কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৯১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4912: ۔۔ (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) کا ارشاد گرامی ہے :

خوشی کے دن اللہ سے دعا کر، ان شاء اللہ وہ رنج و غم کے دن بھی تیری دعا قبول کرے گا۔ (رواہ مستدرک الحاکم)
4912- "أبو الدرداء" عن أبي الدرداء قال: "ادع الله يوم سرائك لعله يستجيب لك يوم ضرائك"."ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4913: ۔۔ (ابو ذر (رض)) حضرت ابو ذر (رض) کا ارشاد گرامی ہے :

نیکی کے ساتھ تھوڑی سی دعا بھی کافی ہے، جس طرح بہت سے کھانے کے لیے تھوڑا سا نمک کافی ہوجاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4913- "أبو ذر" عن أبي ذر قال: "يكفي من الدعاء مع البر ما يكفي الطعام من الملح" "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4914: ۔۔ ( ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : جب موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) دعا فرماتے تھے تو حضرت ہارون (بن عمران) (علیہ السلام) آمین کہتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں آمین اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ (مصنف عبدالرزاق)
4914- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "كان موسى بن عمران إذا دعا أمن هارون، وقال أبو هريرة: آمين اسم من أسماء الله تعالى". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں کوشش و محنت
4915: ۔۔ (عائشہ (رض)) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر یہ دعا اس قدر مانگتے تھے کہ میں بھی آپ کے ہاتھ اٹھانے سے تھک جاتی تھی :

اللھم انما انا بشر فلا تعذبنی بشتم رجل شتمتہ او آذیتہ۔

اے اللہ ! میں بھی ایک بشر ہوں اگر میں نے کسی کو برا بھلا کہہ دیا ہو یا کسی کو تکلیف دیدی ہو تو مجھے اس پر عذاب نہ دیجیے گا۔ (مصنف عبدالرزاق)
4915- "عائشة" عن عائشة قالت "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه حتى إني لأسأم له مما يرفعهما: اللهم إنما أنا بشر فلا تعذبني بشتم رجل شتمته أو آذيته". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں کوشش و محنت
4916: ۔۔ (مرسل طاؤس (رح)) طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم پر بد دعا فرمانے لگے تو اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بہت بلند کردیے (آپ کے نیچے) اونٹنی چکرانے لگی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اونٹنی (کی مہار) تھامی اور دوسرا ہاتھ یونہی آسمان کی طرف بلند رہنے دیا۔ (مصنف عبدالرزاق)
4916- "مرسل طاووس" عن طاووس قال: "دعا النبي صلى الله عليه وسلم على قوم فرفع يديه جدا في السماء فجالت الناقة فأمسكها بإحدى يديه، والأخرى قائمة في السماء". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں کوشش و محنت
4917: ۔۔ (مرسل عروہ (رح)) حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دیہاتی قوم کے پاس سے گذرے، جو اسلام لا چکے تھے۔ اور لشکریوں نے ان کے علاقوں کو تہہ وبالا کردیا۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے خوب پھیلا کر ان کے لیے دعا کی ایک دیہاتی نے عرض کیا : یا رسول اللہ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں اور پھیلائیے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھوں کو چہرے کے سامنے (آخر تک) پھیلا دیا اور آسمان کی طرف بلند نہیں کیا۔ مصنف عبدالرزاق۔
4917- "مرسل عروة" عن عروة "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقوم من الأعراب، كانوا قد أسلموا وكانت الأحزاب قد خربت بلادهم، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو لهم باسطا يديه قبل وجهه، فقال له أعرابي: امدد يا رسول الله فداك أبي وأمي، فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه تلقاء وجهه، ولم يرفعهما في السماء". "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں کوشش و محنت
4918: (مرسل الزہری (رح)) حضرت زہری (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں اپنے ہاتھوں کو سینے تک بلند کرلیتے تھے۔ پھر (فراغت کے بعد) دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیتے تھے۔ (مصنف عبدالرزاق)
4918- "مرسل الزهري" عن الزهري قال "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه عند صدره، في الدعاء، ثم يمسح بهما وجهه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں کوشش و محنت
4919: ۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور ان کے علاوہ بھی دعا فرماتے تھے۔ (مصنف بن ابی شیبہ)

یہی روایت ایک جامع دعا کے ساتھ 3210 پر گذر چکی ہے۔
4919- عن عائشة "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الجوامع من الدعاء ويدع ما سوى

ذلك". "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4920: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عمرہ پر جانے کی اجازت مانگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی اور فرمایا : اے بھائی اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا اور دعا کے وقت ہمیں نہ بھولنا۔ مسند ابی داؤد الطیالسی، مصنف عبدالرزاق۔
4920- عن ابن عمر أن عمر استأذن النبي صلى الله عليه وسلم في عمرة فأذن له، وقال: "يا أخي أشركنا في دعائك، ولا تنسنا من دعائك". "ط هب"2.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4921: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا :

آگاہ رہو ! لوگوں میں یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی شئی تقسیم نہیں ہوئی۔ یاد رکھو ! سچائی اور نیکی دونوں جنت میں جائیں گی اور جھوٹ اور بدی دونوں جہنم میں جائیں گی۔ (مسند احمد، نسائی، مسند ابی یعلی، ابن حبان فی روضۃ العقلاء الدارقطنی فی الافراد، السنن لسعید بن منصور)
4921- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن عمرقال: "إن أبا بكر خطبنا، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فينا عام أول، فقال: "ألا أنه لم يقسم بين الناس شيء أفضل من المعافاة، بعد اليقين، ألا إن الصدق والبر في الجنة، ألا إن الكذب والفجور في النار". "حم ن ع حب في روضة العقلاء قط في الأفراد ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4922: ۔۔ جبیر بن نفیر سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) مدینہ میں منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد کرکے رونے لگے پھر ارشاد فرمایا : اللہ سے عاقبت کا سوال کرو پھر فرمایا : بیشک یقین کے بعد عافیت کے مثل کوئی چیز کسی کو عطا نہیں کی گئی۔ (نسائی، حلیۃ الاولیاء)
4922- عن جبير بن نفير قال: "قام أبو بكر بالمدينة إلى جانب منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم وبكى، ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام في مقامي هذا عام أول، فقال: "يا أيها الناس سلوا الله العافية ثلاث مرات، فإنه لم يؤت أحد مثل العافية بعد اليقين". "ن حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4923: ۔۔ حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ بیشک (ایمان کے) یقین کے بعد عافیت سے افضل کوئی شی کسی کو عطا نہیں کی گئی۔ اور شک و شبہ سے بچو، یقیناً کفر کے بعد شک سے زیادہ سخت کوئی چیز کسی کو نہیں دی گئی۔ تم پر سچائی لازم ہے۔ کیونکہ سچائی نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گے۔ جھوٹ سے بچو بیشک وہ بدی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ ابن جریر فی تہذیب الآثار، ابن مردویہ)
4923- عن أبي بكر الصديق قال: "قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "سلوا الله العافية، فإنه لم يعط أحد أفضل من معافاة بعد اليقين، وإياكم والريبة؛ فإنه لم يعط أحد أشد من ريبة بعد كفر، وعليكم بالصدق فإنه مع البر وهما في الجنة، وإياكم والكذب، فإنه مع الفجور، وهما في النار". "ابن جرير في تهذيب الآثار وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4924: ۔۔ اوسط (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الل عنہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : پہلے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری اس جگہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ اور ارشاد فرمایا : اللہ سے معافاۃ یا فرمایا عافیت کا سوال کرو۔ بیشک یقین کے بعد معافاۃ یا عافیت سے بڑھ کر کوئی افضل شی کسی کو نہیں دی گئی۔ تم پر سچائی لازم ہے کیونکہ سچائی نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں جائیں گی۔ جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ بدی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی۔ آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو، بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔ اور اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ جیسا کہ اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک الحاکم)

فائدہ : ۔۔ عافیت اور معافاۃ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے دنیا و آخرت میں ہر طرح کی تکلیف اور پریشانی سے نجات۔
4924- عن أوسط قال خطبنا أبو بكر الصديق، فقال: "قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقامي هذا عام الأول، فقال: "سلوا الله المعافاة، أو قال العافية، فإنه لم يعط أحد قط بعد اليقين أفضل من العافية أو المعافاة، وعليكم بالصدق فإنه مع البر، وهما في الجنة، وإياكم والكذب، فإنه مع الفجور، وهما في النار، لا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تقاطعوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا، كما أمركم الله". "حم ن هـ حب ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4925: ۔۔ حضرت عروہ (رح) حضرت عائشہ (رض)، حضرت اسماء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی وفات کے بعد ان) کی جگہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے سال موسم گرما میں اسی جگہ کھڑے ہوئے فرماتے سنا : یہ کہہ کر حضرت ابوبکر (رض) دو مرتبہ بہہ پڑیں پھر فرمایا : میں نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : اللہ سے مغفرت اور دنیا و آخرت میں عافیت اور درگذر کرنے کا سوال کرو۔ مسند ابی یعلی۔

ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند جید (عمدہ) ہے۔
4925- عن عروة عن عائشة أو أسماء: أن أبا بكر الصديق قام مقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من العام المقبل، فقال: "إني سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم في الصيف، عام الأول في مثل مقامي هذا، ثم فاضت عيناه مرتين، ثم قال: إني سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول: "سلوا الله المغفرة والعافية والمعافاة في الدنيا والآخرة". "ع" قال ابن كثير إسناده جيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4926: (رض) غم گین ہوگئے اور رو پڑے پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ کلمہ اخلاص کے بعد تم کو عافیت جیسی کوئی چیز نہیں دی گئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو۔ (مسند احمد، ابن حبان)
4926- عن أبي هريرة قال: سمعت أبا بكر الصديق يقول على هذا المنبر: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في هذا اليوم من عام أول، ثم استعبر أبو بكر فبكى، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لم تؤتوا شيئا بعد كلمة الإخلاص مثل العافية، فسلوا الله العافية". "حم حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا کی اہمیت
4927: ۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا تم جانتے ہو یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تھے یہ کہہ کر آپ (رض) رو پڑے۔ یہی بات پھر دہرائی پھر رو پڑے۔ پھر دہرائی اور پھر رو پڑے۔ پھر فرمایا :

انسانوں کو اس دنیا میں عفو اور عافیت سے بڑھ کر افضل کوئی شی عطا نہیں کی گئی لہٰذا اللہ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔ (نسائی مسند ابی یعلی، الدارقطنی فی الافراد)
4927- عن أبي هريرة قال: قام أبو بكر على المنبر، فقال: "قد علمتم ما قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم وبكى، ثم أعادها ثم بكى، ثم أعادها ثم بكى قال: "إن الناس لم يعطوا في هذه الدنيا شيئا أفضل من العفو والعافية، فسلوهما الله عز وجل". "ن ع قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4928: ۔۔ رفاعہ (رح) بن رافع سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرماتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے یہ کہ کر حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یاد میں رو پڑے۔ پھر یہ کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا : میں نے اسی گرمیوں میں پہلے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

اللہ سے دنیا و آخرت میں عفو، عافیت اور یقین کا سوال کرو۔ (مسند احمد، ترمذی، حسن غریب)
4928- عن رفاعة بن رافع قال: "سمعت أبا بكر يقول على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول، فبكى أبو بكر حين ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم سرى عنه، ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في مثل هذا القيظ عام الأول: "سلوا الله العفو والعافية واليقين في الآخرة والأولى". "حم ت حسن غريب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4929: ۔۔ ابو حازم (رح) سہل (رح) بن سعد سے روایت کرتے ہیں، حضرت سہل (رح) فرماتے ہیں : ہم لوگ روضہ اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے۔ پھر اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا :

اے لوگو ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے سال ان لکڑیوں پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :

کسی بندے کو اچھے یقین اور عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔ پس اللہ سے حسن یقین اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ البزار۔

سہل کی حضرت ابوبکر (رض) سے اس کے علاوہ اور کوئی حدیث مرفوع منقول نہیں ہے۔
4929- عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: "دخل علينا أبو بكر ونحن في الروضة، فصعد المنبر، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على هذه الأعواد عام أول: "ما أعطي عبد أفضل من حسن اليقين والعافية، فسلوا الله حسن اليقين والعافية". "البزار" وقال ليس لسهل عن أبي بكر حديث مرفوع غيره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4830: ۔۔ حسن (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے : لوگوں کو یقین اور عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ پس ان دونوں چیزوں کا اللہ سے سوال کرو۔ (مسند احمد)

یہ روایت منقطع الاسناد ہے۔
4930- عن الحسن أن أبا بكر خطب الناس، فقال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيها الناس إن الناس لم يعطوا في الدنيا خيرا من اليقين والعافية، فسلوهما الله عز وجل". "حم وهو منقطع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عافیت کی دعا مانگنا چاہیے
4931: ۔۔ ثابت بن الحجاج سے روی ہے حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے سال تمہارے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور یہ فرمایا تھا : اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ بیشک کسی بندے کو یقین کے سوا عافیت سے بڑھ کر کوئی شی نہیں دی گئی۔ اور میں بھی اللہ سے یقین اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ مسند ابی یعلی۔

کلام : ۔۔ یہ روایت بھی منقطع الاسناد ہے۔ لیکن امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس حدیث کے متصل اور منقطع بہت سے طریق ہیں جس کی وجہ سے حدیث صحت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ بحوالہ کنز العمال۔ ج 2 ص 627 ۔
4931- عن ثابت بن الحجاج قال: قام أبو بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "لقد علمتم ما قام فيكم رسول الله صلى الله عليه وسلم عام أول، "فاسئلوا الله العافية، فإنه لم يعط عبد شيئا أفضل من المعافاة إلا اليقين، وأنا أسأل الله اليقين والعافية". "ع" وهو منقطع، قال ابن كثير: لهذا الحديث طرق متصلة ومنقطعة تفيد القطع بصحته
tahqiq

তাহকীক: