কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৮৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4892: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دعا کرتے تو ہاتھ اٹھالیتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر لیتے تھے۔ مستدرک الحاکم۔
4892- عن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دعا رفع يديه وإذا فرغ ردهما على وجهه". "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4893: ۔۔۔ (عثمان (رض)) ایک شخص دعا کرتے ہوئے ایک انگلی سے اشارہ کررہا تھا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔ سفیان الثوری فی الجامع، السنن للبیہقی۔
4893- "عثمان رضي الله عنه" عن عثمان في رجل يدعو يشير بأصبعه، قال: "مقمعة للشيطان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4894: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اللہ سے ہدایت اور درستی کا سوال کرو۔ اور ہدایت کے ساتھ سیدھے راستے کو اور درستی سے تیرے کے نشانے کی درستی یاد کرو۔ (ابو داؤد الطیالسی، الحمیدی، مسند احمد، العدنی، مسلم، ابو داود، نسائی، مسند ابی یعلی، الکجی و یوسف القاضی فی سننہما، جعفر الفریابی فی الذکر، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی)
4894- "علي رضي الله عنه" عن علي قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم "يا علي سل الله الهدى والسداد، وأعن بالهدى" وفي لفظ: "وأذكر بالهدى هداية الطريق وبالسداد تسديد السهم". "ط والحميدي حم والعدني م د ن ع والكجي ويوسف القاضي في سننهما وجعفر الفريابي في الذكر حب هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4895: ۔۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ کی عادت مبارک یہ تھی کہ اگر اس کام کو کرنے یا اس چیز کو عطا کرنے کا خیال ہوتا تو نعم ، ہاں فرما دیتے۔ اور اگر نہ کرنے کا خیال ہوتا تو خاموش ہوجاتے لیکن لا یعنی نہیں ، نہیں کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ سوال کیا۔ آپ خاموش رہے۔ اس نے پھر سوال کیا آپ خاموش رہے۔ اس نے تیسری بار بھی سوال کردیا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھڑکنے کے انداز میں فرمایا : اے اعرابی ! سوال کر جو بھی چاہتا ہے۔ صحابہ کرام اس کی ذات پر رشک کرنے لگے، صحابہ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ جنت مانگے گا۔ لیکن اعرابی نے کہا : میں آپ سے سواری کا جانور مانگتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تجھے دیا۔ اعرابی نے پھر کہا : اور میں زاد (یعنی توشہ) کا بھی سوال کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے دیا۔ صحابہ فرماتے ہیں ہمیں اس پر بہت تعجب ہوا کہ (ہر چیز مانگ سکتا تھا لیکن یہ اتنی حقیر چیزوں پر راضی ہوگیا) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی کے بارے میں فرمایا : اس اعرابی اور بنی اسرائیل کی بڑھیا کے سوالوں کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس کی وضاحت میں اس بڑھیا کا قصہ) ارشاد فرمایا :
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم سمندر عبور کرنے کا ملا اور آپ سمندر تک پہنچے تو جانوروں کے چہرے مڑ گئے (یعنی سمندر نے راستہ نہ دیا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ؟ (ادھر سمندر، راستہ نہیں دے رہا اور تیرا حکم ہے کہ اس کو عبور کروں) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : تم یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہو اپنے ساتھ اس کی ہڈیوں کو لے کر۔ (پھر سمندر تم کو راستہ دے گا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا تو قبر زمین کے برابر ہوچکی تھی۔ (اور اس کا کوئی نام و نشان نہ تھا) موسیٰ (علیہ السلام) کو پتہ نہ چل رہا تھا کہ قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : اگر کوئی ہم میں سے ان کی قبر کو جان سکتا ہے تو فلاں بڑھیا ہی ہے جس کو شاید اس کا علم ہو۔
یوسف (علیہ السلام) کی قبر
موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پیغام بھیج کر بلایا اور پوچھا کیا تو جانتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی قبر کہاں ہے ؟ بڑھیا نے ہاں میں جواب دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے اس کا پتہ دو ۔ بڑھیا بولی : ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم میرا سوال پورا نہ کرو۔ موسیٰ نے فرمایا : بولو تمہیں تمارا سوال دیا۔ بڑھیا بولی : میں تم سے سوال کرتی ہوں کہ جنت میں جس درجہ میں تم کو جگہ ملے اسی درجہ میں مجھے بھی ٹھکانا دیا جائے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم صرف جنت کا سوال کرلو۔ بڑھیا بولی نہیں۔ اللہ کی قسم ! میں تو تمہارے ساتھ ہی ہونا چاہتی ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بار بار اس کو منع فرماتے رہے۔ آخر اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی۔ اس کو اس کا سوال دیدو۔ (یعنی حامی بھرلو) اس سے تمہارے حق میں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس کا سوال دیا اور تب بڑھیا نے پتہ بتایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہڈیوں کو نکالا اور سمندر عبور کیا۔ الاوسط للطبرانی، الخرائطی فی مکارم الاخلاق۔
ایک مرتبہ ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ سوال کیا۔ آپ خاموش رہے۔ اس نے پھر سوال کیا آپ خاموش رہے۔ اس نے تیسری بار بھی سوال کردیا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھڑکنے کے انداز میں فرمایا : اے اعرابی ! سوال کر جو بھی چاہتا ہے۔ صحابہ کرام اس کی ذات پر رشک کرنے لگے، صحابہ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ جنت مانگے گا۔ لیکن اعرابی نے کہا : میں آپ سے سواری کا جانور مانگتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تجھے دیا۔ اعرابی نے پھر کہا : اور میں زاد (یعنی توشہ) کا بھی سوال کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے دیا۔ صحابہ فرماتے ہیں ہمیں اس پر بہت تعجب ہوا کہ (ہر چیز مانگ سکتا تھا لیکن یہ اتنی حقیر چیزوں پر راضی ہوگیا) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی کے بارے میں فرمایا : اس اعرابی اور بنی اسرائیل کی بڑھیا کے سوالوں کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس کی وضاحت میں اس بڑھیا کا قصہ) ارشاد فرمایا :
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم سمندر عبور کرنے کا ملا اور آپ سمندر تک پہنچے تو جانوروں کے چہرے مڑ گئے (یعنی سمندر نے راستہ نہ دیا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ؟ (ادھر سمندر، راستہ نہیں دے رہا اور تیرا حکم ہے کہ اس کو عبور کروں) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : تم یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہو اپنے ساتھ اس کی ہڈیوں کو لے کر۔ (پھر سمندر تم کو راستہ دے گا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا تو قبر زمین کے برابر ہوچکی تھی۔ (اور اس کا کوئی نام و نشان نہ تھا) موسیٰ (علیہ السلام) کو پتہ نہ چل رہا تھا کہ قبر کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : اگر کوئی ہم میں سے ان کی قبر کو جان سکتا ہے تو فلاں بڑھیا ہی ہے جس کو شاید اس کا علم ہو۔
یوسف (علیہ السلام) کی قبر
موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پیغام بھیج کر بلایا اور پوچھا کیا تو جانتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی قبر کہاں ہے ؟ بڑھیا نے ہاں میں جواب دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے اس کا پتہ دو ۔ بڑھیا بولی : ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم میرا سوال پورا نہ کرو۔ موسیٰ نے فرمایا : بولو تمہیں تمارا سوال دیا۔ بڑھیا بولی : میں تم سے سوال کرتی ہوں کہ جنت میں جس درجہ میں تم کو جگہ ملے اسی درجہ میں مجھے بھی ٹھکانا دیا جائے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم صرف جنت کا سوال کرلو۔ بڑھیا بولی نہیں۔ اللہ کی قسم ! میں تو تمہارے ساتھ ہی ہونا چاہتی ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بار بار اس کو منع فرماتے رہے۔ آخر اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی۔ اس کو اس کا سوال دیدو۔ (یعنی حامی بھرلو) اس سے تمہارے حق میں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس کا سوال دیا اور تب بڑھیا نے پتہ بتایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہڈیوں کو نکالا اور سمندر عبور کیا۔ الاوسط للطبرانی، الخرائطی فی مکارم الاخلاق۔
4895- كان رسول الله صلى الله عليه وسلم "إذا سئل شيئا فإذا أراد أن يفعله قال: نعم، وإذا أراد أن لا يفعل سكت، وكان لا يقول لشيء لا، فأتاه أعرابي فسأله فسكت، ثم سأله فسكت، ثم سأله، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم كهيئة المنتهر: سل ما شئت يا أعرابي فغبطناه، فقلنا الآن يسأل الجنة، فقال الأعرابي: أسألك راحلة، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لك ذلك، ثم قال: أسألك زادا، قال: لك ذلك، فعجبنا من ذلك؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كم بين مسألة الأعرابي وعجوز بني إسرائيل، ثم قال: إن موسى لما أمر أن يقطع البحر فانتهى إليه فصرفت وجوه الدواب فرجعت فقال موسى ما لي يا رب؟ قال: إنك عند قبر يوسف، فاحتمل عظامه معك وقد استوى القبر بالأرض، فجعل موسى لا يدري أين هو: قالوا: إن كان أحد منكم يعلم أين هو فعجوز بني إسرائيل لعلها تعلم أين هو؟ فأرسل إليها موسى فقال: هل تعلمين أين قبر يوسف؟ قالت: نعم، قال: فدليني عليه قالت: لا والله حتى تعطيني ما أسألك، قال: ذلك لك، قالت فإني أسألك أن أكون معك في الدرجة التي تكون فيها في الجنة قال: سلي الجنة قالت لا والله إلا أن أكون معك، فجعل موسى يرددها، فأوحى الله أن أعطها ذلك، فإنه لن ينقصك شيئا، فأعطاها فدلته على القبر، وأخرج العظام وجاوز البحر". "طس والخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4896: ۔۔۔ (سعد (رض)) حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ میں دعا میں دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس سے گذرے تو شہادت کی انگلی سے اشارہ کرکے فرمایا ایک (ایک) (یعنی ایک انگلی سے اشارہ کرو) ۔ ابن ماجہ۔
4896- "سعد رضي الله عنه" عن سعد قال: "مر النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أدعو بأصبعي، فقال: "أحد أحد، وأشار بأصبعه السبابة". "هـ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4897: ۔۔ (مسند طلحہ بن عبیداللہ (رض)) ابن ابی الدنیا اپنی کتاب محاسبۃ النفس میں فرماتے ہیں : مجھے عبدالرحمن بن صالح المحاربی عن لیث کی سند سے بیان کیا کہ حضرت طلحہ (رض) سے مروی ہے۔
ایک شخص نے ایک دن اپنے کپڑے اتارے اور تیز دھوپ میں زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ اور اپنے نفس کو ڈانٹنے لگا، لے مزہ چکھ ، جہنم کی آگ کا۔ (لے مزہ چکھ جہنم کی آگ کا) تو رات کو تو مردار بنا پڑا رہتا ہے اور دن کو اکڑ خان بنا پھرتا ہے۔ اس شخص کی اسی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نظر پڑی، آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے تے۔
لہذا وہ شخص زمین سے اٹھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا مجھ پر میرا نفس غالب آگیا تھا (اس وجہ سے اس کو سزا دے رہا تھا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تیرے لیے آسمان کے دروازے کھل گئے یں اور اللہ پاک تیرے ساتھ ملائکہ پر فخر فرما رہے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو فرمایا اپنے بھائی سے توشہ حاصل کرلو۔ پس کوئی کہنے لگا اے فلاں ! میرے لیے دعا کردے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو فرمایا : تم ان سب کے لیے دعا کردو۔ وہ شخص دعا کرنے لگا۔
اللہم اجعل التقوی زادھم واجمع علی الھدی امرھم۔
اے اللہ تقوی کو ان کا توشہ بنا دے اور ہدایت پر ان کے کام کو جمع کردے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اللہم سددہ اے اللہ اس کو (دعا میں) درست راہ سمجھا۔ پھر اس شخص نے یہ دعا (بھی) کی : واجعل الجنبۃ مآبہم۔ اور جنت کو ان کا ٹھکانا بنا دے۔ (ابن ابی الدنیا فی محاسبۃ النفس)
ایک شخص نے ایک دن اپنے کپڑے اتارے اور تیز دھوپ میں زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ اور اپنے نفس کو ڈانٹنے لگا، لے مزہ چکھ ، جہنم کی آگ کا۔ (لے مزہ چکھ جہنم کی آگ کا) تو رات کو تو مردار بنا پڑا رہتا ہے اور دن کو اکڑ خان بنا پھرتا ہے۔ اس شخص کی اسی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نظر پڑی، آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے تے۔
لہذا وہ شخص زمین سے اٹھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا مجھ پر میرا نفس غالب آگیا تھا (اس وجہ سے اس کو سزا دے رہا تھا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تیرے لیے آسمان کے دروازے کھل گئے یں اور اللہ پاک تیرے ساتھ ملائکہ پر فخر فرما رہے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو فرمایا اپنے بھائی سے توشہ حاصل کرلو۔ پس کوئی کہنے لگا اے فلاں ! میرے لیے دعا کردے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو فرمایا : تم ان سب کے لیے دعا کردو۔ وہ شخص دعا کرنے لگا۔
اللہم اجعل التقوی زادھم واجمع علی الھدی امرھم۔
اے اللہ تقوی کو ان کا توشہ بنا دے اور ہدایت پر ان کے کام کو جمع کردے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اللہم سددہ اے اللہ اس کو (دعا میں) درست راہ سمجھا۔ پھر اس شخص نے یہ دعا (بھی) کی : واجعل الجنبۃ مآبہم۔ اور جنت کو ان کا ٹھکانا بنا دے۔ (ابن ابی الدنیا فی محاسبۃ النفس)
4897- "مسند طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه" عن ابن أبي الدنيا في كتاب محاسبة النفس: حدثني عبد الرحمن بن صالح: ثنا المحاربي عن ليث: عن طلحة قال: "انطلق رجل ذات يوم، فنزع ثيابه، وتمرغ في الرمضاء، ويقول لنفسه ذوقي نار جهنم، أجيفة بالليل وبطالة بالنهار؟ قال فبينا هو كذلك إذ أبصر النبي صلى الله عليه وسلم في ظل شجرة، فأتاه فقال: غلبتني نفسي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "أما لقد فتحت لك أبواب السماء، ولقد باهى الله بك الملائكة، ثم قال لأصحابه: تزودوا من أخيكم"، فجعل الرجل يقول: يا فلان ادع لي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم عمهم، فقال: اللهم اجعل التقوى زادهم، واجمع على الهدى أمرهم، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم سدده، فقال: واجعل الجنة مآبهم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4898: ۔۔ (ابی بن کعب (رض)) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے لیے دعا فرماتے تو اپنی ذات سے ابتداء فرماتے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ذکر فرمایا : اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ (علیہ السلام) پر، اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی سے بڑی تعجب خیز چیزیں دیکھتے لیکن انھوں نے یہ کہا :
ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصاحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔ الکھف : 76 ۔
اس کے بعد اگر میں (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے)
یوں خود ہی انھوں نے اپنے ساتھی کو ڈھیل دے دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، نسائی، ابن منیع، ابن قانع، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔ 4886: روایت میں خصوصیت کی بجائے عمومیت کا حکم دیا گیا یعنی سب کے لیے دعا کرو اسی طرح روایت 4879 میں بھی عام دعا کرنے کا حکم دیا۔ جبکہ اس روایت میں اور آنے والی چند روایات میں اس بات کی تعلیم ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کرے پھر اس دعا میں سب کو شامل کرلے : جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ہم پر رحم فرما۔
اللہم افتح لنا ابواب الدعاء واجابتہا۔
ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصاحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔ الکھف : 76 ۔
اس کے بعد اگر میں (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے)
یوں خود ہی انھوں نے اپنے ساتھی کو ڈھیل دے دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، نسائی، ابن منیع، ابن قانع، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔ 4886: روایت میں خصوصیت کی بجائے عمومیت کا حکم دیا گیا یعنی سب کے لیے دعا کرو اسی طرح روایت 4879 میں بھی عام دعا کرنے کا حکم دیا۔ جبکہ اس روایت میں اور آنے والی چند روایات میں اس بات کی تعلیم ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کرے پھر اس دعا میں سب کو شامل کرلے : جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ہم پر رحم فرما۔
اللہم افتح لنا ابواب الدعاء واجابتہا۔
4898- "أبي بن كعب" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دعا لأحد بدأ بنفسه، فذكر ذات يوم موسى، فقال: "رحمة الله علينا وعلى موسى لو صبر لرأى من صاحبه العجب العاجب، ولكنه قال: {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً} وطولها". "ش حم د ن وابن قانع وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4899: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دعا میں کسی کا ذکر کرتے تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے۔ (ترمذی، حسن غریب صحیح)
4899- وعنه "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذكر أحدا فدعا له بدأ بنفسه". "ت حسن غريب صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4900: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (دعا میں) جب انبیاء میں سے کسی کا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے ابتداء فرماتے تھے اور یوں کہتے تھے : اللہ کی رحمت ہو ہم پر، ہود اور صالح پر۔ (مسند احمد، ابن حبان، مستدرک الحاکم)
4900- وعنه كان إذا ذكر أحدا من الأنبياء بدأ بنفسه، فقال "رحمة الله علينا وعلى هود وصالح" "حم حب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4901: ۔۔ آپ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انبیاء میں سے کسی کا ذکر فرماتے تو یوں فرماتے۔ اللہ پاک ہم پر، ھود پر، صالح پر اور موسیٰ پر رحم فرمائے اسی طرح دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرماتے تھے۔ ابن قانع، ابن مردویہ۔
4901- وعنه كان نبي الله صلى الله عليه وسلم إذا ذكر أحدا من الأنبياء، قال: "رحمة الله علينا وعلى هود وعلى صالح وعلى موسى وذكر غيرهم". "ابن قانع وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4902: ۔۔ انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس آئے وہ (بیماری اور عبادت و محنت و مشقت) کی وجہ سے پر نوچے ہوئے چوزے کی طرح پڑا تھا۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تو اللہ سے کوئی دعا کرتا تھا کیا ؟ اس نے عرض کیا : میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ ! تو آخرت میں جو مجھے سزا دینا چاہتا ہے وہ دنیا ہی میں دیدے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے یوں کیوں نہیں کہا :
اللہم ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ چنانچہ اس نے یہ دعا کی تو اللہ نے اس کو شفا بخش دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تو اللہ سے کوئی دعا کرتا تھا کیا ؟ اس نے عرض کیا : میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ ! تو آخرت میں جو مجھے سزا دینا چاہتا ہے وہ دنیا ہی میں دیدے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے یوں کیوں نہیں کہا :
اللہم ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ چنانچہ اس نے یہ دعا کی تو اللہ نے اس کو شفا بخش دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4902- عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: "دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل كأنه فرخ منتوف من الجهد، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: هل كنت تدعو الله بشيء؟ قال كنت أقول: اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنيا، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ألا قلت: اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، فدعا الله فشفاه". "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4903: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر سو دعائیں بھی کرتے تب بھی شروع میں، آخر میں اور درمیان میں یہ دعا ضرور کرتے :
ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ رواہ ابن النجار۔
ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ رواہ ابن النجار۔
4903- عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لو دعا بمائة دعوة افتتحها وختمها وتوسطها بربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4904: ۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس داخل ہوئے، وہ (بیماری کی وجہ سے) گویا ایک پرندہ (کی طرح بےجان) ہوگیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کیا تو نے اپنے پروردگار سے کوئی سوال کیا تھا ؟ اس نے عرض کیا : میں یہ دعا کرتا تھا : اے اللہ ! تو جو سزا مجھے کل آخرت میں دینا چاہتا ہے وہ آج دنیا ہی میں جلد دے دے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو نے یوں کیوں نہیں کہا :
اللھم ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
چنانچہ آدمی نے یہ دعا کی تو وہ (بیماری کی کیفیت اس سے) چھٹ گئی۔ (رواہ ابن النجار)
اللھم ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
چنانچہ آدمی نے یہ دعا کی تو وہ (بیماری کی کیفیت اس سے) چھٹ گئی۔ (رواہ ابن النجار)
4904- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على رجل كأنه هامة2 فقال له:" هل سألت ربك شيئا؟ قال كنت أقول: اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فاجعله في الدنيا، قال: إنك لن تس تطيع ذلك، أفلا قلت: اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار، فقالها الرجل، فذهب عنه". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4905: ۔۔ اسحاق بن ابی فروہ، یرید الرقاشی کے واسطے سے حضرت انس (رض) سے نقل کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بندہ مومن اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ پاک جبرائیل (علیہ السلام) کو فرماتے ہیں تم اس کو جواب مت دو ۔ میں چاہتا ہوں کہ اور اس کی آواز سنو۔ اور جب فاجر شخص دعا کرتا ہے تو اللہ پاک جبرائیل (علیہ السلام) کو فرماتے ہیں : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! اس کی حاجت جلد پوری کردو میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا۔ (رواہ ابن النجار)
4905- عن إسحاق بن أبي فروة عن يزيد الرقاشي عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن العبد المؤمن ليدعو الله فيقول الله لجبريل: لا تجبه فإني أحب أن أسمع صوته، وإذا دعاه الفاجر قال: يا جبريل اقض حاجته، إني لا أحب أن أسمع صوته". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4906: ۔۔ (مسند سلمۃ بن الاکوع) سلمۃ بن الاکوع (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھجی دعا کرتے دیکھا آپ نے سبحان ربی الاعلی والوھاب پڑھا۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4906- "مسند سلمة بن الأكوع" عن سلمة بن الأكوع ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يستفتح الدعاء إلا يستفتحه: "بسبحان ربي الأعلى العلي الوهاب". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4907: ۔۔ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہا : میں قرآن سیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا تو اس کے بدلے مجھے کیا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم یہ کلمات پڑھا کرو :
سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر۔
آدمی نے کہا : اس طرح اور اس نے پانچوں انگلیاں ملا لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو اللہ کے لیے ہیں آدمی نے پوچھا : پھر میرے لیے کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : تم یوں کہا کرو :
اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وارزقنی ۔
پھر آدمی نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرکے پوچھا : یوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ خیر کے ساتھ بھر لیے۔ (مصنف عبدالرزاق)
فائدہ : ۔۔ آدمی نے پہلے ایک مٹھی بند کرکے پوچھا کہ اس طرح ان کلمات کو تھام لوں اور ان وک حرز جان بنا لوں تو میرے لیے کافی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں یہ تو فقط پروردگار کی خوشنودی کے لیے ہیں۔ اور تمارے فائدے کے لیے یہ دعائیں ہیں تب اس نے دونوں مٹھیاں بند کرکے پوچھا : ان دونوں چیزوں کو زندگی سے وابستہ کرلوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اور اس طرح تم دونوں ہاتھوں میں خیر بھر لوگے۔
سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر۔
آدمی نے کہا : اس طرح اور اس نے پانچوں انگلیاں ملا لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو اللہ کے لیے ہیں آدمی نے پوچھا : پھر میرے لیے کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : تم یوں کہا کرو :
اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وارزقنی ۔
پھر آدمی نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرکے پوچھا : یوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ خیر کے ساتھ بھر لیے۔ (مصنف عبدالرزاق)
فائدہ : ۔۔ آدمی نے پہلے ایک مٹھی بند کرکے پوچھا کہ اس طرح ان کلمات کو تھام لوں اور ان وک حرز جان بنا لوں تو میرے لیے کافی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں یہ تو فقط پروردگار کی خوشنودی کے لیے ہیں۔ اور تمارے فائدے کے لیے یہ دعائیں ہیں تب اس نے دونوں مٹھیاں بند کرکے پوچھا : ان دونوں چیزوں کو زندگی سے وابستہ کرلوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اور اس طرح تم دونوں ہاتھوں میں خیر بھر لوگے۔
4907- عن عبد الله بن أبي أوفى: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "إني لا أستطيع أن أتعلم القرآن، فما يجزيني؟ قال تقول: سبحان الله والحمد لله، ولا حول ولا قوة إلا بالله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، فقال الرجل: هكذا وجمع أصابعه الخمس، فقال: هذا لله، فما لي؟ قال تقول: اللهم اغفر لي، وارحمني، واهدني، وارزقني، فقبض الرجل كفيه جميعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما هذا فقد ملأ يديه من الخير". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4908: ۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : ابتہال یہ ہے : پھر آپ دونوں ہاتھ کھول کر ان کی پشت اپنے منہ کی طرف کرلی اور دعا اس طرح ہے پھر آپ نے دونوں ہاتھ (تھیلیاں سامنے کرکے) داڑھی کے نیچے کرلیے اور اخلاص اس طرح ہے۔ پھر انگلی سے اشارہ کرکے دکھایا۔ مصنف عبدالرزاق۔
فائدہ : ۔۔ ابتہال : یعنی خوب گڑگڑانا، اور آہ وزاری کرنا۔ دعا معلوم ہے اور اخلاص یعنی انگلی سے اشارہ کرنا جس طرح تشہد میں کیا جاتا ہے اور دل میں یہ خیال کرنا اے اللہ ایک تجھ کو پکارتا ہوں میری پکار سن لے یہ اخلاص ہے۔
فائدہ : ۔۔ ابتہال : یعنی خوب گڑگڑانا، اور آہ وزاری کرنا۔ دعا معلوم ہے اور اخلاص یعنی انگلی سے اشارہ کرنا جس طرح تشہد میں کیا جاتا ہے اور دل میں یہ خیال کرنا اے اللہ ایک تجھ کو پکارتا ہوں میری پکار سن لے یہ اخلاص ہے۔
4908- عن عكرمة قال قال ابن عباس: "الإبتهال هكذا، وبسط يديه وظهورهما إلى وجهه، والدعاء هكذا، ووضع يديه تحت لحيته، والإخلاص هكذا يشير بأصبعه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4909: ۔۔ نافع (رح) سے مروی ہے کہ ابن عمر (رض) نے ایک شخص کو دو انگلیوں سے اشارہ کرتے دیکھا۔ ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ تو ایک ہے۔ جب بھی تو انگلی سے اشارہ کرے تو ایک انگلی سے اشارہ کر۔ رواہ عبدالرزاق۔
4909- عن نافع أن ابن عمر رأى رجلا يشير بأصبعيه، فقال له ابن عمر: "إنما الله إله واحد، فأشر بإصبع واحدة إذا أشرت". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4910: ۔۔ ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ (رض) نے دعا کی :
اے اللہ ! مجھے میرے شوہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فائدہ پہنچاتا رہ اور میرے باپ ابو سفیان سے اور میرے بھائی معاویہ سے بھی مجھے فائدہ دیتا رہ۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تم نے تو اللہ سے متعین عمروں گنے چنے ایام اور تقسیم شدہ رزق کے بارے میں سوال کیا ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کسی بھی شی کے وقت سے پہلے اس کا فیصلہ فرماتے ہیں اور نہ کسی شی کو اس کے وقت آنے پر موخر فرماتے ہیں۔ لہٰذا اگر تم اللہ سے یہ سوال کرتی کہ وہ تم کو قبر کے عذاب اور جہنم کی آگ سے پناہ دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، مسلم، ابن حبان)
3238 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
اے اللہ ! مجھے میرے شوہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فائدہ پہنچاتا رہ اور میرے باپ ابو سفیان سے اور میرے بھائی معاویہ سے بھی مجھے فائدہ دیتا رہ۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تم نے تو اللہ سے متعین عمروں گنے چنے ایام اور تقسیم شدہ رزق کے بارے میں سوال کیا ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کسی بھی شی کے وقت سے پہلے اس کا فیصلہ فرماتے ہیں اور نہ کسی شی کو اس کے وقت آنے پر موخر فرماتے ہیں۔ لہٰذا اگر تم اللہ سے یہ سوال کرتی کہ وہ تم کو قبر کے عذاب اور جہنم کی آگ سے پناہ دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، مسلم، ابن حبان)
3238 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
4910- عن ابن مسعود، قالت أم حبيبة: "اللهم أمتعني بزوجي النبي صلى الله عليه وسلم، وبأبي سفيان، وبأخي معاوية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنك سألت الله لآجال مضروبة وأيام معدودة، وأرزاق مقسومة، ولن يعجل الله شيئا قبل حله1 أو يؤخر شيئا عن حله، ولو سألت الله أن يعيذك من عذاب القبر وعذاب النار، كان خيرا وأفضل". "ش حم م حب". مر برقم [3238] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے
4911: ۔۔ (ابو امامۃ الباہلی) ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے تو ہمارے دلوں میں خواہش پیدا ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے دعا فرمادیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے واقعۃ دعا فرما دی :
اللہم اغفرلنا وارحمنا، وارض عنا وتقبل منا وادخلنا الجنۃ ونجنا من النار واصلح لنا شاننا کلہ۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما، ہم پر رحم فرما، ہم سے راضی ہوجا، ہم سے ہماری دعا قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، جہنم سے نجات مرحمت فرما اور ہمارے تمام کاموں کو اچھا کردے۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرما چکے تو ہم نے خواہش کی کہ مزید اور دعائیں ہم کو دیدیں۔ ادھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہارے لیے تمام کاموں کی (دعا کرکے اس) کو جمع کردیا ہ۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
اللہم اغفرلنا وارحمنا، وارض عنا وتقبل منا وادخلنا الجنۃ ونجنا من النار واصلح لنا شاننا کلہ۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما، ہم پر رحم فرما، ہم سے راضی ہوجا، ہم سے ہماری دعا قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، جہنم سے نجات مرحمت فرما اور ہمارے تمام کاموں کو اچھا کردے۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرما چکے تو ہم نے خواہش کی کہ مزید اور دعائیں ہم کو دیدیں۔ ادھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہارے لیے تمام کاموں کی (دعا کرکے اس) کو جمع کردیا ہ۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4911- "أبو أمامة الباهلي" خرج النبي صلى الله عليه وسلم فكأنا اشتهينا أن يدعو لنا، فقال: "اللهم اغفر لنا وارحمنا، وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة، ونجنا من النار، وأصلح لنا شأننا كله، فكأنا اشتهينا أن يزيدنا، فقال: قد جمعت لكم الأمر". "ش".
তাহকীক: