কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৭৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4752: ۔۔ حضرت صعصعہ سے مروی ہے فرمایا : سب سے پہلے جس شخص نے قرآن جمع کیا اور کلالہ کو وارث قرار دیا وہ حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ابوبکر صدیق (رض) بھی جامع القرآن ہیں
فائدہ : ۔۔ یعنی جمع قرآن کا سلسلہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں شروع ہوا۔ کلالہ کو وارث بنایا۔ کلالہ کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی شخص مرجائے اور اس کا والد ہو نہ اولاد جو اس کے مال کی وارث بن سکے۔ بلکہ اس کے قریبی رشتہ دار اس کے بن جائیں اور وہ رشتہ دار بھی کلالہ کہلائیں گے اور مرنے والا بھی اور یہ مال بھی کلالہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کلالہ کو وارث بنایا اس کا مطلب ہے ان کے زمانہ میں کوئی کلالہ شخص وفات کر گیا لہٰذا حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے دوسرے رشتہ داروں کو اس کی وراثت سونپ دی۔
یستفتگونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالہ۔ الخ۔ النساء : 176
کلالہ کے فقہی مسائل مذکورہ آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
ابوبکر صدیق (رض) بھی جامع القرآن ہیں
فائدہ : ۔۔ یعنی جمع قرآن کا سلسلہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں شروع ہوا۔ کلالہ کو وارث بنایا۔ کلالہ کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی شخص مرجائے اور اس کا والد ہو نہ اولاد جو اس کے مال کی وارث بن سکے۔ بلکہ اس کے قریبی رشتہ دار اس کے بن جائیں اور وہ رشتہ دار بھی کلالہ کہلائیں گے اور مرنے والا بھی اور یہ مال بھی کلالہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کلالہ کو وارث بنایا اس کا مطلب ہے ان کے زمانہ میں کوئی کلالہ شخص وفات کر گیا لہٰذا حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے دوسرے رشتہ داروں کو اس کی وراثت سونپ دی۔
یستفتگونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالہ۔ الخ۔ النساء : 176
کلالہ کے فقہی مسائل مذکورہ آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
4752- عن صعصة قال: "أول من جمع القرآن وورث الكلالة أبو بكر". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4753: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا : مصاحف کے اندر سب سے زیادہ اجر کے مستحق حضرت ابوبکر (رض) ہیں۔ سب سے پہلے آپ ہی نے قرآن پاک کو دو تختیوں کے درمیان جمع کیا۔ (ابن سعد، مسند ابی یعلی، ابو نعیم فی المعرفۃ، خیثمہ فی فضائل الصحابہ فی المصاحف و ابن المبارک معا بسند حسن)
4753- عن علي قال: "أعظم الناس في المصاحف أجرا أبو بكر إن أبا بكر أول من جمع بين اللوحين، وفي لفظ: أول من جمع كتاب الله". "ابن سعد ع وأبو نعيم في المعرفة وخيثمة في فضائل الصحابة في المصاحف وابن المبارك معا بسند حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4754: ۔۔ ہشام بن عروہ سے مروی ہے کہ جب اکثر قراء قرآن شہید ہوگئے تو حضرت ابوبکر (رض) کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں قرآن پاک ضائع نہ ہوجائے۔ لہٰذا انھوں نے حضرت عمر (رض) اور زید بن ثابت (رض) کو فرمایا : تم دونوں مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاؤ جو تمہارے پاس کتاب اللہ کا کوئی حصہ دو گواہوں کے ساتھ لے کر آئے اس کو لکھ لو۔ ابن ابی فی المصاحف۔
4754- عن هشام بن عروة قال: "لما استحر القتل بالقراء فرق أبو بكر على القرآن أن يضيع، فقال لعمر بن الخطاب، ولزيد بن ثابت اقعدا على باب المسجد، فمن جاءكما بشاهدين على شيء من كتاب الله فاكتباه". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4755: ۔۔ ابن شہاب روایت کرتے ہیں سالم بن عبداللہ اور خارجہ رحمہما اللہ سے کہ :
حضرت ابوبکر (رض) نے قرآن کو کاغذوں میں جمع کیا اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو اس کے دیکھنے کا حکم دیا۔ انھوں نے پہلے تو انکار کیا لیکن پھر حضرت عمر (رض) کی مدد کے ساتھ اس کام کو کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ (قرآن جمع ہونے کے بعد اس کے) اوراق حضرت ابوبکر (رض) کے پاس رہے۔ پھر ان کی وفات ہوگئی۔ آپ کے بعد وہ اوراق حضرت عمر (رض) کے پاس رہے، حضرت عمر (رض) کی وفات کے بعد وہ اوراق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ (رض) کے پاس چلے گئے۔ حضرت عثمان (رض) نے آپ (رض) سے منگوائے تو آپ نے دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عثمان (رض) نے ان کو وعدہ دیا کہ یہ اوراق ان کو واپس کردیے جائیں گے۔ تب حضرت حفصہ (رض) نے وہ اوراق حضرت عثمان (رض) کو بھیج دیے۔ آپ (رض) نے ان کو دیکھ کر قرآن پاک کے دوسرے نسخے تیار کرائے پھر اصل اوراق حضرت حفصہ کو واپس کردیے۔ اور یہ اوراق حضرت حفصہ (رض) کے پاس ہی رہے۔
امام زہری فرماتے ہیں : مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ (خلیفہ) مروان نے بارہا حضرت حفصہ (رض) کے پاس اوراق کے لیے پیغام بھجوائے جن میں قرآن لکھا ہوا تھا۔ لیکن حضرت حفصہ (رض) مسلسل انکار کرتی رہیں۔ جب حضرت حفصہ (رض) کی تدفین سے فارغ ہوئے تو مروان نے بہت تاکید اور سختی کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس پیغام بھیج کر وہ اوراق منگوائے۔ لہٰذا حضرت عبداللہ نے وہ اوراق خلیفہ مروان کو بھیج دیے۔ پھر مروان کے حکم سے ان کو پھاڑ کر شہید کردیا گیا۔ اور اس کی وجہ بیان کی کہ ان کے اوراق میں جو کچھ قرآن تھا وہ دوسرے نسخوں میں لکھ دیا گیا ہے اور اس کو حفظ بھی کرلیا گیا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ طویل زمانہ گذرنے کے بعد لوگ شک میں مبتلا ہوں گے اور کہیں گے شاید ان نسخوں میں کوئی چیز لکھنے سے رہ گئی ہے۔ رواہ ابن ابی داود۔
حضرت ابوبکر (رض) نے قرآن کو کاغذوں میں جمع کیا اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو اس کے دیکھنے کا حکم دیا۔ انھوں نے پہلے تو انکار کیا لیکن پھر حضرت عمر (رض) کی مدد کے ساتھ اس کام کو کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ (قرآن جمع ہونے کے بعد اس کے) اوراق حضرت ابوبکر (رض) کے پاس رہے۔ پھر ان کی وفات ہوگئی۔ آپ کے بعد وہ اوراق حضرت عمر (رض) کے پاس رہے، حضرت عمر (رض) کی وفات کے بعد وہ اوراق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ (رض) کے پاس چلے گئے۔ حضرت عثمان (رض) نے آپ (رض) سے منگوائے تو آپ نے دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عثمان (رض) نے ان کو وعدہ دیا کہ یہ اوراق ان کو واپس کردیے جائیں گے۔ تب حضرت حفصہ (رض) نے وہ اوراق حضرت عثمان (رض) کو بھیج دیے۔ آپ (رض) نے ان کو دیکھ کر قرآن پاک کے دوسرے نسخے تیار کرائے پھر اصل اوراق حضرت حفصہ کو واپس کردیے۔ اور یہ اوراق حضرت حفصہ (رض) کے پاس ہی رہے۔
امام زہری فرماتے ہیں : مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ (خلیفہ) مروان نے بارہا حضرت حفصہ (رض) کے پاس اوراق کے لیے پیغام بھجوائے جن میں قرآن لکھا ہوا تھا۔ لیکن حضرت حفصہ (رض) مسلسل انکار کرتی رہیں۔ جب حضرت حفصہ (رض) کی تدفین سے فارغ ہوئے تو مروان نے بہت تاکید اور سختی کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس پیغام بھیج کر وہ اوراق منگوائے۔ لہٰذا حضرت عبداللہ نے وہ اوراق خلیفہ مروان کو بھیج دیے۔ پھر مروان کے حکم سے ان کو پھاڑ کر شہید کردیا گیا۔ اور اس کی وجہ بیان کی کہ ان کے اوراق میں جو کچھ قرآن تھا وہ دوسرے نسخوں میں لکھ دیا گیا ہے اور اس کو حفظ بھی کرلیا گیا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ طویل زمانہ گذرنے کے بعد لوگ شک میں مبتلا ہوں گے اور کہیں گے شاید ان نسخوں میں کوئی چیز لکھنے سے رہ گئی ہے۔ رواہ ابن ابی داود۔
4755- عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله وخارجة "أن أبا بكر الصديق كان جمع القرآن في قراطيس، وكان قد سأل زيد بن ثابت النظر في ذلك، فأبى حتى استعان عليه بعمر، ففعل، فكانت الكتب عند أبي بكر حتى توفي، ثم عند عمر حتى توفي، ثم كانت عند حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل إليها عثمان فأبت أن تدفعها، حتى عاهدها ليردنها إليها، فبعثت بها إليه، فنسخها عثمان هذه المصاحف، ثم ردها إليها فلم تزل عندها، قال الزهري: أخبرني سالم بن عبد الله أن مروان كان يرسل إلى حفصة يسألها الصحف التي كتب فيها القرآن، فتأبى حفصة أن تعطيه إياها، فلما توفيت حفصة ورجعنا من دفنها أرسل مروان بالعزيمة إلى عبد الله بن عمر ليرسل إليه بتلك الصحف، فأرسل بها إليه عبد الله بن عمر، فأمر بها مروان فشققت، وقال مروان إنما فعلت هذا
لأن ما فيها قد كتب وحفظ بالصحف فخشيت إن طال بالناس زمان أن يرتاب في شأن هذه المصحف مرتاب أو يقول إنه قد كان فيها شيء لم يكتب". "ابن أبي داود".
لأن ما فيها قد كتب وحفظ بالصحف فخشيت إن طال بالناس زمان أن يرتاب في شأن هذه المصحف مرتاب أو يقول إنه قد كان فيها شيء لم يكتب". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4756: ۔۔ ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ جب اہل یمامہ قتل ہوگئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو حکم دیا کہ تم دونوں مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاؤ۔ پس جو شخص قرآن کا کوئی حصہ لے کر آئے اور تم اس کو انکار کرتے ہو لیکن اس پر دو گواہ پیش کردے تو تم اس کو لکھ لو۔ کیونکہ یمامہ کی جنگ میں بہت سے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو قرآن جمع کرنے والے تھے شہید ہوگئے ہیں۔ ابن سعد، مستدرک الحاکم۔
4756- عن هشام بن عروة عن أبيه قال: "لما قتل أهل اليمامة أمر أبو بكر الصديق عمر بن الخطاب وزيد بن ثابت، فقال: اجلسا على باب المسجد فلا يأتينكما أحد بشيء من القرآن تنكرانه يشهد عليه رجلان إلا أثبتماه، وذلك لأنه قتل باليمامة ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قد جمعوا القرآن". "ابن سعد ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4757: ۔۔ (مسند عمر (رض)) محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے، آپ (رح) نے فرمایا : حضرت عمر (رض) شہید ہوئے تو اس وقت تک جمع قرآن کا کام مکمل نہ ہوا تھا۔ (ابن سعد)
4757- "مسند عمر رضي الله عنه" عن محمد بن سيرين قال: "قتل عمر ولم يجمع القرآن". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4758: ۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں (لوگوں سے) پوچھا : کسی نے کہا : وہ تو فلاں شخص کے پاس تھی جو جنگ یمامہ میں شہید ہوگئے۔ حضرت عمر (رض) نے انا للہ پڑھی اور قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا۔ پس مصحف (یعنی نسخے) میں سب سے پہلے حضرت عمر (رض) نے ہی قرآن جمع کرایا۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
فائدہ : ۔۔ اس آیت کے متعلق حضرت عمر (رض) کا دریافت فرمانا اور پھر صحابہ کو اس کا علم نہ ہونا کہ فلاں کے پاس ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان حضرات کو وہ آیت یاد تھی۔ شہید ہونے والے صحابی کے پاس کسی شئی پر لکھی ہوئی تھی۔ اس لیے یہ منفی خیال مسترد ہے کہ جب وہ صحابی شہید ہوگئے تو پھر وہ آیت ضائع ہوگئی اور قرآن میں نہیں لکھی گئی۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دور صدیقی میں جمع قرآن کا کام مکمل نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ اس روایت سے گزشتہ روایت میں محمد بن سیرین (رح) نے وضاحتا ارشاد فرما دیا۔
فائدہ : ۔۔ اس آیت کے متعلق حضرت عمر (رض) کا دریافت فرمانا اور پھر صحابہ کو اس کا علم نہ ہونا کہ فلاں کے پاس ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان حضرات کو وہ آیت یاد تھی۔ شہید ہونے والے صحابی کے پاس کسی شئی پر لکھی ہوئی تھی۔ اس لیے یہ منفی خیال مسترد ہے کہ جب وہ صحابی شہید ہوگئے تو پھر وہ آیت ضائع ہوگئی اور قرآن میں نہیں لکھی گئی۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دور صدیقی میں جمع قرآن کا کام مکمل نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ اس روایت سے گزشتہ روایت میں محمد بن سیرین (رح) نے وضاحتا ارشاد فرما دیا۔
4758- عن الحسن أن عمر بن الخطاب سأل عن آية من كتاب الله فقيل "كانت مع فلان وقتل يوم اليمامة" فقال: "إنا لله، وأمر بالقرآن فجمع، فكان أول من جمعه في المصحف". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4759: ۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے قرآن جمع کرنے کا ارادہ کیا۔ لہٰذا آپ لوگوں کے بیچ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن کا کچھ حصہ حاصل کیا ہو وہ اس کو لے کر ہمارے پاس آجائے۔
لوگوں نے قرآن پاک کاغذوں، تختیوں اور ہڈیوں وغیرہ پر لکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمر (رض) نے کسی سے کوئی آیت یا سورت وغیرہ اس وقت تک قبول نہ فرماتے تھے۔ جب تک وہ اس پر دو گواہ پیش نہ کردے۔ لیکن ہنوز یہ کام تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ آپ (رض) کی شہادت ہوگئی۔ پھر حضرت عثمان (رض) (اپنی خلافت میں) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : جس کے پاس کتاب اللہ کی کوئی چیز ہو وہ اسے لے کر ہمارے پاس آجائے۔ حضرت عثمان (رض) بھی کسی سے کوئی چیز قبول نہ فرماتے تھے تاوقتیکہ وہ اس پر دو گواہ پیش کردے۔ آخر میں حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) آئے اور حضرت عثمان (رض) کو عرض کیا : میں دیکھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے دو آیتیں لکھنے سے چھوڑ دی ہیں۔ (حضرت عثمان (رض) اور ان کے لکھنے والے رفقاء نے) کہا : وہ کونسی دو آیتیں ہیں ؟ خزیمہ نے عرض کیا :
لقد جاء کم رسول من انفسکم الی آخر السورۃ۔ براءت۔
حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں تمہارا کیا خیال ہے قرآن کے کے کس حصے میں ان کو رکھیں (جہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو رکھتے ہوں) خزیمہ (رض) نے عرض کیا : آپ کسی بھی سورت کے آخر میں ان کو رکھ دیں۔ چنانچہ سورة برأت کے آخر میں ان دو آیت کو رکھ دیا۔ ابن ابی داؤد ، ابن عساکر۔
لوگوں نے قرآن پاک کاغذوں، تختیوں اور ہڈیوں وغیرہ پر لکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمر (رض) نے کسی سے کوئی آیت یا سورت وغیرہ اس وقت تک قبول نہ فرماتے تھے۔ جب تک وہ اس پر دو گواہ پیش نہ کردے۔ لیکن ہنوز یہ کام تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ آپ (رض) کی شہادت ہوگئی۔ پھر حضرت عثمان (رض) (اپنی خلافت میں) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : جس کے پاس کتاب اللہ کی کوئی چیز ہو وہ اسے لے کر ہمارے پاس آجائے۔ حضرت عثمان (رض) بھی کسی سے کوئی چیز قبول نہ فرماتے تھے تاوقتیکہ وہ اس پر دو گواہ پیش کردے۔ آخر میں حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) آئے اور حضرت عثمان (رض) کو عرض کیا : میں دیکھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے دو آیتیں لکھنے سے چھوڑ دی ہیں۔ (حضرت عثمان (رض) اور ان کے لکھنے والے رفقاء نے) کہا : وہ کونسی دو آیتیں ہیں ؟ خزیمہ نے عرض کیا :
لقد جاء کم رسول من انفسکم الی آخر السورۃ۔ براءت۔
حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں تمہارا کیا خیال ہے قرآن کے کے کس حصے میں ان کو رکھیں (جہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو رکھتے ہوں) خزیمہ (رض) نے عرض کیا : آپ کسی بھی سورت کے آخر میں ان کو رکھ دیں۔ چنانچہ سورة برأت کے آخر میں ان دو آیت کو رکھ دیا۔ ابن ابی داؤد ، ابن عساکر۔
4759- عن يحيي بن عبد الرحمن بن حاطب قال: "أراد عمر بن الخطاب أن يجمع القرآن، فقام في الناس، فقال: من كان تلقى من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا من القرآن فليأتنا به، وكانوا كتبوا ذلك في الصحف والألواح والعسب، وكان لا يقبل من أحد شيئا حتى يشهد شاهدان
فقتل وهو يجمع ذلك، فقام عثمان فقال من كان عنده من كتاب الله شيء، فليأتنا به، وكان لا يقبل من ذلك شيئا حتى يشهد عليه شاهدان فجاء خزيمة بن ثابت، فقال: قد رأيتكم تركتم آيتين لم تكتبوهما، قالوا: ما هما؟ قال: تلقيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} إلى آخر السورة، فقال عثمان: "وأنا أشهد أنهما من عند الله فأين ترى أن نجعلهما؟ " قال: "اختم بهما آخر مانزل من القرآن، فختم بها براءة". "ابن أبي داود كر".
فقتل وهو يجمع ذلك، فقام عثمان فقال من كان عنده من كتاب الله شيء، فليأتنا به، وكان لا يقبل من ذلك شيئا حتى يشهد عليه شاهدان فجاء خزيمة بن ثابت، فقال: قد رأيتكم تركتم آيتين لم تكتبوهما، قالوا: ما هما؟ قال: تلقيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} إلى آخر السورة، فقال عثمان: "وأنا أشهد أنهما من عند الله فأين ترى أن نجعلهما؟ " قال: "اختم بهما آخر مانزل من القرآن، فختم بها براءة". "ابن أبي داود كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4760: ۔۔ عبداللہ بن فضالہ سے مروی ہے فرماتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) نے قرآن پاک لکھنے کا ارادہ فرمایا تو چند اصحاب کو اس پر مامور کرکے فرمایا : جب تمہارا لغت میں اختلاف ہوجائے تو لغت مضر میں اس کو لکھو، کیونکہ قرآن مضر ہی کے ایک شخص پر نازل ہوا تھا۔ (رواہ ابن ابی داود)
فائدہ : ۔۔ مضر اور ربیعہ عرب کے دو بڑے قبیلے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعلق رکھتے تھے۔
فائدہ : ۔۔ مضر اور ربیعہ عرب کے دو بڑے قبیلے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعلق رکھتے تھے۔
4760- عن عبد الله بن فضالة، قال "لما أراد عمر أن يكتب الإمام أقعد له نفرا من أصحابه" فقال "إذا اختلفتم في اللغة فاكتبوها بلغة مضر فإن القرآن نزل على رجل من مضر". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4761: ۔۔ جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ہمارے ان مصاحف میں (قرآن پاک کا) املاء قریش کے جوان کروائیں یا پھر ثقیف کے جوان۔ (ابو عبید فی فضائلہ ابن ابی داود)
نوٹ : ۔۔ 3106 پر یہی روایت گذر چکی ہے۔
نوٹ : ۔۔ 3106 پر یہی روایت گذر چکی ہے۔
4761- عن جابر بن سمرة قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: "لا يملين في مصاحفنا هذه إلا غلمان قريش أو غلمان ثقيف". "أبو عبيد في فضائله وابن داود". ومر برقم [3106] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4762: ۔۔ سلیمان بن ارقم روایت کرتے ہیں حسن، ابن سیرین اور ابن شہاب (الزہری) سے اور زہری ان میں سب سے زیادہ حدیث جاننے والے تھے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں :
جنگ یمامہ میں چار سو قراء شہید ہوئے
جنگ یمامہ میں جب قراء قرآن قتل ہوگئے جو لگ بھگ چار سو افراد تھے تو حضرت زید بن ثابت (رض) حضرت عمر (رض) سے ملے اور ان کو عرض کیا : یہ قرآن ہمارے دین کو جمع کرنے والا ہے، اگر یہ قرآن ہی ضائع ہوگیا تو ہمارا دین ہی ضائع ہوجائے گا۔ لہٰذا میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ پورا قرآن ایک کتاب میں جمع کردوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اچھا انتظار کرو میں ابوبکر (رض) سے پوچھتا ہوں۔ چنانچہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں پہنچے اور ان کو اس خیال سے اگاہ کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم دونوں عجلت نہ کرو۔ حتی کہ میں مسلمانوں سے مشورہ کرلوں۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمانے کے واسطے کھڑے ہوئے اور ان کو اس بات کی اہمیت روشناس کرائی۔ لوگوں نے کہا : آپ نے ٹھیک سوچا ہے۔ چنانچہ جمع قرآن کا کام شروع ہوا۔ اور حضرت ابوبکر (رض) نے اعلان کردیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہو وہ لے آئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ بنت عمر (رض) فرمانے لگیں : جب تم اس آیت : حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی تک پہنچوں تو مجھے خبر دیدینا۔ جب وہ لکھتے لکھتے اس مقام پر پہنچے تو (انہوں نے حفصہ (رض) کو خبر دی) حضرت حفصہ نے فرمایا : لکھو : والصلاۃ الوسطی وھی صلوۃ العصر۔ یعنی درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی حفصہ کو فرمایا : کیا تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے ؟ حفصہ نے عرض کیا : نہیں۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :
اللہ کی قسم ایسی کوئی چیز قرآن میں داخل نہیں کی جائے گی، جس پر ایک عورت شہادت دے اور وہ بھی بغیر دلیل کے۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : لکھو :
والعصر ان الانسان لفی خسر وانہ فیہ الی آخر الدھر۔
قسم زمانہ کی انسان خسارے میں ہیں۔ العصر۔
اور وہ اس آخر زمانہ تک مبتلا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس عربی دیہاتیت کو ہم سے دور رکھو۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
فائدہ : ۔۔ یہ حضرات تفسیر نکات کو قرآن پاک میں لکھوانا چاہتے تھے، جس پر حضرت عمر (رض) نے سختی سے تردید فرمائی۔ (رض) اجمعین۔
جنگ یمامہ میں چار سو قراء شہید ہوئے
جنگ یمامہ میں جب قراء قرآن قتل ہوگئے جو لگ بھگ چار سو افراد تھے تو حضرت زید بن ثابت (رض) حضرت عمر (رض) سے ملے اور ان کو عرض کیا : یہ قرآن ہمارے دین کو جمع کرنے والا ہے، اگر یہ قرآن ہی ضائع ہوگیا تو ہمارا دین ہی ضائع ہوجائے گا۔ لہٰذا میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ پورا قرآن ایک کتاب میں جمع کردوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اچھا انتظار کرو میں ابوبکر (رض) سے پوچھتا ہوں۔ چنانچہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں پہنچے اور ان کو اس خیال سے اگاہ کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم دونوں عجلت نہ کرو۔ حتی کہ میں مسلمانوں سے مشورہ کرلوں۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمانے کے واسطے کھڑے ہوئے اور ان کو اس بات کی اہمیت روشناس کرائی۔ لوگوں نے کہا : آپ نے ٹھیک سوچا ہے۔ چنانچہ جمع قرآن کا کام شروع ہوا۔ اور حضرت ابوبکر (رض) نے اعلان کردیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہو وہ لے آئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ بنت عمر (رض) فرمانے لگیں : جب تم اس آیت : حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی تک پہنچوں تو مجھے خبر دیدینا۔ جب وہ لکھتے لکھتے اس مقام پر پہنچے تو (انہوں نے حفصہ (رض) کو خبر دی) حضرت حفصہ نے فرمایا : لکھو : والصلاۃ الوسطی وھی صلوۃ العصر۔ یعنی درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی حفصہ کو فرمایا : کیا تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہے ؟ حفصہ نے عرض کیا : نہیں۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :
اللہ کی قسم ایسی کوئی چیز قرآن میں داخل نہیں کی جائے گی، جس پر ایک عورت شہادت دے اور وہ بھی بغیر دلیل کے۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : لکھو :
والعصر ان الانسان لفی خسر وانہ فیہ الی آخر الدھر۔
قسم زمانہ کی انسان خسارے میں ہیں۔ العصر۔
اور وہ اس آخر زمانہ تک مبتلا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس عربی دیہاتیت کو ہم سے دور رکھو۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
فائدہ : ۔۔ یہ حضرات تفسیر نکات کو قرآن پاک میں لکھوانا چاہتے تھے، جس پر حضرت عمر (رض) نے سختی سے تردید فرمائی۔ (رض) اجمعین۔
4762- عن سليمان بن أرقم عن الحسن وابن سيرين وابن شهاب وكان الزهري أشبعهم حديثا قالوا: "لما أسرع القتل في قراء القرآن يوم اليمامة قتل منهم يومئذ أربعمائة رجل لقي زيد بن ثابت عمر بن الخطاب فقال له: إن هذا القرآن هو الجامع لديننا، فإن ذهب القرآن ذهب ديننا وقد
عزمت أن أجمع القرآن في كتاب، فقال له "انتظر حتى أسأل أبا بكر فمضيا إلى أبي بكر فأخبراه بذلك" فقال "لا تعجلا حتى أشاور المسلمين، ثم قام خطيبا في الناس، فأخبرهم بذلك فقالوا: أصبت، فجمعوا القرآن وأمر أبو بكر مناديا، فنادى في الناس من كان عنده شيء من القرآن فليجيء به" فقالت حفصة: "إذا انتهيتم إلى هذه الآية فأخبروني": {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فلما بلغوها قالت: "اكتبوا والصلاة الوسطى وهي صلاة العصر" فقال لها عمر: "ألك بهذه بينة؟ قالت: لا" قال: "فوالله لا يدخل في القرآن ما تشهد به امرأة بلا إقامة بينة" وقال عبد الله بن مسعود:"اكتبوا {وَالْعَصْرِ إِنَّ الْأِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ} وإنه فيه إلى آخر الدهر، فقال عمر: "نحوا عنا هذه الأعرابية". "ابن الأنباري في المصاحف".
عزمت أن أجمع القرآن في كتاب، فقال له "انتظر حتى أسأل أبا بكر فمضيا إلى أبي بكر فأخبراه بذلك" فقال "لا تعجلا حتى أشاور المسلمين، ثم قام خطيبا في الناس، فأخبرهم بذلك فقالوا: أصبت، فجمعوا القرآن وأمر أبو بكر مناديا، فنادى في الناس من كان عنده شيء من القرآن فليجيء به" فقالت حفصة: "إذا انتهيتم إلى هذه الآية فأخبروني": {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فلما بلغوها قالت: "اكتبوا والصلاة الوسطى وهي صلاة العصر" فقال لها عمر: "ألك بهذه بينة؟ قالت: لا" قال: "فوالله لا يدخل في القرآن ما تشهد به امرأة بلا إقامة بينة" وقال عبد الله بن مسعود:"اكتبوا {وَالْعَصْرِ إِنَّ الْأِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ} وإنه فيه إلى آخر الدهر، فقال عمر: "نحوا عنا هذه الأعرابية". "ابن الأنباري في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4763: ۔۔ محمد بن سیف سے مروی ہے میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا : کہ یہ کیسا قران ہے جس میں نقطے لگے ہوئے ہیں ؟ فرمایا : کیا تم کو عمر بن خطاب کا مراسلہ نہیں پہنچا کہ دین میں فقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کرو، خوب کی تعبیر اچھی دو ، اور عربیت سیکھو۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن ابی داود)
جمع قرآن میں احتیاط اور اہتمام
فائدہ : ۔۔۔ پہلے جن مختلف چیزوں پر قرآن لکھا ہوا تھا اس قرآن میں نقطوں کے ساتھ الفاظ کی شکل نہ تھی۔ پھر جمع قرآن کے دوران الفاظ کو نقطوں کے ساتھ لکھا گیا اسی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ قرآن کا املاء قریشی یا ثقیفی نوجوان کروائی۔ لیکن اس جمع قرآن میں بھی نقطے تو لگا دیے گئے تھے لیکن اعراب (زبر زیر) وغیرہ نہیں تے بعد میں اموی دور میں حجاج بن یوسف کی زیر نگرانی اعراب کا کام تکمیل کو پہنچا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جمع قرآن میں احتیاط اور اہتمام
فائدہ : ۔۔۔ پہلے جن مختلف چیزوں پر قرآن لکھا ہوا تھا اس قرآن میں نقطوں کے ساتھ الفاظ کی شکل نہ تھی۔ پھر جمع قرآن کے دوران الفاظ کو نقطوں کے ساتھ لکھا گیا اسی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ قرآن کا املاء قریشی یا ثقیفی نوجوان کروائی۔ لیکن اس جمع قرآن میں بھی نقطے تو لگا دیے گئے تھے لیکن اعراب (زبر زیر) وغیرہ نہیں تے بعد میں اموی دور میں حجاج بن یوسف کی زیر نگرانی اعراب کا کام تکمیل کو پہنچا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4763- عن محمد بن سيف قال: "سألت الحسن عن المصحف ينقط بالعربية؟ " قال: "أو ما بلغك كتاب عمر بن الخطاب أن تفقهوا في الدين، وأحسنوا عبارة الرؤيا، وتعلموا العربية". "أبو عبيد في فضائله وابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4764: ۔۔ خزیمہ بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ میں لقد جاء کم رسول من انفسکم الی آخر السورۃ آیت لے کر حضرت عمر (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس پہنچا۔ حضرت زید نے پوچھا تمہارے ساتھ اور گواہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں، اللہ کی قسم ! اور کوئی گواہ مجھے نہیں معلوم۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ان کے ساتھ اس پر شہادت دیتا ہوں۔ (اور اس پر گواہ بنتا ہوں) ۔
4764- عن خزيمة بن ثابت قال: "جئت بهذه الآية: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} إلى عمر بن الخطاب وإلى زيد بن ثابت؟ " فقال زيد "من يشهد معك؟ قلت لا والله ما أدري" فقال عمر: "أنا أشهد معه على ذلك". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4765: ۔۔ محمد بن کعب قرظی (رح) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں پانچ انصاری صحابہ نے قرآن جمع کیا : معاذ بن جبل، عبادۃ بن صامت، ابی بن کعب، ابو ایوب اور ابو الدرداء (رض) اجمعین۔ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا دور مبارک آیا تو یزید بن ابی سفیان نے حضرت عمر (رض) کو لکھا :
اہل شام بہت زیادہ ہوگئے ہیں، ان کی آل اولاد بھی کثیر ہوگئی ہے اور یہ لوگ تمام شہروں میں بھر گئے ہیں اور ان کو ایسے لوگوں کی اشد ضرورتے جو ان کو قرآن کی تعلیم دیں۔ لہٰذا اے امیر المومنین ایسے لوگوں کے ساتھ ان کی مدد فرمائیں جو ان کو قرآن وغیرہ کی تعلیم دیں۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان مذکورہ پانچ افراد کو بلایا۔ اور فرمایا : تمہارے شامی بھائیوں نے مجھ سے مدد مانگی ہے کہ میں ان کو قرآن سکھانے کے اور دین کی تعلیم دینے کے لیے کچھ افراد مہیا کروں۔
لہذا اللہ تم پر رحم کرے تم میں سے تین افراد اس کام میں میری مدد کریں۔ اگر تم چاہو تو قرعہ اندازی کرلو اور اگر چاہو تو خوشی سے تین افراد نکل پڑو۔ ان حضرات نے جواب دیا : ہم قرعہ اندازی نہیں کرتے۔ یہ ایوب (رض) تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور یہ ابی بن کعب (رض) بیمار ہیں لہٰذا معاذ بن جبل، عبادۃ بن صامت اور ابو الدرداء (رض) نکلنے پر آمادہ ہوگئے۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : حمص کے شہر سے ابتداء کرو۔ تم لوگوں کو مختلف طبیعتوں پر پاؤگے کچھ لوگ تو جلد تعلیم سمجھنے والے ہوں گے، پس جب تم دیکھو کہ لوگ آسانی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو ایک شخص ان کے پاس ٹھہر جائے اور ایک دمشق نکل جائے اور دوسرا فلسطین نکل جائے۔
چنانچہ یہ تین حضرات حمص تشریف لائے۔ اور اتنا عرصہ وہاں رہے کہ ان لوگوں کی تعلیم پر اطمینان ہوگیا پھر حضرت عبادہ (رض) تو وہیں ٹھہر گئے اور ابو الدرداء (رض) دمشق کی طرف نکل گئے۔ اور حضرت معاذ (رض) فلسطین کوچ کرگئے۔ بعد میں حضرت معاذ (رض) وہیں عمواس کے طاعون میں وفات پا گئے۔ عبادہ (رض) (جو حمص میں تھے حضرت معاذ کی وفات کے بعد) فلسطین گئے اور وہیں وفات پائی اور حضرت ابو الدرداء (رض) دمشق ہی رہے اور وہیں وفات پائی۔ ابن سعد، مستدرک الحاکم۔
اہل شام بہت زیادہ ہوگئے ہیں، ان کی آل اولاد بھی کثیر ہوگئی ہے اور یہ لوگ تمام شہروں میں بھر گئے ہیں اور ان کو ایسے لوگوں کی اشد ضرورتے جو ان کو قرآن کی تعلیم دیں۔ لہٰذا اے امیر المومنین ایسے لوگوں کے ساتھ ان کی مدد فرمائیں جو ان کو قرآن وغیرہ کی تعلیم دیں۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان مذکورہ پانچ افراد کو بلایا۔ اور فرمایا : تمہارے شامی بھائیوں نے مجھ سے مدد مانگی ہے کہ میں ان کو قرآن سکھانے کے اور دین کی تعلیم دینے کے لیے کچھ افراد مہیا کروں۔
لہذا اللہ تم پر رحم کرے تم میں سے تین افراد اس کام میں میری مدد کریں۔ اگر تم چاہو تو قرعہ اندازی کرلو اور اگر چاہو تو خوشی سے تین افراد نکل پڑو۔ ان حضرات نے جواب دیا : ہم قرعہ اندازی نہیں کرتے۔ یہ ایوب (رض) تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور یہ ابی بن کعب (رض) بیمار ہیں لہٰذا معاذ بن جبل، عبادۃ بن صامت اور ابو الدرداء (رض) نکلنے پر آمادہ ہوگئے۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : حمص کے شہر سے ابتداء کرو۔ تم لوگوں کو مختلف طبیعتوں پر پاؤگے کچھ لوگ تو جلد تعلیم سمجھنے والے ہوں گے، پس جب تم دیکھو کہ لوگ آسانی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو ایک شخص ان کے پاس ٹھہر جائے اور ایک دمشق نکل جائے اور دوسرا فلسطین نکل جائے۔
چنانچہ یہ تین حضرات حمص تشریف لائے۔ اور اتنا عرصہ وہاں رہے کہ ان لوگوں کی تعلیم پر اطمینان ہوگیا پھر حضرت عبادہ (رض) تو وہیں ٹھہر گئے اور ابو الدرداء (رض) دمشق کی طرف نکل گئے۔ اور حضرت معاذ (رض) فلسطین کوچ کرگئے۔ بعد میں حضرت معاذ (رض) وہیں عمواس کے طاعون میں وفات پا گئے۔ عبادہ (رض) (جو حمص میں تھے حضرت معاذ کی وفات کے بعد) فلسطین گئے اور وہیں وفات پائی اور حضرت ابو الدرداء (رض) دمشق ہی رہے اور وہیں وفات پائی۔ ابن سعد، مستدرک الحاکم۔
4765- عن محمد بن كعب القرظي، قال: "جمع القرآن في زمان النبي صلى الله عليه وسلم خمسة من الأنصار: معاذ بن جبل، وعبادة بن الصامت، وأبي بن كعب، وأبو أيوب، وأبو الدرداء، فلما كان زمان عمر بن الخطاب كتب إليه يزيد بن أبي سفيان، إن أهل الشام قد كثروا وربلوا1 وملأوا المدائن، واحتاجوا إلى من يعلمهم القرآن، ويفقههم فأعن يا أمير المؤمنين برجال يعلمونهم، فدعا عمر أولئك الخمسة، فقال لهم: "إن إخوانكم من أهل الشام قد استعانوني بمن يعلمهم القرآن ويفقههم في الدين، فأعينوني رحمكم الله بثلاثة منكم، إن أحببيم، فاستهموا، وإن انتدب منكم ثلاثة فليخرجوا، فقالوا: ما كنا لنساهم، هذا شيخ كبير لأبي أيوب، وأما هذا فسقيم لأبي بن كعب، فخرج معاذ بن جبل وعبادة وأبو الدرداء، فقال عمر ابدؤا بحمص، فإنكم ستجدون الناس على وجوه مختلفة، منهم من يلقن2 فاذا رأيتم ذلك فوجهوا إليه طائفة من الناس فإذا رضيتم منهم فليقم بها واحد، وليخرج واحد إلى دمشق، والآخر إلى فلسطين، فقدموا حمص، فكانوا بها حتى إذا رضوا من الناس أقام بها عبادة، ورجع أبو الدرداء إلى دمشق، ومعاذ إلى فلسطين، فأما معاذ فمات عام طاعون عمواس، وأما عبادة فسار بعد إلى فلسطين فمات بها وأما أبو الدرداء فلم يزل بدمشق حتى مات. "ابن سعد ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4766: ۔۔ یحییٰ بن جعدہ (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کتاب اللہ کی کوئی آیت قبول نہ فرماتے تھے جب تک اس پر دو شاہد شاہدی نہ دیدیں۔ چنانچہ ایک انصاری (صحابی) دو آیات لے کر آئے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : میں تم سے اس پر تمہارے علاوہ کسی اور کی شاہدی کا سوال نہیں کروں گا۔
لقد جاء کم رسول من انفسکم سے آخرت سورت تک۔ براءت۔ مستدرک الحاکم۔
لقد جاء کم رسول من انفسکم سے آخرت سورت تک۔ براءت۔ مستدرک الحاکم۔
4766- عن يحيي بن جعدة، قال: "كان عمر لا يقبل آية من كتاب الله حتى يشهد عليها شاهدان، فجاء رجل من الأنصار بآيتين" فقال عمر: "لا أسألك عليها شاهدا غيرك {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} إلى آخر السورة"."ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4767: ابو اسحاق اپنے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے قرآن جمع کرنے کا کام شروع فرمایا تو پوچھا : اعرب الناس (سب سے زیادہ فصیح اللسان) کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا سعید بن الع اس (رض) ۔ پھر پوچھا : اکتب الناس (سب سے زیادہ اچھا لکھنے والا) کون شخص ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : زید بن ثابت (رض)۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حکم فرمایا کہ سعید املاء (بولتے) جائیں اور زید لکھتے جائیں۔ پھر ان حضرات نے چار مصاحف (قرآن پاک کے چار نسخے) لکھے۔ ایک کوفہ بھیجا گیا، ایک بصرہ، ایک شام اور ایک حجاز مقدس میں رکھا گیا۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
4767- عن أبي إسحاق عن بعض أصحابه قال: "لما جمع عمر بن الخطاب المصحف سأل عمر من أعرب الناس؟ قيل سعيد بن العاص، فقال: "من أكتب الناس؟ فقيل زيد بن ثابت" قال: "فليمل سعيد وليكتب زيد، فكتبوا مصاحف أربعة، فأنفذ مصحفا منها إلى الكوفة ومصحفا إلى البصرة ومصحفا إلى الشام ومصحفا إلى الحجاز". "ابن الأنباري في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4768: ۔۔ اسماعیل بن عیاش عن عمر بن محمد بن زید عن ابیہ۔ عیاش کہتے ہیں انصاری لوگ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہم ایک مصحف میں قرآن پاک جمع کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا تمہاری قوم کی زبان میں کچھ غلطی ہے اور مجھے ناپسند ہے کہ تم قرآن میں کوئی غلطی کر بیٹھو حالانکہ حضرت ابی (رض) ان کے اوپر تھے۔
فائدہ : ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ابی (رض) ہم میں بڑے قاری ہیں لیکن ابی کی لحن (غلطی) کی وجہ سے ہم ان کو چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے قرآن حاصل کیا ہے۔ صحیح البخاری 6/230
فائدہ : ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ابی (رض) ہم میں بڑے قاری ہیں لیکن ابی کی لحن (غلطی) کی وجہ سے ہم ان کو چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے قرآن حاصل کیا ہے۔ صحیح البخاری 6/230
4768- حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمر بن محمد بن زيد عن أبيه أن الأنصار جاؤوا إلى عمر بن الخطاب، فقالوا: يا أمير المؤمنين نجمع القرآن في مصحف واحد؟ فقال: "إنكم أقوام في ألسنتكم لحن وأنا أكره أن تحدثوا في القرآن لحنا وأبي عليهم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4769: ۔۔ زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے : ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے :
الشیخ و الشیخۃ فارجموھا۔
خلیفہ مروان نے حضرت زید (رض) کو کہا : اے زید ! کیا ہم اس کو (قرآن پاک میں) نہ لکھ لیں ؟ فرمایا : نہیں۔ کیونکہ ہمارے درمیان بھی اس پر بات چیت ہوئی تھی ہمارے ساتھ حضرت عمر (رض) بھی تھے۔ انھوں نے فرمایا میں تمہاری حاجت پوری کردیتا ہوں۔ ہم نے پوچھا : وہ کیسے ؟ فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس کے متعلق پوچھتا ہوں۔ لہٰذا انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آیۃ الرجم لکھوا دیکھیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرمادیا اور فرمایا : میں اب ایسا نہیں کرسکتا۔ (العدنی، نسائی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
الشیخ و الشیخۃ فارجموھا۔
خلیفہ مروان نے حضرت زید (رض) کو کہا : اے زید ! کیا ہم اس کو (قرآن پاک میں) نہ لکھ لیں ؟ فرمایا : نہیں۔ کیونکہ ہمارے درمیان بھی اس پر بات چیت ہوئی تھی ہمارے ساتھ حضرت عمر (رض) بھی تھے۔ انھوں نے فرمایا میں تمہاری حاجت پوری کردیتا ہوں۔ ہم نے پوچھا : وہ کیسے ؟ فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس کے متعلق پوچھتا ہوں۔ لہٰذا انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آیۃ الرجم لکھوا دیکھیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرمادیا اور فرمایا : میں اب ایسا نہیں کرسکتا۔ (العدنی، نسائی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4769- عن زيد بن ثابت قال: قد كنا نقرأ: "الشيخ والشيخة فارجموهما البتة" فقال له مروان "يا زيد أفلا نكتبها؟ " قال: لا، ذكرنا ذلك وفينا عمر فقال: "أسعفكم، قلنا وكيف ذلك؟ قال آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأذكر ذلك، فذكر آية الرجم، فقال يا رسول الله اكتبني آية الرجم فأبى، وقال: لا أستطيع الآن". "العدني ن ك ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4770: ۔۔۔ (مسند عثمان (رض) ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے عرض کیا : تم نے سورة انفال جو سو سے کم آیات والی ہے اور سورة توبہ جو سو سے اوپر والی ہے دونوں کو باہم ملا دیا ؟ اور دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی ؟ اور یوں ان دونوں کو السبع الطوال (سات بڑی سورتوں) میں سے ایک کردیا۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا :
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مختلف تعداد کی آیات پر مشتمل سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں جب آپ پر کوئی بھی آیت نازل ہوئی ہوتی تھی آپ کسی کاتب کو بلاتے اور فرماتے اس کو فلاں سورت میں جس میں ان ان چیزوں کا بیان ہے رکھ دو ۔ اسی طرح زیادہ آیات نازل ہوتی تب بھی کسی کو بلاتے اور فرماتے ان کو فلاں فلاں مضمون والی سورت میں رکھ دو ۔ سورة انفال مدینہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سب سے پہلی سورت تھی۔ اور سورة برأت قرآن میں آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے تھی۔
سورة برأت کے مضامین بھی سورة انفال کے مشابہ تھے۔ لہٰذا میں سمجھا کہ برأت بھی انفال کا حصہ ہے۔ اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور آپ نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس کا تعلق انفال سے ہے۔ اس وجہ سے میں نے دونوں کو ملا دیا اور دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی نہیں لکھی۔ اور ان دونوں کو (ایک کرکے ) سات بڑی سورتوں میں شامل کردیا۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن المنذر، ابن ابی داود، ابن الانباری، معافی المصاحف، انحاس فی ناسخہ، صحیح ابن حبان، ابو نعیم فی المعرفۃ ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مختلف تعداد کی آیات پر مشتمل سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں جب آپ پر کوئی بھی آیت نازل ہوئی ہوتی تھی آپ کسی کاتب کو بلاتے اور فرماتے اس کو فلاں سورت میں جس میں ان ان چیزوں کا بیان ہے رکھ دو ۔ اسی طرح زیادہ آیات نازل ہوتی تب بھی کسی کو بلاتے اور فرماتے ان کو فلاں فلاں مضمون والی سورت میں رکھ دو ۔ سورة انفال مدینہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سب سے پہلی سورت تھی۔ اور سورة برأت قرآن میں آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے تھی۔
سورة برأت کے مضامین بھی سورة انفال کے مشابہ تھے۔ لہٰذا میں سمجھا کہ برأت بھی انفال کا حصہ ہے۔ اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور آپ نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس کا تعلق انفال سے ہے۔ اس وجہ سے میں نے دونوں کو ملا دیا اور دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی نہیں لکھی۔ اور ان دونوں کو (ایک کرکے ) سات بڑی سورتوں میں شامل کردیا۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن المنذر، ابن ابی داود، ابن الانباری، معافی المصاحف، انحاس فی ناسخہ، صحیح ابن حبان، ابو نعیم فی المعرفۃ ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4770- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: "قلت لعثمان ابن عفان ما حملكم على أن عمدتم إلى الأنفال وهي من المثاني وإلى براءة وهي من المئين، فقرنتم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطر {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ووضعتموهما في السبع الطوال ما حملكم على ذلك؟ فقال عثمان "ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مما يأتي عليه الزمان تنزل عليه السور ذوات العدد، وكان إذا نزل عليه الشيء يدعو بعض من يكتب عنده، فيقول ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا، وتنزل عليه الآيات فيقول ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا، وكانت الأنفال من أول ما أنزل بالمدينة وكانت براءة من آخر القرآن نزولا، وكانت قصتها شبيهة بقصتها، فظننت أنها منها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها، فمن أجل ذلك قرنت بينهما، ولم أكتب بينهما سطر {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ووضعتهما في السبع الطوال". "أبو عبيد في فضائله ش حم د ت ن ابن المنذر وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف والنحاس في ناسخه حب وأبو نعيم في المعرفة وابن مردويه ك ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات کی ترتیب توفیقی ہے
4771: ۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں سورة انفال اور سورة توبہ کو قریتین (دو ساتھی) کا نام دیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے میں نے ان دونوں کو (ایک کرکے) سات بڑی سورتوں میں شامل کردیا۔ (ابو جعفر النحاس فی ناسخہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور)
4771- عن عثمان بن عفان، قال "كانت الأنفال وبراءة يدعيان في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم القرينتين، فلذلك جعلتهما في السبع الطوال". "أبو جعفر النحاس في ناسخه ك ق ص".
তাহকীক: