কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৮১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4812: حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اس طرح پڑھا کرتے تھے۔ ولا یضارر کاتب ولا شہید۔

(سفیان، عبدالرزاق، سنن سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی داؤد فی جزء من حدیث متفق علیہ)
4812- عن عكرمة قال: "كان عمر بن الخطاب يقرأها: {ولا يضارر كَاتِبٌ وَلا شَهِيدٌ} ". "سفيان عب ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي داود في جزء من حديثه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4813: ۔۔۔ کعب بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو پڑھتے سنا : لیسجننہ عتی حین۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تجھے کس نے یوں پڑھایا ؟ اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا نام لیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا :

لیسجننہ حتی حین۔ پڑھو۔ پھر آپ (رض) کو لکھا :

سلام علیک ! اما بعد !

اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور اس کو صاف عربی والا قرآن بنایا اور قریش کے قبیلے کی لغت پر نازل فرمایا۔ پس جب میرا یہ خطبہ تمہارے پاس آئے تو لوگوں کو قریش کی لغت پر قرآن پڑھاؤ۔ اور ہذیل کی لغت پر مت پڑھاؤ۔ ابن الانباری فی الوقت، التاریخ للخطیب۔
4813- عن كعب بن مالك قال سمع عمر رجلا يقرأ هذا الحرف {لَيَسْجُنُنَّهُ عتى حِينٍ} فقال له عمر "من أقرأك هذا؟ " قال: ابن مسعود فقال عمر: {لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ} ثم كتب إلى ابن مسعود: "سلام عليك أما بعد: فإن الله تعالى أنزل القرآن، فجعله قرآنا عربيا مبينا، وأنزل بلغة هذا الحي من قريش، فإذا أتاك كتابي هذا فأقرئ الناس بلغة قريش، ولا تقرئهم بلغة هذيل". "ابن الأنباري في الوقف خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4814: ۔۔۔ عمرو بن دینار (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے ابن زبیر (رض) کو یوں پڑھتے سنا :

فی جنات یتساءلون عن المجرمین یا فلان ما سلککم فی سقر۔ (حالانکہ اصل قراءت میں یافلان کا اضافہ نہیں ہے)

عمرو کہتے ہیں : مجھے لقیط نے خبر دی کہ میں نے ابن زبیر (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو بھی پڑھتے سنا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، عبد بن حمید، عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الزوائد علی الزھد للامام احمد بن حنبل، ابن ابی داود، و ابن الانباری معا فی المصاحف، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4814- عن عمرو بن دينار قال: سمعت ابن الزبير يقرأ: {فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ يا فلان مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} قال عمرو: وأخبرني لقيط قال سمعت ابن الزبير قال: سمعت عمر بن الخطاب يقرؤها كذلك. "عب وعبد بن حميد عم في زوائد الزهد وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4815: ۔۔۔ ابو ادریس (رح) خولانی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابی (رض) پڑھا کرتے تھے :

اذ جعل الذین کفروا فی قلوبہم الحمیۃ الجاہلیۃ ولو حمیتم کما حموا نفسہ لفسد المسجد الحرام فانز اللہ سکینتہ علی رسولہ۔ سورة الفتح۔

(جبکہ موجودہ قراءت میں ولو حمیتم کما حموا نفسہ لفسد المسجد الحرام) کے الفاظ نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ خبر حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو ان کو یہ بات گراں گذر۔ لہٰذا انھوں نے حضرت ابی (رض) کو بلا بھیجا حضرت ابی (رض) تشریف لے آئے تو پھر دوسرے چند صحابہ کرام (رض) کو بھی بلایا جن میں زید بن ثابت (رض) بھی تھے۔ آپ نے پوچھا : تم میں سے کون شخص سورة فتح پڑھے گا ؟ چنانچہ حضرت زید (رض) نے آج کی قراءت کے مطابق سورة فتح پڑھی۔ پھر حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) پر غصہ ہوئے تو انھوں نے عرض کیا : میں کچھ بات کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کہو ! حضرت ابی (رض) نے عرض کیا : آپ جانتے ہیں کہ میں اکثر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتا رہتا تھا اور آپ مجھے (قرآن) پڑھاتے تھے۔ جبکہ آپ دروازے ہی پر رہتے تھے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں لوگوں کو اسی طرح پڑھاؤں جس طرح مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھایا ہے تو میں پڑھاؤں گا ورنہ میں تاحیات کسی کو ایک حرف بھی نہیں پڑھاؤں گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں تم پڑھاؤ۔ نسائی، ابن ابی داؤد فی المصاحف، مستدرک الحاکم۔

نوٹ : 4745 پر روایت گذر چکی ہے۔
4815- عن أبي إدريس الخولاني قال: "كان أبي يقرأ: {إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ولو حميتم كما حموا لفسد المسجد الحرام، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ} فبلغ ذلك عمر فاشتد عليه فبعث إليه فدخل عليه، فدعا ناسا من أصحابه فيهم زيد بن ثابت" فقال: "من يقرأ منكم سورة الفتح؟ فقرأ زيد على قراءتنا اليوم، فغلظ له عمر فقال أبي لأتكلم، قال تكلم: فقال لقد علمت أني كنت أدخل على النبي صلى الله عليه وسلم ويقرئني وأنت بالباب فإن أحببت أن أقرئ الناس على ما أقرأني أقرأت وإلا لم أقرئ حرفا ما حييت. قال: بل أقرئ الناس. "ن وابن أبي داود في المصاحف ك" وروى ابن خزيمة بعضه. ومر برقم [4745] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4816: ۔۔ ابو ادریس خولانی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابو الدرداء (رض) دمشق کے کچھ لوگوں کے ساتھ سوار ہو کر مدینہ تشیرف لائے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ مصحف شریف بھی لائے تاکہ اس کو ابی بن کعب، زید بن ثابت، علی (رض) اور مدینہ کے دوسرے اہل علم پر پیش کرسکیں۔ لہٰذا ایک دن ان کے ایک ساتھی نے حضرت عمر (رض) کے پاس یہ آیت پڑھی :

اذ جعل الذین کفروا فی قلوبہم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ ( ولو حمیتم کما حموا الفسد المسجد الحرام)

(جبکہ آخری خط کشیدہ حصہ مشہور قراءت میں نہیں ہے) لہٰذا حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا تم کو یہ کس نے پڑھایا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ابی بن کعب (رض) نے حضرت عمر (رض) نے مدینہ کے ایک شخص کو کہا کہ ابی بن کعب کو بلا کر لاؤ اور دمشقی ساتھی کو کہا تم بھی ان کے ساتھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے ابی بن کعب (رض) کو اپنے گھر کے پاس اپنے اونٹ کو تیل ملتا ہوا دیکھا۔ دونوں نے آپ (رض) کو سلام پیش کیا۔ مدنی شخص نے آپ کو حضرت عمر (رض) کے بلاوے کا پیغام دیا۔ ابی (رض) نے دریافت فرمایا : امیر المومنین نے مجھے کیوں بلایا ہے ؟ مدنی شخص نے اپنے ساتھ دمشقی شخص کے بارے میں آگاہ کیا۔ حضرت ابی (رض) نے دمشقی شخص کو (سرزنش کرتے ہوئے) فرمایا : اے قافلہ والو ! تم لوگ مجھے تکلیف پہنچانے سے باز نہیں آؤگے ؟ پھر حضرت ابی (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ حضرت عمر (رض) نے کپڑے سمیٹ رکھے تھے اور ہاتھوں پر تیل لگا ہوا تھا (اونٹوں کو لگانے کے لیے) حضرت عمر (رض) نے دمشقی ساتھیوں کو فرمایا : پڑھو : انھوں نے اسی طرح پڑھا :

ولو حمیتم کما حموا لفسد المسجد الحرام۔

حضرت ابی (رض) نے فرمایا : میں نے ہی ان کو یوں پڑھایا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت زید (رض) کو حکم دیا تم پڑھو۔ حضرت زید (رض) نے عام قراءت پڑھ کر سنا دی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ میں تو اسی کو جانتا ہوں۔ حضرت ابی (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اے عمر ! تم جانتے ہو کہ میں (دربار رسول میں) حاضر رہتا تھا جبکہ تم لوگ غائب رہتے تھے، مجھے بلا لیا جاتا تھا اور تم کو روک دیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود میرے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو میں اپنے گھر کو لازم پکڑ لیتا ہوں اور کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔ (رواہ ابن ابی داود)
4816- عن أبي إدريس الخولاني أن أبا الدرداء ركب إلى المدينة في نفر من أهل دمشق، ومعهم المصحف الذي جاء به أهل دمشق ليعرضوه على أبي بن كعب وزيد بن ثابت وعلي وأهل المدينة، فقرأ يوما على عمر بن الخطاب، فلما قرأ هذه الآية: {إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ولو حميتم كما حموا لفسد المسجد الحرام} فقال عمر "من أقرأكم؟ قال أبي بن كعب، فقال لرجل من أهل المدينة: أدع لي أبي بن كعب، وقال للرجل الدمشقي: انطلق معه، فوجدا أبي بن كعب عند منزله يهنأ بعيرا له بيده، فسلما ثم قال له المديني: أجب أمير المؤمنين فقال أبي ولم دعاني أمير المؤمنين؟ فأخبره المديني بالذي كان معه، فقال أبي للدمشقي ما كنتم تنتهون معشر الركب أو يشدقني منكم شر، ثم جاء إلى عمر وهو مشمر والقطران على يديه، فلما أتى عمر، قال لهم اقرؤوا فقرؤوا: "ولو حميتم كما حموا لفسد المسجد الحرام" فقال أبي: أنا أقرأتهم، فقال عمر لزيد إقرأ يا زيد، فقرأ زيد قراءة العامة، فقال عمر: اللهم لا أعرف إلا هذا، فقال أبي: "والله يا عمر إنك لتعلم أني كنت أحضر وتغيبون، وأدعى وتحجبون، ويصنع بي؟ والله لئن أحببت لألزمن بيتي فلا أحدث أحدا بشيء". "ابن أبي داود
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4817: ۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) وان کاد مکرہم پڑھتے تھے (وان کان مکرھم کی جگہ) (ابو عبید، السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف)
4817- عن عكرمة أن عمر بن الخطاب كان يقرأها: {وَإِنْ كاد مَكْرُهُمْ} بالدال. "أبو عبيد ص وابن جرير وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4818: ۔۔ حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں : ہم لوگ یہ آیت یوں پڑھا کرتے تھے :

لا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم او ان کفرا بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ الکجی فی سننہ۔
4818- عن عمر قال: كنا نقرأ: لا "ترغبوا عن آبائكم فإنه كفر بكم، أو إن كفرا بكم أن ترغبوا عن آبائكم". "الكجي في سننه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4819: ۔۔ ابن مجلز سے مروی ہے کہ حضرت ابی (رض) نے پر ھا :

من الذین استحق علیہم الاولیان۔ سورة۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کذبت تم جھوٹ بولتے ہو۔ حضرت ابی (رض) نے فرمایا : انت اکذب۔ نہیں، تم مجھ سے بڑے جھوٹے ہو۔ ایک شخص نے کہا : تم امیر المومنین کو جھوٹا کہتے ہو۔ حضرت ابی (رض) نے فرمایا : میں امیر المومنین کے حق کی تعظیم تم سے زیادہ کرتا ہوں لیکن کتاب اللہ کی تصدیق کرنے کی وجہ سے میں نے ان کی تکذیب کی ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب کرنے میں امیر المومنین کی تصدیق نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم (ابی (رض)) نے سچ فرما۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، الکامل لابن عدی۔

استحق میں تاء پر ضمہ یا فتح پڑھنے کا اختلاف ہوا۔
4819- عن أبي مجلز أن أبي بن كعب قرأ: {مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ} فقال عمر: "كذبت، قال أنت أكذب، فقال رجل تكذب أمير المؤمنين؟ قال: أنا أشد تعظيما لحق أمير المؤمنين منك، ولكن كذبته في تصديق كتاب الله تعالى، ولم أصدق أمير المؤمنين في تكذيب كتاب الله تعالى، فقال عمر: صدق". "عبد بن حميد وابن جرير عد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4820: ۔۔۔ ابی صلت ثقفی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

ومن یرد اللہ ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا۔ سورة

جبکہ بعض صحابہ نے آپ کے پاس جرحا میں راء کو مکسور پڑھا جبکہ حضرت عمر (رض) نے جرحا کو راء کو مفتوح پڑھا تھا۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کنانہ کے کسی شخص کو بلاؤ۔ وہ فیصلہ کرے گا اور ہاں وہ مدلجی ہونا چاہیے۔ لہٰذا ایک نوجوان کو لائے آپ (رض) نے اس سے پوچھا : تم الحرجۃ کس کو کہتے ہو ؟ جوان نے جواب دیا : ہم لوگ الحرجہ ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دوسرے درختوں کے درمیان ہو، کوئی چرنے والا مویشی اس کے قریب جاتا ہے اور نہ کوئی وحشی جانور اور کوئی شے اس کے پاس نہیں جاتی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہی حال منافق کا ہے اس کے پاس بھی خیر کی کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ۔

فائدہ : ۔۔۔ جب جوان نے بھی الحرجہ راء کو مفتوح پڑھ کر اس کی تشریح کی تو حضرت عمر (رض) کے قول کی تائید ہوگئی کہ یہ آیت میں : صدرہ ضیفا حرجاً ہے نہ کہ حرجا۔
4820- عن أبي الصلت الثقفي أن عمر بن الخطاب قرأ هذه الآية {وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً} بنصب الراء وقرأها بعض من عنده من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: حرجا بالخفض، فقال عمر: ائتوني رجلا من كنانة واجعلوه راعيا وليكن مدلجيا، فأتوا به فقال له عمر: "يا فتى ما الحرجة فيكم؟ " قال: "الحرجة فينا الشجرة، تكون بين الأشجار لا يصل إليها راعية ولا وحشية ولا شيء، فقال عمر

كذلك المنافق لا يصل إليه شيء من الخير". "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وأبو الشيخ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4821: ۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے، حضرت عمر (رض) کی وفات ہوگئی مگر آپ (رض) آخرت تک سورة جمعہ کی آیت یوں پڑھتے رہے :

فامضوا الی ذکر اللہ۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید۔
4821- عن ابن عمر قال: "لقد توفي عمر وما يقرأ هذه الآية التي في سورة الجمعة إلا فامضوا إلى ذكر الله". "عب وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4822: ۔۔ ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کو کہا گیا کہ حضرت ابی ذر (رض) :

فاسعوا الی ذکر اللہ پڑھتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ابی ہم میں سب سے زیادہ منسوخ التلاوت آیتوں کو جانتے ہیں اور حضرت عمر (رض) فامضوا الی ذکر اللہ پڑھتے تھے۔ عبد بن حمید۔

فائدہ : ۔۔ موجود مشہور قراءت فاسعوا الی ذکر اللہ ہی ہے۔ یہی نہیں دوسری چند جگہ پر بھی حضرت عمر (رض) سے غیر مشہور قراءت منقول ہیں جو منسوخ ہیں۔

کیونکہ حضرت عثمان (رض) کے دور میں جب آخری مرتبہ جمع قرآن کا کام ہوا اس وقت مکمل تحقیق کرکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آخری وقت میں جو تلاوتیں سنی گئیں تھیں ان کے مطابق قرآن پاک لکھا گیا۔ اگرچہ زیادہ تر منسوخ التلاوت آیات کے قاری حضرت ابی (رض) ہی تھے جیسا کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : لیکن لازمی نہیں ہے کہ ہر اختلافی مقام پر ان کی قراءت منسوخ ہو۔ جیسا کہ ذیل کی روایت اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
4822- عن إبراهيم قال قيل لعمر أن أبيا يقرأ: {فَاسَعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} قال عمر: "أبي أعلمنا بالمنسوخ، وكان يقرأها: فامضوا إلى ذكر الله". "عبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4823: ۔۔ عمرو بن عامر انصاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت پڑھی :

والسابقون الاولان من المہاجرین والانصار الذین اتبعوھم باحسان۔ سورة۔

الانصار کو مرفوع پڑھا اور اس کے بعد واؤ نہیں پڑھی (جیسا کہ آج کی قراءت میں والانصار والذین) لہٰذا حضرت زید بن ثابت (رض) نے عرض کیا : والذین اتبعوھم باحسان ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : الذین اتبعوھم باحسان ہے حضرت زید (رض) نے عرض کیا : امیر المومنین زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ابی (رض) کو بلاؤ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابی بن کعب سے سوال کیا : حضرت ابی (رض) اپنی اپنی انگلی سے ایک دوسرے کی ناک کی طرف اشارہ کرنے لگے (اور اپنی اپنی بات کو صحیح قرار دینے لگے) آخر حضرت ابی (رض) عن نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یونہی پڑھایا ہے اور آپ تو بےکار بات کے پیچھے پڑ رے ہیں۔

پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اچھا ٹھیک ہے، اچھا ٹھیک ہے، اچھا ٹھیک ہے، ہم ابی کی اتباع کرتے ہیں۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)
4823- عن عمرو بن عامر الأنصاري أن عمر بن الخطاب قرأ: {وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأنصار الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ} فرفع الأنصار ولم يلحق الواو في الذين، فقال له زيد بن ثابت: {وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ} فقال عمر: {الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ} فقال زيد: "أمير المؤمنين أعلم" فقال عمر: "ائتوني بأبي بن كعب فسأله عن ذلك؟ " فقال أبي: {وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ} ، فجعل كل واحد منهما يشير إلى أنف صاحبه بإصبعه" فقال أبي: "والله أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت تتبع الخبط1 فقال عمر: "نعم إذن، فنعم إذن، فنعم إذن نتابع أبيا". "أبو عبيد في فضائله وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4824: ۔۔۔ (عثمان (رض)) ابو المنہال سے مروی ہے کہ ہمیں خبر پہنچی کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ایک دن منبر پر فرمایا میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہو کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ وہ تمام حروف کافی شافی ہیں۔ وہ شخص کھڑا ہوجائے

چنانچہ اس قدر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جو شمار سے باہر تھے۔ انھوں نے اس کی شہادت دی ( کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے) تب حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : اور میں بھی تمہارے ساتھ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یونہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (الحارث، مسند ابی یعلی)
4824- "عثمان رضي الله عنه" عن أبي المنهال قال: بلغنا أن عثمان ابن عفان قال يوما وهو على المنبر:"أذكر الله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن القرآن أنزل على سبعة أحرف كلهن شاف كاف، لما قام، فقاموا حتى لم يحصوا، فشهدوا بذلك" قال عثمان: "وأنا أشهد معكم لأنا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك". "الحارث ع"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4825: ۔۔ حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے کہ آپ نے یہ آیت یوں پڑھی :

ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویستعینون اللہ علی ما اصابہم و اولئک ھم المفلحون۔ (سورة بقرہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی داود، ابن الانباری فی المصاحف)
4825- عن عثمان أنه قرأ: {وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، - ويستعينون الله على ما أصابهم- وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} . "عبد بن حميد وابن جرير وابن أبي داود وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4826: ۔۔ حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے کہ آپ نے " الا من اغترف غرفۃ " سورة۔

غرفہ میں غین کو ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھا اور (یہی مشہور آج کی قراءت میں ہے) جبکہ بعض صحابہ (رض) سے غرفہ مفتوح بھی منقول ہے (السنن لسعید بن منصور)
4826- عن عثمان أنه قرأ: {مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً} بضم الغين. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4827: ۔۔ حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہانی سے مروی ہے فرماتے ہیں : جب مصاحف لکھے گئے تو میں عثمان (رض) اور زید (رض) کے درمیان قاصد تھا۔ (ایک موقع پر) حضرت زید (رض) نے مجھے یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا : لم یتسنہ ہے یا لم یتسن۔ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : لم یتسنہ یاء کے ساتھ ہے۔ (سورة بقرہ، ابو عبید فی فضائلہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف)
4827- عن هانئ مولى عثمان، قال: "كنت الرسول بين زيد وعثمان لما كتب المصحف فأرسل إليه زيد يسأله عن لم يتسن أو لم يتسنه؟ " فقال: {لَمْ يَتَسَنَّهْ} بالهاء". "أبو عبيد في فضائله وابن جرير وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4828: ۔۔ ابو الزاہر یہ (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے سورة مائدہ کے آخر میں یہ لکھا :

للہ ملک السموات والارض واللہ سمیع بصیر۔ سورة مائدہ، ابو عبید فی فضائلہ۔
4828- عن أبي الزاهرية أن عثمان كتب في آخر المائدة: {لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ والله سميع بصير} . "أبو عبيد في فضائله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4829: ۔۔ حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وریا شا پڑھتے سنا۔ بجائے و ریشا کے۔ (سورة، ابن مردویہ)
4829- عن عثمان قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ: ورياشا ولم يقل: وريشا. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4830: ۔۔ حکیم بن عقال سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو " ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین " منونۃ پڑھتے ہوئے سنا۔ الخطیب فی التاریخ۔
4830- عن حكيم بن عقال قال: سمعت عثمان بن عفان يقرأ: {وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ} منونة. "خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4831: ۔۔ سعید بن العاص (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : مجھے حضرت عثمان بن عفان (رض) نے اپنے منہ سے لکھوایا : وانی خفت الموالی (خاء اور فاء کے فتحہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ جبکہ اصل قراءت میں وانی خفت الموالی ہے) حضرت عثمان (رض) کی قراءت کے معنی ہوں گے اور میرے مددگار کمزور پڑگئے۔ ابو عبید فی فضائلہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
4831- عن سعيد بن العاص قال: أملى علي عثمان بن عفان من فيه {وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ} يثقلها يعني بنصب الخاء والفاء وكسر التاء يقول: قلت الموالي. "أبو عبيد في فضائله وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক: