কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4972: ۔۔ (معاویہ بن ابی سفیان) حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے بعد اٹھتے ہوئے یہ پڑھتے ہوئے سنا :

اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔

اے اللہ جس کو تع طا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو تو روک دے اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا۔ اور کسی مرتبے والے کی کوئی کوشش اس کو خدا سے کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ نسائی، مسلم رقم الحدیث 593 ۔
4972- "معاوية بن أبي سفيان" عن معاوية قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا انصرف من الصلاة: "اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد". "ن1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4973: ۔۔ (ابو بکرۃ (رض)) ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذبک من الکفر والفقر و عذاب القبر۔

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے ، فقروفاقہ سے اور عذاب قبر سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4973- "أبو بكرة" كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو في دبر الصلاة يقول: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4974: ۔۔ (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مالدار لوگ تو سارا اجر لے گئے۔ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں جیسے ہم کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس کوئی چیز نہیں جو صدقہ کریں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جب تم اس پر عمل کرو تو اپنے سے آگے نکلنے والوں کو پالے لیکن تم سے پیچھے والے تم کو نہ پاسکیں۔ سوائے اس شخص کے جو تم جیسا عمل کرسکے۔ لذا تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو، اور چونتیس بار اللہ اکبر کہا کرو۔ مصنف ابن ابی شیب۔

3446 اور 3454 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
4974- "أبو الدرداء" عن أبي الدرداء قلت يا رسول الله: "ذهب الأغنياء بالأجر: يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق به، فقال: "ألا أدلكم على شيء إذا فعلتموه أدركتم من سبقكم، ولا يدرككم من بعدكم، إلا من عمل بالذي تعملون؟ تسبحون الله ثلاثا وثلاثين، وتحمدونه ثلاثا وثلاثين، وتكبرونه أربعا وثلاثين، في دبر كل صلاة". "ش"2.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4957: ۔۔ حضرت ابو الدرداء (رض) سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! مال و دولت والے دنیا و آخرت کا نفع لے گئے۔ وہ ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، ہماری طرح جہاد کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صڈقہ نہیں کرسکتے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جب تم وہ کرو تو اپنے آگے والوں کو پہنچ جاؤ اور پیچھے والے تم کو نہ پہنچ سکیں۔ سوائے اس شخص کے جو یہی عمل کرے۔ تم ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ کہہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہا کرو۔ (مصنف عبدالرزاق)

3471 پر روایت گذر گئی۔
4975- عن أبي الدرداء قلت يا رسول الله: "ذهب أهل الأموال بالدنيا والآخرة، يصومون كما نصوم، ويصلون كما نصلي، ويجاهدون كما نجاهد، ويتصدقون، ولا نتصدق، قال: "أفلا أدلك على أمر إذا فعلته أدركت من سبقك، ولا يدركك من بعدك، إلا من فعل كما فعلت تسبح الله ثلاثا وثلاثين، دبر كل صلاة مكتوبة، وتحمد الله ثلاثا وثلاثين وتكبر الله أربعا وثلاثين". "عب". ومر برقم [3471] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4976: ۔۔۔ (ابو ذر (رض) عن) (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو ذر (رض) کو فرمایا) اے ابو ذر ! میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جب تو ان کو کہے تو اپنے آگے والوں کو پالے اور تیرے بعد والے تجھے نہ پاسکیں سوائے اس شخص کے جو تیرے عمل جیسا عمل کرے۔ تو ہر فرض کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر کہہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار سبحان اللہ اور آخر میں ایک مرتبہ :

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔ (صحیح ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی عن ابوہریرہ (رض))
4976- "أبو ذر" "يا أبا ذر ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن أدركت من سبقك، ولا يلحق بك أحد بعدك إلا من أخذ بمثل عملك تكبر في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين تكبيرة وتحمده ثلاثا وثلاثين تحميدة وتسبحه ثلاثا وثلاثين تسبيحة، وتختمها بلا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير". "حب هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4977: ۔۔ (ابو سعید خدری (رض)) عمرو بن عطیہ عوفی اپنے والد سے اور وہ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز مکمل فرمانے کے بعد یہ دعا کرتے تھے :

اللهم انی أسألک بحق السائلين عليك ، فان للسائل عليك حقا ، أيما عبد أو أمة من أهل البر والبحر تقبلت دعوتهم ، واستجبت دعاء هم ان تشرکنا في صالح ما يدعونک ، وان تشرکهم في صالح ما ندعوک ، وان تعافينا واياهم ، وان تقبل منا ومنهم ، وان تجاوز عنا وعنهم ، فانا آمنا بما انزلت ، واتبعنا الرسول ، فاکتبنا مع الشاهدين ۔

اے اللہ میں تجھ سے اس حق کے طفیل جو تجھ پر سائلوں کا ہے کو جو غلام یا ندی خشکی میں یا تری میں ہیں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، میں سوال کرتا ہوں کہ ہمیں ان سب کی نیک دعاؤں میں شامل فرما اور ان وک ہماری اچھی دعاؤں میں شریک فرما اور ہمیں ان کو اپنی عافیت میں رکھ اور ہماری اور ان کی دعاؤں کو قبول کر۔ ہم سے اور ان سے درگذر کر، بیشک ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل فرمایا اور تیرے رسول کی اتباع کرتے ہیں سو ہم کو شاہدین میں لکھ لے۔

نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کوئی آدمی یہ دعا نہیں کرتے ہیں سو ہم کو شاہدین میں لکھ لے۔

نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کوئی آدمی یہ دعا نہیں کرتا مگر اللہ پاک اس کو تری والوں اور خشکی والوں سب کی نیک دعاؤں میں شریک فرما دیتا ہے۔ (رواہ الدیلمی)

کلام : ۔۔ المغنی میں الدارقطنی (رح) سے منقول ہے کہ عمرو بن عطیہ عصرفی ضعیف راوی ہے۔ بحوالہ کنز ج 2 ص 644)
4977- "أبو سعيد الخدري" عن عمرو بن عطية العوفي عن أبيه عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول إذا قضى صلاته: "اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك، فإن للسائل عليك حقا، أيما عبد أو أمة من أهل البر والبحر تقبلت دعوتهم، واستجبت دعاءهم أن تشركنا في صالح ما يدعونك، وأن تشركهم في صالح ما ندعوك، وأن تعافينا وإياهم، وأن تقبل منا ومنهم، وأن تجاوز عنا وعنهم، فإنا آمنا بما أنزلت، واتبعنا الرسول، فاكتبنا مع الشاهدين، وكان يقول: لا يتكلم بها أحد من خلق الله إلا أشركه الله في دعوة أهل بحرهم، وأهل برهم وهو مكانه". "الديلمي" قال في المغنى عمرو بن عطية العوفي ضعفه قط.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4978: ۔۔ ( ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ جو شخص فرض نماز کے بعد سو بار لا الہ الا اللہ سو بار سبحان اللہ، سو بار الحمد للہ، اور سو بار اللہ اکبر کہے تو اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ مصنف عبدالرزازق۔
4978- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "من هلل بعد المكتوبة مائة، وسبح مائة، وحمد مائة، وكبر مائة، غفرت ذنوبه، ولو كانت مثل زبد البحر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4979: ۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابو الدرداء (رض) یا حضرت ابو ذر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ : مالدار لوگ تو نکل گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں مزید اس پر یہ شرف کہ اپنے زائد اموال کو صدقہ کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : میں تم کو ایسے کلمات بتاتا ہوں جب تم ان کو کہوگے تو آگے نکل جانے والوں کو پا لوگے اور پیچھے والے تم کو نہ پاسکیں گے سوائے اس شخص کے جو تم جیسا عمل کرے اس صحابی نے عرض کیا ضرور بتائیے۔ یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور ایک مرتبہ یہ کلمات پڑھ کر اس کو مکمل کرو۔

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد ولہ الشکر۔ وھو علی کل شئی قدیر۔ (ابن عساکر، نسائی برقم 1354)
4979- عن أبي هريرة قال قال أبو الدرداء، وفي لفظ أبو ذر يا رسول الله: "ذهب أصحاب الدثور، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ولهم فضول أموال يتصدقون بها، وليس لنا ما نتصدق به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن أدركت من سبقك ولم يلحقك أحد من بعدك، إلا من عمل بمثل عملك؟ قلت بلى يا رسول الله: تكبر الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، وتحمده ثلاثا وثلاثين، وتسبحه ثلاثا وثلاثين، وتختمها بلا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وله الشكر، وهو على كل شيء قدير". "كر"1. رواه النسائي برقم [1354]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4980: ۔۔ (گمنام صحابی کی سمدن) زاذان (رح) سے مروی ہے مجھے ایک انصاری صحابی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے بعد یہ سو مرتبہ پڑھتے سنا ہے۔

اللھم اغفر و تب علی انک انت التواب الغفور۔

اے اللہ ! میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا (اور) مغفرت فرمانے والا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔

یہ روایت صحیح ہے۔
4980- "مسند رجال لم يسموا" عن زاذان قال: حدثني رجل من الأنصار قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في دبر الصلاة: "اللهم اغفر وتب علي إنك أنت التواب الغفور، مائة مرة". "ش" وهو صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4981: ۔۔ (عائشہ (رض)) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کا سلام پھیرتے تھے تو یہ دعا فرماتے تھے :

اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔ (مسند البزار) ۔
4981- "عائشة" عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم قال: "اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام". "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4982: حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا پڑھا کرتے تھے :

اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت وتعالیت یا ذالجلال والاکرام۔ (رواہ ابن عساکر) ۔
4982- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4983: ۔۔۔ (مرسل عطاء (رح)) ابن جریح (رح) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! آپ کے پہلے صحابی اعمال میں ہم سے سبقت لے گئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم کو ایسی شے نہ بتاؤں جو تم فرض نماز کے بعد کرو اور اس کے ذریعہ سابقین کو پالو اور لاحقین تم کو نہ پاسکیں۔ لوگوں نے کہا ضرور یا رسول اللہ ! سو آپ نے ان کو حکم دیا کہ چونتیس بار اللہ اکبر، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار سبحان اللہ پڑھا کریں۔

راوی فرماتے ہیں : ہمیں ایک آدمی نے خبر دی کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ مسکین لوگ آئے انھوں نے کہا : ہم پر اجر میں پہلے لوگ غالب آگئے ہیں، ہمیں کوئی ایسے اعمال بتائیے کہ ہم ان پر غالب آسکیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی مذکورہ عمل بتایا۔ جب یہ بات مالدار لوگوں کو پہنچی تو انھوں نے بھی اس پر عمل شروع کردیا۔ مسکینوں نے یہ ماجرا دیکھ کر پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں درخواست کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تو فضائل ہیں (جو بھی حاصل کرلے) ۔
4983- "مرسل عطاء" عن ابن جريج1 عن عطاء قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بعض أصحابه، فقال: "يا نبي الله إن أصحابك لأصحابك الأولون، سبقونا بالأعمال، فقال: ألا أخبركم بشيء تصنعونه بعد المكتوبة تدركون به من سبقكم وتسبقون به من بعدكم؟ قالوا: بلى يا نبي الله، فأمرهم أن يكبروا أربعا وثلاثين، ويحمدوا ثلاثا وثلاثين، وتسبحوا ثلاثا وثلاثين، ثم أخبرنا عند ذلك رجل، فجاءه المساكين فقالوا: يا نبي الله غلبنا الأولون على الأجر فأمرنا بعمل ندرك به أعمالهم، فأخبرهم بمثل ما قال عطاء، فلما بلغ ذلك أصحاب الأموال أخذوا به، فلما رأى ذلك المساكين جاؤا النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه، فقال: هي الفضائل " "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4984: ۔۔۔ (مرسل قتادہ (رح)) حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کچھ فقراء صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مال والے اجر لے گئے وہ صدقہ کرتے ہیں ہم صدقہ خیرات نہیں کرسکتے۔ وہ خرچ کرتے ہیں اور ہر پر خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا بتاؤ اگر مال والوں کے تمام اموال ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیے جائیں کیا وہ اموال آسمان تک پہنچ جائیں گے ؟ فقراء نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو کیا میں تم کو ایسی شئی نہ بتاؤں جس کی جڑ زمین میں ہو اور اس کی شاخ آسمان میں تم ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات دس دس بار پڑھا کرو۔ لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ۔ بیشک ان کی جڑ زمین اور شاخین آسمان میں ہیں۔ (عبدالرزاق، ابن زنجویہ)
4984- "مرسل قتادة" عن قتادة قال: "قال ناس من فقراء المؤمنين يا رسول الله: ذهب أهل الدثور بالأجور، يتصدقون ولا نتصدق وينفقون ولا ننفق، قال: أرأيتم لو أن مال الدنيا وضع بعضه على بعض أكان بالغا السماء؟ قالوا: لا يا رسول الله، قال: أفلا أخبركم بشيء أصله في الأرض، وفرعه في السماء؟ أن تقولوا في دبر كل صلاة: لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله عشر مرات، فإن أصلهن في الأرض، وفرعهن في السماء"."عب" ابن زنجويه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4985: ۔۔ عبدالرزاق (رح) فرماتے ہیں ہمیں ابو الاسود نے ابن لہیۃ سے نقل کیا انھوں نے محمد بن مہاجر مصری سے اور انھوں نے ابن شہاب زہری (رح) سے روایت کیا۔ ابن شہاب زہری (رح) فرماتے ہیں۔ جس شخص نے جمعہ کی نماز کے بعد جب امام سلام پھیر لے تو کسی سے بات کرنے سے قبل سات سات بار سورة اخلاص اور معوذتین پڑھ لیں تو وہ اس کا مال اور اس کی اولاد آئندہ جمعہ تک حفاظت میں رہیں گی۔ مصنف عبدالرزاق۔
4985- حدثنا أبو الأسود، حدثنا ابن لهيعة1 عن محمد بن المهاجر من أهل مصر عن ابن شهاب قال: من قرأ قل هو الله أحد، والمعوذتين بعد صلاة الجمعة حين يسلم الإمام قبل أن يتكلم سبعا سبعا، كان ضامنا هو وماله وولده من الجمعة إلى الجمعة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے بعد کی ایک دعا
4976: ۔۔ (مرسل مکحول) مکحول (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرے۔ رواہ عبدالرزاق۔
4986- "مرسل مكحول" عن مكحول "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر رجلا أن يسبح خلف الصلاة ثلاثا وثلاثين، ويحمد ثلاثا وثلاثين ويكبر أربعا وثلاثين". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر سے پہلے کی دعا
4987: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مجھے (میرے والد) عباس (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کسی کام سے بھیجا میں شام کے وقت آپ کے گھر پہنچا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری خالہ ام المومنین میمونہ (رض) کے پاس تھے۔ (میں رات کو وہیں ٹھہر گیا) رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی نماز (تہجد ) ادا کی پھر اس کے بعد دو رکعت سنت فجر ادا کی اس کے بعد یہ دعا کی :

اللھم انی اسالک رحمۃ من عندک تھدی بھا قلبی و تجمع بھا امری۔

اے اللہ میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں اس کے طفیل تو میرے دل کو ہدایت دے اور میرے معاملہ کو مجتمع کردے۔

نوٹ : ۔۔۔ علامہ علاء الدین المتقی بن حسان الدین مولف کنزا لعمال (رح) فرماتے ہیں علامہ سیوطی (رح) نے اس دعا کو مکمل جو بڑی طویل ہے اپنی کتاب جامع صغیر میں نقل فرما دیا ہے اور جامع صغیر کے اس موضوع سے متعلق حصہ کو ہم اپنی اس کتاب میں ذکر کر آئے ہیں لہٰذا یہ دعا وہیں ملاحظہ فرمائیں۔

تنبیہ : ۔۔ مترجم محمد اصغر عرض کرتا ہے کہ آئندہ کی حدیث نمبر 4988 میں اسی کے قریب الفاظ پر مشتمل دعا منقول ہے نیز جس دعا کے گذرنے کا مولف کنز (رح) فرما رہے ہیں وہ حدیث 3608 پر گذر چکی ہے۔ دونوں دعائیں معمولی فرق کے ساتھ منقول ہیں۔
4987- عن ابن عباس قال: "بعثني العباس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته ممسيا وهو في بيت خالتي ميمونة، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فلما صلى ركعتي الفجر، قال: "اللهم إني أسألك رحمة من عندك تهدي بها قلبي، وتجمع بها أمري".

"يقول العبد مبوب هذا الكتاب، الشيخ السيوطي رحمه الله ذكر هذا الدعاء في الجامع الصغير بطوله، فلما أدخلت الجامع الصغير في هذا التبويب وهذا الدعاء مذكور في كتاب الأذكار في جوامع الأدعية اكتفيت به عن تكراره في هذا الموضع فليعلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر سے پہلے کی دعا
4988: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میری خواہش تھی کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز (تہجد ) دیکھوں۔ میں نے ایک مرتبہ آپ کی رات کے بارے میں پوچھا (کہ کس زوجہ محترمہ کے گھر ہے ؟ )

لہذا میمونہ ہلالیہ کا نام بتایا گیا (اور یہ حضرت ابن عباس (رض) کی خالہ تھیں) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور عرض کیا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہوں سے ہٹ کر آپ کی نماز دیکھنا چاہتا ہوں۔ میمونہ نے میرے لیے حجرہ کے ایک کونے میں بستر بچھا دیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز اپنے صحابہ کے ساتھ ادا فرما لی تو اپنے گھر تشریف لائے۔ آپ نے میری موجودگی کو محسوس کرلیا۔ لہٰذا اپنی بیوی سے پوچھا اے میمونہ ! تمہارا مہمان کون ہے انھوں نے عرض کیا : آپ کے چچا کے بیٹے ہیں یا رسول اللہ ! عبداللہ بن عباس۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بستر پر چلے گئے۔ جب رات آدھی ہوئی تو آپ اپنے حجرے سے نکلے اور آسمان کی طرف اپنا رخ کرکے فرمایا : آنکھیں سو گئیں، ستارے ڈوب گئے اور تو زندہ ہے اور ہر شئی کو تھام کر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے بعد آپ واپس اپنے بستر پر چلے گئے۔ پھر جب رات کو آخری پہر ہوا پھر دوبارہ حجرے سے نکلے اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا : آنکھیں سو گئیں ستارے ڈوب گئے۔ اور اے اللہ تو زندہ ہے اور ہر شئی کو قائم رکھنے والا ہے۔ پھر آپ حجرے کے کونے میں رکھے مشکیزہ کے پاس گئے اس کا منہ کھولا اور اچھی طرح وضو کیا پھر مصلی پر آ کر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ تکبیر کہی اور نماز میں کھڑے ہوگئے میں نے کہا آپ تو رکوع کریں گے ہی نہیں۔ پھر رکوع اس قدر طویل کای کہ میں نے کہا آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے نہیں۔ پھر آپ نے کمر سیدھی کی اور پھر سجدہ میں چلے گئے حتی کہ میں نے کہا آپ سجدہ سے سر اٹھائیں گے نہیں۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھے تو میں نے کہا دوبارہ سجدہ میں جائیں گے نہیں پھر سجدہ کیا حتی کہ میں نے کہا اب کھڑے نہیں ہوں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ نے آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ ہر رکعت پہلے والی رکعت سے کم ہوتی تھی۔ اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ پھر آپ نے دو رکعت کے بعد آخر میں تین رکعات کے ساتھ وتر ادا کیے۔ پہلی رکعت میں کھڑے ہوئے اور جب تیسری رکعت کا رکوع ادا کیا اور رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے تو دعائے قنوت پڑھی :

اللهم انی أسألک رحمة من عندک تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثی ، وترد بها ألفتي ، و تحفظ بها غيبتی وتز کی بها عملي ، وتلهمني بها رشدي ، وتعصمني بها من کل سوء وأسألك إيمانا لا يرتد ويقينا ليس بعده کفر ، ورحمة من عندک أنال بها شرف کر امتک في الدنيا والاخرة ، أسألک الفوز عند القضاء ومنازل الشهداء وعيش السعداء ، ومرافقة الانبياء ، انک سميع الدعاء ، اللهم انی أسألك يا قاضی الامور ، ويا شافي الصدور ، كما تجير بين البحور ان تجيرني من عذاب السعير ، ومن فتنة القبور ، ودعوة الثبور ، اللهم ما قصر عنه عملي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته احدا من خلقک ، أو أنت معطيه أحدا من عبادک الصالحين ، فأسألک وأرغب اليك فيه يا رب العالمين ، اللهم اجعلنا هداة مهتدين غير ضالين ولا مضلين ، سلما لاوليائك ، وحربا لاعدائك ، نحب بحبک من أحبک ونعادی بعداوتک من خالفک ، اللهم انی أسألک بوجهك الكريم ذی الجلال الشديد ، الامن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود ، مع المقربين الشهود ، الموفين بالعهود ، انک رحيم ودود ، انک تفعل ما تريد ، اللهم هذا الدعاء وعليك الاجابة وهذا الجهد وعليك التکلان ، ولا حول ولا قوة الا بك ، اللهم اجعل لي نورا في سمعي وبصري ومخي وعظمي وشعري وبشري ومن بين يدي ومن خلفي ، وعن يميني وعن شمالی ، اللهم اعطني نورا وزدنی نورا ، وزدنی نورا وزدنی نورا ، ثم قال : سبحان من لبس العز وقال به ، سبحان الذی تعطف بالمجد وتکرم به ، سبحان من لا ينبغی التسبيح الا له ، سبحان من أحصی كل شئی بعلمه ، سبحان ذی الفضل والطول ، سبحان ذي المن والنعم ، سبحان ذی القدرة والکرم۔

ترجمہ : ۔۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اس کی بدولت تو میرے دل کو ہدایت نصیب کر، میرے معاملات کو ٹھیک کر، میری پریشانی کو مبدل ب آرام کر، میری الفت کو واپس لوٹا دے۔ میرے غائب کی حفاظت کر، میرے عمل کو پاکیزہ کر، اس رحمت کے طفیل مجھے میری بھلائی کا راستہ الہام کر، اس کے طفیل ہر برائی سے میری حفاظت کر، اے اللہ ! مجھے ایسا ایمان اور یقین عطا کر جس کے بعد کفر کا شائبہ نہ رہے، اپنے پاس سے ایسی رحمت عطا کر جس کے ذریعے میں دنیا و آخرت میں تیری کرامت کا شرف پا لوں۔ میں فیصلہ کے وقت کامیابی کا، شہداء کے مرتبے کا، سعادت مندوں کی زندگی کا اور انبیاء کی ہم نشینی کا سوال کرتا ہوں، بیشک تو دعا قبول فرمانے والا ہے۔ اے اللہ ! اے تمام معاملوں کا فیصلہ کرنے والے ! اے سینوں کو شفاء بخشنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو مسجد ہار کے بیچ پھنسے ہوئے لوگوں کو پناہ دیتا ہے اسی طرح مجھے جہنم کے عذاب، قبر کے فتنے اور ہلاکت کی دعاؤں سے پناہ دیدے۔ اے اللہ ! جس چیز میں میرا عمل کمزور ہو اور اس میں خیر کا سوال بھی نہ کرپایا ہوں اور وہ شی تو نے اپنے کسی بھی مخلوق کو عطا کردی ہو، یا رب العالمین میں بھی اس میں رغبت رکھتا ہوں اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! ہم کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور ہدایت قبول کرنے والا بنا نہ کہ خود گمراہ اور اوروں وک بھی گمراہ کرنے والا بنا۔ ہمیں اپنے اولیاء کا دوست بنا اپنے دشمنوں کا دشمن بنا۔ ہم تیری محبت کے ساتھ ان سے محبت کریں جو تجھ سے محبت کرتے ہیں۔ اور تیری دشمنی کے ساتھ ان لوگوں سے دشمنی رکھیں جو تیری مخالفت کرتے ہیں۔ اے اللہ ! میں تیری کریم ذات کے طفیل جو بری عظمت والی ہے سوال کرتا ہوں عذاب کے دن امن کا ہمیشگی کے دن جنت کا تیرے مقرب بندوں کے ساتھ جو عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ بیشک تو مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔ بیشک جو تو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ ! یہ میرا سوال ہے اور تجھ پر اس کا قبول کرنا ہے۔ اور یہ میری کوشش ہے اور تجھ پر بھروسہ ہے۔ ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی قوت تیری بدولت مکن ہے۔ اے اللہ ! میرے لیے نور پیدا کر دے میرے کانوں، آنکھوں، دماغ، ہڈیوں، بالوں اور کھالوں میں اور میرے آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں نور ہی نور روشن کردے۔ اللہ مجھے نور عطا کر، میرا نور زیادہ کر، میرا نور زیادہ کر، میرا نور زیادہ کر۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت و کرامت کا لباس پہنا اور اسی کے ساتھ معاملہ کیا۔ پاک ہے وہ ذات جو بزرگی و کرامت کے ساتھ مہربان ہوا۔ پاک ہے وہ ذات کہ پاکی بیان کرنا اسی کے لیے زیبا ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو اپنے علم کے احاطہ میں کرلیا پاک ہے بزرگی اور قدرت کی مالک ذات، پاک ہے احسان اور نعمتوں کی بارش کرنے والی ذات اور پاک ہے طاقت اور کرامت والی ذات۔

یہ دعا پڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا اور یوں آپ فجر کی سنتوں سے پہلے وتروں سے فارغ ہوئے پھر فجر کی دو سنتیں ادا کیں اس کے بعد باہر نکل کر لوگوں کو فجر کے فرض پڑھائے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔

3608 پر روایت گذر چکی ہے۔
4988- عن ابن عباس قال "أردت أن أعرف صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل فسألته عن ليلته؟ فقيل لميمونة الهلالية، فأتيتها فقلت: إني تنحيت عن الشيخ ففرشت لي في جانب الحجرة، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصحابه صلاة العشاء الآخرة، دخل إلى منزله، فحس حسي، فقال: يا ميمونة من ضيفك؟ قالت: ابن عمك يا رسول الله، عبد الله بن عباس قال: فأوى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى فراشه، فلما كان في جوف الليل خرج إلى الحجرة، فقلب في أفق السماء وجهه، ثم قال: نامت العيون، وغارت النجوم، وأنت حي قيوم، ثم رجع إلى فراشه، فلما كان في ثلث الليل الآخر خرج إلى الحجرة فقلب في أفق السماء وجهه، وقال: نامت العيون، وغارت النجوم، والله حي قيوم، ثم عمد إلى قربة في ناحية الحجرة، فحل شناقها، ثم توضأ فأسبغ وضوءه، ثم قام إلى مصلاه، فكبر وقام حتى قلت لن يركع، ثم ركع فقلت لن يرفع ثم رفع صلبه، ثم سجد فقلت لن يرفع رأسه، ثم جلس فقلت لن يعود ثم سجد فقلت لن يقوم، ثم قام فصلى ثمان ركعات، كل ركعة دون التي قبلها، يفصل في كل ثنتين بالتسليم، وصلى ثلاثا أوتر بهن بعد الإثنين وقام في الواحدة الأولى فلما ركع الركعة الأخيرة فاعتدل قائما من ركوعه قنت فقال: اللهم إني أسألك رحمة من عندك تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي، وترد بها ألفتي، وتحفظ بها غيبتي وتزكي بها عملي، وتلهمني بها رشدي، وتعصمني بها من كل سوء وأسألك إيمانا لا يرتد ويقينا ليس بعده كفر، ورحمة من عندك أنال بها شرف كرامتك في الدنيا والآخرة، أسألك الفوز عند القضاء ومنازل الشهداء وعيش السعداء، ومرافقة الأنبياء، إنك سميع الدعاء، اللهم إني أسألك يا قاضي الأمور، ويا شافي الصدور، كما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير، ومن فتنة القبور، ودعوة الثبور، اللهم ما قصر عنه عملي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقك، أو أنت معطيه أحدا من عبادك الصالحين، فأسألك وأرغب إليك فيه يا رب العالمين، اللهم اجعلنا هداة مهتدين، غير ضالين ولا مضلين، سلما لأوليائك، وحربا لأعدائك، نحب بحبك من أحبك، ونعادي بعداوتك من خالفك، اللهم إني أسألك بوجهك الكريم ذي الجلال الشديد، الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود، مع المقربين الشهود، الموفين بالعهود، إنك رحيم ودود، إنك تفعل ما تريد، اللهم هذا الدعاء وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بك، اللهم اجعل لي نورا في سمعي وبصري ومخي وعظمي وشعري وبشري ومن بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، اللهم أعطني نورا وزدني نورا، وزدني نورا وزدني نورا، ثم قال: سبحان من لبس العز وقال به، سبحان الذي تعطف بالمجد وتكرم به، سبحان من لا ينبغي التسبيح إلا له، سبحان من أحصى كل شيء بعلمه، سبحان ذي الفضل والطول، سبحان ذي المن والنعم، سبحان ذي القدرة والكرم، ثم سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان فراغه من وتره وقت ركعتي الفجر، فركع في منزله، ثم خرج فصلى بأصحابه صلاة الصبح". "ك". ومر برقم [3608]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر کے بعد ٹھہرنا
4989: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ جس کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا اور پھر انھوں نے لوٹنے میں سرعت کا مظاہرہ کیا۔ ایک شخص جو لشکر میں جانے سے رہ گیا تھا بولا : ہم نے ایسا کوئی لشکر نہیں دیکھا جو اس قدر جلد واپس آیا اور بےانتہا مال غنیمت بھی ساتھ لایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو اسی قوم نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ مال لے کر اس سے زیادہ جلد واپس آنے والی ہے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز میں حاضر ہوتے ہیں پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ پس یہ لوگ زیادہ جلد لوٹ کر آتے ہیں اور افضل غیمت ساتھ لاتے ہیں۔

روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں ، فرمایا : وہ لوگ صبح کی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے پھر دو رکعات نماز (نفل) ادا کرتے ہیں پھر اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں یہ لوگ ان سے جلد واپس آنے والے اور ان سے زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں۔ (ابن زنجویہ، ترمذی)

کلام : ۔۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں۔ یہ روایت غریب (ضعیف) ہے اور ہم کو صرف اسی طریق سے ملی ہے اور اس میں ایک راوی حماد بن ابی حمید ضعیف ہے۔ تحفۃ الاحوذی 10/ 7 بحوالہ کنز العمال ج 2 ص 652)
4989- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعثا قبل نجد فغنموا غنائم كثيرة، وأسرعوا الرجعة، فقال رجل ممن لم يخرج: ما رأينا بعثا أسرع رجعة ولا أفضل غنيمة من هذا البعث فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ألا أدلكم على قوم أفضل غنيمة وأسرع رجعة؟ قوم شهدوا صلاة الصبح ثم جلسوا في مجالسهم يذكرون الله حتى طلعت الشمس، فأولئك أسرع رجعة، وأفضل غنيمة وفي لفظ: أقوام يصلون الصبح، ثم يجلسون في مجالسهم يذكرون الله حتى تطلع الشمس، ثم يصلون بركعتين، ثم يرجعون إلى أهاليهم فهؤلاء أعجل كرة، وأعظم غنيمة منهم". "ابن زنجويه ت" وقال غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه وفيه حماد بن أبي حميد ضعيف1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر کے بعد ٹھہرنا
4990: حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی اور اپنی مجلس میں بیٹھے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ (مصنف عبدالرزاق)
4990- عن جابر بن سمرة قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة قعد في مجلسه حتى تطلع الشمس" "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنج و غم اور خوف کے وقت کی دعا
4991: ۔۔ (عثمان بن عفان (رض)) سعد بن ابی وقاص (رض) سے مروی ہے کہ میں عثمان بن عفان (رض) کے پاس سے گزر جو مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ انھوں نے مجھ سے آنکھیں بند کرلیں اور میرے سلام کا جواب بھی نہ دیا۔ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں ابھی عثمان بن عفان کے پاس سے گذرا تھا میں نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے کوئی سلام کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : نہٰں، میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ حضرت سعد (رض) بولے : ہاں ایسا ہی ہوا ہے۔ پھر حضرت عثمان (رض) کو یاد آگیا اور انھوں نے فرمایا : ہاں، میں اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ جب آپ میرے پاس سے گذرے تو میں ایک کلمہ کو یاد کرنے کی کوشش کررہا تھا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا اللہ کی قسم میں جب بھی اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو کوئی پردہ میری آنکھیں اور قلب پر پڑجاتا ہے۔

حضرت سعد (رض) نے فرمایا : میں تم کو بتاتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ ہم کو پہلی دعا کا ذکر کیا۔ لیکن پھر ایک اعرابی نے آ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باتوں میں مشغول کرلیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر چل دیے۔ میں بھی آپ کے نقش قدم پر ہولیا۔ لیکن مجھے در لگا کہ کہیں آپ مجھے ملنے سے پہلے گھر میں داخل نہ ہوجائیں۔ چنانچہ میں نے تیز تیز قدم اٹھائے۔ (قدموں کی آہٹ پر) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : کون ؟ ابو اسحاق ! میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : واللہ ! آپ نے ہم سے پہلی دعا کا ذکر کیا تھا پھر وہ اعرابی آگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں وہ ذی النون (مچھلی والے) کی دعا ہے :

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔

اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔

کسی مسلمان نے ان کلمات کے ساتھ کسی چیز کی دعا نہیں کی مگر وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی فی الدعاء۔

حدیث صحیح ہے۔
4991- "عثمان بن عفان رضي الله عنه" عن سعد بن أبي وقاص قال: "مررت بعثمان بن عفان في المسجد، فسلمت عليه، فملأ عينيه مني فلم يرد علي السلام، فأتيت عمر بن الخطاب، فقلت يا أمير المؤمنين مررت بعثمان آنفا فسلمت عليه فملأ عينيه مني، فلم يرد علي السلام، فأرسل عمر إلى عثمان فدعا به، فقال: ما منعك أن تكون رددت على أخيك السلام؟ قال عثمان: ما فعلت، قال سعد قلت بلى، ثم إن عثمان ذكر فقال بلى، فأستغفر الله وأتوب إليه، إنك مررت آنفا وأنا أحدث بكلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا والله ما ذكرتها قط إلا يغشى بصري وقلبي غشاوة، قال سعد فأنا أنبهك بها إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر لنا أول دعوة، ثم جاءه أعرابي فشغله، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتبعته: فأشفقت أن يسبقني إلى منزله، فضربت بقدمي الأرض، فالتفت إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: من هذا أبو إسحاق؟ قلت نعم يا رسول الله، قال فمه؟ قلت لا والله إلا أنك ذكرت لنا أول دعوة، ثم جاء هذا الأعرابي، فقال: نعم دعوة ذي النون: لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين، فإنه لم يدع بها مسلم ربه في شيء قط إلا أستجيب له " "ع طب في الدعاء" وصحح.
tahqiq

তাহকীক: