কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৮৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4832: ۔۔ حضرت عبیدہ (رح) سے مروی ہے کہ آج کی قراءت جس پر حضرت عثمان (رض) نے لوگوں کو جمع کردیا ہے یہ آخری موازنہ ہے۔ (ابن الانباری فی المصاحف)

فائدہ : ۔۔۔ یعنی حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے دور میں بھی مختلف اشیاء اور لوگوں کے دلوں میں محفوظ قرآن سے موازنہ کرکے مصحف تیار کیے گئے تھے۔ اور یہ ان کے بعد سب سے آخر میں انہی چیزوں کے ساتھ موازنہ کرکے مصحف شریف تیار کیا تھا۔ یہی مطلب زیادہ قرین قیاس ہے جبکہ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخری دور میں جس طرح قرآن پاک پڑھایا تھا اس کے مطابق یہ مصحف عثمان تیار کیا گیا جس کے مطابق آج قرآن کے تمام نسخے لکھے جاتے ہیں۔
4832- عن عبيدة قال: "قراءتنا التي جمع الناس عثمان عليها هي العرضة الأخرى". "ابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4833: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے یوں پڑھا :

والذین آمنوا وتابعتم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم۔ سورة ۔ مستدرک الحاکم۔
4833- عن علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} . "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4834: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ یوں پڑھتے تھے : فانہم لا یکذبونک (جبکہ مشور قراءت فانہم لا یکذبونک ہے) سور۔

حضرت علی (رض) اس کے معنی یہ ارشاد فرماتے تھے : لا یجیؤن بحق ھو احق من حقک ۔ یعنی وہ لوگ اپنا کوئی ایسا حق پیش نہیں کرسکتے جو آپ کے حق سے زیاد حق ہو۔ السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔
4834- عن علي أنه كان يقرأ هذا الحرف {فَإِنَّهُمْ لا يُكَذِّبُونَكَ} مخففة، قال: "لا يجيئون بحق هو أحق من حقك". "ص وعبد بن حميد وابن أبي حاتم وأبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4835: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) :

من الذین استحق علیہم الاولیان۔ تاء کے فتح کے ساتھ پڑھتے تھے۔ الفریابی، ابو عبید فی فضائل ، ابن جریر۔
4835- عن علي أنه كان يقرأ: {مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ} بفتح التاء. "الفريابي وأبو عبيد في

الفضائل وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4836: ۔۔ حضرت علی (رض) عن سے مروی ہے کہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یونہی پڑھا :

من الذین استحق علیہم الاولیان (مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
4836- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ} . "ك وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4837: ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :

و علم ان فیکم ضعفا نیز ی پڑھا : کل شیء فی القرآن۔ رواہ ابن مردویہ۔

فائدہ : ۔۔۔ غالبا ضعف کے لفظ میں اختلاف ہے مشہور قراءت میں ضعفاء ہے۔ اس صورت میں معنی ہیں خدا نے جان لیا تم میں کمزوری ہے۔ لہٰذا ضعفاء ضاء کے کسرہ کے ساتھ معنی ہوگا خدا نے جان لیا تم میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سورت میں کل شیء فی القراں ضعف کا معنی بھی ٹھیک ہوگا کہ قرآن کی ہر چیز میں اضاف ہے۔ واللہ اعلم بمعناہ الصواب۔
4837- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً} وقرأ كل شيء في القرآن ضعف. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4838: ۔۔ حضرت علی (رض) کے متعلق منقول ہے آپ (رض) نے پڑھا : ونادی نوح ابنہا : ابن الانباری و ابو الشیخ۔
4838- عن علي أنه قرأ: {وَنَادَى نُوحٌ ابنها} . "ابن الأنباري وأبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4839: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے پڑھا : وعلی اللہ قصد السبیل و منکم جائر (جبکہ اصل قراءت میں ومنہا جائر ) ہے۔ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف۔
4839- عن علي أنه قرأ: {وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ ومنكم جَائِرٌ} بالكاف. "عبد بن حميد وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4840: ۔۔ حضرت علی (رض) عن سے مروی ہے کہ آپ (رض) یوں پڑھتے تھے :

تسبح لہ السماوات السبع والارض و من فیھن تاء کے ساتھ (یعنی تسبیح کو تاء کے ساتھ پڑھتے تھے) رواہ ابن مردویہ۔
4840- عن علي أنه كان يقرأ: {تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ} بالتاء. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4841: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) یوں پڑھتے تھے :

قل لقد علمت ما انزل ھؤلاء الا رب السموات۔ سورة۔

یعنی رفع کے ساتھ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : اللہ کی قسم اللہ کا دشمن نہیں جانتا تھا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) ہی جانتے تھے (کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار نے ہی اس کو نازل کیا ہے جبکہ علمت کی صورت میں مطلب ہوتا ہے کہ اللہ کا دشمن جانتا ہے) ۔ السنن لسعید بن منصور ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
4841- عن علي أنه كان يقرأ: {قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} يعنى بالرفع قال علي: "والله ما علم عدو الله، ولكن موسى هو الذي علم"."ص ابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4842: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے یوں پڑھا :

افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیاء

یعنی افحسب کی جگہ افحسب پڑھا۔ ابو عبید فی فضائلہ، السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر،
4842- عن علي أنه قرأ: {أفحسْبُ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ} بجزم السين وضم الباء. "أبو عبيد في فضائله ص وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4843: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :

اللہ الذی خلقکم من ضعف۔ ابن مردویہ فی التاریخ۔
4843- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ} . "ابن مردويه خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4844: ۔۔ ابو عبدالرحمن سلمی سے مروی ہے کہ میں حسن (رض) کو قرآن پڑھایا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ میں ان کو پڑھا رہا تھا وخاتم النبیین۔ حضرت علی (رض) میرے پاس سے گذرے اور ارشاد فرمایا ان کو خاتم النبیین (ت کے فتحۃ کے ساتھ) پڑھاؤ نہ کہ ت کہے کسرہ کے ساتھ۔ ابن الانباری معا فی المصحف۔
4844- عن أبي عبد الرحمن السلمي، قال: كنت أقرئ الحسن والحسين فمر بي علي بن أبي طالب وأنا أقرئهما {وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} ، فقال لي أقرئهما: {وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} ، بفتح التاء". "ابن الأنباري معا في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4845: ۔۔ حضرت علی (رض) نے پڑھا : یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا۔ (جبکہ مشہور قراءت من بعثنا ہے) (ابن الانباری فی المصاحف)
4845- عن علي أنه قرأ: {يَا وَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا} بكسر ميم من والثاء من بعثنا. "ابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4846: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا : ونادوا یا ملک۔ (مشہور قراءت یا مالک ہے) ۔ رواہ ابن مردویہ۔
4846- عن علي أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} . "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4847: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے پڑھا۔ فمددۃ (جبک مشہور قراءت ممددۃ ہے) عبد بن حمید۔
4847- عن علي أنه قرأ في: {عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ} . "عبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4848: ۔۔ عمرو ذی مر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو پڑھتے ہوئے سنا :

والعصر، ونوائب الدھر ان الانسان لفی خسر و انہ فیہ الی آخر الدھر۔

زمانہ کی قسم ! اور زمانہ کے حوادثات کی قسم ! انسان خسارے میں ہے اور وہ آخر زمانہ تک اس میں ہے۔ (الفریابی، ابو عبید فی فضائلہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف، مستدرک الحاکم)
4848- عن عمرو ذي مر قال: سمعت عليا يقرأ "والعصر ونوائب الدهر إن الإنسان لفي خسر وإنه فيه إلى آخر الدهر". "الفريابي وأبو عبيد في فضائله وعبد بن حميد وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4849: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا :

اذا قومک منہ یصدون۔

عنی یصدون میں ضمہ کی جگہ کسرہ پڑھا اور یہی مشہور قراءت ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4849- عن علي قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ: {إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ} بالكسر. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4850: ۔۔ (مسند ابی بن کعب (رض)) حضرت ابی (رض) ارشاد فرما دیتے ہیں : میں جب سے اسلام لایا میرے دل کی یہی ایک چیز کھٹکنے کا باعث بنی کہ میں نے کوئی آیت پڑھی اور دوسرے نے وہی آیت دوسری قراءت میں پڑھی۔ لہٰذا میں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : آپ نے مجھے یہ آیت یوں یوں پڑھائی ہے ؟ فرمایا۔ ہاں۔ دوسرے شخص نے عرض کیا : کیا آپ نے مجھے یہی آیت اس اس طرح نہیں پڑھائی۔ آپ نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) دائیں طرف آئے اور میکائیل (علیہ السلام) بائیں طرف آئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : قرآن ایک حرف پر پڑھاؤ میکائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : زیادہ کرو۔ حتی کہ جبرائیل (علیہ السلام) سات حروف تک پہنچ گئے۔ ہر حرف کافی شافی ہے۔ (مسند احمد، نسائی، مسند ابی یعلی، ابن منیع، ابن حبان، السنن لسعید بن منصور)
4850- "مسند أبي بن كعب" ما حاك في صدري منذ أسلمت إلا أني قرأت آية، وقرأها آخر غير قراءتي، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم قلت أقرأتني آية كذا وكذا، قال: نعم، فقال الآخر: ألم تقرئني آية كذا وكذا؟ قال: "نعم، أتاني جبريل عن يميني وميكائيل على يساري، فقال جبريل: "إقرأ القرآن على حرف" فقال ميكائيل: "استزده حتى بلغ سبعة أحرف كلها كاف شاف". "حم ن ع وابن منيع حب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4851: ۔۔ ابو العالیہ سے مروی ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) پڑھتے تھے۔

وانظر الی العظام کیف ننشزھا۔ (یعنی ننشزھا کی جگہ ننشزھا) (مسدد) اور یہ صحیح ہے۔
4851- عن أبي العالية أن أبي بن كعب كان يقرأ: {وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا} . "مسدد" وهو صحيح.
tahqiq

তাহকীক: