কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪৭১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والعاديات
4712: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : (الضبح) (کا معنی) گھوڑے کے لیے (ہو تو) ہنہناتا ہے اور اونٹ کے لیے ہو (ہو تو) سانس لینا ہے۔ ترمذی، ابن جریر۔
4712- عن علي قال: "الضبح من الخيل الحمحمة، ومن الإبل النفس". "ت وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والعاديات
4713: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں پتھروں میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے العادیات ضبحا کے متعلق سوال کیا۔ میں نے کہا : گھوڑے جب اللہ کی راہ میں غارت گری کرتے ہیں پھر رات کو اپنے ٹھکانے پر واپس آتے ہیں اور مجاہدین ان کو چارہ ڈالتے ہیں اور آگ جلاتے ہیں۔ (ان آیات کا یہی مطلب ہے) پھر وہ مجھ سے جدا ہو کر حضرت علی (رض) کے پاس گیا آپ (رض) زمزم کے پاس تشریف فرما تھے۔ اس شخص نے آپ (رض) سے بھی والعادیات ضبحا کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت علی (رض) نے اسی سے پوچھا کیا تم نے مجھ سے قبل کسی سے اس کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا : جی ہاں۔ میں نے ابن عباس (رض) سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو خدا کی راہ میں غارت گیری کرتے ہیں۔ اور اب جاؤ ابن عباس (رض) کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں جب میں جا کر آپ کے سر پر کھڑا ہوا تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اسلام میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا تھا اور اس معرکہ میں ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑا حضرت زبیر (رض) کا تھا اور ایک حضرت مقداد بن الاسود (رض) کا تھا۔ پس وہاں (صرف دو گھوڑوں کے لیے) والعادیات ضبحا کیسے ہوسکتا ہے ؟ (کیونکہ والعادیات جمع ہے جس میں دو سے زائد مراد ہیں لہٰذا العادیات ضبحا سے مراد عرفہ سے مزدلفہ جانے والی سواریاں مراد ہیں جہاں وہ آگ جلاتے ہیں (فالموریات قدحا اور طعام و شراب کا شغل کرتے ہیں) پھر اگلے دن المغیر صبحا مزدلفہ سے منی جانا مراد ہے۔ یی جمع ہے اور فاثرن بہ نقعا سے مراد سواریوں کا اپنے کھروں اور پیروں سے زمین روندنا ہے۔

ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : یہ سن کر میں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی کے ارشاد مبارک کا قائل ہوگیا۔ (رواہ ابن مردیہ)
4713- عن ابن عباس قال: بينما أنا في الحجر جالس إذ أتاني رجل فسألني عن العاديات ضبحا؟ فقلت: الخيل حين تغير في سبيل الله ثم تأوي إلى الليل، فيصنعون طعامهم ويورون نارهم، فانفتل عني فذهب إلى علي بن أبي طالب وهو جالس تحت سقاية زمزم، فسأله عن العاديات ضبحا؟ فقال: سألت أحدا قبلي؟ قال: نعم سألت عنها ابن عباس، فقال: هي الخيل حين تغير في سبيل الله، قال: اذهب فأدعه إلي، فلما وقفت على رأسه، قال: والله إن كانت لأول غزوة في الإسلام لبدر وما كان معنا إلا فرسان فرس للزبير، وفرس للمقداد بن الأسود، فكيف تكون العاديات ضبحا، إنما العاديات ضبحا من عرفة إلى مزدلفة، ومن المزدلفة

إلى منى، وأوروا النيران، ثم كان من الغد المغيرات صبحا، من المزدلفة إلى منى، فذلك جمع، وأما قوله: {فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً} فهو نقع الأرض حين تطأه بخفافها، وحوافرها، قال ابن عباس: فنزعت عن قولي ورجعت إلى الذي قال علي. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ألهاكم
4714: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : سورة الھاکم التکاثر عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ رواہ ابن جریر۔
4714- عن علي قال: "نزلت الهاكم التكاثر في عذاب القبر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ألهاكم
4715: ۔۔ حضرت علی (رض) سے فرمان خداوندی " ثم لتسالن یومئذ عن النعیم " (تکاثر) پھر تم سے ضرور سوال کیا جائے گا اس دن نعمتوں کے بارے میں " کے متعلق منقول ہے۔ ارشاد فرمایا۔

جس نے گندم کی روٹی کھائی، فرات (یا کسی بھی) نہر کا ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے پاس رہائش کے لیے گھر بھی ہے پس یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا۔ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
4715- عن علي في قوله تعالى: {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} قال: من أكل من خبز البر وشرب من ماء الفرات مبردا وكان له منزل يسكنه فذاك من النعيم الذي يسأل عنه. "عبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ألهاكم
4716: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ہم اس (فرمان : لوکان لابن آدم واد من ذھب ، یعنی آدم کے لیے اگر ایک وادی سونے کی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اس کے لیے ایک وادی سونے کی ہوجائے) کو قرآن کی آیت شمار کرتے تھے حتی کہ اللہ پاک نے سورة الھاکم التکاثر نازل فرما دی۔ بخاری۔
4716- عن أبي بن كعب، كنا نرى هذا من القرآن حتى نزلت: {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} يعني لو كان لابن آدم واد من ذهب. "خ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة ألهاكم
4717: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہم لوگوں کو عذاب قبر کے بارے میں شک ہوتا تھا حتی کہ سورة الہاکم التکاثر ہوئی (جس سے عذاب قبر کے متعلق ہمارے قلوب میں یقین پیدا ہوگیا) ۔ (السنن للبیہقی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی)
4717- عن علي قال: ما زلنا نشك في عذاب القبر حتى نزلت: {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} . "ق وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفيل
4718: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (ابرہہ کے لشکریوں پر)

ابابیل پرندے چیل کی شکل میں آئے تھے اور یہ آج تک زندہ ہیں ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ رواہ الدیلمی۔

کلام : ۔۔۔ روایت ضعیف ہے : دیکھئے : التنزیہ 1/ 227 ۔ ذیل اللآلی 14 ۔
4718- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "جاءتهم طير أبابيل مثل الحدأ في صورة السباع، وإنها أحياء إلى اليوم، تعيش في الهواء" "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة قريش
4719: ۔۔ (مسند عمر (رض)) ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مکہ میں بیت اللہ کے پاس لوگوں کو نماز پڑھائی اور سورة قریش کی تلاوت کی اور فلیعبدوا رب ھذا لبیت (پس وہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں) پڑھتے ہوئے نماز ہی میں کعبۃ اللہ کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر۔
4719- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن إبراهيم قال: صلى عمر ابن الخطاب بالناس بمكة عند البيت فقرأ: {لِإِيلافِ قُرَيْشٍ} قال {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ} وجعل يومي بإصبعه إلى الكعبة وهو في الصلاة. "ص ش ابن المنذر".

سورة أرأيت
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة قريش
4720: ۔۔ حضرت علی (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان :

الذین ھم یراءون ویمنعون الماعون۔

(وہ ریاکاری کرتے ہیں اور برتنے کی چیزیں عاریت نہیں دیتے) کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یعنی وہ اپنی نماز لوگوں کو دکھاوے کے واسطے پڑھتے ہیں اور فرض زکوۃ بھی ادا نہیں کرتے۔ (الفریابی، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4720- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {الَّذِينَ هُمْ يُرَاؤُونَ} بصلاتهم {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} قال الزكاة المفروضة. "الفريابي ص ش وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الکوثر
4721: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی :

انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر۔ (الکوثر)

(اے محمد ! ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا۔

تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا : یہ کون سی قربانی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ قربانی نہیں ہے بلکہ آپ کو (اس کے ضمن میں) یہ حکم ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر تحریم کہیں تو ہر مرتبہ جب بھی آپ تکبیر کہیں، نئی رکعت شروع کریں اور رکوع سے سر اٹھائیں۔ کیونکہ ہاتھوں کو بلند کرنا آپ کی نماز کا حصہ بھی ہے اور ہم تمام فرشتوں کی نماز کا حصہ ہے جو آسمانوں میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتا ہے۔

نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز میں ہاتھوں کا اٹھانا استکانہ (عاجزی اور خشوع خضوع) سے تعلق رکھتا ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : استکانہ کیا شئی ہے ؟ ارشاد فرمایا : کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی :

فما استکانوا لربہم و ما یتضرعون۔

پس انھوں نے اپنے رب کے آگے (خضوع) عاجزی کی اور نہ آہ وزاری کی۔

الاستکانہ خضوع ہے۔ (ابن ابی حاتم، الضعفاء لابن حبان، مستدرک الحاکم ، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)

کلام : ۔۔ بیہقی (رح) فرماتے ہیں روایت ضعیف ہے۔ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔

جبکہ ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ کنز العمال ج 2 ص 557 ۔
4721- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: لما نزلت: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} قال النبي صلى الله عليه وسلم: لجبريل ما هذه النحيرة التي أمرني بها ربي عز وجل؟ قال: ليست بنحيرة، ولكنه يأمرك إذا تحرمت للصلاة أن ترفع يديك إذا كبرت وإذا ركعت وإذا رفعت رأسك من الركوع فإنه من صلاتنا وصلاة الملائكة الذين في السموات السبع، إن لكل شيء زينة، وزينة الصلاة رفع الأيدي عند كل تكبيرة، وقال النبي صلى الله عليه وسلم: رفع الأيدي في الصلاة من الاستكانة قلت: فما الاستكانة؟ قال: ألا تقرأ هذه الآية؟ {فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ} وهو الخضوع. "ابن أبي حاتم حب في الضعفاء ك ولم يصححه، ابن مردويه ق" وقال ضعيف، وقال ابن حجر إسناده ضعيف جدا وأورده ابن الجوزي في الموضوعات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الکوثر
4722: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ارشاد باری تعالیٰ :

فصل لربک وانحر کے متعلق منقول ہے فرمایا (اس کا مطلب) نماز میں سیدھے ہاتھ کو بائیں بازو کے درمیان رکھ کر دونوں کو سینے پر رکھنا ہے۔ (بخاری فی تاریخہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الدارقطنی فی الافراد، ابو القاسم، ابن مندہ فی الخشوع، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4722- عن علي في قوله تعالى: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} قال: وضع يده اليمنى على وسط ساعده اليسرى، ثم وضعها على صدره في الصلاة. "خ في تاريخه وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم قط في الأفراد وأبو القاسم ابن منده في الخشوع وأبو الشيخ وابن مردويه ك ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4723: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) ابن النجار اپنی تاریخ میں سند ذکر کرتے ہیں : ذاکر کامل النعال، و شریف ابو القاسم علی بن ابراہیم علوی و محد بن ہبۃ اللہ بن احمد ! کفانی، عبد العزیز احمد کنانی، ابو الحسین احمد بن علی بن محمد دولابی بغدادی خلال، قاضی ابو محمد عبداللہ بن محمد بن عبدالغفار بن احمد بن ذکوان، ابو یعقوب اسحاق بن عمار بن حبیش بن محمد بن حبیش، ابوبکر بن محمد ابراہیم بن مہدی، عبداللہ بن محمد بن ربیعہ قدامی، صالح بن مسم ابو ہاشم واسطی، عبداللہ بن عبید، محمد بن یوسف انصاری، سہل بن سعد کی سند سے مروی ہے کہ ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب یہ سورت نازل ہوئی : اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ تو گویا آپ کو آخرت کی طرف کوچ کرنے کی خبر سنا دی گئی ۔ رواہ ابن النجار۔

فائدہ : ۔۔ یہ ایک بڑی حدیث کا آخری فقرہ ہے جو اوپر درج ہوا، اس سورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی گئی تھی کہ آپ کا آخری وقت آن پہنچا ہے لہٰذا آپ تسبیح و استغفار میں مشغول ہوجائیں۔ دیکھئے بخاری 6/ 20 بحوالہ کنز العمال ج 2 ص 558)
4723- "من مسند الصديق رضي الله عنه" قال ابن النجار في تاريخه: أنبأنا ذاكر بن كامل النعال قال: كتب إلي الشريف أبو القاسم علي بن إبراهيم العلوي، ومحمد بن هبة الله بن أحمد الأكفاني قالا: حدثنا عبد العزيز بن أحمد الكناني قال: أنا أبو الحسين أحمد بن علي بن محمد الدولابي البغدادي الخلال، أنبأنا القاضي أبو محمد عبد الله بن محمد بن عبد الغفار بن أحمد بن ذكوان، حدثني أبو يعقوب إسحاق بن عمار بن حبيش بن محمد بن حبيش بالمصيصة، حدثنا أبو بكر بن محمد إبراهيم بن مهدي، ثنا عبد الله بن محمد بن ربيعة القدامي، ثنا صالح بن مسلم أبو هاشم الواسطي، عن عبد الله بن عبيد عن محمد بن يوسف الأنصاري عن سهل بن سعد عن أبي بكر رضي الله عنه أن سورة {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} حين أنزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نفسه نعيت إليه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4724: ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) مجھے بدر کے اکابر صحابہ کے ساتھ شامل کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عمر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ داخل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ اس کے جتنے تو ہمارے بیٹے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔

ابن عباس (رض) فرماتے ہیں پھر ایک دن حضرت عمر (رض) نے مجھے اور ان کو بلایا اور میرا خیال تھا کہ آپ نے ہم کو صرف اس لیے بلایا ہے تاکہ میری اہمیت ان پر جتلائیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کے سامنے : اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ پوری سورت تلاوت فرمائی پھر پوچھا : اس کی تفسیر کے بارے میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے ؟ بعض نے کہا : (اس سورت میں) اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی حمد کریں اور اس سے مغفرت مانگیں اس لیے کہ اس نے ہماری نصرت فرمائی ہے اور ہمیں فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ بعض نے کہا : ہمیں کچھ نہیں معلوم اور بعض نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخرت حضرت عمر (رض) نے مجھے ارشاد فرمایا : اے ابن عباس ! کیا تمہارا بھی خیال یہی ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : پھر تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری وقت کی طرف اشارہ ہے۔ جو اللہ نے آپ کو بتادیا۔ یعنی جبکہ اللہ کی مدد آپ کو آچکی اور مکہ کی فتح بھی نصیب ہوگئی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو رہے ہیں (تو لہٰذا آپ کی بعثت کا مقصود پورا ہوگیا) اسی لیے یہ آپ کی وفات کی طرف اشار ہے۔ پس آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں اور اس سے استغفار کرتے رہیں بیشک وہ توبہ کرنے والا ہے۔

حضرت عمر (رض) نے مجھے فرمایا : مجھے بھی اس کی یہی تفسیر معلوم ہے جو تم کو معلوم ہے۔ (السنن لسعید بن منصور، ابن سعد مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ، ابو نعیم والبیہقی معافی الدلائل)
4724- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: كان عمر يدخلني مع أشياخ بدر، فقال له عبد الرحمن بن عوف: لم تدخل هذا الفتى معنا؟ ولنا أبناء مثله، فقال: إنه ممن قد علمتم، فدعاهم ذات يوم ودعاني، وما رأيته دعاني يومئذ إلا ليريهم مني، فقال: ما تقولون في قوله تعالى: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} حتى ختم السورة، فقال بعضهم أمرنا الله أن نحمده ونستغفره إذا جاء نصر الله وفتح علينا، وقال بعضهم: لا ندري، وبعضهم لم يقل شيئا، فقال لي يا ابن عباس: أكذلك تقول؟ قلت: لا، قال فما تقول؟ قلت: هو أجل رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلمه الله إذا جاء نصر الله والفتح ورأيت الناس يدخلون، والفتح فتح مكة فذلك علامة أجلك، فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا فقال عمر: ما أعلم منها إلا ما تعلم. "ص وابن سعد ع وابن جرير وابن المنذر طب وابن مردويه وأبو نعيم ق معا في الدلائل
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4725: ۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی پر اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل فرمائی تو درحقیقت آپ کی وفات کی خبر سنا دی۔ فتح مکہ ہجرت کے آٹھویں سال ہوچکی تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے نویں سال میں داخل ہوئے تو قبائل بھی دوڑے دوڑے آپ کے ہاتھوں اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔ تب آپ کو احساس ہوگیا کہ وقت اجل کسی بھی لمحے دن یا رات کو آسکتا ہے۔ لہٰذا آپ نے جانے کی تیاری شروع فرما دی، سنتوں میں گنجائش پیدا کی، فرائض کو درست کیا، رخصت کے احکام واضح کیے۔ بہت سی احادیث کو منسوخ قرار دیا۔ تبوک کا غزوہ کیا اور اس کے (بہت سے احکام) الوداع کہنے والے کی طرح انجام دیے۔ الخطیب فی التاریخ، ابن عساکر۔
4725- عن علي قال: نعى الله لنبيه صلى الله عليه وسلم نفسه حين أنزل الله عليه: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} فكان الفتح في سنة ثمان من مهاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما طعن في سنة تسع من مهاجره فتتابع عليه القبائل تسعى فلم يدر متى الأجل ليلا أو نهارا، فعمل على قدر ذلك فوسع السنن، وسدد الفرائض، وأظهر الرخص، ونسخ كثيرا من الأحاديث، وغزا تبوك، وفعل فعل مودع. "خط كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4726: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مرویے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ سورت نازل ہوئی :

اذا جاء نصر اللہ والفتح ۔

تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کے پاس بھیج کر ان کو بلایا۔ اور (ان کے آنے پر) ارشاد فرمایا : اے علی !

انہ قد جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبحت ربی بحمدہ واستغفرت ربی انہ کان توابا۔

بےشک اللہ کی مدد آچکی ہے اور (مکہ کی) فتح ہوچکی اور میں نے لوگوں کو اسلام میں فوج در فوج داخل ہوتا دیکھ لیا، پس میں اپنے رب کی حمد کی تسبیح کرتا ہوں اور اپنے رب سے توبہ و استغفار کرتا ہوں بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے بعد فتنے میں پڑے ہوئے لوگوں سے بھی اللہ نے جہاد فرض کردیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم ان کے ساتھ کیسے قتال کریں جبکہ وہ کہیں گے ہم ایمان والے ہیں۔ ارشاد فرمایا : ان کے دین میں (فتنہ و) بدعت پیدا کرنے کی وجہ سے تم ان سے قتال کرنا اور اللہ کے دین میں بدعت پیدا کرنے والے ہلاک ہی ہوں گے۔ رواہ ابن مردویہ۔

کلام : ۔۔ روایت کی سند ضعیف ہے۔ کنز ج 2 ص 560 ۔
4726- عن علي قال: لما نزلت هذه السورة على النبي صلى الله عليه وسلم: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} أرسل النبي صلى الله عليه وسلم إلى علي فقال: "يا علي إنه قد جاء نصر الله والفتح، ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجا فسبحت ربي بحمده، واستغفرت ربي إنه كان توابا، إن الله قد كتب على المؤمنين الجهاد في الفتنة من بعدي، قالوا يا رسول الله وكيف نقاتلهم وهم يقولون قد آمنا؟ قال: على إحداثهم في دينهم، وهلك المحدثون في دين الله". "ابن مردويه" وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4727: ۔۔ (ابن عباس (رض)) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رح) سے مروی ہے، مجھ سے ابن عباس (رض) نے دریافت فرمایا : تم جانتے و سب سے آخر میں پوری کون سی سورت نازل ہوئی ؟ میں نے کہا : جی وہ ہے : اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4727- "ابن عباس" عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال قال لي ابن عباس: "أتعلم أي آخر سورة نزلت جميعا؟ قلت: نعم {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} قال صدقت"."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4728: ۔۔ (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں جب سے (سورة نصر) اذا جاء نصر اللہ والفتح ۔ نازل ہوئی۔ آپ اکثر و بیش تر یہ کلمات پڑھتے رہتے :

سبحانک اللہم وبحمدک اللہم اغفر لی انت التواب الرحیم۔

اے اللہ ! میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں اور تیری حمد ( وثناء) کرتا ہوں۔ اے اللہ میری مغفرت فرما بیشک تو توبہ قبول فرمانے والامہربان ہے۔ رواہ عبدالرزاق۔
4728- "ابن مسعود" كان النبي صلى الله عليه وسلم يكثر حين نزلت إذا جاء نصر الله والفتح أن يقول: "سبحانك اللهم وبحمدك، اللهم اغفر لي أنت التواب الرحيم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4729: ۔۔ (ابو سعید الخدری) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی : اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ پوری سورت تلاوت فرما کر ارشاد فرمایا : میں اور میرے اصحاب بہترین لوگ ہیں اور (اب مسلمان) لوگ خیر میں ہیں اور فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی۔ ابو داؤد الطیالسی، ابو نعیم فی المعرفۃ۔
4729- "أبو سعيد الخدري" لما نزلت هذه الآية: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} قرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ختمها فقال: "أنا وأصحابي خير والناس في خير، لا هجرة بعد الفتح". "ط وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4730: ۔۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی : اذا جاء نصرت اللہ والفتح۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوری سورت تلاوت فرما کر ارشاد فرمایا : (سب مسلمان) لوگ خیر (کا سرچشمہ ) ہیں۔ اور میں اور میرے اصحاب (ان سے زیادہ) خیر (کا باعث) ہیں۔ نیز فرمایا : فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں۔ لیکن جہاد اور اچھی نیت ہے۔
4730- عن أبي سعيد قال: لما نزلت هذه السورة: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} قرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ختمها وقال: الناس خير وأنا وأصحابي خير، وقال: " لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية" فقال مروان: كذبت، وكان زيد بن ثابت ورافع بن خديج قاعدين قالا: صدق. "ش". [حم] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة النصر
4731: ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی وفات سے قبل اکثر و بیشتر یہ دعا پڑھتے تھے : سبحانک اللہم وبحمدک استغفرک واتوب الیک ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ کیسے کلمات ہیں جو آپ کہنا شروع ہوئے ہیں ؟

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرایا : جعلت لی علامۃ لامتی اذا رایتھا قلتھا : اذا جاء نصر اللہ والفتح۔

میرے لیے ان کلمات کی علامت قرر کی گئی ہے کہ میں جب بھی اس سورت کو دیکھوں تو یہ کلمات پڑھوں۔ واللہ اعلم بمعناہ الصواب۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4731- عن عائشة قالت: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول قبل أن يموت: " سبحانك اللهم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك"، فقلت يا رسول الله ما هذه الكلمات التي قد أخذت تقولها؟ قال: "جعلت لي علامة لأمتي إذ رأيتها قلتها: {إذا جاء نصر الله والفتح} ". "ش".
tahqiq

তাহকীক: