কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4792: ۔۔ محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت علی (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرنے میں کچھ تاخیر کی۔ حضرت ابوبکر کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کیا تم میری امارت کو ناپسند کرتے ہو ؟ فرمایا : نہیں، مگر یہ بات ہے کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ چادر صرف نماز کے لیے اوڑھوں گا۔ حتی کہ میں قرآن پاک جمع نہ کرلوں۔

محمد یہ کہتے ہیں اسی وجہ سے لوگوں کا گمان تھا کہ حضرت علی (رض) نے قرآن پاک (تفسیر کے ساتھ) لکھ لیا ہے۔ محمد کہتے ہیں کاش مجھے وہ قرآن پاک مل جاتا تو اس میں بڑا علم پاتا۔ ابن عوف کہتے ہیں میں نے عکرمہ (رح) سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے جاننے سے انکار کردیا۔ ابن سعد۔
4792- عن محمد بن سيرين قال: "نبئت أن عليا أبطأ عن بيعة أبي بكر، فلقيه أبو بكر فقال: "أكرهت إمارتي؟ قال: لا، ولكن آليت بيمين أن لا أرتدي برداء إلا إلى الصلاة حتى أجمع القرآن، قال فزعموا أنه كتبه، على تنزيل" قال محمد: "فلو أصبت ذلك الكتاب كان فيه علم، قال ابن عون: فسألت عكرمة عن ذلك الكتاب فلم يعرفه". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4793: ۔۔ زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم نے مصاحف لکھے تو ہم نے ایک آیت مفقود پائی جو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتا تھا۔ میں نے اس کو خزیمہ بن ثابت (رض) کے پاس پایا :

من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ ۔۔ سے۔۔ تبدیلا تک۔ الاحزاب۔

اور حضرت خزیمہ (رض) دو شہادتوں کے مالک سمجھے جاتے تھے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قررا دیا۔ عبدالرزاق، ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
4793- عن زيد بن ثابت لما كتبنا المصاحف فقدت آية كنت أسمعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدتها عند خزيمة بن ثابت: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} إلى قوله {تَبْدِيلاً} وكان خزيمة يدعى ذا الشهادتين أجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته بشهادة رجلين.

"عب وابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4794: ۔۔ زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے میں نے ایک آیت مفقود پائی جو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتا تھا۔ جب مصاحف لکھے گئے تو میں نے اس کو خزیمہ بن ثابت (رض) کے پاس پایا۔ اور حضرت خزیمہ (رض) دو شہادتوں والے کہلاتے تھے۔ وہ آیت تھی :

من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ۔ الخ۔ ابو نعیم۔
4794- عن زيد بن ثابت قال: "فقدت آية كنت أسمعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لما كتب المصاحف فوجدتها مع خزيمة بن ثابت وكان خزيمة يدعى ذا الشهادتين: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} " الآية. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4795: ۔۔ ابن عباس (رض) سے ارشاد فرماتے ہیں : میں نے محکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہی جمع کرلی تھی۔ یعنی مفصل ۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4795- ابن عباس جمعت المحكم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني المفصل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصلات قرآن
4796: ۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت عثمان (رض) کو جب انھوں نے جمع قرآن کا کام مکمل کرلیا، عرض کیا : تم نے بہت اچھا کیا اور تم کو اچھی چیز کی توفیق نصیب ہوئی۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے : میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے، مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور وہ ان معلق اوراق میں جو کچھ ہے اس پر عمل کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے پوچھا کون سے اوراق ؟ پھر میری نظر اوپر اٹھی تو میں نے مصحف شریف کے اوراق دیکھے : یہ بات حضرت عثمان (رض) کو بہت تعجب خیز اور اچھی لگی اور آپ نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے لیے دس ہزار درہم عطا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ تم ہم میں سے ہمارے نبی کی حدیث چھپاؤگے۔ (رواہ ابن عساکر)

فائدہ : ۔۔ سورة الحجرات سے آخر قرآن پاک تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں انہی کو محکم بھی کہا جاتا ہے۔
4796- عن أبي هريرة أنه قال لعثمان لما نسخ المصاحف أصبت ووفقت أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن أشد أمتي حبا لي قوم يأتون من بعدي يؤمنون بي ولم يروني، يعملون بما في الورق المعلق" فقلت أي ورق؟ حتى رأيت المصاحف، فأعجب ذلك عثمان، وأمر لأبي هريرة بعشرة آلاف، وقال: والله ما علمت أنك لتحبس علينا حديث نبينا". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصلات قرآن
4797: ۔۔۔ (مرسل الشعبی (رح)) شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں چھ انصاری صحابہ (رض) نے قرآن پاک جمع کیا : ابی بن کعب، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، ابو الدرداء، سعید بن عبید اور ابو زید (رض) اجمعین اور مجمع بن جاریہ نے دو یا تین سورتوں کے علاوہ سارا قرآن حاصل کرلیا تھا۔ (ابن سعد، یعقوب بن سفیان، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم)
4797- "مرسل الشعبي" عن الشعبي قال: "جمع القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة نفر من الأنصار: أبي بن كعب، وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل، وأبو الدرداء، وسعيد بن عبيد، وأبو زيد، وكان مجمع ابن جارية قد أخذه إلا سورتين أو ثلاثة". "ابن سعد ويعقوب بن سفيان طب ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصلات قرآن
4798: ۔۔ (مرسل محمد بن کعب القرضی (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیے زمانہ میں پانچ انصاری صحابہ نے قرآن پاک ختم کرلیا تھا معاذ بن جبل، عبادۃ بن الصامت، ابی بن کعب، ابو الدرداء، اور ابو ایوب انصاری (رض) اجمعین۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4798- "مرسل محمد بن كعب القرظي" عن محمد بن كعب القرظي قال: "جمع القرآن في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم خمسة نفر من الأنصار: معاذ بن جبل، وعبادة بن الصامت، وأبي بن كعب، وأبو الدرداء، وأبو أيوب". "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیت ہے۔
4799: محمد بن کعب القرضی (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں جن لوگوں نے قرآن پاک ختم کرلیا تھا وہ عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن مسعود (رض) اجمعین تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4799- عن محمد بن كعب القرظي قال: "كان ممن ختم القرآن ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي عثمان بن عفان، وعلي بن أبي طالب، وعبد الله بن مسعود". "ش" وقال في إسناده نظر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیت ہے۔
4800: ۔۔ عن علی (رح) عن خیر (رح) کی سند سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے السبع المثانی سات بار بار پڑھی جانے والی آیات کے متعلق سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا : الحمد للہ رب العالمین۔ کہا گیا۔ یہ تو چھ آیات کی سورت ہے۔ فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک آیت ہے۔ (الدار قطنی، السنن للبیہقی، ابن بشران فی امالیہ)
4800 - عن علي عن عبد خير قال: سئل علي عن السبع المثاني؟ فقال: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فقيل إنما هي ست آيات، فقال: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} آية. "قط ق وابن بشران في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4801: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) جب نماز میں کوئی سورت شروع فرماتے تو پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور فرماتے تھے : جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اس نے سورت میں کمی کردی اور فرمایا کرتے تھے یہی بسم اللہ تو السبع المثانی کی تکمیل ہے۔ (الثعلبی )
4801- عن علي أنه كان إذا افتتح سورة في الصلاة يقرأ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} وكان يقول من ترك قراءتها فقد نقص وكان يقول هي تمام السبع المثاني". "الثعلبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4802: ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) ابو عبدالرحمن سلمی سے روایت ہے کہ ابوبکر ، عمر عثمان، زید بن ثابت، مہاجرین اور انصار کی قراءت کا یک ہی تھی۔ (ابن الانباری فی المصاحف)

یعنی جہاں لفظوں کا اختلاف ہوجاتا ہے اور ہجاء کی حیثیت سے الفاظ مختلف ہوجاتے ہیں یہ حضرات اختلاف نہیں فرماتے تھے۔
4802- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال "كانت قراءة أبي بكر وعمر وعثمان وزيد بن ثابت والمهاجرين والأنصار واحدة". "ابن الأنباري في المصاحف" وقال يعني أنهم لم يكونوا يختلفون فيما تنقلب فيه الألفاظ، وتختلف من جهة الهجاء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4803: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے ہشام بن حکیم کو ان کے کپڑوں سے پکڑ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا۔ اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے ان کو سورة فرقان اس کے خلاف پڑھنے کا حکم دیا تو انھوں نے وہی قراءت پڑھی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تصویب کرتے ہوئے فرمایا : ٹھیک یونہی نازل ہوا ہے۔۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : تم پڑھو : میں نے اپنی قراءت کے مطابق (جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھایا تھا) پڑھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یونہی نازل ہوا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا قرآن تو سات حروف (یعنی سات قراءتوں) پر نازل ہوا ہے۔ جو آسان لگے پڑھ لو۔ (ابو داؤد الطیالسی، ابو عبید فی فضائل القرآن، مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابو عوانہ، ابن جریر، صحیح ابن حبان، السنن للبیہقی)
4803- عن عمر قال: "سمعت هشام بن حكيم يقرأ سورة الفرقان في الصلاة على غير ما أقرأها وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقرأنيها فأخذت بثوبه فذهبت به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت يا رسول الله: إني سمعته يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرأتنيها، فقال: إقرأ فقرأ القراءة التي سمعتها منه فقال: "هكذا أنزلت" ثم قال لي إقرأ، فقرأت فقال: "هكذا أنزلت، إن القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسر منه". "ط وأبو عبيد في فضائل القرآن حم خ م د ت ن وأبو عوانة وابن جرير حب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4804: ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ (سورة نازعات کی) آیت : ء اذا کنا عظاما ناخرۃ پڑھتے تھے، نخرۃ کی بجائے۔ (السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید)
4804- عن عمر أنه كان يقرأ: {أَإِذَا كُنَّا عِظَاماً نَاخِرَةً} بألف. "ص وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4805: ۔۔۔ عمرو بن میمون سے مروی ہے میں نے حضرت عمر (رض) کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ (رض) نے سورة تین یوں پڑھی :

والتین والزیتون وطور سینین (سینین کی جگہ سیناء پڑھا) اور یونہی عبداللہ (بن مسعود (رض)) کی قراءت میں ہے۔ (عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن الانباری فی المصاحف، الدارقطنی فی الافراد)
4805- عن عمرو بن ميمون قال: "صليت مع عمر بن الخطاب المغرب فقرأ: {وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سيناء} وهكذا في قراءة عبد الله. "عب وعبد بن حميد وابن الأنباري في المصاحف قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4806: ۔۔۔ عبدالرحمن بن حاطب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور سورة آل عمران شروع کی :

الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیام (القیوم کی جگہ) ۔ (ابو عبید فی الفضائل، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی داود، ابن الانباری فی المصاحف، ابن المنذر، مستدرک الحاکم)
4806- عبد الرحمن بن حاطب أن عمر صلى بهم العشاء الآخرة فاستفتح سورة آل عمران فقرأ: {آلم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القيام} . "أبو عبيد في الفضائل ص وعبد بن حميد وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف وابن المنذر ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4807: حضرت عمر ضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ارشاد فرمایا علی ہم میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ابی ہمارے سب سے بڑے قاری ہیں لیکن ابی (رض) کی قراءت میں سے کچھ ہم ترک کرتے ہیں کیونکہ ابی کہتے ہیں میں کوئی چیز نہیں چھوڑ سکتا، جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ماننسخ من آیۃ او ننسہا نات بخیر منہا۔

ہم کوئی آیت منسوخ نہیں کرتے یا بھلاتے نہیں مگر اس سے اچھی چیز لے آتے ہیں : اور حالانکہ کتاب اللہ ان کے بعد بھی نازل ہوئی ہے۔ (یعنی کتاب اللہ کا ایسا حصہ بھی نازل ہوا ہے جو ان کے علم میں نہیں۔ )(بخاری، نسائی، ابن الانباری فی المصاحف، الدار قطنی، فی الافراد ، مستدرک الحاکم، ابو نعیم فی المعرفۃ، البیہقی فی الدلائل۔
4807- عن عمر رضي الله عنه قال: علي أقضانا وأبي أقرأنا وإنا لندع شيئا من قراءة أبي، وذلك أن أبيا يقول لا أدع شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد قال الله: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا} وفي لفظ: وقد نزل بعد أبي كتاب. "خ ن وابن الأنباري في المصاحف قط في الأفراد ك وأبو نعيم في المعرفة ق الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4808: ۔۔ خرشتہ بن الحر سے مروی ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے میرے ساتھ ایک تختی لکھی ہوئی دیکھ :

اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔ الجمعۃ۔

جب نداء دی جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن پس دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف۔

حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم کو یہ کس نے املاء کروائی ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابی بن کعب (رض) نے۔ حضرت (رض) نے فرمایا : ابی ہم میں سب سے زیادہ منسوخ القرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ تم اس کو (فاسعوا الی ذکر اللہ کی بجائے) فامضوا الی ذکر اللہ پڑھو۔ (ابو عبید، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف)
4808- عن خرشة بن الحر1 قال: رأى معي عمر بن الخطاب لوحا مكتوبا {إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسَعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} قال: "من أملى عليك هذا؟ قلت أبي بن كعب، قال: إن أبيا أقرأنا للمنسوخ اقرأها فامضوا إلى ذكر الله". "أبو عبيد ص ش وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4809: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) کو ہمیشہ فامضو الی ذکراللہ پڑھتے سنا۔ (اشافعی فی الام، مصنف عبدالرزاق، الفریابی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری، السنن للبیہقی)
4809- عن ابن عمر قال: "ما سمعت عمر يقرأها قط إلا فامضوا إلى ذكر الله". "الشافعي في الأم عب والفريابي ص ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن الأنباري ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4810: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا :

ومن عندہ علم الکتاب۔ الدارقطنی فی الافراد ، تمام ابن مردویہ۔

یعنی علم الکتاب کی جگہ عالم الکتاب یا عَلِم الکتاب پڑھا۔
4810- عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ: {وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ} . "قط في الأفراد وتمام وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القراءات
4811: ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) (صراط) الذین کی جگہ) صراط من انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ (وکیع، ابو عبید، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی داود، فی الجزء من حدیثہ۔ السنن للبیہقی)
4811- عن عمر أنه كان يقرأ: {سراط من أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} . "وكيع وأبو عبيد ص وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক: