কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৮৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4852: ۔۔ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! مجھے ان پڑھ قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ جن میں بوڑھیاں، بڑے بوڑے، غلام، باندی اور ایسے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ۔ (ابو داؤد الطیالسی، ترمذی، ابن منیع، الرویانی، السنن لسعید بن منصور)
فائدہ : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں۔ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے کئی طریقوں سے منقول ہے۔
خلفاء راشدین اور ان سے قبل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں امیین ان پڑھ مسلمانوں کی تعداد زیادہ رہی جس کی وجہ سے من جانب اللہ ان کے لیے مختلف ق راتوں پر قرآن پڑھنے کی اجازت دے دی گئی بعد میں جیسے جیسے تعلیم عام ہوگئی اللہ پاک نے تکوینی طور پر قرآن پڑھنا ایک ہی قراءت میں محصور کردیا۔ اگرچہ تشرعی طور پر اب بھی ہر حرف پر قرآن پڑھنا جائز ہے لیکن چونکہ اس میں امت کے اختلاف اور انتشار کا خدشہ تھا۔ اس لیے خلفاء راشدین ہی کے دور سے ایک قراءت میں قرآن پڑھنے کو زیادہ اختیار کیا گیا۔
فائدہ : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں۔ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے کئی طریقوں سے منقول ہے۔
خلفاء راشدین اور ان سے قبل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں امیین ان پڑھ مسلمانوں کی تعداد زیادہ رہی جس کی وجہ سے من جانب اللہ ان کے لیے مختلف ق راتوں پر قرآن پڑھنے کی اجازت دے دی گئی بعد میں جیسے جیسے تعلیم عام ہوگئی اللہ پاک نے تکوینی طور پر قرآن پڑھنا ایک ہی قراءت میں محصور کردیا۔ اگرچہ تشرعی طور پر اب بھی ہر حرف پر قرآن پڑھنا جائز ہے لیکن چونکہ اس میں امت کے اختلاف اور انتشار کا خدشہ تھا۔ اس لیے خلفاء راشدین ہی کے دور سے ایک قراءت میں قرآن پڑھنے کو زیادہ اختیار کیا گیا۔
4852- لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل فقال يا جبريل: "إني بعثت إلى أمة أميين، منهم العجوز والشيخ الكبير والغلام والجارية والرجل الذي لم يقرأ كتابا قط، فقال يا محمد إن القرآن أنزل على سبعة أحرف". "ط ت وقال حسن صحيح قد روي عن أبي بن كعب من غير وجه وابن منيع والروياني ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4853: ۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احجاز المراء کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے ملے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے ان پڑھ امت کی طرف بھیجا گیا ہے۔ جن میں قریب المرگ بوڑھے، بڑی بوڑھیاں اور غلام بھی ہیں (جو تعلیم حاصل کرنے سے عاجز ہیں) لہٰذا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : آپ ان کو حکم دیں کہ وہ سات حروف (یعنی قراءتوں) پر قرآن پڑھ لیں۔ (مسند احمد، ابن حبان، مستدرک الحاکم)
نوٹ : ۔۔ 3107 پر روایت گذر چکی ہے۔
نوٹ : ۔۔ 3107 پر روایت گذر چکی ہے۔
4853- لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل عند أحجار المراء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل: "إني بعثت إلى أمة أميين، فيهم الشيخ الفاني والعجوز الكبيرة والغلام، قال: فمرهم فليقرؤوا القرآن على سبعة أحرف" "حم حب ك". مر برقم [3107] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4854: ۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک آیت پڑھی۔ ابن مسعود (رض) نے اس کے خلاف پڑھی۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : کیا آپ نے مجھے یوں یوں نہیں پڑھایا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ، کیوں نہیں۔ حضرت ابن مسعود رضی الہ عنہ نے عرض کیا : اور آپ نے مجھے یوں یوں نہیں پڑھایا ؟ فرمایا : کیوں نہیں۔ تم دونوں نے اچھا اور عمدہ پڑھا ہے۔
حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں : میں آپ کو کچھ عرض کرنے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا اے ابی بن کعب ! مجھے قرآن پڑھایا گیا ۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک حرف پر یا دو حرف پر۔ لہٰذا میں نے بھی کہا : دو حرفوں پر ۔ پھر پوچھنے والے نے پوچھا : دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر ؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے کہا تین حرفوں پر۔ لہٰذا میں نے تین حرفوں پر۔ حتی کہ وہ سات حرفوں پر پہنچ گیا ان میں سے ہر حرف کافی شافی ہے۔ غفورا رحیما کہوں یا سمیعا علیما یا علیما سمیعا اللہ اسی طرح ہے۔ جب تک عذاب کی آیت کو رحمت سے بدلا نہ جائے یا رحمت کی آیت کو عذاب سے ۔ مسند احمد، ابن منیع ، نسائی، مسند ابی یعلی، السنن لسعید بن منصور۔
3080 پر روایت گذر گئی۔
حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں : میں آپ کو کچھ عرض کرنے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا اے ابی بن کعب ! مجھے قرآن پڑھایا گیا ۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک حرف پر یا دو حرف پر۔ لہٰذا میں نے بھی کہا : دو حرفوں پر ۔ پھر پوچھنے والے نے پوچھا : دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر ؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے کہا تین حرفوں پر۔ لہٰذا میں نے تین حرفوں پر۔ حتی کہ وہ سات حرفوں پر پہنچ گیا ان میں سے ہر حرف کافی شافی ہے۔ غفورا رحیما کہوں یا سمیعا علیما یا علیما سمیعا اللہ اسی طرح ہے۔ جب تک عذاب کی آیت کو رحمت سے بدلا نہ جائے یا رحمت کی آیت کو عذاب سے ۔ مسند احمد، ابن منیع ، نسائی، مسند ابی یعلی، السنن لسعید بن منصور۔
3080 پر روایت گذر گئی۔
4854- قرأت آية وقرأ ابن مسعود خلافها، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: "ألم تقرئني كذا وكذا؟ " قال: بلى، فقال ابن مسعود: "ألم تقرئني كذا وكذا؟ " قال: "بلى كلاكما محسن مجمل" فقلت له "فضرب في صدري" وقال: "يا أبي بن كعب إني أقرئت القرآن" فقيل لي "على حرف أو حرفين" فقال الملك الذي معي: "على حرفين" فقلت "على حرفين، قال حرفين أو ثلاثة" فقال الذي معي: "على ثلاثة" فقلت على ثلاثة، حتى بلغ سبعة أحرف ليس منها إلا شاف كاف إن قلت غفورا رحيما، أو قلت سميعا عليما، أو عليما سميعا فالله كذلك، ما لم تختم آية عذاب برحمة، أو آية رحمة بعذاب". "حم وابن منيع ن ع ص". مر برقم [3080] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4855: ۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں مسجد میں تھا۔ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ۔ اس نے جو قراءت کی۔ میں نے اس کی تردید کی۔ پھر دوسرا شخص مسجد میں آیا۔ اور نماز میں اس شخص کے خلاف قراءت کی۔ پھر ہم نماز سے فارغ ہو کر سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اس شخص نے ایسی قراءت کی ہے جس کی میں نے ان پر نکیر کی۔ پھر یہ دوسرا شخص آ کر دوسری طرح قراءت کرنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو پڑھنے کا حکم دیا۔ دونوں نے پڑھ کر سنایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کی تحسین فرمائی۔ لہٰذا میں دل میں تکذیب (جھٹلانے کا) خیال سا ہوا جو جاہلیت میں بھی نہیں تھا۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری بدلی ہوئی کیفیت ملاحظہ فرمائی تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا۔ گویا میں ڈر کے مارے اللہ کو دیکھنے لگا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! میرے رب نے مجھے پیغام بھیجا تھا کہ ایک حرف پر قرآن پڑھاؤ۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت پر آسانی کردیجیے۔ لہٰذا اللہ پاک نے دوسری مرتبہ فرمایا : دو حرفوں پر پڑھاؤ۔ میں نے دوبارہ درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیے۔ اللہ پاک نے تیسری مرتبہ درخواست کی کہ ہر بارے کے بارے میں تمہاری ایک دعا قبول ہوگی۔ پس میں نے دوبارہ یہ دعا کی : اللھم اغفر لامتی، اللھم اغفر لامتی، اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے ذخیرہ کرلی ہے جس دن تمام مخلوق میری طرف متوجہ ہوگی حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔ (مسند احمد، مسلم)
4855- كنت بالمسجد فدخل رجل يصلي فقرأ قراءة أنكرتها عليه، ثم دخل آخر فقرأ قراءة سوى قراءة صاحبه، فلما قضينا الصلاة دخلنا جميعا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت إن هذا قرأ قراءة أنكرتها عليه، ودخل آخر فقرأ قراءة سوى قراءة صاحبه، فأمرهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقرأ فحسن النبي صلى الله عليه وسلم شأنهما فسقط في نفسي من التكذيب، ولا إذ كنت في الجاهلية، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قد غشني ضرب في
صدري، ففضت عرقا، وكأنما أنظر إلى الله فرقا، فقال لي "يا أبي إن ربي عز وجل أرسل إلي أن أقرأ القرآن على حرف، فرددت إليه أن هون على أمتي، فرد إلي الثانية إقرأه على حرفين، فرددت إليه أن هون على أمتي، فرد إلي الثالثة إقرأه على سبعة أحرف، ولك بكل ردة رددتها مسألة تسألنيها، فقلت: اللهم اغفر لأمتي، اللهم اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم". "حم م"
صدري، ففضت عرقا، وكأنما أنظر إلى الله فرقا، فقال لي "يا أبي إن ربي عز وجل أرسل إلي أن أقرأ القرآن على حرف، فرددت إليه أن هون على أمتي، فرد إلي الثانية إقرأه على حرفين، فرددت إليه أن هون على أمتي، فرد إلي الثالثة إقرأه على سبعة أحرف، ولك بكل ردة رددتها مسألة تسألنيها، فقلت: اللهم اغفر لأمتي، اللهم اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم". "حم م"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4856:۔۔ (ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی غفار کے جوہڑ (تالاب) کے پاس تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے (آ کر) فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اور میری اس طابقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اور میری اس طاقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سہ بارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) چوتھی بار تشریف لائے اور فرمایا اللہ پاک آپ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے جس حرف پر بھی پڑھیں گے درست ہوگا۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، مسلم، ابو داود، الداراقطنی فی الافراد)
4856- كان النبي صلى الله عليه وسلم عند أضاة بني غفار، فقال جبريل: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرف واحد" فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته، وإن أمتي لا تطيق ذلك، ثم أتاه الثانية،" فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرفين، "فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته، وإن أمتي لا تطيق ذلك،" ثم جاء الثالثة، فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على ثلاثة أحرف،" فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك" ثم جاء الرابعة فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن سبعة أحرف، فأيما حرف قرؤوا عليه أصابوا". "ط م د قط في الأفراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4857: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں ابی بن کعب (رض) کے سامنے پڑھا :
واتقوا یوما تجزی نفس عن نفس شیئا۔
حضرت ابی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لا تجزی پڑھایا ہے اور ولا تقبل منہا شفاعۃ۔ (لا تقبل کی) تاء کے ساتھ پڑایا ہے اور ولا یوخذ منہا عدل (یوخذ کی ) یاء کے ساتھ پڑھایا ہے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
واتقوا یوما تجزی نفس عن نفس شیئا۔
حضرت ابی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لا تجزی پڑھایا ہے اور ولا تقبل منہا شفاعۃ۔ (لا تقبل کی) تاء کے ساتھ پڑایا ہے اور ولا یوخذ منہا عدل (یوخذ کی ) یاء کے ساتھ پڑھایا ہے۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4857- عن ابن عباس قال: قرأت على أبي بن كعب {وَاتَّقُوا يَوْماً لا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئاً} وقال أبي: أقرأني رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تجزي بالتاء ولا تقبل منها شفاعة بالتاء ولا {يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ} بالياء. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4858: ۔۔ ابی اسامہ اور محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) ایک شخص کے پاس سے گذرے جو پڑھ رہا تھا :
والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوہم۔
حضرت عمر (رض) ٹھہر گئے اور آدمی کو کہا دوبارہ پڑھو ! اس نے دوبارہ پڑھا تو آپ نے پوچھا : کس نے پڑھا یا یہ ؟ اس نے حضرت ابی بن کعب (رض) کا نام لیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو حضرت ابی (رض) کے پاس چلنے کو کہا۔ لہٰذا دونوں حضرت ات حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس پہنچے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابو المنذر ! (ابی (رض) کی کنیت) کیا تم نے اس شخص کو یہ آیت پڑھائی ہے ؟ حضرت ابی رضی عنہ نے فرمایا : یہ سچ کہتا ہے اور میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے یونہی سنی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے تاکیداً پوچھا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنی ہے ؟ حضرت ابی (رض) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عنہ نے فرمایا : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے تیسری مرتبہ پوچھا : حالانکہ آپ غصہ سے (بار بار پوچھ رہے) تھے۔ حضرت ابی (رض) نے فرمایا : ہاں اللہ کی قسم ! اللہ پاک نے جبرائیل (علیہ السلام) پر نازل کی، جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد کے قلب پر نازل کی اور اس کے بارے میں خطاب سے ان کی رائے پوچھی اور نہ اس کے بیٹے سے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) (باوجودیکہ امیر المومنین تھے) وہاں سے ہاتھ اٹھائے ہوئے اور اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے نکلے۔ (ابو الشیخ فی تفسیرہ ، مستدرک الحاکم)
حافظ ابن حجر (رح) اطراف میں فرماتے ہیں اس روایت کی صورت میں مرسل ہے اور میں کہتا ہوں کہ محمد بن کعب قرظی (رض) سے مروی اس روایت کا ایک اور طریق ہے۔
اور اسی کے مثل ابن جریر اور ابو الشیخ وغیرہ نے عمرو بن عامر انصاری سے نقل کیا ہے جس کو ابو عبید نے فضائل میں، سنید، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن مردویہ نے بھی تخریج فرمایا ہے اور یہی طریق صحیح ہے۔ مستدرک الحاکم۔۔
والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوہم۔
حضرت عمر (رض) ٹھہر گئے اور آدمی کو کہا دوبارہ پڑھو ! اس نے دوبارہ پڑھا تو آپ نے پوچھا : کس نے پڑھا یا یہ ؟ اس نے حضرت ابی بن کعب (رض) کا نام لیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو حضرت ابی (رض) کے پاس چلنے کو کہا۔ لہٰذا دونوں حضرت ات حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس پہنچے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابو المنذر ! (ابی (رض) کی کنیت) کیا تم نے اس شخص کو یہ آیت پڑھائی ہے ؟ حضرت ابی رضی عنہ نے فرمایا : یہ سچ کہتا ہے اور میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے یونہی سنی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے تاکیداً پوچھا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنی ہے ؟ حضرت ابی (رض) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عنہ نے فرمایا : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے تیسری مرتبہ پوچھا : حالانکہ آپ غصہ سے (بار بار پوچھ رہے) تھے۔ حضرت ابی (رض) نے فرمایا : ہاں اللہ کی قسم ! اللہ پاک نے جبرائیل (علیہ السلام) پر نازل کی، جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد کے قلب پر نازل کی اور اس کے بارے میں خطاب سے ان کی رائے پوچھی اور نہ اس کے بیٹے سے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) (باوجودیکہ امیر المومنین تھے) وہاں سے ہاتھ اٹھائے ہوئے اور اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے نکلے۔ (ابو الشیخ فی تفسیرہ ، مستدرک الحاکم)
حافظ ابن حجر (رح) اطراف میں فرماتے ہیں اس روایت کی صورت میں مرسل ہے اور میں کہتا ہوں کہ محمد بن کعب قرظی (رض) سے مروی اس روایت کا ایک اور طریق ہے۔
اور اسی کے مثل ابن جریر اور ابو الشیخ وغیرہ نے عمرو بن عامر انصاری سے نقل کیا ہے جس کو ابو عبید نے فضائل میں، سنید، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن مردویہ نے بھی تخریج فرمایا ہے اور یہی طریق صحیح ہے۔ مستدرک الحاکم۔۔
4858- عن أبي أسامة ومحمد بن إبراهيم التيمي قالا: مر عمر بن الخطاب برجل وهو يقرأ: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ} فوقف عمر فقال: "انصرف فانصرف الرجل" فقال "من أقرأك هذا؟ " قال: "أقرأنيها أبي بن كعب" قال: "فانطلق إليه فانطلقا إليه" فقال يا أبا المنذر: "أخبرني هذا أنك أقرأته هذه الآية" قال: "صدق تلقيتها من في رسول الله صلى الله عليه وسلم" قال عمر: "أنت تلقيتها من محمد صلى الله عليه وسلم؟ " قال: "نعم" فقال "في الثالثة وهو غضبان، "نعم والله لقد أنزلها الله على جبريل، وأنزلها جبريل على قلب محمد، ولم يستأمر فيها الخطاب ولا ابنه، فخرج عمر رافعا يديه وهو يقول: الله أكبر الله أكبر". "أبو الشيخ في تفسيره ك" قال الحافظ ابن حجر في الأطراف صورته مرسل قلت له طريق آخر عن محمد بن كعب القرظي مثله أخرجه ابن جرير وأبو الشيخ وآخر عن عمرو بن عامر الأنصاري نحوه أخرجه أبو عبيد في فضائله وسنيد وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه هكذا صححه ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4859: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو پڑھایا :
یقص الحق وھو خیر الفاصلین۔ الدارقطنی فی الافراد ، ابن مردویہ۔
یقص الحق وھو خیر الفاصلین۔ الدارقطنی فی الافراد ، ابن مردویہ۔
4859- عن أبي بن كعب قال: أقرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا {يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ} . "قط في الأفراد وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4860: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا۔ میں نے سورة نحل کی ایک آیت پڑھی مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ میرے برابر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے وہی آیت دوسری طرح پڑھی۔ میں نے اس سے پوچھا : تم کو یہ قراءت کس نے پڑھائی ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا۔ اتنے میں ایک تیسرے شخص نے وہی آیت ہم دونوں کے خلاف طریقے سے پڑھی۔ میں نے پھر دونوں سے پوچھا : تم دونوں کو یہ کس نے پڑھایا ؟ دونوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا۔ میں نے کہا : میں تم دونوں سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نہ چلو۔ چنانچہ ہم سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے۔ میں نے آپ کو ساری خبر سنائی آپ نے مجھے پڑھنے کو کہا : میں نے پڑھا تو آپ نے درست قرار دیا۔ پھر دوسرے کو پڑھنے کو کہا اس کے پڑھنے پر بھی اس کو درست قرار دے دیا۔ پھر تیسرے کو پڑھنے کا کہا اس کے پڑھنے پر بھی اس کو درست قرار دیا۔ اس دن میرے دل میں جاہلیت کی طرح کا شک سا پیدا ہوا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس حال میں دیکھا تو فرمایا : شاید تیرے اندر شیطان آگیا ہے۔ پھر آپ نے اپنی ہتھیلی میرے سینے پر مار کر شیطان کو دفع کیا اور دعا کی : اے اللہ اس سے شیطان کو نکال دے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا : رب کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) میرے پاس آیا۔ اور بولا : اے محمد ! ایک حرف پر قرآن پڑھو۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت پر تخفیف فرما دے۔ پھر دوبارہ میرے پاس فرشتہ آیا اور کہا : اے محمد دو حرفوں پر قرآن پڑھو۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت پر تخفیف فرما۔ میرے پاس فرشتہ پھر آیا اور کہا : اے محمد ! سات حرفوں پر قرآن پڑھو۔ اور آپ کے لیے ہر مرتبہ دعا کرنے پر ایک سوال پورا کیا جاتا ہے۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت کی مغفرت فرما۔ اور تیسری دعا میں نے قیامت میں شفاعت کرنے کے لیے موخر کردی۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابراہیم (علیہ السلام) بھی میری شفاعت کے لیے رغبت کریں گے (رواہ ابن عساکر)
3090، 3091 اور 4855 پر روایت گذر چکی ہے۔
3090، 3091 اور 4855 پر روایت گذر چکی ہے۔
4860- عن أبي بن كعب قال: "بينا أنا يوما في المسجد إذ قرأت آية في سورة النحل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقرأنيها فقرأها رجل إلى جانبي فخالف قراءتي، فقلت من أقرأك هذه القراءة؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قرأ آخر فخالف قراءتي وقراءته، فقلت من أقرأكما؟ قالا: رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: لا أفارقكما حتى تأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتيناه، فأخبرته الخبر، فقال: "إقرأ فقرأت، فقال أحسنت،" ثم قال للآخر: "إقرأ فقرأ، فقال أحسنت" ثم قال للآخر: "إقرأ فقرأ، فقال أحسنت" فدخلني شك يومئذ لم يدخلني مثله قط إلا في الجاهلية، فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "لعل الشيطان دخلك؟ ثم دفع بكفه في صدري" فقال: "اللهم أخنس عنه الشيطان" ثم قال: "أتاني آت من ربي" فقال: "يا محمد اقرا القرآن على حرف" فقلت: "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال يا محمد: "اقرا القرآن على حرف"، فقلت "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال يا محمد "اقرا القرآن على حرفين،" فقلت "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال: "يا محمد اقرا القرآن على سبعة أحرف ولك بكل رد مسألة"، فقلت "يا رب اغفر لأمتي" ثم قلت
"يا رب اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة شفاعة إلى يوم القيامة، والذي نفسي بيده: إن إبراهيم ليرغب في شفاعتي". "كر" مر برقم "3090 و 3091 و 4855".
"يا رب اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة شفاعة إلى يوم القيامة، والذي نفسي بيده: إن إبراهيم ليرغب في شفاعتي". "كر" مر برقم "3090 و 3091 و 4855".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4861: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا قد بلغت من لدنی مثقلہ (یعنی لام پر تشدید پڑھی من لدنی) (ابو داود، ترمذی، غریب، البزار، ابن جریر، الباوردی، ابن المنذر ، الکبیر للطبرانی ، ابن مردویہ)
4861- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأها: {قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي} مثقلة. "د ت غريب عن البزار وابن جرير والباوردي وابن المنذر طب وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4862: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تغرب فی حمئۃ پڑھایا (ابو داؤد الطیالسی، ابو داود، ترمذی غریب، ابن جریر، ابن مردویہ)
4862- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم أقرأه: {تَغْرُبُ فِي حَمِئَةٍ} . "ط د ت غريب وابن جرير وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4863: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے " لتخذت علیہ اجرا " پڑھا۔ (مسلم، البغوی، ابن مردویہ)
4863- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْراً} . "م والبغوي وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4864: حضرت ابی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھایا : " ولیقولوا درست " یعنی سین کے جزم اور تاء کے فتحہ کے ساتھ۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4864- عن أبي أقرأني النبي صلى الله عليه وسلم: {وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ} يعني بجزم السين وفتح التاء. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4865: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں پڑھا۔
ءَاِن سالتک عن شئی بعدھا
یعنی شروع میں دو ہمزہ کے ساتھ۔ ابن حبان، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ۔
ءَاِن سالتک عن شئی بعدھا
یعنی شروع میں دو ہمزہ کے ساتھ۔ ابن حبان، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ۔
4865- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {أأن سألتك عن شيء بعدها} مهموزتين. "حب ك وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4866: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتخت علی اجرا پڑھا۔ (الباوردی ، ابن حبان، مستدرک الحاکم)
4866- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {اتخت عليه أجرا} مدغمة بإسقاط الذال. "الباوردي حب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4867: ۔۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :
لو شئت لتخذت علیہ اجرا (لعنی لتخت) کی جگ) (رواہ ابن مردویہ)
لو شئت لتخذت علیہ اجرا (لعنی لتخت) کی جگ) (رواہ ابن مردویہ)
4867- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْراً} مخففة. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4868: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا۔ فابوا ان یضیفوھما۔ (یعنی ان تضیفوھما کی جگ) رواہ ابن مردویہ۔
4868- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} مشددة. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4869: ۔۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد باری تعالیٰ : فابو ان یضیفوھما کے متعلق فرمایا۔ یہ اہل بستی کمینے لوگ تھے۔ (نسائی، الدیلمی، ابن مردویہ) ۔
فائدہ : ۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) دونوں ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کھانا مانگا انھوں نے انکار کردیا ان کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا۔
فائدہ : ۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) دونوں ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کھانا مانگا انھوں نے انکار کردیا ان کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا۔
4869- عن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} قال: كانوا أهل قرية لئاما. "ن والديلمي وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4870: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :
فوجدا فیھا جدارا ان ینقض فاقامہ فھدمہ ثم قعد یبینہ۔
(جبکہ مشہور قراءت میں فدمہ چم قعد یبنیہ نہیں ہے) ۔ (ابن الانباری فی المصاحف، ابن مردویہ)
فوجدا فیھا جدارا ان ینقض فاقامہ فھدمہ ثم قعد یبینہ۔
(جبکہ مشہور قراءت میں فدمہ چم قعد یبنیہ نہیں ہے) ۔ (ابن الانباری فی المصاحف، ابن مردویہ)
4870- عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {فَوَجَدَا فِيهَا جِدَاراً يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ فهدمه، ثم قعد يبنيه} . "ابن الأنباري في المصاحف وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی (رض) کی قراءت پر اختلاف۔
4871: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وذکرھم بایام اللہ اور ان کو اللہ کے ایام یاد دلائیے کے متعلق ارشاد فرمایا (ایام سے مراد ) اللہ کی نعمتیں ہیں۔ عبد بن حمید نسائی، السنن للبیہقی، ابو داود، الطیالسی۔
4871- عن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ} قال: نعم الله. "عبد بن حميد ن ق ط".
তাহকীক: