبينكم بسترة النبوة التي استتروا بها من سطوات الفراعنة، جبريل عن أيمانكم، وميكائيل عن شمائلكم، ومحمد صلى الله عليه وسلم أمامكم، والله تعالى من فوقكم، يمنعكم من فلان بن فلان في نفسه وولده وأهله وشعره وبشره وماله وما عليه وما معه وما تحته وما فوقه: {وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَاباً مَسْتُوراً} إلى قوله {نُفُوراً} ". "كر وولده القاسم في كتاب آيات الحرز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفاظت کی دعا
5020: ۔۔ (انس (رض)) ابان (رح) سے مروی ہے وہ حضرت انسب سے روایت کرتے ہیں، حضرت انس (رض) ایک بار (دعوت کی غرض سے) حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے۔ حجاج نے آپ (رض) کو اپنا مال دکھایا جس میں چار سو گھوڑے تھے، سو گھوڑے دو سال کے بعد تیسرے سال میں داخل تھے، سو گھوڑے دوسرے سال میں داخل تھے، سو گھوڑے پانچویں سال میں داخل تھے اور سو گھوڑے قارح دانت والے تھے۔

پھر حجاج نے کہا : اے انس ! کیا تو نے اپنے ساتھی کے پاس کبھی اتنا مال دیکھا تھا۔ اس خبیث کی مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تھی۔ حضرت انس (رض) نے فرمایا : بالکل، اللہ کی قسم ! اس سے بھی اچھا مال دیکھا تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا تھا : گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک وہ گھوڑا جو مالک نے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے باندھا ہو۔ اس کے بال، اس کا پیشاب ، اس کا گوشت اور اس کا خون قیامت کے دن، اس کے میزان کے پلڑے میں رکھا جائے گا۔ دوسرا گھوڑا جس کو کسی نے افزائش نسل کے لیے رکھا ہو اور تیسرا وہ گھوڑا جس کو کسی نے افزائش ریاء شہرت اور دکھاوے کے لیے باندھا ہو ایسا شخص جہنم میں جائے گا۔ اے حجاج تیرے تمام گھوڑے اسی تیسری قسم کے ہیں۔

حجاج غضب آلود ہوگیا۔ بولا : اللہ کی قسم ! اگر تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر المومنین نے مجھے تیری رعایت کا خط نہ لکھا ہوتا تو دیکھتا میں تیرے ساتھ کیا کچھ کرتا۔ حضرت انس (رض) نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں (اللہ کی قسم) میں تجھ سے ایسے کلمات کی بدولت پناہ میں آگیا ہوں کہ اب مجھے کسی بادشاہ کے ظلم کا اور کسی شیطان کی سرکشی کا کام خوف ذرہ بھر نہیں۔ پھر واقعی حجاج کا غصہ چھٹ گیا اور وہ بولا : اے ابو حمزہ ! (حجاج نے انس کی کنیت بطور ادب استعمال کی) وہ کلمات مجھے بھی سکھا دیجیے حضرت انس نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نہیں ، میں تجھے ان کلمات کا اہل نہیں پاتا۔

حضرت ابان (رح) راوی حدیث فرماتے ہیں جب آپ (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ابو حمزہ ! میں آپ سے کوئی سوال کرنا چاہتا ہوں ؟ فرمایا : بولو کیا چاہتے ہو ؟ ابان (رح) نے عرض کیا : وہ کلمات جو آپ سے حجاج نے پوچھے تھے فرمایا : ہاں، اللہ کی قسم ! میں تم کو ان کا اہل سمجھتا ہوں۔ سنو ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دس سال خدمت کی پھر آپ مجھ سے جدا ہونے لگے تو آپ مجھ سے راضی تھے آپ نے فرمایا : تم نے میری دس سال خدمت کی ہے اور میں تم کو چھوڑ کر جارہا ہوں اور میں تم سے راضی ہوں۔ لہٰذا تم (کو یہ عطیہ ہے کہ) جب بھی صبح و شام کا وقت ہوا کرے یہ پڑھا کرو :

بسم اللہ ، والحمد لله ، محمد رسول اللہ ، لا قوة الا بالله ، بسم اللہ علی دينى ، ونفسي ، بسم اللہ علی أهلي ومالي ، بسم اللہ علی كل شئی أعطانيه ربي ، بسم اللہ خير الاسماء ، بسم اللہ رب الارض والسماء ، بسم اللہ الذی لا يضر مع اسمه داء ، بسم اللہ افتتحت وعلی اللہ توکلت ، لا قوة الا بالله ، لا قوة الا بالله ، لا قوة الا بالله ، والله أكبر ، اللہ أكبر ، اللہ أكبر ، اللہ أكبر ، لا إله الا اللہ الحليم الكريم لا إله الا اللہ العلي العظيم ، تبارک اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظيم ، ورب الارضين ، وما بينهما ، والحمد لله رب العالمين ، عز جارک ، وجل ثناؤك ، ولا إله غيرك ، اجعلني في جو ارک من شر کل ذی شر ، ومن شر الشيطان الرجيم ، ان وليي اللہ الذی نزل الکتاب وهو يتولی الصالحين ، فان تولوا فقل حسبی اللہ لا إله الا هو عليه توکلت وهو رب العرش العظيم ۔(ابو الشیخ فی الثواب)
5020- "أنس رضي الله عنه" عن أبان عن أنس "أنه دخل على الحجاج ابن يوسف، فعرض عليه أربعمائة فرس مائة جذع، ومائة ثني ومائة رباع، ومائة قارح، ثم قال: يا أنس هل رأيت عند صاحبك مثل هذا؟ يعني النبي صلى الله عليه وسلم، فقال أنس: قد والله رأيت عنده خيرا من هذا، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الخيل ثلاثة: رجل ارتبط فرسا في سبيل الله فروثها وبولها ولحمها ودمها في ميزان صاحبها يوم القيامة ورجل ارتبط فرسا يريد بطنها، ورجل ارتبط فرسا رياء وسمعة، فهو في النار، وهي خيلك يا حجاج، فغضب الحجاج وقال: أما والله لولا خدمتك رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكتاب أمير المؤمنين إلي فيك لفعلت بك وفعلت، قال: كلا، لقد احترزت منك بكلمات لا أخاف من سلطان سطوته، ولا من شيطان عتوه، فسري عن الحجاج، فقال: علمناهن يا أبا حمزة، فقال: لا والله إني لا أراك لهن أهلا، فلما كان مرضه الذي مات فيه دخل عليه أبان، فقال: يا أبا حمزة أريد أن أسألك، قال: قل ما تشاء، قال: الكلمات التي طلبهن منك الحجاج؟ فقال: إي والله إني أراك لهن أهلا، خدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين، ففارقني وهو عني راض، وأنت خدمتني عشر سنين وأنا أفارقك وأنا عنك راض، إذا أصبحت وإذا أمسيت فقل: بسم الله، والحمد لله، محمد رسول الله، لا قوة إلا بالله، بسم الله على ديني، ونفسي، بسم الله على أهلي ومالي، بسم الله على كل شيء أعطانيه ربي، بسم الله خير الأسماء، بسم الله رب الأرض والسماء، بسم الله الذي لا يضر مع اسمه داء، بسم الله افتتحت

وعلى الله توكلت، لا قوة إلا بالله، لا قوة إلا بالله، لا قوة إلا بالله، والله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله العلي العظيم، تبارك الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم ورب الأرضين، وما بينهما، والحمد لله رب العالمين، عز جارك، وجل ثناؤك، ولا إله غيرك، اجعلني في جوارك من شر كل ذي شر، ومن شر الشيطان الرجيم، إن وليي الله الذي نزل الكتاب وهو يتولى الصالحين، فإن تولوا فقل حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم". "أبو الشيخ في الثواب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس (رض) کی دعا
5021: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے کلمات سکھا دیے ہیں کہ ان کے طفیل کسی جابر کی سرکشی اور اس کی زور زبردستی مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اور اس کے ساتھ وہ کلمات ضروریات کے آسانی کے ساتھ پورا ہونے اور مومنوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کا سبب بھی ہیں :

الله أكبر ، اللہ أكبر ، اللہ أكبر ، بسم اللہ علی نفسي وديني ، بسم اللہ علی أهلي ومالي ، بسم اللہ علی كل شئی أعطاني ربی ، بسم اللہ خير الاسماء

بسم اللہ رب الارض والسماء ، بسم اللہ الذی لا يضر مع اسمه داء ، بسم اللہ افتتحت وعلی اللہ توکلت ، اللہ الله ربي لا أشرک به شيئا ، أسألک اللهم بخيرک من خيرک الذی لا يعطيه غيرك ، عز جارک ، وجل ثناؤك ، ولا إله الا أنت : اجعلني في عياذك ، وجوارک من کل سوء ، ومن الشيطان الرجيم ، اللهم إني استجيرک من جميع كل شئی خلقت ، واحترس بک منهن ، وأقدم بين يدى : (بسم اللہ الرحمن الرحيم : قل هو اللہ أحد اللہ الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد) عن امامي ومن خلفي ، وعن يمينى وعن شمالی ، ومن فوقی وتحتي ۔

اور سورة اخلاص مکمل ایک ایک دفعہ چھ کی چھ جہات کی طرف رخ کرکے پڑھے۔ یعنی دائیں، بائیں، آگے پیچھے، اوپر اور نیچے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
5021- عن أنس قال: "علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات لن يضرني معهن عتو جبار ولا عترسته، مع تيسير الحوائج ولقاء المؤمنين بالمحبة: الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، بسم الله على نفسي وديني، بسم الله على أهلي ومالي، بسم الله على كل شيء أعطاني ربي، بسم الله خير الأسماء بسم الله رب الأرض والسماء، بسم الله الذي لا يضر مع اسمه داء، بسم الله افتتحت وعلى الله توكلت، الله الله ربي لا أشرك به شيئا، أسألك اللهم بخيرك من خيرك الذي لا يعطيه غيرك، عز جارك، وجل ثناؤك، ولا إله إلا أنت: اجعلني في عياذك، وجوارك من كل سوء، ومن الشيطان الرجيم، اللهم إني أستجيرك من جميع كل شيء خلقت، واحترس

بك منهن، وأقدم بين يدي: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ} عن أمامي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي وتحتي"، يقرأ في هذه الست قل هو الله أحد، إلى آخر السورة. "ك". ومر برقم [3850] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رزق کی کشادگی کی دعائیں
5022: ۔۔ سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کو ضرورت اور فاقہ کشی کی نوبت آگئی حضرت علی (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) کو فرمایا : اگر تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر آپ سے سوال کرو (تو شاید کوئی صورت نکل آئے) حضرت فاطمہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر آئیں اور دروازہ کھٹکھٹایا حضور کے پاس ام ایمن بیٹھی ہوئی تھیںَ آپ (رض) نے ان کو فرمایا : یہ تو فاطمہ کے دروازے کھٹکھٹانے کا انداز ہے۔ اور وہ ایسے وقت تو ہمارے پاس نہیں آیا کرتی۔ پھر حضرت فاطمہ (رض) اندر تشریف لائیں اور اپنے و الد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان ملائکہ کا کھانا تسبیح و تہلیل اور تحمید ہے لیکن ہمارا کھانا کیا ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے : آل محمد کے گھر بھی تیس دنوں سے چولہا نہیں جلا۔ ہمارے پاس کچھ بکریاں آئی ہیں۔ اگر تم چاہو تو پانچ بکریوں کا ہم تمہارے لیے حکم دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہو تو میں تم کو پانچ کلمات سکھا دیتا ہوں جو مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یوں کہا کر :

یا اول الاولین، ویا آخر الاخرین، ویا ذالقوۃ المتین، ویا راحم المساکین ویا ارحم الراحمین۔

چنانچہ حضرت فاطمہ (رض) واپس ہوگئیں اور حضرت علی (رض) کے پاس پہنچیں۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا پیچھے کچھ (آ رہا) ہے ؟ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : میں آپ کے پاس سے دنیا لینے گئی تھی اور آخرت لے کر واپس آئی ہوں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ بہترین ایام ہیں۔ (ابو الشیخ فی جزء من حدیثہ)

کلام : ۔۔ اس روایت کے رجال میں کوئی راوی متکلم فیہ نہیں ہے ہے اور سب راوی ثقہ مگر اس کی صورت مرسل کی سی ہے لیکن حضرت سوید بن غفلہ نے یہ روایت حضرت علی (رض) سے سنی ہے تو روایت متصل ہے۔
5022- عن سويد بن غفلة قال: "أصابت عليا خصاصة، فقال لفاطمة: لو أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسألته، فأتته وكان عنده أم أيمن فدقت الباب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأم أيمن: إن هذا لدق فاطمة، ولقد أتتنا في ساعة ما عودتنا أن تأتينا في مثلها، فقالت: يا رسول الله هذه الملائكة طعامها التهليل والتسبيح والتحميد، ما طعامنا؟ قال: والذي بعثني بالحق ما اقتبس في بيت آل محمد منذ ثلاثين يوما، ولقد أتتنا أعنز فإن شئت أمرنا لك بخمس أعنز، وإن شئت علمتك خمس كلمات علمنيهن جبريل، فقالت: بل علمني الخمس كلمات التي علمكهن جبريل قال قولي: يا أول الأولين، ويا آخر الآخرين، ويا ذا القوة المتين، ويا راحم المساكين، ويا أرحم الراحمين، فانصرفت، فدخلت على علي، فقال: ما وراءك؟ فقالت: ذهبت من عندك للدنيا، وأتيتك بالآخرة

فقال: خير أيامك". "أبو الشيخ في جزء من حديثه" ولم أر في رجاله من جرح إلا أن صورته صورة المرسل فإن كان سويد سمعه من علي فهو متصل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رزق کی کشادگی کی دعائیں
5023: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی ضرورت لے کر حاضر ہوئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : کیا تم کو اس سے اچھی چیز نہ بتادوں ؟ تو سوتے وقت تینتیس بار سبحان اللہ پڑھا کر، تینتیس بار لا الہ الا اللہ پڑھا کر اور چونتیس بار الحمد للہ پڑھا کر۔ پس یہ سو بار پڑھنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ رواہ ابن جریر۔

کلام : ۔۔ ضعیف ہے دیکھئے : ذخیرۃ الھفاظ 69، ضعیف الادب 98 ۔
5023- عن أنس قال: "أتت امرأة رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو إليه حاجة، فقال: ألا أدلك على خير من ذلك؟ تسبحي الله عند منامك ثلاثا وثلاثين، وتهليله ثلاثا وثلاثين، وتحمديه أربعا وثلاثين، فذلك مائة خير من الدنيا وما فيها ". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رزق کی کشادگی کی دعائیں
5024: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کسی شے کا سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ بتادوں ؟ عورت بولی : ضرور، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوتے وقت تینتیس لا الہ الا اللہ پڑھ، چونتیس بار اللہ اکبر پڑھ یہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے تیرے لیے زیادہ بہتر ہے۔ رواہ ابن جریر۔
5024- عن أنس قال: "أتت النبي صلى الله عليه وسلم امرأة فسألته عن شيء فقال: ألا أدلك على خير من ذلك؟ قالت: نعم، قال: هللي الله ثلاثا وثلاثين، عند منامك، وسبحيه ثلاثا وثلاثين، واحمديه ثلاثا وثلاثين وكبريه أربعا وثلاثين، فذلك خير من الدنيا وما فيها ". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رزق کی کشادگی کی دعائیں
5025: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی حاجت ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ تم سوتے وقت تینتیس مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور چونتیس مرتبہ الحمد للہ کہو، یہ سو کی تعداد ہوئی یہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ ابن جریر، ابن عساکر۔

کلام : ۔۔۔ ضعیف الادب 98 اور ذخیرۃ الحفاظ 69 پر روایت پر ضعف کا کلام کیا گیا ہے۔
5025- عن أنس أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فشكت إليه الحاجة فقال: "ألا أدلك على خير لك من ذلك؟ تهللين الله عند منامك ثلاثا وثلاثين، وتسبحيه ثلاثا وثلاثين، وتحمديه أربعا وثلاثين، فذلك مائة وذلك خير من الدنيا وما فيها". "ابن جرير كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رزق کی کشادگی کی دعائیں
5026: ۔۔ حضرت فاطمہ (رض) سے مروی ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان ملائکہ کا طعام تو لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ اور الحمد للہ وغیرہ ہے، ہمارا طعام کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ آل محمد کے گھروں میں تیس یوم سے آگ نہیں جلی۔ پھر بھی اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے پانچ بکریوں کا حکم دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو میں تم کو پانچ کلمات سکھا دیتا ہوں جو مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا ہاں وہ مجھے پانچ کلمات ہی سکھا دیجیے جو آپ کو جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے فاطمہ یوں کہا کر :

یا اول الاولین، ویا آخر الاآخرین، ویا ذا القوۃ المتین، ویا ارحم المساکین، ویا ارحم الراحمین۔ (ابو الشیخ فی فوائد الاصبھانین۔ الدیلمی، مستدرک الحاکم، )
5026- عن فاطمة رضي الله عنها أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: "يا رسول الله هذه الملائكة طعامها التهليل والتسبيح والتحميد

فما طعامنا؟ قال: والذي بعثني بالحق ما اقتبس في بيت آل محمد نار منذ ثلاثين يوما، فإن شئت أمرت لك بخمس أعنز، وإن شئت علمتك خمس كلمات علمنيهن جبريل، فقالت بل علمني الخمس كلمات التي علمكهن جبريل، فقال يا فاطمة قولي: يا أول الأولين، ويا آخر الآخرين، ويا ذا القوة المتين، ويا راحم المساكين، ويا أرحم الراحمين ". "أبو الشيخ في فوائد الأصبهانيين والديلمي ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنج و خوشی کی دعائیں :
5027: ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی خوش گوار چیز دیکھ لیتے تو یہ دعا پڑھتے :

الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت کے بدولت اچھی چیزیں انجام پاتی ہیں۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی ناپسندیدہ شے دیکھ لیتے تو فرماتے : الحمد للہ علی کل حال۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ رواہ ابن النجار۔
5027- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى ما يسر به قال: "الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات، وإذا رأى شيئا مما يكره، قال: الحمد لله على كل حال". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنج و خوشی کی دعائیں :
5028: ۔۔ اعمش (رح) حبیب (رح) سے اور وہ اپنے کسی بزرگ شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی خوش کن معاملہ پیش آتا تو فرماتے : الحمد للہ المنعم المتفضل الذی بنعمتہ تتم الصالحات اور جب کوئی ناپسندیدہ معاملہ پیش آتا تو فرماتے : الحمد للہ علی کل حال۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)

روایت صحیح ہے۔
5028- عن الأعمش عن حبيب عن بعض أشياخه، قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتاه الأمر يعجبه قال: الحمد لله المنعم المتفضل الذي بنعمته تتم الصالحات، وإذا أتاه الأمر مما يكره قال: الحمد لله على كل حال ". "ش وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف دعائیں
5029: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ مجھے خبر ملی کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے :

اللھم انی اسالک الذی ھو خیر عاقبۃ امری اللھم اجعل ما تعطینی الخیر رضوانک والدرجات العلی فی جنات النعیم۔

اے اللہ ! میں تجھ سے اس چیز کا سوال کرتا ہوں جو میرے لیے بہترین انجام کار ثابت ہو۔ اے اللہ تو جو مجھے عطا فرمائے اس کو اپنی رضا اور جنت میں اعلی درجات کا سبب بنا۔ الزھد، للامام احمد۔
5029- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن الحسن قال: بلغني أن أبا بكر كان يقول في دعائه: "اللهم إني أسألك الذي هو خير في عاقبة أمري، اللهم اجعل ما تعطيني الخير رضوانك والدرجات العلى في جنات النعيم". "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف دعائیں
5030: ۔۔ معاویہ بن قرہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اپنی دعائیں فرمایا کرتے تھے :

اللھم اجعل خیر عمری آخرہ وخیر عملی خواتمہ و خیر ایامی یوم القاک۔

اے اللہ ! میری بہترین عمر آخر عمر بنانا اور میر بہترین عمل آخری عمل بنانا اور میرا بہترین دن وہ دن بنانا جس میں تجھ سے ملاقات کروں گا۔ (السنن لسعید بن منصور، السنن لیوسف القاضی، الامالی لابی القاسم بن بشران) ۔
5030- عن معاوية بن قرة أن أبا بكر الصديق كان يقول في دعائه: "اللهم اجعل خير عمري آخره، وخير عملي خواتمه، وخير أيامي يوم ألقاك". "ص ويوسف القاضي في السنن وأبو القاسم بن بشران في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مختلف دعائیں
5031: ۔۔ ابو یزید مدائنی سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی جملہ دعاؤں میں سے یہ الفاظ بھی ہوتے تھے :

اللھم ھب لی ایمانا و یقیناً و معافاۃ ونیۃ۔

اے اللہ ! مجھے ایمان، یقین عافیت اور اچھی نیت عطا فرما۔ ابن ابی الدنیا فی الیقین۔
5031- عن أبي يزيد المدايني قال: "كان من دعاء أبي بكر الصديق اللهم هب لي إيمانا ويقينا ومعافاة ونية". "ابن أبي الدنيا في اليقين".
tahqiq

তাহকীক: