কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تبت
4732: ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں : میں مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سائے میں میرے سامنے تشریف فرما تھے۔ ابو لہب کی بیوی جمیل بنت حرب بن امیہ آئی اس کے پاس دو پتھر بھی تھے۔

ابولہب کی بیوی ام جمیل کی ایذا رسانی

ام جمیل نے مجھ سے پوچھا : کہاں ہے وہ شخص جس نے میری اور میرے شوہر کی برائی کی ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر میں اس کو دیکھ لوں تو ان دونوں پتھروں کے ساتھ اس کے خصیے پیس ڈالوں گی۔ (وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پوچھ رہی تھی) اور اس سے پہلے سورة لہب تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تھی (جس میں ابولہب اور اس کی بیوی ہر لعنت کی گئی تھی) آخر کار میں نے اس کو کہا اے ام جمیل ؟ اللہ کی قسم ! اس نے تیری برائی کی ہے اور نہ تیرے شوہر کی۔ ام جمیل بولی : اللہ کی قسم ! تو جھوٹا نہیں ہے۔ ویسے لوگ یہ کہہ رہے تھے۔ پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلی گئی۔ میں نے (اس کے جانے کے بعد) عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس نے آپ کو دیکھا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان جبرائیل (علیہ السلام) حائل ہوگئے تھے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4732- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق قال: "كنت جالسا عند المقام ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ظل الكعبة بين يدي إذا جاءت أم جميل بنت حرب بن أمية زوجة أبي لهب، ومعها فهران فقالت: أين الذي هجاني وهجا زوجي، والله لئن رأيته لأرضن أنثييه بهذين الفهرين، وذلك عند نزول: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} فقلت لها؟ يا أم جميل إنه والله ما هجاك، ولا هجا زوجك، قالت: والله ما أنت بكذاب، وإن الناس ليقولون ذاك، ثم ولت ذاهبة، فقلت: يا رسول الله لم ترك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "حال بيني وبينها جبريل". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة تبت
4733: ۔۔ (الکلبی عن ابی صالح) ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : جب اللہ پاک نے یہ حکم نازل فرمایا :

وانذر عشیرتک الاقربین۔

اور اپنے رشتہ دار قبیلے (والوں) کو ڈرائیے۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور مروہ پہاڑی پر چڑھ کر آواز بلند کی : اے آل فہر ! لہٰذا قریش کے لوگ نکل آئے۔ ابو لہب بن عبدالمطلب (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا) نے کہا : یہ فہر آگئی ہے بولو ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی : اے آل غالب ! لہٰذا بنی محارب بن فہر اور بنی حارث بن فہر کے لوگ لوٹ گئے۔ پھر آپ نے آواز دی : اے آل لوی بن غالب ! لہٰذا بنی تیم ادرم بن غالب کے لوگ لوٹ گئے۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی : اے آل کعب بن لوی۔ لہٰذا بنی عامر بن لوی کے لوگ گئے : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ اے آل مرہ بن کعب ! لہٰذا بنی عدی بن کعب، بنی سہم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لوی اور ان کے بھائی بند بنی جمح بن عمرون حصیص بن کعب بن لوی کے لوگ لوٹ کر چلے گئے۔ پھر آپ نے آواز دی : اے آل کلاب بن مروہ ! لہٰذا بنی مخزوم بن یقطہ بن مرہ اور بنی تیم بن مرہ کے لوگ چلے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی : اے آل عبد المناف ! لہٰذا بنی عبد الدار بن قصی، بنی اسد بن عبدالعزی بنی قصی اور بن عبد بن قصی کے لوگ چلے گئے (اس طرح پوری قریش قوم میں سے تمام براریوں والے چھٹ چھٹ کر چلے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالکل قریبی رشتہ دار بنی عبد المناف رہ گئے) لہٰذا ابو لہب آپ کے چچا بولے : یہ صرف عبدالمناف کے لوگ باقی رہ گئے ہیں کہیے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو (خدا سے) ڈراؤں۔ اور تم ہی قریش میں سے میرے قریب ترین رشتہ دار ہو۔ میں تمہارے لیے دنیا کے کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ آخرت میں تم کو کچھ حصہ دلا سکتا الا یہ کہ تم لا الہ الا اللہ کہہ لو تو میں تمہارے پروردگار کے پاس تمہارے اس کلمہ توحید کی گواہی دوں گا اور عرب تابع ہوجائیں گے اور عجم تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔

یہ سن کر ابولہب بولا : کیا تم نے اسی بات کے لیے ہم کو بلایا تھا۔ تب اللہ پاک نے یہ سورت نازل فرمائی :

تبت یدا ابی لھب۔ ابی لہب کے ہاتھ ہلاک ہوجائیں۔ الخ۔ ابن سعد۔
4733- "الكلبي عن أبي صالح" عن ابن عباس قال: لما أنزل الله تعالى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} خرج النبي صلى الله عليه وسلم حتى علا المروة، ثم قال: يا آل فهر فجاءته قريش، فقال أبو لهب بن عبد المطلب هذه فهر عندك فقل، فقال: يا آل غالب، فرجع بنو محارب وبنو الحارث ابنا فهر، فقال: يا آل لؤي بن غالب، فرجع بنو تيم الأدرم بن غالب فقال: يا آل كعب بن لؤي، فرجع بنو عامر بن لؤي، فقال: يا آل مرة بن كعب، فرجع بنو عدي بن كعب وبنو سهم وبنو جمح ابني عمرو بن هصيص بن كعب بن لؤي، فقال: يا آل كلاب بن مرة، فرجع بنو مخزوم بن يقظة بن مرة وبنو تيم بن مرة، فقال: يا آل قصي، فرجع بنو زهرة بن كلاب، فقال: يا آل عبد مناف، فرجع بنو عبد الدار بن قصي، وبنو أسد بن العزى بن قصي وبنو عبد بن قصي فقال أبو لهب: هذه بنو عبد مناف عندك فقل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أمرني أن أنذر عشيرتي الأقربين، وأنتم الأقربون من قريش، وإني لا أملك لكم من الله حظا ولا من الآخرة نصيبا، إلا أن تقولوا: لا إله إلا الله فأشهد بها لكم عند ربكم وتدين لكم العرب وتذل لكم بها العجم فقال أبو لهب تبا لك، فلهذا دعوتنا، فأنزل الله تعالى: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} يقول خسرت يدا أبي لهب. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الإخلاص
4734: ۔۔ (ابی بن کعب) مشرکین نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا آپ ہمیں اپنے رب کا نسب بیان کریں (کہ وہ کسی کی اولاد ہے اور آگے اس کی اولاد کون ہے ؟ ) تو اللہ پاک نے قل ھو اللہ احد سورة اخلاص نازل فرمائی۔ (مسند احمد، التاریخ للبخاری، ابن جریر، ابن خزیمہ ، البغوی، ابن المنذر، الدارقطنی فی الافراد، ابو الشیخ فی العظمۃ ، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء والصفات۔
4734- "أبي بن كعب" إن المشركين قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: "انسب لنا ربك فأنزل الله تعالى: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} إلى آخر السورة". "حم خ في تاريخه ت وابن جرير وابن خزيمة والبغوي وابن المنذر قط في الأفراد وأبو الشيخ في العظمة ك ق في الأسماء والصفات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفلق
4735: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : الفلق جہنم کے گڑھے میں ایک کنواں ہے۔ جو ڈھکا ہوا ہے جب اس کا منہ کھولا جائے گا تو اس سے ایسی آگ نکلے گی تو جہنم بھی اس کی شدت سے چیخ پڑے گی۔ ابن ابی حاتم۔
4735- عن علي قال: "الفلق جب في قعر جهنم، عليه غطاء فإذا كشف عنه خرجت منه نار تصيح منه جهنم من شدة حر ما يخرج منه". "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المعوذتين
4736: ۔۔ (ابی بن کعب) حضرت زر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود معوذتین کے بارے میں کچھ فرماتے ہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود قرآن پاک سے ان کو مٹا دیتے ہیں۔ لہٰذا حضرت ابی (رض) نے جوابا ارشاد فرمایا : ہم نے ان دونوں سورتوں کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کہا گیا تھا کہو (یعنی ان سورتوں کو پڑھو) سو میں نے ان کو کہا۔ (حضرت ابی (رض)) فرماتے ہیں پس میں بھی یوں ہی کہتا ہوں جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ (ابو داؤد الطیالسی، مسند احمد، الحمیدی، بخاری، مسلم، ابن حبان، الدار قطنی فی الافراد۔

فائدہ : ۔۔۔ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ملا تھا کہ ان سورتوں کو پڑھو سو آپ نے ان کو پڑھا اور نماز میں بھی پڑھا۔ صحابہ (رض) فرماتے ہیں پس جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سورتوں سورة فلق اور سورة ناس کو نماز میں اور نماز سے باہر پڑھا ہم بھی پڑھتے ہیں
4736- "أبي بن كعب" عن زر قال: "قلت لأبي إن عبد الله بن مسعود يقول في المعوذتين وفي لفظ: يحكهما من المصحف فقال أبي سألنا عنهما رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال قيل لي قل، فقلت فأنا أقول كما قال وفي لفظ: فنحن نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ط حم والحميدي خ م حب قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المعوذتين
4737: حضرت زر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے معوذتین کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے (بھی) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کہا گیا تھا کہ کہو (یعنی ان سورتوں کو پڑھو) سو میں نے ان کو کہا۔ پھر حضرت ابی (رض) نے فرمایا : پس ہم بھی ان کو کہتے ہیں جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ مسند احمد، بخاری، نسائی، ابن حبان۔
4737- عن زر قال: سألت أبي بن كعب عن المعوذتين؟ قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال قيل لي قل فقلت فنحن نقول كما قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم خ ن حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المعوذتين
4738: ۔۔ (مسند عمر (رض)) ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : حمد کو تو ہم جان گئے جیسے مخلوق ایک دوسرے کی تعریف کرتی ہے (اسی طرح ہم کو اللہ کی تعریف کا حکم ہے) اسی طرح لا الہ الا اللہ کو بھی ہم جان گئے کہ اللہ کے سوا جن دوسرے معبودوں کی پرستش کی گئی (اس کلمہ میں ان کی عبادت سے ممانعت ہے) اور اللہ اکبر تو نمازی کہتا ہی ہے۔ لیکن یہ سبحان اللہ کیا چیز ہے ؟ حاضرین میں سے کسی نے کہا : اللہ اعلم اللہ زیادہ جانتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عمر بدبخت ہو اگر وہ جانتا نہ ہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یا امیر المومنین ! یہ ایسا اسم ہے کہ کسی مخلوق کو جائز نہیں کہ اپنے لیے یا خدا کے سوا کسی کے لیے اس کو منسوب کرے۔ یہ اسم مخلوق کے لیے جائے پناہ ہے۔ اللہ پاک چاہتے ہیں کہ اس کے لیے یہ اسم بولا جائے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں یہ ہے اس کی حقیقت۔ ابن ماجہ فی تفسیرہ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔

فائدہ : ۔۔ یوں کہنا جائز نہیں سبحان زید زبحان عمر۔ وغیرہ وغیرہ۔
4738- "مسند عمر رضي الله عنه"ذ عن ابن عباس قال قال عمر: "أما الحمد فقد عرفناه، فقد تحمد الخلائق بعضهم بعضا، وأما لا إله إلا الله قد عرفناها، فقد عبدت الآلهة من دون الله، وأما الله أكبر فقد يكبر المصلي، وأما سبحان الله فما هو؟ " فقال رجل من القوم "الله أعلم"، فقال عمر: "قد شقي عمر إن لم يكن يعلم، أن الله أعلم"، فقال علي: "يا أمير المؤمنين اسم ممنوع أن ينتحله أحد من الخلائق، وإليه مفزع الخلق، وأحب أن يقال له"، فقال عمر: "هو كذلك". "هـ في تفسيره وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المعوذتين
4739: ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : یہود کہو یہود اس لیے کہا گیا کیونکہ انھوں نے کہا تھا : انا ھدنا الیک۔ ہم تیری راہ پر چلتے ہیں (اے اللہ ! ) پس ہدنا سے ان کا نام یہودی پڑگیا۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم۔
4739- عن علي قال: "إنما سميت اليهود لأنهم قالوا إنا هدنا إليك". "ابن جرير وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المعوذتين
4740: ۔۔ (مسند علی (رض)) ابو طفیل عامر بن واثلہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (رض) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ (رض) نے دوران خطبہ فرمایا : مجھ سے کتاب اللہ کے بارے میں سوال کرو۔ اللہ کی قسم کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق مجھے علم نہ ہو کہ وہ دن میں نازل ہوئی ہے یا رات میں ؟ نرم زمین پر نازل ہوئی ہے یا سخت پہاڑ پر۔

لہذا ابن الکواء کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا امیر المومنین الذاریات ذروا۔ فرمایا تفقہا سوال کرو تعنتا نہیں۔ (یعنی جن آیات کا تعلق مسائل و احکام سے ہو ان کا سوال کرو نہ کہ جو آیات متشابہات ہیں اور ان کی صحیح حقیقت خدا ہی کو معلوم ہے اپنی سرکش اور غیر، فید علم بڑھوتری کے لیے ان کا سوال نہ کرو) پھر فرمایا : یہ ہوائیں ہیں (اس کے بعد اگلی آیات کا معنی بھی خود ہی بیان فرما دیا) فالحاملات وقرا سے مراد بادل ہیں الجاریات یسرا سے مراد کشتیاں ہیں۔ فالمقسمات امرا سے مراد ملائکہ ہیں۔ پھر ابن الکواء نے (ایسا ہی ایک سوال اور) پوچھا : چاند میں جو سیاہی ہے وہ کیا ہے ؟ آپ (رض) نے (پہلے تنبیہا) فرمایا : اندھا اندھے پن کے بارے میں سوال کررہا ہے۔ (جس کی اس کو ضرورت نہیں پھر فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وجعلنا اللیل والنہار ایتین فمحونا ایۃ اللیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ۔ الاسراء :102

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ نے رات کی نشانی جو مٹائی ہے وہی چاند کی سیاہی ہے۔

پھر ابن الکواء نے پوچھا : ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : دونوں میں سے کچھ نہ تھے۔ اللہ کے ایک بندے تھے اللہ سے محبت کی تو اللہ نے بھی ان کو اپنا محبوب بنا لیا۔ اللہ کے لیے اخلاص کو اپنایا تو اللہ نے ان کو اپنا مخلص اور سچا بندہ بنا لیا۔ پھر اللہ نے ان کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ انھوں نے آپ کے سر کے دائیں طرف کسی چیز کے ساتھ وار کیا۔ پھر وہ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا یوں ہی رہے۔ پھر اللہ نے ان کو اپنی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا۔ انھوں نے (دو بار) آپ کے سر کے بائیں طرف کسی چیز کا وار کرکے ضرب ماری۔ (جس کی وجہ سے ان کو ذوالقرنین کہا گیا) اور ان کے دو سینگ نہ تھے بیل کی طرح۔

ابن الکواء نے دریافت کیا : یہ قوس قزح کیا ہے ؟ (جو برسات کے دنوں میں آسمان پر رنگ برنگ نکلتی ہے) فرمایا : یہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے پروردگار کے درمیان ایک علامت مقرر ہوئی تھی جو غرق ہونے سے امان کی علامت ہے۔

ابن الکواء نے پوچھا بیت معمور کیا ہے ؟ فرمایا یہ ساتویں آسمان کے اوپر اور عرش کے نیچے اللہ کا گھر ہے۔ جس کو صراح کہا جاتا ہے (یعنی خالص اللہ کا گھر) ہر دن اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر قیامت تک ان کی باری کبھی نہیں آتی۔

ابن الکواء نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا ؟ فرمایا : وہ قریش کے فاجر لوگ ہیں جن کا بدر کے دن قلع قمع ہوگیا تھا۔

ابن الکواء نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں جن کی سعی دنیا کی زندگانی میں ناکام ہوگئی اور وہ گمان کرتے رہے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : (فرقہ) حروریہ کے لوگ انھیں میں سے ہیں۔ ابن الانباری فی المصاحف، ابن عبدالبر فی العلم)

فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :

الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا و احلوا قومہم دار البوار۔

جنہوں نے اللہ کی نعمت کو نا شکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا۔

نیز فرمان الہی ہے :

الذین ضل سعیہم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔

وہ لوگ جن کی سعی دنیاوی زندگانی میں بےکار ہوگئی اور وہ گمان کرتے رہے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں۔

پہلی آیت سے مراد کفار قریش ہیں جن کے جگر پارے جنگ بدر میں مارے گئے تھے، اور دوسری آیت میں فرقہ حروریہ اور تمام گمراہ فرقے شامل ہیں۔ حروراء کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام تھا جہاں اس فرقے کے سرغنہ لوگوں نے پہلی مجلس کی۔ اسی کی طرف پھر ان کے پیروکاروں کو منسوب کیا گیا۔ حضرت علی (رض) نے ان کے ساتھ جنگ لڑی تھی۔
4740- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي الطفيل عامر بن واثلة قال: "شهدت علي بن أبي طالب يخطب"، فقال في خطبته: "سلوني فوالله لا تسألوني عن شيء يكون إلى يوم القيامة إلا حدثتكم به، سلوني عن كتاب الله فوالله ما من آية إلا أنا أعلم أبليل نزلت أم بنهار أم في سهل، نزلت أم في جبل"، فقال "إليه ابن الكواء" فقال: "ياأمير المؤمنين ما الذاريات ذروا؟ " فقال له "ويلك سل تفقها، ولا تسأل تعنتا، والذاريات ذروا الرياح، فالحاملات وقرا السحاب، فالجاريات يسرا، السفن، فالمقسمات أمرا الملائكة" فقال: "فما السواد الذي في القمر؟ " فقال "أعمى يسأل عن عمياء" قال الله تعالى: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً} فمحو آية الليل السواد الذي في القمر، قال: "فما كان ذو القرنين أنبيا أم ملكا؟ " فقال: ل"م يكن واحدا منهما، كان عبد الله أحب الله، فأحبه الله، وناصح الله فنصحه الله، بعثه الله إلى قومه يدعوهم إلى الهدى فضربوه على قرنه الأيمن، ثم مكث ما شاء الله ثم بعثه الله إلى قومه يدعوهم إلى الهدى، فضربوه على قرنه الأيسر، ولم يكن له قرنان كقرني الثور، قال "فما هذه القوس؟ " قال: "هي علامة كانت بين نوح وبين ربه، وهي أمان من الغرق" قال: "فما البيت المعمور؟ " قال: "البيت فوق سبع سموات تحت العرش، يقال له الصراح، يدخله كل يوم سبعون ألف ملك، ثم لا يعودون إليه إلى يوم القيامة" قال: "فمن الذين بدلوا نعمة الله كفرا؟ " قال: "هم الأفجران من قريش قد كفيتوهم يوم بدر" قال: "فمن الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا؟ " قال: "قد كان أهل حروراء منهم". "ابن الأنباري في المصاحف وابن عبد البر في العلم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4741: ۔۔ (مسند عمر (رض)) مسور بن مخرمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو فرمایا : کیا بات ہے ہم نازل ہونے والے قرآن میں یہ آیت نہیں پاتے : جاھدوا کما جاھدتم اول مرۃ۔ جہاد کرو جیسے تم نے پہلی بار جہاد کیا تھا۔ حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : ساقط ہوگئی ساقط ہونے والے حصوں کے ساتھ۔ (ابو عبید) ملاحظہ فرمائیں اسی جلد میں روایت نمبر 4551 ۔
4741- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن المسور بن مخرمة، قال قال عمر لعبد الرحمن بن عوف: "ألم نجد فيما أنزل علينا أن جاهدوا كما جاهدتم أول مرة؟ فإنا لم نجدها" قال: "أسقط فيما أسقط من القرآن". "أبو عبيد". ومر بطوله برقم [4551] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4742: ۔۔ (ابی بن کعب (رض)) ابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ تم کو قرآن پڑھ کر سناؤں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے " لم یکن " (یعنی سورة تنبیہ) تلاوت فرمائی اور یہ آیات تلاوت فرمائیں :

ان ذات الدین عنداللہ الحنفیۃ لا المشرکۃ ولا الیھودیۃ ولا النصرانیۃ و من یعمل خیرا فلن یکفرہ۔

اللہ کے ہاں (خالص) دین (ملت) حنیفیہ ہے۔ نہ شرک پرستی اور نہ یہودیت اور نہ ہی نصرانیت۔ اور جو نیک عمل کرتا ہے اللہ پاک اس کے نیک عمل کی ناقدری نہ فرمائے گا۔

اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی (رض) کو یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی :

لو کان لابن آدم واد لابتغی الیہ ثانیا ولوا اعطی الیہ ثانیا لابتغی الیہ ثالثا ولا یملا جوف ابن آدم الالتراب ویتوب اللہ علی من تاب۔

اگر ابن آدم کے پاس (سونے کی) ایک وادی ہو تو وہ دوسرے وادی حاصل کرنا چاہے گا اور اگر اس کے پاس دو وادی ہوں تو وہ تیسری وادی حاصل کرنے کی خواہش کرے گا۔ ابن آدم کے پیٹ کو تو (قبر کی) مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ پاک توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ (ابو داؤد الطیالسی، مسند احمد، ترمذی، حسن صحیح، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)
4742- "أبي بن كعب" عن أبي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله أمرني أن أقرأ عليك القرآن، فقرأ عليه لم يكن، وقرأ عليه إن ذات الدين عند الله الحنيفية لا المشركة ولا اليهودية ولا النصرانية ومن يعمل خيرا فلن يكفره، وقرأ عليه لو كان لابن آدم واد لأبتغى إليه ثانيا ولو أعطي إليه ثانيا لابتغى إليه ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب". "ط حم ت حسن صحيح ك ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4743: ۔۔ حضرت زر سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابی بن کعب (رض) نے فرمایا :

اے زر ! تم سورة الاحزاب میں کتنی آیات پڑھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : تہتر آیات ارشاد فرمایا : پہلے یہ سورة بقرہ جیسی (لمبی) سورت تھی۔ (سورة بقرہ میں کئی سو آیات ہیں) اور اس میں ہم آیت الرجم تھی :

الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم۔

بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی ہر شادی شدہ مرد و عورت) جب زناء کریں تو دونوں کو سنگسار کردو یہ عذاب ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ (عبدالرزاق ، ابو داؤد الطیالسی، السنن لسعید بن منصور، مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابن منیع، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن الانباری فی المصاحف، الدار قطنی فی الافراد، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
4743- عن زر قال قال لي أبي بن كعب: "يازر كأين تقرأ سورة الأحزاب؟ قلت ثلاثا وسبعين آية"قال: "إن كانت لتضاهي سورة البقرة، أو هي أطول من سورة البقرة، وإن كنا لنقرأ فيها آية الرجم، وفي لفظ: وإن في آخرها، الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالا من الله والله عزيز حكيم، فرفع فيما رفع". "عب ط ص عم وابن منيع ن وابن جرير وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف قط في الأفراد ك وابن مردويه ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4743: ۔۔ مروی ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے تلاوت فرمائی :

ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا الا من تاب فان اللہ کان غفورا رحیما۔

(جبکہ الا من تاب فان اللہ کان غفورا رحیما بعد میں قرآن پاک میں نہیں رہا) لہٰذا یہ بات امیر المومنین حضرت عمر (رض) بن الخطاب کو ذکر کی گئی۔ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) کے پاس تشریف لائے اور اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے عرض کیا : میں نے یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنی تھی جس وقت آپ کو بقیع میں تالی پیٹنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ (مسند ابی یعلی، ابن مردویہ)
4744- قرأ أبي بن كعب: "ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشة وساء سبيلا إلا من تاب فإن الله كان غفورا رحيما، فذكر لعمر فأتاه فسأله عنها؟ فقال: "أخذتها من في رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس لك عمل إلا الصفق بالبقيع". "ع وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4745: ۔۔ ابو ادریس خولانی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابی (رض) سورة فتح کی یہ آیات یوں پڑھتے تھے :

اذ جعل الذین کفروا قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ ولو حمیتم کما حمو نفسہ لفسد المسجد الحرام فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ۔

(جبکہ آیت ولو حمیتم کما حموا نفسہ المسجد الحرام منسوخ التلاوت ہوچکی ہے جس کا معنی ہے : اور اگر تم (بھی) کافروں کی طرح جاہلیت کی) حمایت کرتے جیسے انھوں نے اپنی کی تو مسجد حرام خراب ہوجاتی جب یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) کو حضرت ابی (رض) پر سخت غصہ آیا۔ چنانچہ کسی کو بھیج کر حضرت ابی (رض) کو بلوایا۔ وہ تشریف لے آئے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے دیگر چند اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بلایا جن میں زید بن ثابت بھی تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جو سورة الفتح پڑھ کر سنائے گا ؟ لہٰذا حضرت زید (رض) نے آج کی قراءت کے مطابق سورة الفتح کی تلاوت کی۔ لہٰذا (حضرت ابی (رض) کی آیت کو اس میں بھی نہ پا کر) ان پر مزید غصہ ہوئے۔ حضرت ابی (رض) نے عرض کیا : میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یوں بولو : حضرت ابی (رض) نے عرض کیا : آپ جانتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوتا رہتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مجھے اپنے قریب رکھتے تھے جبکہ آپ تو دروازے پر ٹھہرے رہتے تھے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں لوگوں کو اسی طرح پڑھاؤں جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھایا ہے تو ٹھیک ہے میں پڑھاؤں گا۔ ورنہ میں تا زندگی ایک حرف بھی کسی کو نہیں پڑھاؤں گا۔ (نسائی، ابن ابی داؤد فی المصاحف، مستدرک الحاکم)

فائدہ : ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کو غالباً ان آیات کے منسوخ ہونے کا علم نہ تھا اسی وجہ سے حضرت ابی (رض) نے ان آیات کو بھی قرآن کے ساتھ پڑھتے تھے۔ کیونکہ آخری دور میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے من جانب اللہ کچھ آیات کو منسوخ فرمایا اور دیگر احکام میں ردو بدل فرمایا جیسا کہ روای تنمبر 4725 میں گذر چکا۔ لہٰذا صحابہ کرام (رض) نے خلفاء راشدہ کے زمانہ میں قرآن جمع کیا اور شہادتوں کے ساتھ کیا۔ جس آیت پر کم از کم دو صحابہ شہادت دیتے تھے اسی کو قرآن کا حصہ بنا کر لکھا جاتا تھا۔ اس کوشش سے و قرآن جس کو پڑھا جانے کا حکم تھا وجود میں آیا اور قرآن کے منسوخ التلاوت حصص نکال دیے گئے، جیسا کہ سورة الاحزاب کے متعلق روایت نمبر 4743 میں حضرت ابی (رض) ہی کا ارشاد گذر چکا ہے۔

لہذا حضرت ابی (رض) بعد میں جن آیات کے قرآن ہونے پر مصر رہے جبکہ دیگر صحابہ کرام ان کے منسوخ ہونے کے قائل تھے تو زیادہ قریب قیاس توجیہ ہی ہے کہ حضرت ابی (رض) کو بعد کے نسخ کا علم نہ ہوسکا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (رض) اجمعین۔
4745- عن أبي إدريس الخولاني قال: كان أبي يقرأ: "إذ جعل الذين كفروا في قلوبهم الحمية حمية الجاهلية ولو حميتم كما حموا نفسه لفسد المسجد الحرام، فأنزل الله سكينته على رسوله، فبلغ ذلك عمر فاشتد عليه فبعث إليه فدخل عليه، فدعا ناسا من أصحابه فيهم زيد بن ثابت فقال: من يقرأ منكم سورة الفتح؟ فقرأ زيد على قراءتنا اليوم، فغلظ له عمر، فقال أبي لأتكلم، قال تكلم: لقد علمت أني كنت أدخل على النبي صلى الله عليه وسلم ويقربني وأنت بالباب فإن أحببت أن أقرئ الناس على ما أقرأني أقرأت وإلا لم أقرئ حرفا ما حييت" "ن وابن أبي داود في المصاحف ك" وروى ابن خزيمة بعضه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4746: ۔۔ حضرت بجالہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کا ایک نوجوان پر گذر ہوا وہ قرآن دیکھ کر پڑھ رہا تھا :

النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہاتہم وھو اب لھم۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنین کے والی ہیں ان کی جانوں سے زیاہ اور آپ کی بیویاں مومنین کی باتیں ہیں اور آپ ان کے باپ ہیں۔

حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! اس کو کھرچ دے۔ لڑکا بولا : یہ ابی (رض) کا مصحف (قرآن) شریف ہے۔ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! اس کو کھرچ دے۔ لڑکا بولا : یہ ابی (رض) کا مصحف (قرآن) شریف ہے۔ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) کے پاس گئے اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا انھوں نے عرض کیا : مجھے تو قرآن میں مشغول رکھتا تھا اور آپ کو بازاروں میں تالے پیٹنے سے فرصت نہ تھی۔ (السنن لسعید بن منصور، مستدرک الحاکم)

فائدہ : ۔۔ وھو اب لھم۔ یہ منسوخ التلاوت آیت ہے۔ حضرت ابی (رض) بھی اکابر صحابہ میں شامل تھے۔ ان کا حضرت عمر (رض) کو یہ الفاظ کہنا آپس کی بےتکلفی کی وجہ سے تھا۔ آپ کے کہنے کا مقصد تھا کہ دور نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اکثر اوقات گذارتا تھا جبکہ آپ دنیا کے کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ درحقیقت حضرت عمر (رض) نے اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ باری طے کرلی تھی ایک دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں انصاری حاضر ہوتا تھا دوسرے دن حضرت عمر (رض) حاضری کا شرف حاصل کرتے تھے۔ (رض) اجمعین۔
4746- عن بجالة1. قال "مر عمر بن الخطاب بغلام وهو يقرأ في المصحف "النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم، وأزواجه أمهاتهم وهو أب لهم" فقال: "ياغلام حكها" قال: "هذا مصحف أبي، فذهب إليه فسأله؟ " فقال: "إنه كان يلهيني القرآن ويلهيك الصفق بالأسواق". "ص ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ تفسیر کے ملحقات کے بیان میں
4747: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا میں حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر خدمت تھا۔ میں نے یہ آیات تلاوت کیں :

لو کان لابن آدم و ادیان من ذھب لابتغی الثالث ولا یملا جوف ابن آدم الا التراب ویتوب اللہ علی من تاب۔

اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادی ہوں تو وہ تیسری وادی کی خواہش رکھے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو توبہ کرے اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : مجھے ابی (رض) نے یہ پڑھایا ہے چنانچہ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) کے پاس گئے اور ان سے ابن عباس (رض) کی پڑھی ہوئی آیت کے متعلق سوال کی تو انھوں نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح پڑھایا تھا۔ (مسند احمد، ابو عوانہ، السنن لسعید بن منصور)
4747- عن ابن عباس قال: "كنت عند عمر فقرأت: {لو كان لابن آدم واديان من ذهب لابتغى الثالث ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب} " فقال عمر "ما هذا؟ فقلت هكذا أقرأنيها أبي، فجاء إلى أبي وسأله عما قرأ ابن عباس؟ " فقال "هكذا أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم". "حم وأبو عوانة ص2"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزول القرآن
4748: ۔۔ (ابن عباس (رض)) علی بن ابی طلحہ سے مروی ہے کہ ابن عباس (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

ابراہیم (علیہ السلام) پر صحیفے رمضان کی دو راتوں میں نازل ہوئے، زبور داؤد (علیہ السلام) پر (رمضان کی) چھ (راتوں) میں نازل ہوئی۔ توراۃ موسیٰ (علیہ السلام) پر رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نازل ہوئی اور فرقان حمید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رمضان چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔ (رواہ مستدرک الحاکم)

فائدہ : ۔۔ مکمل قرآن پاک لوح محفوظ سے چوبیس رمضان کو نازل ہوا جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تقریبا تئیس سال کے عرصہ میں ضرورت کے مطابق وقتا فوقتا نازل ہوتا رہا۔
4748- "ابن عباس" عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس قال قال رسول صلى الله عليه وسلم:"أنزلت الصحف على إبراهيم في ليلتين من رمضان، وأنزل الزبور على داود في ست، وأنزلت التوراة على موسى لثمان عشرة من رمضان، وأنزل الفرقان على محمد لأربع وعشرين من رمضان". "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزول القرآن
4749: ۔۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) کو عرض کیا : (کیا) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ دس سال اور مدینہ میں دس سال قرآن نازل ہوا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ کون کہتا ہے کہ مکہ میں دس سال اور کل پینسٹھ سال قرآن نازل ہوتا رہا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4749- عن سعيد بن جبير أن رجلا قال لابن عباس: "أنزل على النبي صلى الله عليه وسلم عشر بمكة وعشر بالمدينة" فقال: "من يقول لقد أنزل عليه بمكة عشر وخمس وستون وأكثر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزول القرآن
4750: ۔۔۔ (عائشہ (رض)) ابو سلمہ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں (بعثت کے بعد) دس ٹھہرے اور آپ پر قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ میں دس سال قرآن نازل ہوتا رہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
4750- "عائشة" عن أبي سلمة عن عائشة وابن عباس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث بمكة عشر سنين ينزل عليه القرآن وبالمدينة عشرا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع القرآن
4751: ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوبکر (رض) اہل یمامہ کے قتال کے بعد بلایا۔ میں پہنچا تو آپ کے پاس حضرت عمر (رض) بھی حاضر تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے (حضرت عمر (رض) کی طرف اشارہ کرکے) فرمایا : یہ میرے پاس آئے اور مجھ سے قتل (ہوجانے والے صحابہ) کے متعلق بات چیت کی کہ یمامہ کی جنگ میں بہت سے قرآن کے قاری شہید ہوگئے ہیں۔ نیز یہ کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں دوسری جنگوں میں قرآن کے تمام قاری شہید نہ ہوجائیں۔ اور یوں قرآن ضائع ہوجائے لہٰذا میرا خیال ہے کہ ہم قرآن کو جمع کرلیں۔

حضرت ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) کی بات بتا چکے تو حضرت زید بن ثابت (رض) نے حضرت عمر (رض) کو مخاطب کرکے پوچھا : ہم وہ کام کیسے کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اسی میں خیر ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اسی میں خیر ہے۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) مسلسل مجھ پر اصرار کرتے رہے حتی کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کام کے لیے حضرت عمر (رض) وک شرح سدر ہوچکا تھا۔ اور جو رائے حضرت عمر (رض) کی تھی وہی رائے اس کام میں میری بھی پختہ ہوگئی۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس بیٹھے اور حضرت ابوبکر (رض) کچھ بات چیت نہ فرما رہے تھے پھر انھوں نے ہی مجھے ارشاد فرمایا : تم عقل مند نوجوان ہو ہم کو تم پر کسی طرح کی تہمت (اور الزام بھی) نہیں ہے اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی بھی لکھتے رہے ہو۔ لہٰذا تم ہی اس کو جمع کرو۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر قرآن جمع کرنے سے بھاری نہ ہوتا۔ پھر میں نے عرض کیا : آپ لوگ ایسا کام کیسے کر رہے ہیں جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے فرمایا : اللہ کی قسم ! اسی میں خیر ہے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) بھی مسلسل اصرار فرماتے رہے حتی کہ اللہ پاک نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیاجس کے لیے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کو شرح صدر فرما دیا تھا اور میں نے بھی یہی رائے قائم کرلی۔ چنانچہ میں نے مختلف چیزوں کے ٹکڑوں، پتھروں، ہڈیوں جن پر قرآن لکھا تھا اور لوگوں کے سینوں سے قرآن پاک جمع کرنا شروع کیا۔ حتی کہ میں نے سورة برأت کا آخری حصہ خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) کے پاس پایا۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس میں نے یہ آیات نہیں پائیں۔

لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ۔۔۔ سے آخر سورة تک۔

آخر جن صحیفوں میں قرآن پاک جمع کرلیا گیا وہ صحیفے (پلندے) حضرت ابوبکر (رض) کی زندگی تک انہی کے پاس رہے۔ حتی کہ اللہ پاک نے ان کو وفات دیدی پھر حضرت عمر (رض) کے پاس ان کی وفات تک یہ صحیفے رہے، پھر ان کی وفات بھی ہوگئی۔ پھر یہ صحیفے حضرت حفصہ بنت حضرت عمر (رض) کے پاس رہے۔ (ابو داؤد الطیالسی، ابن سعد، مسند احمد، بخاری، العدنی، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی داؤد فی المصاحف، ابن المنذر، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، السنن للبیہقی)
4751- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن زيد بن ثابت قال: "أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عنده عمر بن الخطاب" فقال: "إن هذا أتاني فأخبرني القتل قد استحر بقراء القرآن في هذا الموطن، يعني يوم اليمامة، وإني أخاف أن يستحر القتل بقراء القرآن في سائر المواطن: فيذهب القرآن وقد رأيت أن نجمعه، فقلت له يعني لعمر كيف نفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال لي عمر: "هو والله خير، فلم يزل بي عمر حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدره، ورأيت فيه مثل الذي رأى عمر" قال زيد "وعمر عنده جالس لا يتكلم" فقال أبو بكر: "إنك شاب عاقل لا نتهمك، وقد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فأجمعه" قال زيد: "فوالله لئن كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان بأثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن، فقلت كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: "هو والله خير، فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر وعمر، ورأيت فيه الذي رأيا فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع واللخاف والأكتاف والعسب وصدور الرجال، حتى وجدت آخر سورة براءة مع خزيمة بن ثابت الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره، {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ} حتى خاتمة براءة فكانت الصحف التي جمع فيها القرآن عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله، ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر". "ط وابن سعد حم خ والعدني ت ن وابن جرير وابن أبي داود في المصاحف وابن المنذر حب طب ق
tahqiq

তাহকীক: