কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৮৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4872: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیغرق اھلہا پڑھا (جبکہ مشہور قراءت لتغرق اھلہا ہے) ۔ ابن مردویہ ۔
4872- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {ليغرق أهلها} بالياء. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4873: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا :
وکان وراء ہم ملک یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا۔ (مشہور قراءت میں صالحۃ نہیں ہے) رواہ ابن مردویہ۔
وکان وراء ہم ملک یاخذ کل سفینۃ صالحۃ غصبا۔ (مشہور قراءت میں صالحۃ نہیں ہے) رواہ ابن مردویہ۔
4873- عن أبي بن كعب سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ: {وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صالحة غَصْباً} . "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4874: ۔۔ ابن ابی حسن اپنے والد کے واسطے اپنے دادا ابی بن کعب (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ کہ وہ ایک فارسی شخص کو پڑھاتے تھے۔ جب ان کو یہ پڑھایا :
ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم۔ اس نے طعام الیتیم۔ پڑھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے گذرے۔ تو اس کو فرمایا : طعام اظالم کہہ لو۔ اس نے کہہ لیا۔ پس اس (کی برکت) سے اس کی زبان صاف وگئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! اس کی زبان درست کرو اور اس کو پڑھاؤ تم کو اجر ملے گا۔ بیشک جس نے یہ قرآن نازل کیا اس نے اس میں کوئی غلطی نہیں چھوڑی اور نہ اس نے جس کے ذریعے یہ نازل کیا گیا۔ اور نہ ہی اس نے کوئی غلطی کی جس پر یہ نازل کیا گیا ہے۔ بیشک یہ قرآن واضح عربی میں ہے۔ رواہ الدیلمی۔
ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم۔ اس نے طعام الیتیم۔ پڑھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے گذرے۔ تو اس کو فرمایا : طعام اظالم کہہ لو۔ اس نے کہہ لیا۔ پس اس (کی برکت) سے اس کی زبان صاف وگئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! اس کی زبان درست کرو اور اس کو پڑھاؤ تم کو اجر ملے گا۔ بیشک جس نے یہ قرآن نازل کیا اس نے اس میں کوئی غلطی نہیں چھوڑی اور نہ اس نے جس کے ذریعے یہ نازل کیا گیا۔ اور نہ ہی اس نے کوئی غلطی کی جس پر یہ نازل کیا گیا ہے۔ بیشک یہ قرآن واضح عربی میں ہے۔ رواہ الدیلمی۔
4874- عن ابن أبي حسن عن أبيه عن جده أبي بن كعب أنه كان يقرئ رجلا فارسيا، فكان إذا قرأ عليه: {إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ} قال: "طعام اليتيم، فمر به النبي صلى الله عليه وسلم" فقال له قل: "طعام الظالم،" فقالها ففصح بها لسانه، فقال "يا أبي قوم لسانه وعلمه فإنك مأجور فإن الذي أنزله لم يلحن فيه، ولا الذي أنزل به، ولا الذي أنزل عليه، فإنه قرآن عربي مبين". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4875: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے : فبذلک فلیفرحوا ھو خیر مما یجمعون۔ پڑھایا۔ (ابو داؤد الطیالسی، مسند احمد، ابو داود، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
4875- عن أبي بن كعب أقرأني رسول الله صلى الله عليه وسلم: {فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} . "ط حم د ك وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4876: ۔۔ (انس (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی : سب لوگ یوں پڑھتے تھے۔ مالک یوم الدین۔ (یعنی ملک کی جگہ مالک پڑھتے تھے) رواہ ابن ابی داود۔
4876- "أنس رضي الله عنه" عن أنس قال: "صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي، كلهم كان يقرأ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} ". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال قرآن پیش ہوتا تھا۔
487: ۔۔ (مسند ابن عباس (رض)) ابی ظبیان سے مروی ہے کہ ابن عباس (رض) نے ہم سے دریافت فرمایا : تم دو قراءتوں میں سے کونسی قراءت کو پہلی شمار کرتے ہو ؟ ہم نے کہا : عبداللہ (رض) (بن مسعود) کی قراءت کو ۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال ایک مرتبہ قرآن پیش کیا جاتا تھا۔ مگر جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ پر دو مرتبہ قرآن پیش کیا گیا۔ اور اس پیشی پر عبداللہ (رض) بھی حاضر ہوتے تھے۔ لہٰذا جو قرآن پاک منسوخ ہوا اور تبدیل کردیا گیا اس پر تو وہ حاضر وئے لیکن یہ (آخری بار حاضر ہونا) ان پر شاق ہوا شاید کہیں گئے ہوئے تھے۔ آپ (رض) نے باوجود اپنی فضیلت اور سن رسیدگی کے (اس اہم موقع پر حاضر نہ ہوسکے) اور یہ کام ایسے شخص کے سپرد کردیا جو ان کے بیٹے کے قائم مقام تھے۔ (غالبا زید بن ثابت (رض) کے) اسی وجہ سے حضرت عثمان (رض) نے قرآن کی کتابت وغیرہ کا کام حضرت زید بن ثابت کے سپرد کیا کیونکہ وہ حاضر تھے اور عبداللہ غائب رہتے تھے نیز اس لیے بھی کینک حضرت زید (رض) وحی لکھا کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور عہد صدیقی میں قران لکھ چکے تھے۔ رواہ ابن عساکر۔
4877- "مسند ابن عباس" عن أبي ظبيان قال قال ابن عباس "أي القراءتين تعدون أول؟ " قلنا "قراءة عبد الله،" قال: لا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض عليه القرآن في كل رمضان مرة، إلا العام الذي قبض فيه فإنه عرض عليه مرتين يحضره عبد الله فشهد ما نسخ منه، وما بدل، وإنما شق ذلك على ابن مسعود لأنه عدل عنه مع فضله وسنه، وفوض ذلك إلى من هو بمنزلة ابنه، وإنما ولى عثمان زيد بن ثابت لحضوره وغيبة عبد الله، ولأنه كان يكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه وسلم وكتب الصحف في عهد أبي بكر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال قرآن پیش ہوتا تھا۔
4878: ۔۔ (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : تمہارے پیغمبر پر قرآن پاک سات دروازوں سے سات حروفوں پر نازل ہوا۔ جبکہ تم پہلے سے کتاب ایک ہی دروازے سے ایک ہی حرف پر نازل ہوتی تھی۔ (ابن ابی داود، مستدرک الحاکم)
4878- "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "إن القرآن أنزل على نبيكم من سبعة أبواب على سبعة أحرف، وإن الكتاب قبلكم كان ينزل من باب واحد على حرف واحد". "ابن أبي داود ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال قرآن پیش ہوتا تھا۔
4879: ۔۔ (ابو الطفیل (رض)) حضرت ابو الطفیل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :
فمن تبع ھدی۔ (یعنی ھدای کی جگہ ھدی) ۔ الخطیب فی المنفق و المفترق۔
نوٹ : ۔۔۔ 3068 نمبر روایت کے ذیل حروف سے کیا مراد ہے کی مفصل بحث ملاحظہ فرمائیں۔
فمن تبع ھدی۔ (یعنی ھدای کی جگہ ھدی) ۔ الخطیب فی المنفق و المفترق۔
نوٹ : ۔۔۔ 3068 نمبر روایت کے ذیل حروف سے کیا مراد ہے کی مفصل بحث ملاحظہ فرمائیں۔
4879- "أبو الطفيل" عن أبي الطفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ: {فَمَنْ تَبِعَ هدي} . "خط في المتفق والمفترق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراء
4880: ۔۔ (ابی بن کعب (رض) عن) عبید بن میمون مقری کہتے یں مجھے ہارون بن مسیب نے کہا : تم کس کی قراءت پر قرآن پڑھتے ہو ؟ میں نے نافع (رح) کا نام لیا۔ پوچھا نافع نے کس سے پڑھا۔ میں نے کہا : ہمیں نافع (رح) نے فرمایا کہ انھوں نے اعرج عبدالرحمن بن رمز پر پڑھا اور اعرج نے ابوہریرہ (رض) پر پڑھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے ابی بن کعب (رض) پر پڑھا۔ ابی (رض) فرماتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن سنایا اور فرمایا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ میں تجھ پر قرآن پیش کروں۔ (یعنی سناؤں) ۔۔ الاوسط للطبرانی
4880- "أبي بن كعب" قال عبيد بن ميمون المقرئ قال لي هارون بن المسيب "بقراءة من تقرأ؟ " قلت: "بقراءة نافع،" قال قلت "فعلى من قرأ نافع؟ " قلت أخبرنا نافع أنه قرأ على الأعرج عبد الرحمن بن هرمز وإن الأعرج قرأ على أبي هريرة،" فقال أبو هريرة قرأت على أبي بن كعب" وقال أبي عرضت على النبي صلى الله عليه وسلم القرآن، وقال: "أمرني جبريل أن أعرض عليك القرآن". "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراء
4881: ۔۔ (الشافع) اسماعیل بن قسطنطین کہتے ہیں۔ میں نے شبل پر پڑھا، شبل نے عبداللہ بن کثیر پر پڑھا۔ عبداللہ کہتے ہیں انھوں نے مجاہد پر (قرآن) پڑھا۔ مجاہد کہتے ہیں : انھوں نے ابن عباس (رض) پر پڑھا۔ ابن عباس (رض) خبر دیتے ہیں کہ انھوں نے ابی (رض) پر پڑھا اور ابی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑھا۔ (مستدرک الحاکم، ابن عساکر)
4881- الشافعي حدثنا إسماعيل بن قسطنطين قال: "قرأت على شبل وقرأ شبل على عبد الله بن كثير، وأخبر عبد الله أنه قرأ على مجاهد وأخبر مجاهد أنه قرأ على ابن عباس، وأخبر ابن عباس أنه قرأ على أبي وقرأ أبي على النبي صلى الله عليه وسلم". "ك كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراء
4882: ۔۔ (انس (رض)) قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں معاذ، ابی سعد، اور ابو زید (رض) نے قرآن پڑھ لیا تھا۔ میں نے پوچھا : ابو زید کون ہیں ؟ حضرت انس (رض) نے فرمایا : میرے چچاؤں میں سے تھے کوئی۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4882- "أنس رضي الله عنه" عن قتادة قال: سمعت أنسا يقول "قرأ القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، معاذ وأبي وسعد وأبو زيد، قلت من أبو زيد؟ قال أحد عمومتي". "ش".
قلت: صلاة حفظ القرآن تجيء في صلاة النوافل، من قسم الأفعال في كتاب الصلاة.
قلت: صلاة حفظ القرآن تجيء في صلاة النوافل، من قسم الأفعال في كتاب الصلاة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب الدعاء
فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
4883: ۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دعا سے عاجز مت بنو۔ اللہ نے مجھ پر یہ نازل فرمایا : کیا ہے :
ادعونی استجب لکم۔ سور۔
مجھے پکاروں میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
ایک شخص عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارا رب (خود) پکار کو سنتا ہے یا کوئی اور راستہ ہے ؟
چنانچہ اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :
واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ۔ سورة۔
اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے سوال کریں تو (تو کہہ دے) میں (ان کے بالکل) قریب ہوں۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
ادعونی استجب لکم۔ سور۔
مجھے پکاروں میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
ایک شخص عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارا رب (خود) پکار کو سنتا ہے یا کوئی اور راستہ ہے ؟
چنانچہ اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :
واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ۔ سورة۔
اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے سوال کریں تو (تو کہہ دے) میں (ان کے بالکل) قریب ہوں۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4883- "مسند علي رضي الله عنه" عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تعجزوا عن الدعاء فإن الله أنزل علي: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} " فقال رجل: "يا رسول الله ربنا يسمع الدعاء؟ أم كيف ذلك؟ فأنزل الله {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ} " الآية. "ك"1.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
4884: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : (کسی طرح کی تدبیر اور ) احتیاط تقدیر کو نہیں ٹال سکتی لیکن دعا تقدیر کو ٹال سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
الا قوم یونس لما آمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیاۃ الدنیا ومتعناہم الی حین۔ سورة یونس : 98
ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیا سے) ان کو نفع اندوز رکھا۔ ابن ابی حاتم، اللالکائی فی السن۔
الا قوم یونس لما آمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیاۃ الدنیا ومتعناہم الی حین۔ سورة یونس : 98
ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیا سے) ان کو نفع اندوز رکھا۔ ابن ابی حاتم، اللالکائی فی السن۔
4884- عن علي قال: "إن الحذر لا يرد القضاء، ولكن الدعاء يرد القضاء" قال الله تعالى: {إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ} . "ابن أبي حاتم واللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
4885: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
دعا مومن کی ڈھال ہے اور جب دروازہ کھٹکھٹانا بےتحاشا ہوجائے تو کھول ہی دیا جاتا ہے۔ العلعی فی الخلعیات۔
دعا مومن کی ڈھال ہے اور جب دروازہ کھٹکھٹانا بےتحاشا ہوجائے تو کھول ہی دیا جاتا ہے۔ العلعی فی الخلعیات۔
4885- عن علي قال: "الدعاء ترس المؤمن، ومتى تكثر قرع الباب يفتح لك". "الخلعي في الخلعيات"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
4886: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میرے پاس سے گذر ہوا تو میں یہ یہ کہہ رہا تھا : اللہم ارحمنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے شانوں کے درمیان ہاتھ مارا اور فرمایا : (اللہ کی رحمت کو) عام کرو اور (صرف اپنے لیے) خاص نہ کرو۔ بیشک خصوصی اور عموم کے درمیان آسمان و زمین جیسا فاصلہ ہے۔ رواہ الدیلمی۔
3258 پر روایت کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
3258 پر روایت کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
4886- عن علي قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أقول اللهم ارحمني، فضرب بيده بين كتفي وقال: "عم ولا تخص، فإن بين الخصوص والعموم كما بين السماء والأرض". "الديلمي"2
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ فضائل دعا۔
387: ۔۔ (ابو الدرداء (رض)) حضرت ابو الدرداء (رض) ارشاد فرماتے ہیں :
دعا میں خوب کوشش (اور کثرت) کرو بیشک جب کثرت سے دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے تو دروازہ آخر کھول دیا جاتا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
دعا میں خوب کوشش (اور کثرت) کرو بیشک جب کثرت سے دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے تو دروازہ آخر کھول دیا جاتا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4887- "أبو الدرداء" عن أبي الدرداء قال: "جدوا بالدعاء فإنه من يكثر قرع الباب يوشك أن يفتح له. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ دعا کے آداب میں
4888: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو اس وقت تک نہ گراتے تھے جب تک ان کو اپنے چہرہ پر نہ پھیر لیتے۔ (ترمذی، صحیح غریب، مستدرک الحاکم)
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت غریب (بمعنی ضعیف ) ہے۔ حماد بن عیسیٰ اس میں متفرد ہیں اور وہ قلیل الحدیث بھی اور ضعیف بھی ہیں جن کی بناء پر روایت ضعیف ہے۔ جبکہ امام حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کے مثل اور بھی مرویات انہی میں سے ابن عباس (رض) کی حدیث ہے۔ ان تمام احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ روایت کو بھی حسن درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی 9/328)
کلام : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت غریب (بمعنی ضعیف ) ہے۔ حماد بن عیسیٰ اس میں متفرد ہیں اور وہ قلیل الحدیث بھی اور ضعیف بھی ہیں جن کی بناء پر روایت ضعیف ہے۔ جبکہ امام حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کے مثل اور بھی مرویات انہی میں سے ابن عباس (رض) کی حدیث ہے۔ ان تمام احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ روایت کو بھی حسن درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی 9/328)
4888- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه". "ت1 وقال صحيح غريب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ دعا کے آداب میں
4889: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احجاز الزیت کے پاس ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کے ساتھ دعا کرتے دیکھا، جب آپ دعا سے فارغ وگئے تو آپ نے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیے۔ عبدالغنی بن سعید فی ایضاح الاشکال۔
4889- عن عمر قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم عند أحجار الزيت يدعو بباطن كفيه، فلما فرغ مسح بهما وجهه". "عبد الغني بن سعيد في إيضاح الأشكال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ دعا کے آداب میں
4890: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا :
میں اس شخص کو اللہ کے بارے میں تنگ دل پاتا ہوں جو ناممکن شے کے بارے میں اللہ سے سوال کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی حقیقت تو اللہ نے واضح کردی ہے۔ الدارمی، ابن عبدالبر فی العلم۔
میں اس شخص کو اللہ کے بارے میں تنگ دل پاتا ہوں جو ناممکن شے کے بارے میں اللہ سے سوال کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی حقیقت تو اللہ نے واضح کردی ہے۔ الدارمی، ابن عبدالبر فی العلم۔
4890- عن عمر قال: "أحرج بالله على رجل يسأل عما لم يكن فإن الله قد بين ما هو". "الدارمي وابن عبد البر في العلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ سے پناہ مانگنے کا طریقہ
4891:۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے آپ نے ایک شخص کو فتنہ سے پناہ مانگتے ہوئے سنا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ میں اس کے الفاط سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر اس شخص کو فرمایا : کیا تو اپنے رب سے یہ سوال کر را ہے کہ وہ اہل و عیال اور مال و دولت نہ عطا کرے یا فرمایا : اہل اولاد نہ دے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں : کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تجھے مال اور اولاد نہ دے۔ پس جو بھی فتنہ سے پناہ مانگنا چاہیے وہ فتنے کی گمراہیوں سے پناہ مانگے۔ ابن ابی شیبہ، ابو عبید۔
فائدہ : ۔۔۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں مال و اولاد کو فتنہ ارشاد فرمایا ہے یعنی یہ آزمائش ہیں۔ لہٰذا فتنہ سے پناہ مانگنا مال و اولاد سے پناہ مانگنا ہے۔ لہٰذا یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! میں گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ المضللۃ۔
فائدہ : ۔۔۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں مال و اولاد کو فتنہ ارشاد فرمایا ہے یعنی یہ آزمائش ہیں۔ لہٰذا فتنہ سے پناہ مانگنا مال و اولاد سے پناہ مانگنا ہے۔ لہٰذا یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! میں گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ المضللۃ۔
4891- عن عمر أنه سمع رجلا يتعوذ من الفتنة، فقال عمر: "اللهم إني أعوذ بك من ألفاظه، أتسأل ربك أن لا يرزقك أهلا ومالا؟ أو قال: أهلا وولدا؟ وفي لفظ: أتحب أن لا يرزقك الله مالا وولدا؟ أيكم استعاذ من الفتنة فليستعذ من مضلاتها". "ش وأبو عبيد".
তাহকীক: