কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4932: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل سے دنیا و آخرت کی عافیت اور مغفرت کا سوال کرو۔ (التاریخ للبخاری، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم)
4932- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سل الله عز وجل العفو والعافية في الدنيا والآخرة". "خ في تاريخه طب ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4933: ۔۔ بواسطہ عبداللہ بن جعفر حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کونسی دعا سب سے افضل ہے ؟ فرمایا : یہ کہ تم اللہ سے مغفرت اور عافیت کا سوال کرو۔ رواہ ابن النجار۔

فائدہ : ۔۔ بلا شک جب انسان کو دنیا اور آخرت کی ہر تکلیف اور مصیبت سے نجات مل جائے اس سے بڑھ کر اور کیا شی ہوسکتی ہے اور یہی عافیت اور مغفرت کا حاصل ہے۔
4933- عن عبد الله بن جعفر عن أنس أن رجلا قال: "يا نبي الله أي الدعاء أفضل؟ قال: "تسأل الله العفو والعافية". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4934: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! کونسی دعا افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا : اپنے رب سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرو۔ بیشک تم کامیاب ہوجاؤگے۔ نسائی۔
4934- عن أنس قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فقال: "يا نبي الله أي الدعاء أفضل؟ قال: "سل ربك العفو والعافية في الدنيا والآخرة فقد أفلحت". "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4935: ۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص پر گذر ہوا جو کہہ رہا تھا : اللھم انی اسالک الصبر۔ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ تو نے تو اللہ سے مصیبت کا سوال کرلیا ہے، عافیت کا سوال کر۔

اسی طرح آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گذرے جو کہہ رہا تھا۔ اللھم انی اسالک تمام النعمۃ۔ اے اللہ میں تجھ سے کامل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

اے ابن آدم ! جانتا ہے کمال نعمت کیا شئی ہے ؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایک دعا ہے، میں خیر کی امید سے مانگ رہا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کمال نعمت جنت کا دخول اور جہنم سے نجات ہ۔

یونہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص کے پاس سے گذر ہوا، جو کہہ رہا تھا، یا ذا الجلال والاکرام۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے دعا قبول ہوگی سوال کرو۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4935- عن معاذ بن جبل: "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل وهو يقول، اللهم إني أسألك الصبر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سألت الله البلاء فاسأله المعافاة"، ومر على رجل وهو يقول: اللهم إني أسألك تمام النعمة، فقال: يا ابن آدم، وهل تدري ما تمام النعمة؟ قال يا رسول الله دعوة دعوت بها رجاء الخير، قال: "فإن من تمام النعمة دخول الجنة، والفوز من النار"، ومر على رجل وهو يقول: يا ذا الجلال والإكرام، فقال: "قد استجيب لك فاسأل". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع الدعا
4936: ۔۔۔ ( ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے۔ اعرابی نے دو رکعت نما زپڑھی پھر دعا کی :

اے اللہ ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی کو اپنی رحمت میں شریک نہ کر۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم نے ایک وسیع شے کو تنگ کردیا ہے۔ پھر اعرابی اسی وقت وہاں سے ہٹ کر مسجد کے کونے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس کی طرف کو لپکے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔ تم کو آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے نہ کہ مشکل پیدا کرنے والا۔ (السنن لسعید بن منصور)
4936- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو قاعد فصلى ركعتين، فقال: اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا، فالتفت إليه النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "لقد تحجرت واسعا"، فلم يلبث الأعرابي أن تنحى، فبال في ناحية المسجد، فعجل إليه أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " صبوا عليه ذنوبا1 من ماء أو سجلا، إنما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين". "ص"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع الدعا
4937: ۔۔ حضرت عائشہ (رض) نے ایک عورت کو دعا کرتے دیکھا، وہ دعا کرتے ہوئے انگوٹھوں کو پاس والی دونوں انگلیاں اٹھا رہی تھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ تو ایک ہی ہے یوں اس کو دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرنے سے منع کیا۔ مصنف عبدالرزاق۔
4937- "عائشة" عن عائشة أنها رأت امرأة تدعو وهي رافعة أصبعيها التي تلي الإبهامين، فقالت عائشة: "إنما هو إله واحد فنهتها عن ذلك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع الدعا
4938: ۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے اہل مکہ کے قصہ گو واعظ کو فرمایا دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کرو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو خوب دیکھا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4938- عن الشعبي قال: "قالت عائشة لابن السائب قاص أهل مكة: اجتنب السجع في الدعاء، فإني عهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وهم لا يفعلون ذلك". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4939: ۔۔ ( ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) بارش کے پہلے قطرے سے اپنے سر کھول دیتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : یہ بارش ہمارے پروردگار کے پاس سے ابھی ابھی آئی ہے جو برکت سے بھرپور ہے۔ رواہ ابن عساکر۔

کلام : ۔۔ روایت میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے جو متروک اور ناقابل اعتبار ہے۔ ابن عساکر بحوالہ کنز ج 2 ص 629
4939- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه يكشفون رؤسهم في أول قطرة تكون من السماء في ذلك، ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هو أحدث عهدا بربنا عز وجل، وأعظم بركة". "كر" وفيه أيوب بن مدرك متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4940: ۔۔ (عطاء ) عطاء (رح) سے مروی ہے : تین وقتوں میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔ اذان کے وقت، بارش برستے وقت اور دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت۔ السنن لسعید بن منصور۔
4940- "عطاء" عن عطاء قال: "ثلاث خلال تفتح عندهن أبواب السماء، فتحروا الدعاء عندهن: عند الآذان، وعند نزول الغيث وعند التقاء الزحفين". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4941: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ افضل گھڑیاں نماز کے اوقات ہیں لہٰذا ان اوقات میں دعا کرو۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4941- عن مجاهد قال: "أفضل الساعات مواقيت الصلاة، فادع فيها". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4942: ۔۔ ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے فرمایا : جب بھی کوئی شخص اللہ کے آگے سجدہ میں پیشانی ٹیکتا ہے کہتا ہے : یا رب اغفرلی، یا رب اغفرلی، یارب اغفرلی، اے پروردگار میری مغفرت فرما، اے پروردگار ! میری مغفرت فرما، اے پروردگار ! میری مغفرت فرما۔ پھر بندہ سر اٹھاتا ہے تو اس کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4942- عن أبي سعيد الخدري قال: "ما وضع رجل جبهته لله تعالى ساجدا فقال: يا رب اغفر لي، يا رب اغفر لي، يا رب اغفر لي، ثلاثا إلا رفع رأسه وقد غفر له". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4943: ۔۔ (مسند حدیر ابی فوزۃ السلمی یا اسلمی ) حضرت معاویہ (رض) کے آزاد کردہ غلام بشیر کہتے یں میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اصحاب جن میں حدیر ابوفوزہ (رض) بھی ہیں دیکھا کہ یہ لوگ جب بھی چاند دیکھتے تو کہتے :

اللھم اجعل شھرنا الماضی خیر شھر و خیر عاقبۃ وارسل علینا شہرنا ھذا بالسلامۃ والاسلام والامن والایمان والمعافاۃ والرز الحسن۔

اے اللہ ! ہمارے اس گزشتہ ماہ کو بہترین ماہ بنا اور بہترین انجام کار بنا۔ اور ہم پر آئندہ ماہ کو سلامتی اور اسلام امن اور ایمان عافیت اور عمدہ رزق کے ساتھ بھیج۔ بخاری فی التاریخ، ابن مندہ، الدولابی فی الکنی، ابو نعیم، ابن عساکر۔

فائدہ : ۔۔ فورہ۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، ایک جماعت نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے جبکہ ابن حبان (رح) نے تابعین میں ان کو شامل کیا ہے، الاصابہ۔ فرماتے ہیں ابن مندہ فرماتے ہیں صحیح ابو فوزہ ہے۔
4943- "مسند حدير أبي فوزة السلمي وقيل الأسلمي" عن بشير مولى معاوية قال: "سمعت عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أحدهم حدير أبو فوزة يقول إذا رأوا الهلال: اللهم اجعل شهرنا الماضي خير شهر، وخير

عاقبة، وأرسل علينا شهرنا هذا بالسلامة والإسلام، والأمن والإيمان، والمعافاة والرزق الحسن". "خ في تاريخه وابن منده وقال الصواب أبو فوزة1 والدولابي في الكنى وأبو نعيم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کی قبولیت کے اوقتا
4944: ۔۔ عثمان بن ابی العات کہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے بھائی زیاد نے بتایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے :

اللھم بارک لنا فی شہرنا ھذا الداخل۔

اے اللہ ! ہمیں اس آنے والے مہینے میں برکت عطا فرما۔

پھر انھوں نے آگے حدیث ذکر کی اور بتایا کہ اس دعا پر چھ صحابہ کرام جنہوں نے یہ دعا سنی تھی مواظبت فرماتے تھے اور ساتھ حدیر ابوفوزہ سلمہ ہیں جو اس دعا پر مواظبت کرتے تھے۔ ابن مندہ، ابن عساکر۔
4944- أيضا عن عثمان بن أبي العاتكة: حدثني أخ لي يقال له زياد أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى الهلال قال: "اللهم بارك لنا في شهرنا هذا الداخل"، فذكر الحديث، وقال: توالى على هذا الدعاء ستة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم سمعوه منه، والسابع حدير أبو فوزة السلمي". "ابن منده كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبولیت کے مقامات :
4945: ۔۔ (ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود اور باب کے درمیان دعا کرتے تھے :

اللهم انی أسألک ثواب الشاکرين ، ونزل المقربين ، ومرافقة النبيين ، ويقين الصديقين ، وذلة المتقين ، وإخبات الموقنين ، حتی توفاني علی ذلك يا أرحم الراحمين ۔۔

اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں شکرگذاروں کے ثواب کا، برگزیدہ لوگوں کی مہمانی کا، انبیاء کے ساتھ کا، صدیقین کے یقین کا ، متقیوں کی سی عاجزی کا اور یقین کی ضروتنی و کسر نفسی کا حتی کہ آپ مجھے اسی حال میں اپنے پاس اٹھالیں یا ارحم الراحمین۔ (رواہ الدیلمی)

کلام : ۔۔ اس روایت میں ایک راوی عبدالسلام بن ابی المحجوب ہے۔ ابو حاتم (رح) فرماتے ہیں راوی متروک (ناقابل اعتبار) ہے۔
4945- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو بين الحجر الأسود والباب: "اللهم إني أسألك ثواب الشاكرين، ونزل المقربين، ومرافقة النبيين، ويقين الصديقين، وذلة المتقين، وإخبات الموقنين، حتى توفاني على ذلك يا أرحم الراحمين". "الديلمي" وفيه عبد السلام بن أبي الجنوب قال أبو حاتم متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقبولیت کے قریب دعائیں۔
4946: ۔۔ صنابحی (رح) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ایک مسلمان بھائی کی دوسرے مسلمان بھائی کے لیے دعا قبول ہے۔ (الادب المفرد، زوائد الزھد للامام احمد، الکبیر للطبرانی)
4946- عن الصنابحي1 أنه سمع أبا بكر الصديق يقول "إن دعاء الأخ لأخيه في الله يستجاب". "خ في الأدب حم في زوائد الزهد طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مخصوص اوقات کی دعائیں

صبح کے وقت کی دعا
4947: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب صبح کی نماز سے فارغ ہوجاتے۔

دوسری روایت میں ہے جب صبح کی نماز پڑھ لیتے اور سورج طلوع ہوجاتا تو یہ فرماتے :

مرحبا بالنهار الجديد والکاتب والشهيد اکتبا بسم اللہ الرحمن الرحيم : أشهد أن لا إله الا اللہ ، واشهد ان محمدا رسول اللہ ، وأشهد ان الدين كما وصف اللہ والکتاب کما أنزل اللہ ، وأشهد ان الساعة آتية لا ريب فيها ، وان اللہ يبعث من في القبور ۔۔

خوش آمدید دن کو، کاتب اور گواہ (فرشتوں) کو تم لکھو : اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ دین و ہے جس کی اللہ نے تعریف کی اور کتاب وہ ہے جو اللہ نے نازل کی اور میں شہادت دیتا ہوں کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شائبہ نہیں اور اللہ پاک قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو زندہ کرکے اٹھانے والا ہے۔ الخطیب فی التاریخ ، الدیلمی، ابن عساکر، السلفی فی انتخاب حدیث القراء۔

کلام : ۔۔ اس روایت کی اسناد میں ایک راوی زنفل العرقی ہے جو ضعیف ہے۔ پورا نام زنفل بن عبداللہ ابو عبداللہ المکی جس کو ابن شداد بھی کہا جاتا ہے۔ اہل حدیث کے ہاں ضعیف ہے تھذیب التھذیب 3/ 340 ۔
4947- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة وفي لفظ: إذا أصبح وطلعت الشمس يقول: "مرحبا بالنهار الجديد، والكاتب والشهيد، اكتبا بسم الله الرحمن الرحيم: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله، وأشهد أن الدين كما وصف الله والكتاب كما أنزل الله، وأشهد أن الساعة آتية لا ريب فيها، وأن الله يبعث من في القبور". "خط والديلمي كر والسلفي في انتخاب حديث الفراء" وفيه زنفل العرفی ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کے وقت کی دعا
4948: ۔۔ حضرت ابو ذر (رض) سے منقول ہے، ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے :

اللهم ما قلت من قول أو حلفت من حلف أو نذرت من نذر فمشيئتک بين يدى ذلك كله ما شئت منه کان وما لم تشأ لم يكن ، فاغفره لی و تجاوز لی عنه ، اللهم من صليت عليه فصلاتي عليه ومن لعنته فلعنتی عليه ،

اے اللہ ! میں جو بات کروں، جو قسم اٹھاؤں یا جو نذر اور منت مانوں سب سے پہلے تیری مشیت چاہتا ہوں جو تو چاہے وہ ہو اور جس میں تیری مشیت نہ ہو وہ نہ ہو۔ پس اس کو میرے لیے معاف فرما اور میری طرف سے اس سے درگذر فرما۔ اے اللہ ! جس پر تو رحمت بھیجے اس کو تو پس وہ شخص باقی تمام دن استثناء میں ہوگا۔ (یعنی کوئی قسم اور نذر وغیرہ اس پر لازم نہ ہوگی) ۔ مصنف عبدالرزاق۔
4948- عن أبي ذر ما من رجل يقول حين يصبح: اللهم ما قلت من قول أو حلفت من حلف أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدي ذلك كله، ما شئت منه كان، وما لم تشأ لم يكن، فاغفره لي، وتجاوز لي عنه، اللهم من صليت عليه فصلاتي عليه، ومن لعنته فلعنتي عليه، إلا كان في الاستثناء بقية يومه ذلك."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کے وقت کی دعا
4949: ۔۔ ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ شام کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے :

أمسينا وأمسی الملک لله ، والحمد لله ولا إله الا اللہ ، وحده لا شريك له له الملک ، وله الحمد ، وهو علی كل شئی قدير ، اللهم انی أسألک من خير هذه الليلة ، وخير ما فيها ، وأعوذ بک من شرها ، وشر ما فيها ، اللهم إنى أعوذ بک من الکسل والهرم والکبر وفتنة الدنيا و عذاب القبر۔

ہم نے اور تمام سلطنت نے اللہ کے حضور شام بسر کی۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، ساری بادشاہت اسی کی ہے۔ اور اسی کے لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ میں تجھ سے اس رات کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور جو کچھ اس میں اس کی تاخیر کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں اس رات کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ ! میں تری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بڑھاپے سے، دنیا کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4949- ابن مسعود: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمسى قال: "أمسينا وأمسى الملك لله، والحمد لله ولا إله إلا الله، وحده لا شريك له له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة، وخير ما فيها، وأعوذ بك من شرها، وشر ما فيها، اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر". "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔
4950: ۔۔ (مسند صدیق (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے آپ (رض) فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا ہے کہ جب بھی میں صبر کروں، شام کروں اور بستر پر لیٹوں تو یہ دعا ضرور پڑھ لوں۔

اللهم فاطر السموات والارض ، عالم الغيب والشهادة أنت رب کل شئی ومليكه ، أشهد أن لا إله الا أنت وحدک لا شريك لک وان محمدا عبدک ورسولک ، وأعوذ بک من شر نفسي ، وشر الشيطان وشرکه ، وان اقترف علی نفسي سوءا او اجرہ الی مسلم۔

اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور حاضر کو جاننے والے ! تو ہر چیز کا رب اور اس کا مالک ہے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے، تیرا کوئی ساتھی نہیں، محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ (اے اللہ ! ) میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کی شرکت سے اور اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر کوئی برائی لگاؤں یا کسی مسلمان کی طرف کوئی برائی منسوب کروں۔ (مسند احمد، ابن منیع، الشاشی، مسند ابی یعلی، ابن النسیئ فی عمل یوم ولیلۃ، السنن لسعید بن منصور)
4950- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقول إذا أصبحت وإذا أمسيت وإذا أخذت مضجعي من الليل: "اللهم فاطر السموات والأرض، عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، وأن محمدا عبدك ورسولك، وأعوذ بك من شر نفسي، وشر الشيطان وشركه، وإن اقترف على نفسي سوءا، أو أجره إلى مسلم". "حم وابن منيع والشاشي ع وابن السني في عمل يوم وليلة ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔
4951: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شام کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :

أمسينا وأمسی الملک لله الواحد القهار الحمد ، لله الذی ذهب بالنهار وجاء بالليل ، ونحن في عافية ، اللهم هذا خلق جديد قد جاء فما عملت فيه من سيئة فتجاوز عنها ، وما عملت فيه من حسنة فتقبلها ، وأضعفها أضعافا مضاعفة اللهم انک بجميع حاجتی عالم ، وانک علی جميع نجحها قادر ، اللهم أنجح الليلة كل حاجة لي ولا تزدنی في دنياى ولا تنقصنی في آخرتي ۔

ہم نے اور ساری کائنات نے اللہ کے لیے شام کی جو واحد ہے، قہار ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو دن کو لے گیا اور رات کو لے آیا اور ہم عافیت میں رہے۔ اے اللہ یہ (رات) تری نئی مخلوق ہے جو سر پر آگئی ہے جو اس میں مجھ سے برائی سرزد ہوجائے اس سے درگذر کر۔ جو اس میں نیک عمل کروں اس کو قبول فرما۔ اور اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرما۔ اے اللہ تو میری تمام حاجتوں کو جانتا ہے۔ میری دنیا کو زیادہ نہ کر (پس میری ضروریات پوری فرما دے اور) میری آخرت میں کمی نہ کر۔

جب صبح ہوئی تب بھی آپ اسی کے مثل کلمات پڑھتے۔ (یعنی فقط امیسنا و امسی کی بجائے اصبحنا واصبح پڑھتے) (الاوسط للطبرانی، عبدالغنی بن سعید فی ایضاح الاشکال)
4951- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أمسى قال: "أمسينا وأمسى الملك لله الواحد القهار، الحمد لله الذي ذهب بالنهار وجاء بالليل، ونحن في عافية، اللهم هذا خلق جديد قد جاء فما عملت فيه من سيئة فتجاوز عنها، وما عملت فيه من حسنة فتقبلها، وأضعفها أضعافا مضاعفة، اللهم إنك بجميع حاجتي عالم، وإنك على جميع نجحها قادر، اللهم أنجح الليلة كل حاجة لي، ولا تزدني في دنياي، ولا تنقصني في آخرتي، وإذا أصبح قال مثل ذلك". "طس عبد الغني بن سعيد في إيضاح الأشكال".
tahqiq

তাহকীক: