কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔
4952: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :

اللھم بک نصبح و بک نمسی و بک نحیا و بک نموت والیک النشور۔

اے اللہ ! ہم تیرے ساتھ صبح کرتے ہیں اور تیرے ساتھ شام کرتے ہیں، تیرے طفیل زندگی پاتے ہیں اور تیرے حکم سے مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہم اٹھائے جائیں گے۔

شام کے وقت بھی یہی کلمات پڑھتے صرف آخر میں (النشور کی بجائے) المصیر پڑھتے۔ الدور قی۔ ابن جریر۔

حدیث صحیح ہے۔
4952- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أصبح قال: "اللهم بك نصبح، وبك نمسي، وبك نحيا، وبك نموت، وإليك النشور، ويقول حين يمسي: مثل ذلك، ويقول في آخرها وإليك المصير". "الدورقي وابن جرير" وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔
4953: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے :

الحمد للہ علی حسن المساء والحمد علی حسن المیت والحمد للہ علی حسن الصاح۔

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اچھی شام پر، اچھی رات پر اور اچھی صبح پر۔

فرمایا : جس نے صبح کو دعا پڑھی اس نے اس رات کا اور اس دن کا شکر ادا کردیا۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4953- عن علي قال من قال حين يصبح: "الحمد لله على حسن المساء، والحمد على حسن المبيت، والحمد لله على حسن الصباح، فقد أدى شكر ليلته ويومه". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔
4954: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئے اور فرمایا : اے محمد ! اگر تم کو یہ بات اچھی لگے کہ تم کسی رات یا کسی دن اللہ کی ایسی عبادت کرو جیسا کہ اس کا حق ہے تو یہ دعا پڑھو :

اللهم لک الحمد حمدا کثيرا مع خلودک ، ولک الحمد حمدا لا منتهى له دون علمک ، ولک الحمد حمدا لا منتهى له دون مشيئتك ، ولک الحمد حمدا لا أجر لقائله الا رضاک ۔

اے اللہ ! بہت بہت زیادہ تمام تعریفیں تیرے لیے ہوں تیرے دوام کے ساتھ۔ تمام تعریفیں تیرے لیے ہوں جن کی انتہاء نہ ہو۔ تیری مشیت کے سوا۔ تمام تعریفیں تیرے لیے ہوں جن کے قائل کا اجر تیری رضاء کے سوا کچھ نہ ہو۔ شعب الایمان للبیہقی۔

کلام : ۔۔ حضرت علی (رض) اور ان کے نیچے کے راوی کے درمیان کوئی راوی ساقط ہے جس کی وجہ سے روایت منقطع الاسناد ہے۔
4954- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم نزل عليه جبريل فقال: "يا محمد إذا سرك أن تعبد الله ليلة حق عبادته أو يوما فقل: اللهم لك الحمد حمدا كثيرا مع خلودك، ولك الحمد حمدا لا منتهى له دون علمك، ولك الحمد حمدا لا منتهى له دون مشيئتك، ولك الحمد حمدا لا أجر لقائله إلا رضاك". "هب" وقال فيه انقطاع بين علي ومن دونه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری موت سے بچاؤ کی دعا
4955: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :

جس کو اس بات کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو، اس کے دشمنوں پر اس کی مدد ہو۔ اس کے رزق میں وسعت ہو اور بری موت سے اس کی حفاظت ہو تو وہ شخص یہ دعا صبح و شام تین تین بار پڑھا کرے :

سبحان اللہ ملء الميزان ومنتهى العلم ، ومبلغ الرضا ، وزنة العرش ، ولا إله الا اللہ ملء الميزان ومنتهى العلم ، ومبلغ الرضا ، وزنة العرش ، والله أكبر ملء الميزانومنتهى العلم ، ومبلغ الرضا وزنة العرش ۔

میں سبحان اللہ کہتا ہوں میزان بھر کر، خدا کے علم کی انتہاء تک، خدا کی رضا، حاصل ہونے تک اور عرش کے وزن تک میں۔ لا الہ الا اللہ کہتا ہوں میزان بھر کر، علم کی انتہاء کے بقدر، خدا کی رضاء کے حصول تک اور عرش کے وزن کے برابر۔ اور اللہ اکبر کہتا ہوں میزان بھر کر، علم کی انتہاء کے بقدر، رضاء حاصل ہونے تک اور عرش کے وزن کے برابر۔ الدیلمی، نظام الدین المسعودی فی الاربعین۔

کلام : ۔۔۔ ضعیف روایت ہے دیکھیے۔ تذکرۃ الموضوعات 58، التنزیہ 2/ 33، ذیل اللآلی 153 ۔
4955- عن علي أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "من سره أن ينسأ في عمره، وينصر على عدوه، ويوسع عليه في رزقه، ويوقى ميتة السوء فليقل حين يمسي، وحين يصبح ثلاث مرات: سبحان الله ملء الميزان ومنتهى العلم، ومبلغ الرضا، وزنة العرش، ولا إله إلا الله ملء الميزان ومنتهى العلم، ومبلغ الرضا، وزنة العرش، والله أكبر ملء الميزان

ومنتهى العلم، ومبلغ الرضا، وزنة العرش". "الديلمي ونظام الدين المسعودي في الأربعين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری موت سے بچاؤ کی دعا
4956: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے کہ صبح ہو تو یہ دعا پڑھو :

أصبحنا علی فطرة الاسلام وکلمة الاخلاص وسنة نبينا محمد صلی اللہ عليه وسلم وملة ابراهيم أبينا حنيفا وما کان من المشرکين

ہم نے صبح کی فطرت اسلام پر، کلمہ اخلاص پر، اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پر اور اپنے باپ ابراہیم کی ملت حنیفیہ پر جو مشرکوں میں سے نہ تھے ۔

اور جب شام ہو تب بھی یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل۔
4956- عن أبي بن كعب: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا إذا أصبحنا يقول: "أصبحنا على فطرة الإسلام وكلمة الإخلاص وسنة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم وملة إبراهيم أبينا حنيفا وما كان من المشركين، وإذا أمسى مثل ذلك". "عم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری موت سے بچاؤ کی دعا
4957: ۔۔ (عبداللہ بن عمر (رض)) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی صبح و شام کی دعا میں ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے دیکھا جن کو آپ نے کبھی نہیں چھوڑا۔ حتی کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ ج 2 ص 636، حدیث نمبر 4957 ۔

اے اللہ میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل میں اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

اے اللہ ! میر برائیوں کی پردہ پوشی فرما، میرے خوف کو امن عطا فرما، اے اللہ میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، اور میرے اوپر سے حفاظت فرما۔

اے پروردگار ! میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ نیچے سے اچک لیا جاؤں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔

فائدہ : ۔۔ جبیر بن سلیمان فرماتے ہیں : نیچے سے اچک لیا جاؤں اس سے مراد خسف ہے یعنی دھنس جانا زلزلہ کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں معلوم نہیں یہ جبیر کا اپنا قول ہے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کیا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4957- "عبد الله بن عمر" سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في دعائه حين يمسي وحين يصبح لم يدعه حتى فارق الدنيا، أو حتى مات: "اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك ان أغتال من تحتي"، قال جبير بن سليمان: وهو الخسف ولا أدري قول النبي صلى الله عليه وسلم أو قول جبير؟ " "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بری موت سے بچاؤ کی دعا
4958: ۔۔ (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت فرمایا : تمہیں جو خطرات لاحق رہتے تھے ان کا کیا ہوا ؟ اس نے عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ میرے خطرات بالکل زائل ہوں گے۔ رواہ ابن عساکر۔
4958- "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: "يا رسول الله، والله إني لأخاف في نفسي وولدي وأهلي ومالي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم قل كلما أصبحت وإذا أمسيت: "بسم الله على ديني ونفسي وولدي وأهلي ومالي"، فقالهن الرجل، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما صنعت فيما كنت تجد؟ قال: والذي بعثك بالحق لقد ذهب ما كنت أجد". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب (رض) کی دعا
4959: ۔۔ (ابو ایوب (رض)) حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے اور ابو ایوب کے گھر ٹھہرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے کمرے میں قیام پذیر ہوئے جبکہ ابو ایوب کا گھرانہ اوپر کمرے میں تھا۔ جب شام ہوئی اور رات آئی تو ابو ایوب کو یہ خیال آنے لگا کہ وہ کمرے کے اوپر ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے نیچے کمرے میں ہیں یوں وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وحی کے درمیان ہیں۔ لہٰذا ابو ایوب سو نہ سکے اس ڈر سے کہ کہیں (سوتے ہوئے ان کے حرکت کرنے سے) اپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گردو غبار نہ گرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے۔ جب صبح ہوئی تو یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا ! یا رسول اللہ ! رات بھر میں پلک جھپکا سکا اور نہ ام ایوب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا وہ کیوں اے ابو ایوب ؟ عرض کیا : مجھے یہ خیال آتا رہا کہ میں کمرے کے اوپر ہوں اور آپ نیچے ہیں کہیں میرے حرکت کرنے سے گرد و غبار نیچے نہ گرے یوں میرا حرکت کرنا آپ کو اذیت پہنچانے اور (یوں بھی اوپر ہونے کی وجہ سے) میں آپ کے اور وحی کے درمیان حائل ہوں۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابو ایوب ! ایسا نہ کیا کر ! پھر فرمایا : کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کو تو صبح و شام دس دس بار پڑھ لیا کرے تو تجھے دس نیکیاں عطا ہوں گی، دس برائیاں تری مٹا دی جائیں، دس درجات تیرے بلند کیے جائیں اور قیامت کے دن وہ کلمات تیرے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر کا باعث بنیں ؟ پس تو یہ کہا کر :

لا الہ الا اللہ، لہ الملک، ولہ الحمد لا شریک لہ، الکبیر للطبرانی۔
4959- "أبو أيوب" عن أبي أيوب قال: "قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، فنزل على أبي أيوب، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم السفل، ونزل أبو أيوب العلو، فلما أمسى وبات جعل أبو أيوب يذكر أنه على ظهر بيت، رسول الله صلى الله عليه وسلم أسفل منه وهو بينه وبين الوحي، فجعل أبو أيوب لا ينام، يحاذر أن يتناثر عليه الغبار، ويتحرك فيؤذيه، فلما أصبح غدا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما جعلت الليلة فيها غمضا أنا ولا أم أيوب فقال: ومم ذاك يا أبا أيوب؟ قال: ذكرت أني على ظهر بيت أنت أسفل مني، فأتحرك فيتناثر الغبار، ويؤذيك تحركي، وأنا بينك وبين الوحي، قال فلا تفعل يا أبا أيوب، ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن بالغداة عشر مرات، وبالعشي عشر مرات، أعطيت بهن عشر حسنات، وكفر عنك بهن عشر سيئات ورفع لك بهن عشر درجات وكن لك يوم القيامة كعدل عشر محررين؟ تقول: لا إله إلا الله، له الملك، وله الحمد لا شريك له " "طب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب (رض) کی دعا
4960: ۔۔ (ابو الدرداء (رض) عن) حضرت طلق سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو الدرداء (رض) کے پاس آ کر خبر دی کہ آپ کا گھر جل گیا ہے۔ حضرت ابو الدرداء (رض) نے فرمایا : نہیں جلا۔ پھر دوسرا شخص آیا اور بولا اے ابو الدرداء (رض) ۔ آگ بھڑک اٹھی تھی۔ لیکن جب وہ آپ کے گھر تک پہنچی تو خود بخود بجھ گئی ۔ حضرت ابو الدرداء (رض) نے فرمایا : مجھے علم تھا کہ اللہ پاک ایسا نہیں کریں گے۔ لوگوں نے کہا : ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کونسی بات زیادہ تعجب انگیز ہے، آپ کی یہ بات کہ گھر نہیں جلایا یہ بات کہ اللہ پاک ایسا نہیں کریں گے کہ میرا گھر جلا دیں ؟

حضرت ابو الدرداء (رض) نے فرمایا یہ یقین ان کلمات کی وجہ سے تھا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنے تھے کہ جو شخص صبح کو یہ کلمات کہہ لے تو شام تک کوئی مصیبت اس کو نہیں پہنچ سکتی۔ اور جو شخص شام کو یہ کلمات کہہ لے تو صبح تک کوئی مصیبت اس کو لاحق نہ ہوگی۔ وہ کلمات یہ ہیں :

اللهم انت ربي لا إله الا أنت عليك توکلت ، وأنت رب العرش الکريم ، ما شاء اللہ کان ، وما لم يشأ لم يكن ، لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم ، أعلم أن اللہ علی كل شئی قدير ، وان اللہ قد أحاط بکل شئی علما ، اللهم إني أعوذ بک من شر نفسي ، ومن شر دابة انت آخذ بناصيتها ، ان ربي علی صراط مستقيم۔

اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں، میں نے تجھی پر بھروسہ کیا، تو عرش کریم کا پروردگار ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ کسی چیز سے اجتناب کی اور کسی نیکی کو کرنے کی طاقت صرف اللہ کے بخشنے سے ممکن ہے جو مالی اور عظیم ذات ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم کے احاطے میں کر رکھا ہے اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور اپنی سواری کے شر سے اس کی پیشانی تیرے قبضہ میں ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔ الدیلمی، ابن عساکر۔

فائدہ : ۔۔ مسند الفردوس الدیلمی کی روایت ضعیف ہوتی ہیں۔ اس روایت کو المتناہیہ 1400 میں بھی ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی اغلب بن تمیم منکر الحدیث ہے۔ جس کے متعلق میزان الاعتدال 1/ 273 میں امام بخاری کا قول نقل کیا گیا ہے کہ تمیم منکر الحدیث ہے۔
4960- "أبو الدرداء" عن طلق قال: "جاء رجل إلى أبي الدرداء فقال: احترق بيتك، فقال: ما احترق، ثم جاء آخر، فقال: يا أبا الدرداء انبعثت النار، فلما انتهت إلى بيتك طفئت، قال: قد علمت أن الله لم يكن ليفعل، قالوا: يا أبا الدرداء ما ندري أي كلامك أعجب؟ قولك ما احترق، أو قولك قد علمت أن الله لم يكن ليفعل، قال: ذاك لكلمات سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، من قالها أول النهار لم تصبه مصيبة حتى يمسي، ومن قالها آخر النهار لم تصبه مصيبة حتى يصبح: "اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت عليك توكلت، وأنت رب العرش الكريم، ما شاء الله كان، وما لم يشأ لم يكن، لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، أعلم أن الله على كل شيء قدير، وأن الله قد أحاط بكل شيء علما، اللهم إني أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر دابة أنت آخذ بناصيتها، إن ربي على صراط مستقيم". "الديلمي كر" وفيه الأغلب بن تميم منكر الحديث
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نمازوں کے بعد کی دعا
4961: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص (فرض) نماز کے سلام پھیرنے کے بعد یہ کلمات کہے فرشتہ ان کو ایک ورق میں لکھ کر مہر لگا دیتا ہے پھر قیامت کے دن وہ ان کو پیش کرے گا۔ جب اللہ پاک بندہ قبر سے اٹھائیں گے تو وہ فرشتہ یہ کاغذ لے کر اس کے پاس آئے گا اور پوچھے گا : کہاں ہیں عہد و پیمان والے تاکہ ان کو ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں ؟ وہ کلمات یہ ہیں :

اللهم فاطر السموات والارض ، عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم ، إنى أعهد اليك في هذه الحياة الدنيا : بأنك أنت اللہ لا إله الا أنت وحدک لا شريك لک وان محمدا عبدک ورسولک ، فلا تکلني إلى نفسي ، فانک ان تکلني إلى نفسي تقربنی من السوء ، وتباعدني من الخير ، وإنى لا أثق الا برحمتک فاجعل رحمتک لی عهدا عندک تؤديه إلى يوم القيامة ، انک لا تخلف الميعاد۔

اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور حاضر کو جاننے والے ! نہایت مہربان رحم کرنے والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں تجھے عہد دیتا ہوں کہ (میں تہ دل سے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ) تو ہی معبود برحق ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے، تیرا کوئی ثانی نہیں اور محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ پس مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر۔ کیونکہ اگر تو نے مجھے نفس کے سپرد کردیا تو تحقیق تو نے مجھے برائی کے بالکل قریب کردیا اور خیر سے کوسوں دور کردیا اور مجھے تو تیری رحمت ہی پر بھروسہ ہے، پس تو میرے ساتھ اپنی رحمت کا وعدہ کرلے اور اس کو قیامت کے دن پورا فرما دیجیے گا۔ بیشک تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (الحکیم)

حضرت طاؤس (رح) کے متعلق منقول ہے کہ انھوں نے ان کلمات کو اپنے کفن میں لکھنے کا حکم دیا تھا۔
4961- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال قال رسول الله

صلى الله عليه وسلم: "من قال في دبر الصلاة بعدما يسلم هؤلاء الكلمات كتبه ملك في رق فختم بخاتم، ثم رفعها إلى يوم القيامة، فإذا بعث الله العبد من قبره جاءه الملك ومعه الكتاب ينادي أين أهل العهود حتى تدفع إليهم؟ والكلمات أن يقول: اللهم فاطر السموات والأرض، عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم، إني أعهد إليك في هذه الحياة الدنيا: بأنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك، فلا تكلني إلى نفسي، فإنك إن تكلني إلى نفسي تقربني من السوء، وتباعدني من الخير، وإني لا أثق إلا برحمتك فاجعل رحمتك لي عهدا عندك تؤديه إلي يوم القيامة، إنك لا تخلف الميعاد"، وعن طاووس أنه أمر بهذه الكلمات فكتبت في كفنه". "الحكيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نمازوں کے بعد کی دعا
4962: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) کا ارشاد گرامی ہے : جس شخص کی خواہش ہو کہ بڑے ترازو میں اس کے اعمال تولے جائیں تو وہ نماز سے فارغ ہو کر یہ کلمات پڑھ لیا کرے :

سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔

پاک ہے پروردگار عزت والا ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں اور سلام ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ مصنف عبدالرزاق۔

3481: ۔۔ پر روایت گذر چکی ہے۔
4962- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "من سره أن يكتال بالمكيال الأوفى فليقل حين يفرغ من صلاته: سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين، والحمد لله رب العالمين" "عب". ومر برقم [3481] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی دعا
4963: عاصم بن خمرہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے :

اللهم تم نورک فهديث ، فلک الحمد ، وعظم حلمک فعفوت ، فلک الحمد وبسطت يدك ، فاعطيت فلک الحمد ، ربنا وجهك أكرم الوجوه ، وجاهك خير الجاه ، وعطيتك أنفع العطايا وأهناها ، تطاع ربنا فتشکر ، وتعصی ربنا فتغفر ، لمن شئت ، تجيب المضطر إذا دعاک وتغفر الذنب ، وتقبل التوبة ، وتکشف الضر ، ولا يجزي آلاءک أحد ولا يحصی نعماءک قول قائل۔

اے اللہ ! تیرا نور کامل ہے، جس کے ساتھ تو نے سیدھی راہ دکھائی، پس تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں، تیری بردباری عظیم ہے جس کے ساتھ تو نے مغفرت فرمائی، پس تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تو نے اپنا دس کرم دراز کیا اور خوب عطا کیا، پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے ہمارے رب ! تیری ذات سب سے زیادہ کریم ذات ہے، تیرا رتبہ سب سے بلند رتبہ ہے، تیری عطا سب عطاؤں سے زیادہ نفع مدن ہے اور خوشگوار ہے۔ اے رب ! تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تو قدر کرتا ہے، تیری نافرمانی کی جاتی ہے تو تو جس کی چاہے مغفرت کرتا ہے۔ مضطر (پریشان حال) جب تجھے پکارتا ہے تو تو اس کی پکار سنتا ہے اور تو گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ تو توبہ قبول فرماتا ہے، اور ہر طرح کی مشکل تو ہی دور کرتا ہے اور تیری نعمتوں کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتا اور کسی کی گفتگو تیری نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتی۔ جعفر فی الذکر، ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن فضل فی امالیہ۔
4963- عن عاصم بن ضمرة1 عن علي أنه كان يقول في دبر كل صلاة: "اللهم تم نورك فهديت، فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت، فلك الحمد وبسطت يدك، فأعطيت فلك الحمد، ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه، وعطيتك أنفع العطايا وأهنأها، تطاع ربنا فتشكر، وتعصى ربنا فتغفر، لمن شئت، تجيب المضطر إذا دعاك وتغفر الذنب، وتقبل التوبة، وتكشف الضر، ولا يجزي آلاءك أحد ولا يحصي نعماءك قول قائل". "جعفر في الذكر وأبو القاسم إسماعيل بن محمد بن فضل في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی دعا
4964: ۔۔ محمد بن یحییٰ (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کعبۃ اللہ کا طواف فرما رہے تھے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا پردہ تھامے ہوئے یوں دعا کررہا ہے :

یا من لا شغلہ سمع عن سمع، ویا من لا یغلطہ السائلون یا من لا یتبرم بالحاح الملحین اذقنی برد عفوک وحلاوۃ رحمتک۔

اے وہ ذات جس کو ایک کا سننا دوسرے کے سننے سے نہیں روکتا، اے وہ ذات جس کو سائلین کی کثرت غلطی میں نہیں ڈالتی، اے وہ ذات جو مانگنے والوں کے اصرار سے اکتاتا نہیں (بلکہ خوش ہوتا ہے) مجھے اپنی معافی کی ٹھنڈک اور اپنی رحمت کی مٹھاس چکھا دے۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے بندے یہ تیری دعا (کیا عمدہ) ہے ! اس شخص نے پوچھا : کیا تو نے سن لی ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ اس شخص نے کہا : پس ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھ لیا کر۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں خضر کی جان ہے، اگر تجھ پر آسمان کے تاروں اور اس کی بارش کے (قطرو) زمین کی کنکریوں اور اس کی مٹی کے بقدر بھی گناہ ہوں گے تب بھی پلک جھپکنے سے قبل معاف کردیے جائیں گے (الدینور، ابن عساکر)
4964- عن محمد بن يحيى قال: "بينما علي بن أبي طالب يطوف بالكعبة إذا هو برجل متعلق بأستار الكعبة، وهو يقول: يا من لا يشغله سمع عن سمع، ويا من لا يغلطه السائلون، يا من لا يتبرم بإلحاح الملحين أذقني برد عفوك، وحلاوة رحمتك، فقال له علي: يا عبد الله دعاؤك هذا؟ قال وقد سمعته؟ قال نعم، قال: فادع به في دبر كل صلاة، فوالذي نفس الخضر بيده لو كان عليك من الذنوب عدد نجوم السماء ومطرها، وحصباء الأرض وترابها لغفر لك أسرع من طرفة عين". "الدينوري كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی دعا
4965: ۔۔ (سعد (رض)) حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔

تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ (اللہ اکبر) دس مرتبہ تسبیح (سبحان اللہ) اور دس مرتبہ تمجید (الحمد للہ) کہہ لیا کرے۔ پس یہ پانچ نمازوں کی تسبیحات زبان پر ڈیڑھ سو ہوں گی، لیکن میزان میں ڈیڑھ ہزار ہوں گی، اور جب کوئی اپنے بستر پر جائے تو چونتیس بار اللہ اکبر تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار سبحان اللہ پڑھ لیا کرے۔ یہ زبان پر تو سو کی تعداد ہوئی لیکن میزان میں ایک ہزار شمار ہوں گی۔ پھر آپ نے فرمایا : تم میں سے کون ایسا شخص ہوگا جو ایک دن رات میں ڈھائی ہزار برائیاں کرتا ہو ؟ رواہ مستدرک الحاکم۔
4965- "سعد رضي الله عنه" عن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "أيمنع أحدكم أن يكبر في دبر كل صلاة عشرا، ويسبح عشرا ويحمد عشرا؟ فذلك في خمس صلوات خمسون ومائة باللسان، وألف وخمسمائة في الميزان، وإذا آوى إلى فراشه كبر أربعا وثلاثين، وحمد ثلاثا وثلاثين وسبح ثلاثا وثلاثين، فتلك مائة باللسان، وألف في الميزان، ثم قال: وأيكم يعمل في كل يوم وليلة ألفين وخمسمائة سيئات؟ " "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی دعا
4966: ۔۔ (انس بن مالک) حضرت انس رضی الہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے :

اللهم انی أشهد بما شهدت به علی نفسک ، وشهدت به ملائكتک وأنبياؤك وأولوا العلم ، ومن لم يشهد بما شهدت به فاکتب شهادتی مکان شهادته ، أنت السلام ، ومنک السلام تبارکت ربنا يا ذا الجلال والاکرام ، اللهم انی أسألک فکاک رقبتي من النار۔

اے اللہ میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ جس قدر تو نے اپنے اوپر شہادت دی، تیرے ملائکہ تیرے انبیاء اور تیرے اہل علم بندوں نے تجھ پر شہادت دی۔ اور جنہوں نے تیری شہادت پر شہادت نہیں ان کے تعداد کے بقدر بھی تجھ پر میں شہادت دیتا ہوں (کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں) پس میری یہ شہادت اپنی شہادت کی جگہ لکھ رکھ ۔ (اے اللہ ! ) تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے ہی سلامتی وابستہ ہے۔ تو بابرکت ہے اے ہمارے پروردگار ! اے بزرگی و کرامت والے ! اے اللہ میں تجھ سے جہنم سے اپنی گلو خلاصی کا سوال کرتا ہوں۔ ابن ترکان فی الدعاء الدیلمی۔
4966- "أنس بن مالك" عن أنس: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول إذا فرغ من صلاته: "اللهم إني أشهد بما شهدت به على نفسك، وشهدت به ملائكتك وأنبياؤك وأولوا العلم، ومن لم يشهد بما شهدت به فاكتب شهادتي مكان شهادته، أنت السلام، ومنك السلام تباركت ربنا يا ذا الجلال والإكرام، اللهم إني أسألك فكاك رقبتي من النار". "ابن تركان في الدعاء والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بستر پر پڑھنے کی دعا۔
4967: ۔۔ (ابن عمر (رض)) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد اور بستر پر، لٹنے کے بعد یہ کلمات تین بار پڑھے :

اللہ اکبر کبیرا عدد الشفع والوتر و کلمات اللہ التامات والطیبات المبارکات۔

اللہ سب سے بڑا ہے میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں ہر جفت اور طاق عدد کے برابر اور اللہ کے نام کلمات اور پاکیزہ مبارک صفات کے برابر۔ اسی طرح لا الہ الا اللہ بھی تین بار پڑھے۔

تو یہ کلمات اس کے لیے قبر میں نور ہوں گے، پل صراط پر نور ہوں گے اور جنت کے راستے پر نور ہوں گے حتی کہ اس کو جنت میں داخل کروا دیں گے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔

اس روایت کی سند حسن (عمدہ) ہے۔
4967- "ابن عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر قال: "من قال دبر كل صلاة وإذا أخذ مضجعه: الله أكبر كبيرا عدد الشفع والوتر، وكلمات الله التامات والطيبات المباركات ثلاثا، ولا إله إلا الله مثل ذلك كن له في قبره نورا، وعلى الجسر نورا، وعلى الصراط نورا حتى يدخلنه الجنة". "ش" وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بستر پر پڑھنے کی دعا۔
4968: ۔۔ صلہ بن زفر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو ہر نماز کے بعد یہ پڑھتے دیکھا :

اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت وتعالیت یا ذالجلال والاکرام۔

صلہ (رح) فرماتے ہیں : پھر میں نے عبداللہ بن عمرو (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی ان کو بھی (نماز کے بعد) یہی کہتے سنا۔ میں نے ان سے عرض کیا : میں نے ابن عمر (رض) کو بھی یہی کلمات پڑھتے سنا ہے جو آپ پڑھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اپنی نماز کے آخر میں (سلام کے بعد) یہ کلمات پڑھتے سنا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4968- عن صلة بن زفر قال: سمعت ابن عمر يقول في دبر الصلاة: "اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام ثم صليت إلى جنب عبد الله بن عمرو، فسمعته يقوله، فقلت له: إني سمعت ابن عمر يقول الذي يقول، فقال عبد الله بن عمرو: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولهن في آخر صلاته". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بستر پر پڑھنے کی دعا۔
4969: ۔۔ (ابن مسعود (رض)) حضرت ابن مسعود (رض) سے متعلق منقول ہے کہ آپ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد صرف اس قدر بیٹھتے تھے کہ یہ دعا پڑھ لیتے :

اللھم انت السلام و منک السلام والیک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، النسائی برقم 1338)
4969- "ابن مسعود رضي الله عنه" كان إذا سلم لم يجلس إلا بمقدار ما يقول: "اللهم أنت السلام ومنك السلام وإليك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام". "ش". رواه النسائي برقم [1338] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4970: ۔۔ (معاذ بن جبل (رض)) حضرت معاذ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا : اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تب تم ہر نماز کے بعد یہ پڑھنا نہ چھوڑنا : رب اعنی علی ذکرک وشکرک و حسن عبادتک۔

اے پروردگار ! میری مدد فرما اپنے ذکر پر، اپنے شکر پر اور اپنی اچھی عبادت پر (ابن شاہین نسائی 1304، 1522)
4970- "معاذ بن جبل رضي الله عنه" أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فقال: "إني لأحبك يا معاذ، وأنا أحبك يا رسول الله، قال: فلا تدع أن تقول في دبر كل صلاة، رب أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك". "ابن شاهين". [ن 1304، ود 1522] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ (رض) کی دعا
4971: ۔۔ جس نے ہر (فرض ) نماز کے بعد تین مرتبہ یہ استغفار پڑھا :

استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ۔

اللہ پاک اس کے ہر گناہ معاف فرما دیں گے خواہ وہ جنگ میں پیٹھ دے کر بھاگا ہو۔ مصنف عبدالرزاق۔
4971- من قال بعد كل صلاة:"أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه ثلاث مرات كفر الله عنه ذنوبه وإن كان فرارا من الزحف". "عب".
tahqiq

তাহকীক: