কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4772: ۔۔ عسعس بن سلامہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان (رض) سے عرض کیا : یا امیر المومنین ! کیا بات ہے سورة انفال اور سورة برأت کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے ؟ ارشاد فرمایا : سورة نازل ہوتی رہتی تھی حتی کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوجاتی پس جب بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوجاتی تو دوسری سورت شروع ہوجاتی تھی۔ لہٰذا سورة انفال نازل ہوئی اور بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی گئی۔ (الدار قطنی فی الافراد، مصنف ابن ابی شیبہ)
4772- عن عسعس بن سلامة قال: "قلت: لعثمان يا أمير المؤمنين ما بال الأنفال وبراءة ليس بينهما {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ؟ قال كانت تنزل السورة فلا تزال تكتب حتى تنزل {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فإذا جاءت {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} كتبت سورة أخرى، فنزلت الأنفال ولم تكتب {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} . "قط في الأفراد ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4773: مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو پایا جن کی موجودگی میں حضرت عثمان (رض) نے مصاحف کو جلا دیا لیکن کسی نے اس کو غلط نہیں کہا۔ بخاری فی خلق افعال العباد۔ ابن ابی داود، ابن الانباری فی المصاحف معا۔
4773- عن مصعب بن سعد قال "أدركت الناس متوافرين حين حرق عثمان المصاحف، فأعجبهم ذلك، ولم ينكر ذلك منهم أحد". "خ في خلق أفعال العباد وابن أبي داود وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4774: ۔۔ عبدالرحمن بن مہدی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کی دو خصوصیات ابوبکر اور عمر (رض) میں بھی نہیں ہیں۔ انھوں نے صبر کیا حتی کہ قتل ہوگئے اور تمام لوگوں کو ایک قرآن پاک پر جمع کردیا۔ (ابن ابی داود، ابو الشیخ فی السنۃ، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر)

فائدہ : ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) نے جمع قرآن کا کام شروع کیا تھا پھر حضرت عمر (رض) کے دور میں چار نسخے لکھ لیے گئے۔ غالبا ہر ایک میں قراءتوں کا فرق تھا جو مختلف علاقوں کے لیے ان کی سہولت کو سامنے رکھ کر لکھے گئے تھے۔ اور ان قراءت کی اجازت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھی لیکن پڑھنے والے آپس میں اختلاف اور نزاع بھی کھڑا کرلیتے تھے۔ اسی وجہ سے جنگوں میں جب مجاہدین ایک دوسرے علاقوں کے جمع ہوتے تو قرآن پڑھنے میں ان کے درمیان تنازعہ ہوتا۔ لہٰذا حضرت عثمان (رض) نے ایک مصحت پر لوگوں کو جمع کرکے باقی مختلف قرآءت کے مصاحف جلوا ڈالے اور امت کو انتشار اور افت سے بچا لیا۔ (رض) وارضاہ۔
4774- عن عبد الرحمن بن مهدي قال: "خصلتان لعثمان بن عفان ليستا لأبي بكر ولا لعمر، صبره نفسه حتى قتل، وجمعه الناس على المصحف". "ابن أبي داود وأبو الشيخ في السنة حل كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4775: ۔۔۔ زری (رح) سے مروی ہے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن الیمان جو آرمینیہ اور آذر بائیجان کے محاذوں پر اہل عراق کے ساتھ مل کر اہل شام سے لڑ رہے تھے۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے مجاہدین کو قرآن میں اختلاف کرتے دیکھا تھا۔ لہٰذا حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے مجاہدین کو قرآن میں اختلاف کرتے دیکھا تھا۔ لہٰذا حضرت عثمان (رض) کو عرض کیا : یا امیر المومنین ! اس امت کو بچا لیں قبل اس سے کہ وہ کتاب اللہ میں اختلاف اور انتشار کا شکار ہوجائیں جیسا کہ یہود و نصاری ہوئے۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت حفصہ (رض) کو پیغام بھیجا کہ تمہارے پاس جو مصحف شریف ہے بھیج دو ہم اس کی نقل کرکے اور مصاحف تیار کریں گے اور پھر آپ کو اصل واپس کردیں گے۔ حضرت حفصہ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو وہ اوراق بھیج دیے جن میں قرآن لکھا ہوا تھا۔ حضرت عثمان (رض) نے حضرت زید بن ثابت، حضرت سعید بن العاص، حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا۔ اور حکم دیا کہ ان صحیفوں (اوراق) سے نقل کر کر کے دوسرے مصاحف میں لکھیں۔ اور (حضرت زید کے علاوہ) تین قریشی صحابیوں کو فرمایا : جب تمہارا اور زید کا کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو تم قریشی زبان میں لکھنا۔ کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ آخر میں کئی مصاحف تیار کرلیے گئے تو حضرت عثمان (رض) نے ہر طرف ایک مصحف شریف بھیج دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ اس کے علاوہ جو صحیفے یا مکمل مصحف شریف جہاں ہو وہ جلا دیے جائیں۔

امام زہری (رح) کہتے ہیں مجھے خارجہ بن زید نے فرمایا کہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے فرمایا : میں نے ایک آیت سورة احزاب کی مفقود پائی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا :

من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنہم من قضی نحبہ و منہم من ینتظر ۔ الاحزاب۔

لہذا میں نے اس کو تلاش کیا اور خزیمہ بن ثابت یا (ان کے بیٹے) ابن خزیمہ کے پاس اس آیت کو پایا اور پھر اس کو اس کی جگہ سورت میں ملا دیا۔

امام زہری (رح) فرماتے ہیں : اسی وقت ان حضرات کا لفظ التابوت میں اختلاف ہوا (جس کا ذکر سورة بقرہ 248 میں ہے) قریشی اصحاب نے التابوت کہا جبکہ حضرت زید (رض) نے التابوہ کہا۔ یہ اختلاف حضرت عثمان کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔ حضرت عثمان نے فرمایا : تم التابوت لکھو کیونکہ یہ قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (ابن سعد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ابی داود، ابن الانباری فی المصاحف معا، الصحیح لابن حبان، السنن للبیہقی)
4775- عن الزهري عن أنس بن مالك أن حذيفة بن اليمان قدم على عثمان وكان يغازي أهل الشام في فتح أرمينية وآذربيجان مع أهل العراق، فرأى حذيفة اختلافهم في القرآن، فقال لعثمان "يا أمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلف اليهود والنصارى فأرسل إلى حفصة أن أرسلي إلي بالصحف ننسخها في المصاحف، ثم نردها عليك، فأرسلت حفصة إلى عثمان بالصحف فأرسل عثمان إلى زيد بن ثابت وسعيد بن العاص وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام وعبد الله بن الزبير أن انسخوا الصحف في المصاحف، وقال للرهط القرشيين الثلاثة: ما اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانها حتى إذا نسخوا المصحف في المصاحف بعث عثمان إلى كل أفق بمصحف من تلك المصاحف التي نسخوا، وأمر بسوى ذلك في صحيفة أو مصحف أن يحرق" قال الزهري: "وحدثني خارجة بن زيد أن زيد بن ثابت" قال: "فقدت آية من سورة الأحزاب كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأها: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ} فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت أو ابن خزيمة، فألحقتها في سورتها، قال الزهري: "فاختلفوا يومئذ في التابوت والتابوه فقال النفر القرشيون التابوت وقال زيد بن ثابت التابوه فرفع اختلافهم إلى عثمان فقال: اكتبوه التابوت فإنه بلسان قريش نزل". "ابن سعد خ ت ن وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف حب ق
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4776: ۔۔ ابو قلابہ (رح) سے مروی ہے کہ دور عثمان (رض) میں کوئی معلوم کسی قرآءت پر قرآن پڑھاتا اور کوئی معلم کسی دوسری قراءت پر قرآن پڑھاتا۔ نتیجۃ لڑکے آپس میں ملاقات کے وقت ایک دوسرے سے اختلاف کرتے۔ حتی کہ بات بڑھتی ہوئی معلموں تک پہنچتی اور معلم بھی ایک دوسرے کی قراءت کا انکار کرتے۔ یہ بات حضرت عثمان (رض) کو پہنچی حضرت عثمان (رض) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا :

تم لوگ میرے قریب ہوتے ہوئے اختلاف اور خطاء کا شکار ہو تو جو مجھ سے دور دوسرے شہروں میں بس رہے یں ان میں اور زیادہ سخت اختلاف اور شدید غلطیاں ہوں گی۔ پس اے اصحاب محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے ایک امام (والی حیثیت کا قرآن پاک) لکھ دو (جس کی طرف سب رجوع کریں۔

ابو قلابہ کہتے ہیں مجھے مالک بن انس (رح) نے بیان کیا، ابوبکر بن مالک کہتے ہیں یہ مالک بن انس (امام) مالک بن انس کے دادا ہیں۔ مالک بن انس کہتے ہیں میں ان لوگوں میں تھا جن کو قرآن املاء کروایا (اور لکھوایا) جاتا تھا۔ لہٰذا کبھی کسی آیت میں اختلاف ہوجاتا تو ایسے آدمی کو یاد کرتے جس نے اس آیت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیا ہوتا تھا۔ کبھی وہ غائب ہوتا یا کسی دیہات میں ہوتا تو کاتبین اس سے ماقبل اور مابعد آیات لکھ لیتے اور اس آیت کی جگہ چھوڑ دیتے۔ حتی کہ وہ صحابی خود اجاتا یا ان کو پیغام بھیج کر بلوا لیا جاتا۔ اس طرح جب مصحف شریف کی کتابت سے فراغت ہوئی تو حضرت عثمان (رض) نے تمام شہر والوں کو لکھا : میں نے ایسا کام کیا ہے اور یہ یہ مٹا دیا ہے پس اس کے مثل جو تمہارے پاس ہو تم اس کو مٹا دو ۔ (اور جیسا میں نے لکھا ہے ویسا تم بھی لکھا رہنے دو ) ( ابن ابی داؤد الانباری، رواہ الخطیب فی المتفق عن ابی قلابہ عن رجل من بنی عامر یقال لہ انس بن مالک القشیری بدل مالک بن انس )
4776- عن أبي قلابة قال: "لما كان في خلافة عثمان جعل المعلم يعلم قراءة الرجل، والمعلم يعلم قراءة الرجل، فجعل الغلمان يتلقون فيختلفون حتى ارتفع ذلك إلى المعلمين، حتى كفر بعضهم بقراءة بعض، فبلغ ذلك عثمان" فقام خطيبا، فقال: "أنتم عندي تختلفون وتلحنون، فمن نأى عني من الأمصار أشد اختلافا وأشد لحنا، فاجتمعوا يا أصحاب محمد فاكتبوا للناس إماما"2 فقال أبو قلابة: "فحدثني مالك بن أنس قال أبو بكر بن داود هذا مالك بن أنس جد مالك بن أنس" قال: "كنت فيمن أملي عليهم فربما اختلفوا في الآية، فيذكرون الرجل قد تلقاها من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولعله أن يكون غائبا أو في بعض البوادي، فيكتبون ما قبلها وما بعدها ويدعون موضعها حتى يجيء أو يرسل إليه، فلما فرغ من المصحف، كتب إلى أهل الأمصار: إني قد صنعت كذا وصنعت كذا، ومحوت ما عندي فامحوا ما عندكم" "ابن أبي داود وابن الأنباري ورواه خط في المتفق عن أبي قلابة عن رجل من بني عامر يقال له أنس بن مالك القشيري بدل مالك بن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4777: ۔ سوید بن غفلہ (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو فرماتے ہوئے سنا :

کام میں اے لوگو ! عثمان کے بارے میں غلو کا شکار مت ہوجاؤ۔ اور ان کے مصاحف کے متعلق خیر کے سوا کچھ نہ کہو۔ اللہ کی قسم ! مصاحف قرآن میں انھوں نے جو کچھ بھی کیا وہ ہماری سب کی رضامندی سے کیا۔ حضرت عثمان (رض) نے پوچھا تھا : تم اس قراءت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں میری قراءت تمہاری قراءت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا آپ ہی بتائیے (امیر المومنین عثمان بن عفان) آپ کا کیا خیال ہے ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ہمارا خیال ہے کہ تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردیا جائے جس میں کوئی فرق ہو اور نہ اختلاف۔ ہم نے کہا : جو آپ نے فرمایا بالکل ٹھیک ہے۔ تب حضرت عثمان (رض) نے پوچھا : تم میں سب سے زیادہ فصیح کون ہے ؟ اور سب سے زیادہ اچھا قاری کون ہے ؟ کہا : اچھی زبان والے سعید بن العاص ہیں اور سب سے زیادہ قاری زید بن ثابت ہیں۔ چنانچہ عثمان بن عفان (رض) نے فرمایا : ان میں سے ایک لکھواتا جائے دوسرا لکھتا جائے۔ چنانچہ دونوں حضرات نے حکم کی تعمیل کی اور یوں حضرت عثمان (رض) نے تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردیا۔

پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں اس وقت والی ہوتا تو میں بھی بالکل یہی کرتا جو عثمان (رض) نے کیا۔ (ابن ابی داود، وابن الانباری فی المصاحف، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4777- عن سويد بن غفلة1 قال: سمعت علي بن أبي طالب يقول: "يا أيها الناس لا تغلوا في عثمان ولا تقولوا له إلا خيرا في المصاحف وإحراق المصاحف، فوالله ما فعل الذي فعل في المصاحف إلا عن ملأ منا جميعا فقال: ما تقولون في هذه القراءة؟ فقد بلغني أن بعضهم يقول قراءتي خير من قراءتك، وهذا يكاد أن يكون كفرا، قلنا فما ترى؟ قال: "نرى أن يجمع الناس على مصحف واحد بلا فرقة، ولا يكون اختلاف قلنا فنعم ما رأيت" قال: "أي الناس أفصح وأي الناس أقرأ" قال: "أفصح الناس سعيد بن العاص، وأقرأهم زيد بن ثابت" فقال: "ليكتب أحدهما ويملي الآخر، ففعلا وجمع الناس على مصحف" قال علي: "والله لو وليته لفعلت مثل الذي فعل". "ابن أبي داود وابن الأنباري في المصاحف ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4778: ۔۔ ابن شہاب (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں خبر پہنچی ہے کہ قرآن بہت زیادہ نازل ہوا تھا۔ لیکن یمامہ کی جنگ میں بہت سے قرآن کو جاننے والے قتل ہوگئے۔ جنہوں نے اس کو حفظ کیا تھا وہ ان کے بعد معلوم ہوسکا اور نہ لکھا جاسکا۔ پس حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) اجمعین نے قرآن جمع کیا۔ ہمارے علم کے مطابق اسی چیز نے ان حضرات کو قرآن جمع کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لہٰذا ان حضرات نے خلافت ابی بکر (رض) میں قرآن جمع کیا۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں دوسرے معرکوں میں بھی تمام قاری قرآن شہید نہ ہوجائیں جن کے پاس بہت سا قرآن ہے۔ اور یوں وہ اس قرآن کو اپنے ساتھ ہی لے جائیں اور ان کے بعد کوئی قرآن کو جاننے والا نہ بچے۔ پھر اللہ پاک نے حضرت عثمان (رض) کو توفیق مرحمت فرمائی کہ پہلے والے نسخے سے کئی نسخے تیار کرا کے اسلامی ملکوں میں بھیجے یوں (مکمل) قرآن پاک مسلمانوں میں پھیل گیا۔ رواہ ابن ابی داود) ۔

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔

ہم نے اس کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا قرآن پاک کا کوئی حصہ لکھنے سے نہیں رہا۔ جن صحابہ کے پاس قرآن پاک تھا اور وہ شہید ہوگئے اس سے مراد ہے کہ ان کے پاس کسی چیز پر لکھے ہوئے سے نقل کریں۔ اور حضور نے ان کو وہ لکھوایا ہو جیسا کہ بعد کی روایت میں ہے کہ حضرت عثمان ہر ایک کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتے تھے کہ کیا واقعی تم کو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا ہے۔
4778- عن ابن شهاب قال: "بلغنا أنه كان أنزل قرآن كثير فقتل علماؤه يوم اليمامة الذين كانوا قد وعوه ولم يعلم بعدهم ولم يكتب فلما جمع أبو بكر وعمر وعثمان القرآن ولم يوجد مع أحد بعدهم وذلك فيما بلغنا حملهم على أن تتبعوا القرآن، فجمعوه في الصحف في خلافة أبي بكر، خشية أن يقتل رجال من المسلمين في المواطن، معهم كثير من القرآن، فيذهبوا بما معهم من القرآن، فلا يوجد عند أحد بعدهم، فوفق الله عثمان فنسخ ذلك المصحف، فبعث بها إلى الأمصار وبثها في المسلمين". "ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4779: ۔۔ مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! تم کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ بیتے ہوئے تیرہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اور تم قرآن میں شک میں مبتلا ہو۔ کہتے ہو یہ ابی (رض) کی قراءت ہے۔ کبھی کہتے ہو یہ عبداللہ کی قراءت ہے۔ کوئی کہتا ہے واللہ ہم تمہاری قراءت کو تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا میں تم کو انتہائی تاکید کے ساتھ حکم کرتا ہوں کہ جس شخص کے پاس کچھ بھی قرآن ہو وہ اس کو لے کر آئے۔ پس کوئی ورقہ پر لکھا ہوا قرآن لے کر آتا اور کوئی چمڑے پر لکھا ہوا قرآن پاک لے کر آتا۔ حتی کہ اس طرح قرآن کا اکثر حصہ جمع کرلیا گیا۔ پھر حضرت عثمان (رض) اس جگہ تشریف لائے (جہاں قرآن پاک لکھا جا رہا تھا) آپ (رض) نے سب لوگوں کو ایک ایک کرکے بلایا اور ہر ایک کو واسطہ دے دے کر پوچھا : کیا تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے اور وہ تجھے املاء کروا رہے تھے یہ قرآن کا حصہ ہے ؟ وہ کہتا : جی ہاں۔ پس جب حضرت عثمان (رض) اس جگہ تشریف لائے (جہاں قرآن پاک لکھا جا رہا تھا) آپ (رض) نے سب لوگوں کو ایک ایک کرکے بلایا اور ہر ایک کو واسطے دے کر پوچھا : کیا تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے اور وہ تجھے املاء کروا رہے تھے۔ یہ قرآن کا حصہ ہے ؟ وہ کہتا : جی ہاں۔ پس جب حضرت عثمان (رض) اس کام سے فارغ ہوگئے تو پوچھا : لوگوں میں سب سے بڑا کاتب کون ہے ؟ لوگوں نے حضرت زید بن ثابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا۔ پھر آپ (رض) نے پوچھا : لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح اللسان کون ہے ؟ لوگوں نے حضرت سعید بن العاص (رض) کا نام لیا۔ لہٰذا حضرت عثمان (رض) نے حکم جاری فرمایا کہ سعید املاء کروائیں اور زید کتابت کرتے رہیں۔ پس زید (رض) نے قرآن پاک کی کتابت فرمائی اور اس (ایک مصحف) کے ساتھ کئی مصاحف لکھے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے ان کو لوگوں میں پھیلا دیا۔

مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے بعض صحابہ کرام (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ انھوں نے یہ کام (بہت) اچھا کیا۔
4779- عن مصعب بن سعد قال قام عثمان يخطب الناس: "فقال يا أيها الناس عهدكم بنبيكم منذ ثلاث عشرة، وأنتم تمترون في القرآن، تقولون قراءة أبي، وقراءة عبد الله، يقول الرجل والله ما نقيم قراءتك فأعزم على كل رجل منكم كان معه من كتاب الله شيء لما جاء به، فكان الرجل يجيء بالورقة والأديم فيه القرآن، حتى جمع من ذلك أكثره ثم دخل عثمان فدعاهم رجلا رجلا فناشدهم لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو أمله عليك؟ فيقول: نعم، فلما فرغ من ذلك عثمان قال: من أكتب الناس؟ قالوا كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن ثابت، قال فأي الناس أعرب؟ قالوا سعيد بن العاص، قال عثمان فليمل سعيد وليكتب زيد، فكتب زيد وكتب معه مصاحف ففرقها في الناس، فسمعت بعض أصحاب محمد يقولون قد أحسن". "ابن أبي داود كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4780: ۔۔ مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت بی، عبداللہ اور معاذ (رض) کی قراءت سنی تو لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا :

تمہارے پیغمبر کو وفات پائے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ بیت گیا ہے اور تم اب تک قرآن میں اختلاف کا شکار ہو۔ لہٰذا میں تم پر عزم کے ساتھ حکم کرتا ہوں کہ جس کے پاس قرآن کا کچھ بھی حصہ ہو جو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہو وہ اس کو لے کر میرے پاس آجائے۔ پس لوگ تختی، ہڈی، اور پتھروں جیسی مختلف اشیاء پر لکھا ہوا قرآن لے کر آئے۔ جب بھی کوئی قرآن کا کچھ حصہ لے کر آتا آپ (رض) اس سے پوچھتے : تو نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟

اس کے بعد آپ (رض) نے پوچھا : سب سے زیادہ فصیح اللسان کون ہے ؟

لوگوں نے حضرت سعید بن العاص کا نام لیا۔ پھر آپ (رض) نے پوچھا سب سے بڑے کاتب کون ہیں ؟ لوگوں نے حضرت زید بن ثابت کا نام لیا۔ چنانچہ آپ (رض) نے حکم دیا کہ زید لکھیں اور سعیدلکھواتے رہیں۔ پھر حضرت زید (رض) نے کئی مصاحف لکھے جو حضرت عثمان (رض) نے شہروں میں تقسیم کردیے مصعب بن سعد فرماتے ہیں : میں نے کسی کو اس کام پر عیب لگاتے نہیں دیکھا۔
4780- عن مصعب بن سعد قال: سمع عثمان قراءة أبي وعبد الله ومعاذ فخطب الناس، ثم قال: "إنما قبض نبيكم صلى الله عليه وسلم منذ خمس عشرة سنة، وقد اختلفتم في القرآن، عزمت على من عنده شيء من القرآن سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لما أتاني به، فجعل الرجل يأتيه باللوح والكتف والعسيب فيه الكتاب، فمن أتاه بشيء قال: أنت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ ثم قال أي الناس أفصح؟ قالوا سعيد بن العاص، ثم قال: أي الناس أكتب؟ قالوا زيد بن ثابت، قال فليكتب زيد وليمل سعيد، فكتب مصاحف فقسمها في الأمصار، فما رأيت أحدا عاب ذلك عليه". "ابن أبي داود ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4781: ۔۔ محمد (رح) بن ابی (رض) بن کعب فرماتے ہیں : اہل عراق کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور بولے : ہم عراق سے آپ سے ملنے آئے ہیں۔ ہمیں (اپنے والد) ابی بن کعب (رض) کا مصحف شریف (قرآن پاک) دکھا دیجیے۔ حضرت محمد (رح) نے فرمایا ہو وہ تو حضرت عثمان (رض) نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ وہ پھر بولے : سبحان اللہ ! آپ نکالیے تو سہی۔ حضرت محمد (رح) نے فرمایا : واقعی اس کو حضرت عثمان (رض) نے قبضے میں لے لیا ہے۔ ( ابو عبید فی الفضائل و ابن ابی داود)
4781- عن محمد بن أبي بن كعب أن ناسا من أهل العراق قدموا عليه، فقالوا "إنا تحملنا إليك من العراق، فأخرج لنا مصحف أبي، فقال محمد قد قبضه عثمان، قالوا: سبحان الله أخرجه، قال: قد قبضه عثمان".

"أبو عبيد في الفضائل وابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4782: ۔۔ محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے فرمایا : کوئی آدمی قرآن پڑھتا تھا تو دوسرا اس کو کہتا تھا میں تو اس کا انکار کرتا ہوں جس طرح تم پڑھتے ہو۔ یہ بات حضرت عثمان (رض) کو ذکر کی گئی۔ حضرت عثمان (رض) کو یہ بات بہت گراں گذری۔ پس آپ نے قریش اور انصار کے بارہ افراد جمع کیے، جن میں ابی بن کعب، زید بن ثابت، سعید بن العاص (رض) بھی تھے۔ پھر آپ (رض) نے حضرت عمر (رض) کے گھر سے وہ ڈبہ منگوایا کہ جس میں قرآن پاک تھا۔ اور اسی سے لوگ رجوع کرتے تھے۔

محمد کہتے ہیں : مجھے کثیر بن افلح نے بیان کیا کہ وہ بھی قرآن پاک لکھتے تھے۔ بسا اوقات کسی شئی میں اختلاف ہوجاتا تو اس کو لکھنے کے لیے موخر کردیتے تھے محمد کہتے ہیں۔ میں نے کثیر بن افلح سے پوچھا یہ کیوں ؟ انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ محمد کہتے ہیں : میرا گمان ہے اور تم اس کو یقین کا درجہ نہ دینا یہ کہ وہ اس لیے اس اختلاف شدہ حصہ کو لکھنے سے موخر کردیتے تھے تاکہ اپنے درمیان ایسے کسی شخص کو دیکھیں جس نے سب سے آخر میں وہ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) سنی ہو۔ اور اس کے قول پر اس کو لکھیں۔ رواہ ابن ابی داود۔

فائدہ : ۔۔ اس گمان کی حقیقت روایت نمبر 4776 میں ملاحظہ فرمائیں۔ جہاں اس کا واضح جواب گذر چکا ہے۔
4782- عن محمد بن سيرين قال: "كان الرجل يقرأ حتى يقول الرجل لصاحبه كفرت بما تقول، فرفع ذلك إلى عثمان بن عفان، فتعاظم ذلك في نفسه، فجمع اثني عشر رجلا من قريش والأنصار، فيهم أبي بن كعب وزيد بن ثابت، وسعيد بن العاص، وأرسل إلى الربعة التي كانت في بيت عمر، فيها القرآن، وكان يتعاهدهم، فقال محمد: فحدثني كثير بن أفلح أنه كان يكتب لهم، فربما اختلفوا في الشيء فأخروه، فسألته لم كانوا يؤخرونه؟ فقال: لا أدري، فقال محمد: فظننت فيه ظنا فلا تجعلوه أنتم يقينا، ظننت أنهم كانوا إذا اختلفوا في الشيء أخروه، حتى ينظروا أحدثهم عهدا بالعرضة الأخيرة فيكتبوه على قوله". "ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4783: ۔۔ ابی المیح سے مروی ہے کہ حضرت عثمانی بن عفان (رض) نے جب مصحف شریف لکھنے کا ارادہ کیا تو (حکم دیا کہ) بذیل (قبیلہ کافر) املاء کرائے اور ثقیف (کا فرد) لکھے۔ رواہ ابن ابی داود۔
4783- عن أبي المليح قال قال عثمان بن عفان حين أراد أن يكتب المصحف "تملي هذيل وتكتب ثقيف". "ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4784: ۔۔ عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر سے مروی ہے فرمایا : جب مصحف شریف کے لکھنے سے فراغت ہوئی تو وہ مصحف حضرت عثمان (رض) کے پاس لایا گیا حضرت عثمان (رض) نے اس کو دیکھا اور فرمایا : تم نے بہت اچھا کیا اور خوبصورت کام کیا ہے۔ اگرچہ میں اس میں کچھ لحن غلطی دیکھتا ہوں لیکن عرب اس کو اپنی زبانوں کی بدولت جلد اس کو درست کرلیں گے۔ ابن ابی داود، ابن الانباری۔
4784- عن عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر القرشي قال: لما فرغ من المصحف أتي به عثمان فنظر فيه، فقال: "قد أحسنتم وأجملتم أرى شيئا من لحن ستقيمه العرب بألسنتها". "ابن أبي داود وابن الأنباري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4785: ۔۔ قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے مصحف شریف میں دیکھا تو فرمایا اس میں کچھ لحن (غلطی) ہے لیکن عرب عنقریب اس کو درست کرلیں گے۔ (ابن ابی داود، ابن الانباری)
4785- عن قتادة أن عثمان لما رفع إليه المصحف قال: "إن فيه لحنا وستقيمه العرب بألسنتها". "ابن أبي داود وابن الأنباري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4786: ۔۔۔ عن قتادہ عن نصر بن عاصم اللیثی عن عبداللہ بن فطیمہ عن یحییٰ بن یعمر کی سند سے مروی ہے کہ :

حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : قرآن میں کچھ غلطی ہے جس کو عرب عنقریب اپنی زبانوں کے ساتھ درست کرلیں گے۔ (رواہ ابن ابی داود)

عبداللہ بن فطیمہ کہتے ہیں : یہ ان لکھے ہوئے مصاحف میں سے ایک تھا۔
4786- عن قتادة عن نصر بن عاصم الليثي عن عبد الله بن فطيمة عن يحيى بن يعمر قال قال عثمان: "إن في القرآن لحنا وستقيمه العرب بألسنتها". "ابن أبي داود" وقال عبد الله بن فطيمة: هذا أحد كتاب المصاحف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4787: ۔۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) مصحف شریف دیکھا تو اس میں کچھ غلطی محسوس کرکے فرمایا : اگر لکھوانے والا قبیلہ ہذیل کا اور لکھنے والا ثقیف کا ہوتا تو یہ غلطی نہ پائی جاتی۔ ابن الانباری و ابن ابی داود۔
4787- عن عكرمة قال: لما أتي عثمان بالمصحف رأى فيه شيئا من لحن فقال: "لو كان المملي من هذيل والكاتب من ثقيف لم يوجد فيه هذا" "ابن الأنباري وابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4788: ۔۔ آل ابو طلحہ بن مصرف میں کسی سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) مصاحف کو منبر (رسول) اور قبر (رسول) کے درمیان دفن کروا دیا تھا۔ رواہ ابن ابی داود۔
4788- عن بعض آل أبي طلحة بن مصرف قال: "دفن عثمان المصاحف بين القبر والمنبر". "ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4789: ۔۔ عطاء (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے جب دوسرے مصاحف میں قرآن پاک نقل کروا دیا تو ابی بن کعب (رض) کے پاس پیغام بھیجا وہ حضرت زید بن ثابت کو قرآن کا املاء لکھواتے تھے۔ اور حضرت زید (رض) لکھتے تھے اور ان کے ساتھ حضرت سعید (رض) بن العاص اس کو واضح اعراب کے ساتھ صاف کرتے تھے۔ پس یہ مصحف حضرت ابی اور حضرت زید (رض) کی قراءت کے موافق ہے۔ ابن سعد۔
4789- عن عطاء أن عثمان بن عفان لما نسخ القرآن في المصاحف أرسل إلى أبي بن كعب، فكان يملي على زيد بن ثابت وزيد يكتب ومعه سعيد بن العاص يعربه، فهذا المصحف على قراءة أبي وزيد. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4790: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے ابی بن کعب (رض) کو املاء کرانے کا اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو لکھنے کا اور حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن حارث (رض) کو اعراب لگانے کا حکم دیا۔ ابن سعد۔

فائدہ : ۔۔ اعراب مکمل زیر زبر پیش لگانے کو نہیں کہا جاتا بلکہ اس کو تشکیل کہا جاتا ہے یعنی لفظ کو مکمل شکل دینا اور یہ کام بعد میں اموی دور میں مکمل ہوا تھا۔ جبکہ اعراب کا تعلق نحو سے ہے یعنی حروف کی آخری شکل کو واضح کرنا۔ یہ کام حضرات سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث (رض) نے انجام دیا تھا۔ (رض) وارضاہم اجمعین۔
4790- عن مجاهد أن عثمان أمر أبي بن كعب يملي ويكتب زيد بن ثابت ويعربه سعيد بن العاص وعبد الرحمن الحارث. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان غنی (رض) جامع القرآن ہیں
4791: ۔۔ سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) نے (مختلف قراءتوں کے) مصاحف شریف جلوا ڈالے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : اگر عثمان (رض) یہ کام نہ کرتے تو میں ضرور کرتا۔ (رض) اجمعین۔ ابن ابی داؤد والصابونی الماتین۔
4791- عن سويد بن غفلة قال قال علي حين حرق عثمان المصاحف "لو لم يصنعه هو لصنعته". "ابن أبي داود والصابوني في المأتين".
tahqiq

তাহকীক: