কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنج و غم اور خوف کے وقت کی دعا
4992: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کلمات سکھائے اور فرمایا : اگر مجھ پر کوئی مصیبت یا سختی نازل ہوجائے تو میں یہ کلمات پڑھ لیا کرو :

لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ و تبارک اللہ رب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو بردبار کرم والا ہے، اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ کی ذات بابرکت ہے جو عرش عظیم کا پروردگار ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالن ہار ہے۔ (مسند احمد، ابن منیع، نسائی، ابن ابی الدنیا فی الفرج، ابن جریر و صححہ، ابن حبان، یوسف القاضی فی سننہ، العسکری فی المواعظ، ابو نعیم فی المعرفۃ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعید بن منصور۔

3439 پر روایت گذر چکی ہے۔
4992- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم هؤلاء الكلمات وأمرني إن نزل بي كرب أو شدة أن أقولها: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله، وتبارك الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين ". "حم وابن منيع ن وابن أبي الدنيا في الفرج وابن جرير وصححه حب ويوسف القاضي في سننه والعسكري في المواعظ وأبو نعيم في المعرفة والخرائطي في مكارم الأخلاق هب ص". مر برقم [3439] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4993: ۔۔ عبداللہ بن شداد بن الہاد (رح) سے عبداللہ بن جعفر کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر اپنی بیٹیوں کو یہ کلمات سکھاتے اور ان کو پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ انھوں نے یہ کلمات حضرت علی (رض) سے حاصل کیے ہیں اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی تکلیف یا سختی لاحق ہوتی تو آپ ان کلمات کا ورد فرمایا کرتے تھے۔

لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحانہ، تبارک اللہ رب العالمین، ورب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین، نسائی ، ابو نعیم۔

3432، 3907 پر یہ روایت گذر گئی ہے۔
4993- عن عبد الله بن شداد بن الهاد، عن عبد الله بن جعفر "أنه كان يعلم بناته هؤلاء الكلمات، ويأمرهن بهن، ويذكر أنه تلقاهن عن علي بن أبي طالب، وإن عليا قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقولهن إذا كربه أمر واشتد به. لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحانه، تبارك الله رب العالمين، ورب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين ". "ن وأبو نعيم". مر برقم [3432 و 3907] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4994: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم ان کو پڑھو تو تمہاری مغفرت کردی جائے۔

دوسری روایت کے الفاظ ہیں : تمہارے گناہوں کی مغفرت کردی جائے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا چیونٹیوں کی تعداد کے برابر ہوں پھر بھی وہ سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔

لا الہ الا اللہ العلی الحلیم الکریم، لا الہ الا اللہ العلی العظیم، سبحان اللہ رب السموات السبع و رب العرش الکریم والحمد للہ رب العالمین۔ (مسند احمد، العدنی، ترمذی، نسائی، صحیح ابن حبان، ابن ابی الدنیا فی الدعاء، ابن ابی عاصم فی السنۃ، ابن جریروصححہ، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)

حضرت خلعی (رح) اپنی کتاب خلعیات میں حضرت علی (رض) کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ یہ کلمات فراخی اور کشادگی کے ہیں۔
4994- عن علي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن غفر لك؟ وفي لفظ: غفرت ذنوبك، وإن كانت مثل زبد البحر؟ أو مثل عدد الذر، مع أنه مغفور لك: لا إله إلا الله العلي الحليم الكريم، لا إله إلا الله العلي العظيم، سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم، والحمد لله رب العالمين". "حم والعدني ت ن حب وابن أبي الدنيا في الدعاء وابن أبي عاصم في السنة وابن جرير وصححه ك ص زاد الخلعي في الخلعيات قال علي هن كلمات الفرج".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4995: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت دانیال (علیہ السلام) کو بخت نصر بادشاہ کے روبرو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے ان کو قید کیے جانے کا حکم دیا لہٰذا حضرت دانیال (علیہ السلام) کو محبوس کردیا گیا۔ پھر دو شیروں کو (بھوکا رکھ کے ان کو شکار پر) بھڑکا یا گیا اور ان وک دانیال علیہ السالم کے ساتھ کنویں میں چھوڑ دیا اور پانچ دنوں کے لیے کنویں کا منہ بند کردیا گیا۔ پانچ دنوں کے بعد کنواں کھولا گیا تو دیکھا کہ حضرت دانیال (علیہ السلام) کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور دونوں شیر کنویں کے ایک کونے میں ہیں اور حضرت دانیال (علیہ السلام) سے قطعا چھیڑ چھاڑ نہیں کر رہے۔

بخت نصر نے دانیال (علیہ السلام) سے دریافت کیا : تم نے کیا کہا تھا جو تمہاری حفاظت کا سبب بنا۔ حضرت دانیال (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے یہ کلمات پڑھے تھے۔

الحمد لله الذی لا ينسی من ذكره ، الحمد لله الذی لا يخيب من دعاه ، الحمد لله الذی لا يكل من توکل عليه إلى غيره ، الحمد لله الذی هو ثقتنا حين تنقطع عنا الحيل ، الحمد لله الذی هو رجاؤنا حين تسوء ظنوننا باعمالنا ، الحمد لله الذی يكشف ضرنا عند کر بنا الحمد لله الذی يجزي بالاحسان احسانا ، الحمد لله الذی يجزی بالصبر نجاة .۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو اپنے یاد کرنے والے کو بھولتا نہیں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کو پکارنے والا نامراد نہیں ہوتا۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کو پکارنے والا نامراد نہیں ہوتا۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو اپنے پر بھروسہ کرنے والے کو دوسرے کے سپرد نہیں کرتا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو ہمارا آسرا اور بھروسہ ہے جب تمام حیلے بےکار ہوجائیں۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو ہماری امیدوں کا مرکز ہے جب ہمارے اعمال پر ہماری امیدوں کی اوس پڑجائے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مصیبت کے وقت ہماری مشکل دور کرتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو احسان کا بدلہ احسان سے دیتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے جو صبر کے بدلے نجات دیتا ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الشکر)

اس روایت کی سند حسن ہے۔
4995- عن علي قال "أتى بخت نصر بدانيال النبي صلى الله عليه وسلم فأمر به فحبس، وضرى أسدين، فألقاهما في جب معه، فطين عليه وعلى الأسدين خمسة أيام، ثم فتح عليه بعد خمسة أيام فوجد دانيال قائما يصلي والأسدان في ناحية الجب لم يعرضا له، قال بخت نصر: أخبرني ماذا قلت فدفع عنك؟ قال قلت: الحمد لله الذي لا ينسى من ذكره، الحمد لله الذي لا يخيب من دعاه، الحمد لله الذي لا يكل من توكل عليه إلى غيره، الحمد لله الذي هو ثقتنا حين تنقطع عنا الحيل، الحمد لله الذي هو رجاؤنا حين تسوء ظنوننا بأعمالنا، الحمد لله الذي يكشف ضرنا عند كربنا، الحمد لله الذي يجزي بالإحسان إحسانا، الحمد لله الذي يجزي بالصبر نجاة". "ابن أبي الدنيا في الشكر" وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4996: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ کلمات سکھائے جو بادشاہ کے پاس جاتے ہوئے کہے جائیں یا ہر خوفزدہ کرنے والی وقت کہے جائیں :

لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب السموات السبع، و رب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کلمات پڑھ کر :

انی اعوذبک من شر عبادک۔

" اے اللہ میں تیرے بندوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں پڑھتے تھے " الخرائطی فی المکارم الاخلاق۔

3439، 3907 پر روایت گذر چکی ہے۔
4996- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمه كلمات يقولها عند السلطان، وعند كل شيء هاله: "لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب السموات السبع، ورب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين، ويقول عندهن: إني أعوذ بك من شر عبادك". "الخرائطي في مكارم الأخلاق". مر برقم [3439 و 3907] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4997: ۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب تم کسی جنگل میں ہو اور وہاں تم کو درندے کا خوف لاحق ہو تو یہ دعا پڑھو :

اعوذ برب دانیال من شر الاسد۔

اے دانیال اور کنویں کے پروردگار ! میں درندے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
4997- عن علي قال: إذا كنت بواد تخاف فيه السبع فقل: "أعوذ برب دانيال والجب من شر الأسد" "الخرائطي فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4998: ۔۔ محمد (رح) بن علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک دعا سکھائی جو حضرت علی (رض) ہر مشکل پر پڑھتے تھے۔ اور اپنی اولاد کو بھی سکھاتے تھے۔

یا کائنات قبل کل شیء افعل بی کذا وکذا۔

اے ہر چیز سے پہلے موجود اور ہرچیز کو وجود دینے والے میرا یہ کام فرما دے۔ (ابن ابی الدنیا فی الفرج)
4998- عن محمد بن علي "أن النبي صلى الله عليه وسلم علم عليا دعوة يدعو بها عند كل ما أهمه، فكان علي يعلمها ولده، يا كائنا قبل كل شيء، ويا مكون كل شيء، افعل بي كذا وكذا". "ابن أبي الدنيا في الفرج".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
4999: ۔۔ حضرت علی (رض) کے متعلق مروی ہے کہ جب آپ (رض) کو کوئی مشکل پیش آجاتی تو آپ ایک خالی کمرے میں تشریف لے جاتے اور ان کلمات کو دعا میں پڑھتے :

يا كهيعص يا نور يا قدوس يا اول الاولين ، يا آخر الاخرين ، يا حي يا اللہ يا رحمن يا رحيم يرددها ثلاثا ، اغفر لي الذوب التی تحل النقم واغفر لي الذنوب التی تغير النعم ، واغفر لي الذنوب التی تورث الندم واغفر لي الذنوب التی تحبس القسم ، واغفر لي الذنوب التی تنزل البلاء واغفر لي الذنوب التی تهتک العصم ، واغفر لي الذنوب التی تعجل الفناء واغفر لی الذنوب التی تزيد الاعداء ، واغفر لي الذنوب التی تقطع الرجاء واغفر لي الذنوب التی ترد الدعاء ، واغفر لي الذنوب التی تمسک غيث السماء واغفر لي الذنوب التی تظلم الهواء ، واغفر لي الذنوب التی تکشف الغطاء۔

میرے گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو غارت کرتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو ندامت اور پشیمانی کا سبب بنتے یں، میرے گناہوں کو بخش دے جو روزی کی تقسیم روکتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو مصیبت اور بلاء نازل کرتے ہیں، اور میرے گناہوں کو بخش دے جو پردے کو پھاڑتے ہیں میرے گناہوں کو بخش دے جو حفاظت کا پردہ چاک کرتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو ویرانی اور بربادی کو جلا لاتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو دشمنوں کا اضافہ کرتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو رحمت باراں روکتے ہیں، میرے گناہوں کو بخش دے جو فضاء کو آلودہ و تاریک کرتے ہیں اور میرے گناہوں کو بخش دے جو پردے کو پھاڑتے یں۔ ابن ابی الدنیا فی الفرج، ابن النجار۔
4999- عن علي أنه كان إذا حزبه أمر خلا في بيت، ويقول: "يا كهيعص يا نور يا قدوس يا أول الأولين، ويا آخر الآخرين، يا حي يا الله يا رحمن يا رحيم يرددها ثلاثا، اغفر لي الذنوب التي تحل النقم واغفر لي الذنوب التي تغير النعم، واغفر لي الذنوب التي تورث الندم واغفر لي الذنوب التي تحبس القسم، واغفر لي الذنوب التي تنزل البلاء واغفر لي الذنوب التي تهتك العصم، واغفر لي الذنوب التي تعجل الفناء واغفر لي الذنوب التي تزيد الأعداء، واغفر لي الذنوب التي تقطع الرجاء واغفر لي الذنوب التي ترد الدعاء، واغفر لي الذنوب التي تمسك غيث السماء واغفر لي الذنوب التي تظلم الهواء، واغفر لي الذنوب التي تكشف الغطاء". "ابن أبي الدنيا فيه وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
5000: ۔۔ دیلمی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں شیخ حافظ ابو جعفر محمد بن حسن بن محمد نے بیان کیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو آزمایا اور اسی طرح پایا ہمیں سلمہ محمد بن الحسین نے خبر دی اور فرمایا : میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا، ہمیں عمر بن حفص نے خبر دی اور فرمایا میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا، مجھے میرے والد حفص نے خبر دی اور فرمایا میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا، ہمیں جعفر بن محمد نے خبر دی اور فرمایا کہ میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا مجھے میرے والد حسین (رض) نے بیان کیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا ہمیں علی بن ابی طالب نے بیان کیا اور فرمایا میں نے اس کو آزمایا اور یونہی پایا مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رنجیدہ خاطر دیکھا تو فرمایا اے ابن ابی طالب میں تجھے رنجیدہ دیکھتا ہوں اپنے کسی گھر الے کو کہہ کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دے یہ غم کی دوا ہے۔ روا ہ الدیلمی۔
5000- قال الديلمي: "أنبأنا الشيخ الحافظ أبو جعفر محمد بن الحسن بن محمد وقال: قد جربته فوجدته كذلك، أنبأنا السلمي محمد بن الحسين وقال: قد جربته فوجدته كذلك، أنبأنا عبد الله بن موسى السلامي البغدادي وقال: قد جربته فوجدته كذلك، أنبأنا الفضل بن العباس الكوفي وقال: قد جربته فوجدته كذلك، ثنا الحسين بن هارون الضبي وقال: قد جربته فوجدته كذلك، حدثنا عمر بن حفص بن غياث وقال: قد جربته فوجدته كذلك، ثنا أبي وقال: قد جربته فوجدته كذلك، ثنا جعفر بن محمد وقال: قد جربته فوجدته كذلك، حدثنا علي بن الحسين وقال: قد جربته فوجدته كذلك، ثنا أبي وقال: قد جربته فوجدته كذلك حدثنا علي بن أبي طالب وقال: قد جربته فوجدته كذلك، قال رآني النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا ابن أبي طالب أراك حزينا، فمر بعض أهلك يؤذن في أذنك فإنه دواء للهم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
5001: ۔۔ حافظ شمس الدین بن جزری (اپنی کتاب) اسنی المطالب میں مناقب علی بن ابی طالب (رض) کے ذیل میں بیان فرمات ہیں، ہمیں ہمارے شیخ امام محمد ث جمال الدین محمد بن یوسف بن محمد بن مسعود سرمدی نے ہمارے روبرو یہ خبر دی کہ ہمارے شیخ امام ابو الثناء محمود بن محمد بن محمود مقری نے ہم کو خبر دی کہ ہم کو ہمارے شیخ ابو احمد عبدالصمد بن ابی الجیش نے خبر دی کہ ہم کو ابوبکر محمد بن احمد بن علی بن خلف نے خبر دی کہ ہم کو عبدالرحمن سلمی نے خبر دی کہ ہم کو عبداللہ بن موسیٰ سلامی نے خبر دی کہ ہم کو فضل بن عیاش کوفی نے خبر دی کہ ہم کو حسین بن ہارون ضبی نے خبر دی کہ ہم کو عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد حسین (رض) سے اور انھوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کی۔

حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رنجیدہ خاطر دیکھ کر دریافت فرمایا : اے ابن ابی طالب ! میں تجھے رنجیدہ دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا : ہاں بات ایسی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے کسی گھر کے فرد کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دے، کیونکہ یہ (رنج و ) غم کی دوا ہے۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے اس پر عمل کیا اور مجھ سے رنج و غم کی ساری کیفیت چھٹ گئی ۔ حسین (رض) فرماتے ہیں : میں نے اس کو آزمایا اور اسی طرح پایا۔ (واقعی یہ رنج و غم کی دوا ہے) حفص بن غیاث فرماتے ہیں : میں نے اس کا تجربہ کای اور واقعۃ ایسا پایا۔ عمر بن حفص فرماتے ہیں : میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا۔ حسین بن ہارون کہتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا واقعۃ ایسا پایا۔ فضل فرماتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا۔ عبداللہ بن موسیٰ فرماتے ہیں : میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا، عبدالرحمن فرماتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا ابوبکر فرماتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعہ ایسا پایا۔ ابن الجوزی رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں میں نے ابن ناصر کو اس کے متعلق اور کچھ فرماتے نہیں سنا سوا اس کے کہ میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا۔

ابو محمد یوسف فرماتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعہ ایسا پایا۔ عبدالصمد کہتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعۃ ایسا پایا، ابو الثناء فرماتے ہیں میں نے اس کا تجربہ کیا اور واقعہ ایسا پایا۔ ابن الجزری فرماتے ہیں میں نے اپنے شیخ سرمدی کو اس کے سوا کچھ کہتے نہیں سنا کہ میں نے اس کا تجربہ کیا اور ایسا ہی پایا۔

(علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ میں یہ حدیث تقی الدین محمد بن فہد سے سنی تو انھوں نے بڑے اچھے تسلسل سے امام جزری سے اس کا سماع کیا اور میں نے اس کے رجال میں کسی راوی کو ایسا نہیں پایا جس پر کسی کا عیب لگایا جائے۔
5001- وقال الحافظ شمس الدين بن الجزري في كتاب أسنى المطالب في مناقب علي بن أبي طالب: أخبرنا شيخنا الإمام المحدث جمال الدين محمد بن يوسف بن محمد بن مسعود السرمدي مشافهة، أنبأنا شيخنا الإمام أبو الثناء محمود بن محمد بن محمود المقرئ: أنبأنا شيخنا أبو أحمد عبد الصمد بن أبي الجيش، أنبأنا أبو محمد يوسف بن عبد الرحمن بن علي، أنبأنا والدي،

أنبأنا محمد بن ناصر الحافظ، أنبأنا أبو بكر محمد بن أحمد ابن علي بن خلف أنبأنا عبد الرحمن السلمي، أنبأنا عبد الله بن موسى السلامي، أنبأنا الفضل بن عياش الكوفي، أنبأنا الحسين بن هارون الضبي، حدثنا عمر بن حفص بن غياث عن أبيه عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال: "رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم حزينا، فقال: يا ابن أبي طالب أراك حزينا؟ قلت هو كذلك، قال: فمر بعض أهلك يؤذن في أذنك، فإنه دواء للهم، قال: ففعلت فزال عني"، قال الحسين: فجربته فوجدته كذلك، قال حفص بن غياث جربته فوجدته كذلك، قال عمر بن حفص جربته فوجدته كذلك، قال الحسين بن هارون جربته فوجدته كذلك، قال الفضل جربته فوجدته كذلك، قال عبد الله ابن موسى جربته فوجدته كذلك، قال عبد الرحمن جربته فوجدته كذلك، قال أبو بكر جربته فوجدته كذلك، قال ابن الجزري: لم أسمع ابن ناصر يقول فيه شيئا، بل جربته فوجدته كذلك، قال أبو محمد يوسف جربته فوجدته كذلك، قال عبد الصمد جربته فوجدته كذلك، قال أبو الثناء جربته فوجدته كذلك، قال ابن الجزري: ولم أسمع شيخنا السرمدي يقول شيئا ولكن جربته فوجدته كذلك، قلت وسمعت هذا الحديث من الحافظ تقي الدين محمد بن فهد بسماعه من الجزري حسن التسلسل، ولم أر

في رجاله من تكلم فيه بقدح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
5002: ۔۔ (نس ابن مالک (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی مصیبت پیش آتی تو یہ کلمات ورد فرماتے :

یا حی یا قیوم برحمتک استغیث۔

اے زندہ اور (ہر شے کو) تھامنے والے ! میں تیری رحمت کے لیے تجھے پکارتا ہوں۔ رواہ ابن النجار۔

3918 پر روایت گذر چکی ۔
5002- "أنس بن مالك" عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كربه أمر قال: " يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث". "ابن النجار" مر برقم [3918] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف اور سختی کے وقت پڑھنے کے کلمات
5003: ۔۔ (حضرت ثوبان مولی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد فرمودہ غلام) ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو یوں فرماتے : اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا دوسرے الفاظ ہیں لا شریک لہ۔ یعنی اللہ ! اللہ میرا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
5003- "ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم" عن ثوبان أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا راعه أمر قال: "الله الله ربي لا أشرك به شيئا، وفي لفظ: لا شريك له". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوف و گھبراہٹ کے وقت پڑھنا
504: ۔۔ (عبداللہ بن جعفر) حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب (رض) سے مروی ہے کہ عبداللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کی شادی کی اور ان کو تنہائی میں یہ نصیحت فرمائی : جب تمہاری موت کا وقت قریب ہو یا دنیا کا کوئی گھبرا دینے والا اہم مسئلہ در پیش ہوجائے تو یہ دعا پلے باندھ لینا :

لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم الحمد للہ رب العالمین۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر، مستدرک الحاکم)
5004- "عبد الله بن جعفر" عن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب أن عبد الله بن جعفر زوج ابنته فخلا بها، فقال: "إذا نزل بك الموت، أو أمر من أمور الدنيا فظيع فاستقبليه بأن تقولي: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين". "ش وابن جرير، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوف و گھبراہٹ کے وقت پڑھنا
5005: ۔۔ ابو رافع (رح) سے مروی ہے کہ عبداللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کی شادی حجاج بن یوسف سے کردی اور اس کو نصیحت فرمائی : جب وہ تیرے پاس آئے تو یہ کلمات پڑھ لینا :

لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین۔

عبداللہ بن جعفر کا کہنا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی جب کوئی پریشانی والی بات آجاتی تو یہی کلمات پڑھتے تھے۔

ابو رافع کہتے ہیں : لہٰذا حجاج اس تک نہیں پہنچ سکا۔ رواہ ابن عساکر۔

فائدہ : ۔۔ حجاج اموی خلافت کا ایک ظالم گورنر تھا۔ جس نے ظلم و زبردستی سے عبداللہ بن جعفر کی بیٹی سے شادی کی لہٰذا لڑکی کو ان کے والد نے یہ مذکورہ دعا سکھائی جس کی بدولت وہ ظالم اپنی مراد نہ پاسکا۔
5005- عن أبي رافع: أن عبد الله بن جعفر زوج ابنته من الحجاج بن يوسف، فقال لها إذا دخل بك فقولي: "لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين وزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا حزبه أمر، قال هذا، قال فلم يصل إليها". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوف و گھبراہٹ کے وقت پڑھنا
5006: ۔۔ (ابن عباس (رض)) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب تم کو ظالم بادشاہ کے روبرو پیش کیا جائے اور تم کو اس کے ظلم کا خوف ہو تو یہ کلمات تین بار پڑھ لو :

الله أكبر اللہ أكبر ، اللہ أعز من خلقه جميعا ، اللہ أعز مما أخاف وأحذر ، أعوذ بالله الذی لا إله الا هو الممسک السموات السبع ان يقعن علی الارض الا باذنه ، من شر عبدک فلان وجنوده واتباعه وأشياعه من الجن والانس ، اللهم كن لي جارا من شرهم ، جل ثناؤك ، وعز جارک ، و تبارک اسمک ، ولا إله غيرك ۔

اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ تمام مخلوق سے زیادہ با عزت ہے، اللہ زیادہ عزت (و طاقت) والا ہے، اس سے جس سے مجھے خوف اور ڈر لاحق ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اپنے حکم کے ساتھ ساتوں آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکنے والا ہے، فلاں بندے کے شر سے، اس کے لشکروں کے شر سے، اور اس کے متبعین اور ساتھیوں کے شر سے، جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ اے اللہ ! تو ان کے شر سے (مجھے اپنا پڑوس عطا کر) میرے لیے پناہ ثابت ہو، بیشک تیری ثناء اور بڑائی عظیم ہے، تیرا پڑوسی باعزت ہوا، تیرا نام بابرکت ہوا اور بیشک تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
5006- "ابن عباس" عن ابن عباس قال: "إذا أتيت سلطانا مهيبا تخاف أن يسطو عليك، فقل: الله أكبر الله أكبر، الله أعز من خلقه جميعا، الله أعز مما أخاف وأحذر، أعوذ بالله الذي لا إله إلا هو الممسك السموات السبع أن يقعن على الأرض إلا بإذنه، من شر عبدك فلان وجنوده وأتباعه وأشياعه، من الجن والإنس، اللهم كن لي جارا من شرهم، جل ثناؤك، وعز جارك، وتبارك اسمك، ولا إله غيرك ثلاث مرات". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوف و گھبراہٹ کے وقت پڑھنا
5007: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مصیبت کے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے :

لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم، لا الہ الا اللہ رب السموات والسبع ورب العرش الکریم۔ رواہ ابن جریر۔
5007- عن ابن عباس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو عند الكرب بهؤلاء الكلمات: "لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات السبع، ورب العرش الكريم". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5008: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (بڑے دروازے کی چوکھٹ پکڑی اور ہم لوگ کمرے میں تھے۔ فرمایا : اے عبدالمطلب کی اولاد ! کیا تم میں کوئی غیر تو نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہماری بہن کا بیٹا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی بھی قوم کی بہن کا بیٹا انہی کا فرد ہوتا ہے۔

پھر ارشاد فرمایا : اے عبدالمطلب کے بیٹو ! جب تم کو کوئی مصیبت آپڑے، یا کوئی سختی یا کسی تنگی کا تم کو سامنا ہو تو یہ کلمات کہہ لیا کرو :

اللہ اللہ لا شریک لہ۔ رواہ ابن جریر۔
5008- عن ابن عباس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بعضادتي باب ونحن في البيوت، فقال: يا بني عبد المطلب فيكم أحد من غيركم؟ قالوا: ابن أخت لنا، قال: ابن أخت القوم منهم، ثم قال: يا بني عبد المطلب إذا نزل بكم كرب، أو جهد، أو لأواء1 فقولوا: الله الله لا شريك له"."ابن جرير". ومر برقم [3430] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5009: ۔۔ (ابن مسعود (رض) حضرت ابن مسعود (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جب کسی پر کوئی ایسا حاکم مسلط ہوجائے جس کے ظلم و زبردستی کا خوف لگا رہے تو اس کو چاہیے کہ یہ دعا پڑھے :

اللهم رب السموات السبع ، ورب العرش العظيم ، كن لی جارا من فلان وأحزابه وأشياعه من الجن والانس أن يفرطوا علي وأن يطغوا عز جارک ، وجل ثناؤك ، ولا إله غيرك ۔

اے اللہ ! ساتوں آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب ! میرا پڑوسی اور مددگار بن جا فلاں شخص سے اور اس کی جماعت سے اور جن و انس میں سے اسی کے مددگار ہیں کہ وہ مجھ پر زیادتی کریں اور سرکشی کریں بیشک تیرا پڑوسی باعزت رہے گا، تیری بڑائی عظیم ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

ابن مسعود (رض) نے فرمایا : اس دعا کی برکت سے تم کو اس کی طرف سے کوئی ناخوشگوار بات نہ پہنچے گی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر)
5009- "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "إذا كان على أحدكم إمام يخاف تغطرسه وظلمه، فليقل: اللهم رب السموات السبع، ورب العرش العظيم، كن لي جارا من فلان وأحزابه وأشياعه من الجن والإنس أن يفرطوا علي وأن يطغوا، عز جارك، وجل ثناؤك، ولا إله غيرك فإنه لا يصل إليكم منه شيء تكرهونه". "ش وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5010: ۔۔ ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی رنج یا غم پیش آتا تھا تو یہ فرماتے تھے :

یا حی یا قیوم برحمتک استغیث۔ مسند البزار : 3918 ۔
5010- عن ابن مسعود قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل به هم أو غم قال: يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ". "ز". مر برقم [3918] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجا بھی قوم کا فرد ہے۔
5011: ۔۔ (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جب بھی کوئی بندہ سات مرتبہ یہ کہتا ہے تو اس کے ہر کام کے لیے اللہ کافی ہوجاتا ہے، خواہ وہ کہنے میں سچا ہو یا جھوٹا :

حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم۔

مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔

فائدہ : ۔۔ یعنی اس کو دعا کی اہمیت پر یقین کامل ہو یا اس میں کمزور ہو اور وہ سات مرتبہ یہ دعا پڑھے اللہ پاک ضرور اس کی مدد فرمائیں گے۔
5011- "أبو الدرداء" عن أبي الدرداء قال: ما من عبد يقول: "حسبي الله لا إله إلا هو، عليه توكلت وهو رب العرش العظيم، سبع مرات صادقا كان بها أو كاذبا إلا كفاه الله ما أهمه" "ك".
tahqiq

তাহকীক: