কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪৬৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کورت
4692: ۔۔ حضرت علی (رض) سے ارشاد باری : فلا اقسم بالخنس۔ (تکویر : 15) ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں کے متعلق منقول ہے فرمایا : یہ پانچ ستارے ہیں : زحل، عطارد، مشتری، بہرام، اور زہرہ،۔ ان کے علاوہ کواکب میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مجرہ کو کاٹ سکے۔ ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم۔
4692- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ} قال: "خمس أنجم: زحل وعطارد والمشتري وبهرام والزهرة ليس في الكواكب شيء يقطع المجرة غيرها". "ابن أبي حاتم ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة کورت
4693: ۔۔ حضرت علی (رض) ارشاد ربانی : فلا اقسم بالخنس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : یہ ستارے رات کو اپنی جگہ آجاتے ہیں اور دن کو اپنی جگہ سے ہٹ جاتے ہیں اس لیے نظر نہیں آتے۔ (السنن لسعید بن منصور، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم۔
4693- عن علي في قوله تعالى: {فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ} قال: "هي الكواكب تكنس بالليل وتخنس بالنهار فلا ترى". "ص والفريابي وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الانفطار
4694: ۔۔ حضرت عمر (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
یا ایہا الانسان ما غرک بربک الکریم۔ انفطار : 6
اے انسان ! تجھ کو اپنے پروردگار کرم فرما کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟
پھر ارشاد فرمایا : انسان کو اس کی جہالت نے پروردگار کریم سے دھوکا دیا ہے۔ ابن المنذر، ابن ابی حاتم، العسکری فی المواعظ۔
یا ایہا الانسان ما غرک بربک الکریم۔ انفطار : 6
اے انسان ! تجھ کو اپنے پروردگار کرم فرما کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟
پھر ارشاد فرمایا : انسان کو اس کی جہالت نے پروردگار کریم سے دھوکا دیا ہے۔ ابن المنذر، ابن ابی حاتم، العسکری فی المواعظ۔
4694- عن عمر أنه قرأ هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الْأِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ} قال: "غره والله جهله". "ابن المنذر وابن أبي حاتم والعسكري في المواعظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الانفطار
4695: ۔۔ (مسند رافع بن خدیج) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تیرے ہاں کیا پیدا ہوا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ہاں کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ لڑکا یا لڑکی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس کے مشابہ ہوگا ؟ رافع نے عرض کیا : کس کے مشابہ ہوسکتا ہے ؟ اپنی ماں کے یا اپنے باپ کے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہنسہ ! یہ مت کہو، کیونکہ نفہ رحم میں استقرار پکڑتا ہے تو اللہ پاک اس بچے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان اس کی تمام پشتوں میں کو حاضر کرتے ہیں (اور پھر جس صورت میں چاہتے ہیں اس کو پیدا کردیتے ہیں) کیا تم نے یہ فرمان خداوندی نہیں پڑھا :
فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ انفطار :8 ۔
جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ ابن مرویہ، الکبیر للطبرانی عن موسیٰ بن علی بن رباح عن ابیہ عن جدہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں ایک راوی مطہر بن الہیثم طائی ہے جو متروک راوی ہے جس کی بناء پر روایت میں ضعف ہے۔ (میزان الاعتدال : 4/129)
فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ انفطار :8 ۔
جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ ابن مرویہ، الکبیر للطبرانی عن موسیٰ بن علی بن رباح عن ابیہ عن جدہ۔
کلام : ۔۔ اس روایت میں ایک راوی مطہر بن الہیثم طائی ہے جو متروک راوی ہے جس کی بناء پر روایت میں ضعف ہے۔ (میزان الاعتدال : 4/129)
4695- "مسند رافع بن خديج" عن رافع بن خديج أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: " ما ولد لك؟ قال يا رسول الله وما عسى أن يولد لي؟ إما غلام، وإما جارية، قال: فمن يشبه؟ قال: ما عسى أن يشبه؟ إما أمه وإما أباه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مه لا تقولن هذا إن النطفة إذا استقرت في الرحم أحضرها الله كل نسب بينها وبين آدم، أما قرأت هذه الآية في كتاب الله: {فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ} من نسلك ما بينك وبين آدم". "ابن مردويه طب عن موسى بن علي بن رباح عن أبيه عن جده وفيه مطهر بن الهيثم الطائي متروك
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة المطففين
4696: ۔۔ حضرت علی (رض) فرمان خداوندی : نضرۃ النعیم (المطففین : 24) (تم کو ان کے چہروں میں نعمت کی تروتازگی معلوم ہوگی) کے متعلق ارشاد فرمایا :
جنت میں ایک چشمہ ہے ، جنتی اس سے وضو اور غسل کریں گے تو ان پر نعمتوں کی تروتازگی ظاہر ہوجائے گی۔ ابن المنذر۔
جنت میں ایک چشمہ ہے ، جنتی اس سے وضو اور غسل کریں گے تو ان پر نعمتوں کی تروتازگی ظاہر ہوجائے گی۔ ابن المنذر۔
4696- عن علي في قوله تعالى: {نَضْرَةَ النَّعِيمِ} قال: عين في الجنة يتوضؤن منها ويغتسلون فتجري عليهم نضرة النعيم. "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انشقت
4679: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے ارشاد خداوندی " لترکبن طبقا عن طبق " (انشقاق :9) تم درجہ بدرجہ (رتبہ اعلی پر) چڑھوگے کے متعلق فرمایا : حالا بعد حال (یعنی ہر لمحہ رتبہ اعلی کی طرف گامزن رہوگے) عبد بن حمید۔
4697- عن عمر بن الخطاب في قوله تعالى: {لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ} قال: حالا بعد حال. "عبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة انشقت
4698: ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے ارشاد خداوندی : اذا السماء النشقت۔ (انشقاق :1) جب آسمان پھٹ جائے گا کے متعلق ارشاد فرمایا : یعنی آسمان اپنے مجرۃ (یعنی اپنی جگہ) سے پھٹ جائے گا (اور ادھر ادھر بکھر جائے گا) ابن ابی حاتم۔
4698- عن علي في قوله تعالى: {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} تنشق السماء من المجرة. "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البروج
4699: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :
اصحاب الاخدود کے پیغمبر حبشی تھے۔ ابن ابی حاتم۔
اصحاب الاخدود کے پیغمبر حبشی تھے۔ ابن ابی حاتم۔
4699- عن علي قال: "كان نبي أصحاب الأخدود حبشيا". "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البروج
4700: ۔۔ حسن بن علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان " اصحاب الاخدود " کے متعلق مروی ہے کہ یہ لوگ حبشی تھے۔ (ابن المنذر، ابن ابی حاتم) ۔
4700- عن الحسن بن علي رضي الله عنهما في قوله: {أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ} قال: هم الحبشة.
"ابن المنذر وابن أبي حاتم".
"ابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البروج
4701: ۔۔ سلمہ بن کہیل (رح) سے مروی ہے کہ لوگوں نے (جو) حضرت علی (رض) کے پاس (بیٹھے ہوئے تھے) اصحاب الاخدود کا ذکر چھیڑ دیا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : دیکھو تمہارے اندر بھی ان جیسے لوگ ہیں لہٰذا (حق پر قائم رہنے میں) تم لوگ کسی قوم سے عاجز مت ہوجانا۔ عبد بن حمید۔
4701- عن سلمة بن كهيل قال: ذكروا أصحاب الأخدود عند علي فقال: "أما إن فيكم مثلهم؟ فلا تكونن أعجز من قوم". "عبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البروج
4702: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ یہ مجوسی اہل کتاب ہوا کرتے تھے۔ اپنی کتاب پر عمل کرتے تھے۔ شراب ان کے لیے حلال کی گئی تھی۔ ان کے ایک بادشاہ نے شراب (زیادہ) پی لی۔ شراب نے اس کی عقل خراب کردی اور اس نے اپنی بیٹی یا بہن کے ساتھ جماع کرلیا۔ جب اس کا نشہ کافور ہوا تب بہت نادم و پشیمان ہوا۔ لڑکی کو کہا : افسوس ! یہ میں نے تیرے ساتھ کیا کرلیا ؟ اس سے نجات کا راستہ کیا ہوگا۔ لڑکی نے کہا : اس سے نجات کا راستہ یہ ہے کہ تو لوگوں کو تقریر کر اور کہہ : اے لوگو ! اللہ نے بہنوں اور بیٹیوں سے بھی نکاح حلال کردیا ہے۔ پس جب یہ چیز لوگوں میں عام ہوجائے اور اس فعل میں مبتلا ہوجائیں تب دوبارہ تقریر کرکے ان پر یہ چیز واپس حرام قرار دے دینا۔
چنانچہ بادشاہ تقریر کرنے کے لیے ان کے درمیان کھڑا ہوا اور بولا : اے لوگو ! اللہ نے تمہارے لیے بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح حلال کردیا ہے۔ سب لوگوں نے کہا : اللہ کی پناہ ہو ! کہ اس پر ہم ایمان لائے یا اس کا اقرار کریں۔ کیا اللہ کا نبی یہ بات لے کر آیا ہے یا اللہ کی کتاب میں یہ بات لکھی ہے۔
آخر بادشاہ اسی عورت کے پاس واپس گیا اور بولا افسوس ! تجھ پر لوگوں نے میری اس بات کو مجھ پر رد کردیا ہے۔ عورت بولی اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان پر کوڑا اٹھاؤ۔ بادشاہ نے یہ حربہ بھی آزمایا لیکن پھر بھی لوگ ماننے سے انکار کرتے رہے۔ بادشاہ دوبارہ عورت کے پاس گیا اور کہا میں نے ان پر کوڑے آزما کر بھی دیکھ لیے لیکن پھر بھی وہ مسلسل انکار کررہے ہیں۔ عورت نے کہا : ان پر تلوار سونت لو (مان جائیں گے)
بادشاہ نے تلوار کے ساتھ ان کو اقرار پر مجبور کیا لیکن وہ نہ مانے۔ عورت نے کہا : ان کے لیے خندقیں کھدواؤ پھر اس میں آگ بھڑکاؤ۔ پھر جو تمہارے بات قبول کرے اس کو چھوڑ دو اور جو نہ مانے اس کو خندق میں جھونک دو اور جس نے انکار نہ کیا اور بادشاہ کی بات مان لی اس کو چھوڑ دیا۔ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا ہے۔
قتل اصحاب الاخدود ۔ تا۔ ولھم عذاب الحریق۔ البروج : 4 ۔ 10
خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کردیے گئے۔ (یعنی) آگ ( کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا۔ جبکہ وہ ان کے (کناروں ) پر بیٹے ہوئے تھے۔ اور جو (سختیاں) ال ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے۔ ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔ جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا۔ (عبد بن حمید)
فائدہ : ۔۔۔ ان اصحاب الاخدود سے کون مراد ہیں ؟ مفسرین نے کوئی واقعات نقل کیے ہیں۔ لیکن صحیح مسلم، جامع ترمذی، اور مسند احمد وغیرہ میں جو قصہ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا۔ اس کے ہاں ایک ساحر (جادوگر) رہتا تھا۔ جب ساحر کی موت کا وقت کا وقت قریب ہوا۔ اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اس کو اپنا علم سکھا دوں تاکہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چنانچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ ساحر کے پاس جا کر اس کا علم سیکھتا تھا۔ راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس کے وقت کے اعتبار سے دین حق پر تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا۔ اور خفیہ طور سے راہب کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا، اور اس کے فیض صحت سے ولایت و کرامت کے درجہ کو پہنچا۔ ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور (شیر وغیرہ) نے راستہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مخلوق پریشان ہے۔ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ ! اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے۔ یہ کہہ کر پتھر پھینکا جس سے اس جانور کا کام تمام ہوگیا۔ لوگوں میں شور ہوا کہ اس لڑکے کو عجیب علم آتا ہے کسی اندھے نے سن کر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی کردو۔ لڑکے نے کہا کہ اچھی کرنے والا میں نہیں۔ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اگر تو اس پر ایمان لائے تو میں دعا کروں۔ امید ہے وہ تجھ کو بینا کردے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ شدہ شدہ یہ خبریں بادشاہ کو پہنچیں۔ اس نے برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا اور کچھ بحث و گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا اور کچھ بحث و گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ اونچے پہاڑ پر سے گرا کر ہلاک کردیا جائے۔ مگر خدا کی قدرت جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ سب پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح وسالم چلا آیا۔ پھر بادشاہ نے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا۔ وہاں بھی یہی صورت پیش آئی کہ لڑکا صاف بچ کر نکل آیا اور جو لے گئے تھے وہ سب دریا میں ڈوب گئے۔ آخر لڑکے نے بادشاہ سے کہا : کہ میں خود اپنے مرنے کی ترکیب بتلاتا ہوں۔ آپ سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کریں۔ ان کے سامنے مجھ کو سولی پر لٹکائیں اور یہ لفظ کہہ کر میرے تیر ماریں۔ بسم اللہ رب الغلام۔ (اس اللہ کے نام پر جو رب ہے اس لڑکے کا) چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ اور لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا۔ یہ عجیب واقعہ دیکھ کر یکلخت لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ بلند ہوا کہ " آمنا برب الغلام " (ہم سب لڑکے کے رب پر ایمان لائے) لوگوں نے بادشاہ سے کہا لیجیے۔ جس چیز کی روک تھام کر رہے تھے۔ وہی پیش آئی پہلے تو کوئی اکا دکا مسلمان ہوتا تھا اب خلق کثیر نے اسلام قبول کرلیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور ان کو خوب آگ سے بھروا کر اعلان کیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو ان خندقوں میں جھونک دیا جائے گا۔ آخر لوگ آگ میں ڈالے جا رہے تھے۔ لیکن اسلام سے نہیں ہٹتے تھے۔ ایک مسلمان عورت لائی گئی جس کے پاس دودھ پیتا بچہ تھا۔ شاید بچہ کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی۔ مگر بچہ نے خدا کے حکم سے آواز دی " اماہ اصبری فانک علی الحق " (اما جان صبر کر کہ تو حق پر ہے) ۔ (حوالہ تفسیر عثمانی) واللہ اعلم بالصواب۔
چنانچہ بادشاہ تقریر کرنے کے لیے ان کے درمیان کھڑا ہوا اور بولا : اے لوگو ! اللہ نے تمہارے لیے بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح حلال کردیا ہے۔ سب لوگوں نے کہا : اللہ کی پناہ ہو ! کہ اس پر ہم ایمان لائے یا اس کا اقرار کریں۔ کیا اللہ کا نبی یہ بات لے کر آیا ہے یا اللہ کی کتاب میں یہ بات لکھی ہے۔
آخر بادشاہ اسی عورت کے پاس واپس گیا اور بولا افسوس ! تجھ پر لوگوں نے میری اس بات کو مجھ پر رد کردیا ہے۔ عورت بولی اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان پر کوڑا اٹھاؤ۔ بادشاہ نے یہ حربہ بھی آزمایا لیکن پھر بھی لوگ ماننے سے انکار کرتے رہے۔ بادشاہ دوبارہ عورت کے پاس گیا اور کہا میں نے ان پر کوڑے آزما کر بھی دیکھ لیے لیکن پھر بھی وہ مسلسل انکار کررہے ہیں۔ عورت نے کہا : ان پر تلوار سونت لو (مان جائیں گے)
بادشاہ نے تلوار کے ساتھ ان کو اقرار پر مجبور کیا لیکن وہ نہ مانے۔ عورت نے کہا : ان کے لیے خندقیں کھدواؤ پھر اس میں آگ بھڑکاؤ۔ پھر جو تمہارے بات قبول کرے اس کو چھوڑ دو اور جو نہ مانے اس کو خندق میں جھونک دو اور جس نے انکار نہ کیا اور بادشاہ کی بات مان لی اس کو چھوڑ دیا۔ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا ہے۔
قتل اصحاب الاخدود ۔ تا۔ ولھم عذاب الحریق۔ البروج : 4 ۔ 10
خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کردیے گئے۔ (یعنی) آگ ( کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا۔ جبکہ وہ ان کے (کناروں ) پر بیٹے ہوئے تھے۔ اور جو (سختیاں) ال ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے۔ ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔ جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا۔ (عبد بن حمید)
فائدہ : ۔۔۔ ان اصحاب الاخدود سے کون مراد ہیں ؟ مفسرین نے کوئی واقعات نقل کیے ہیں۔ لیکن صحیح مسلم، جامع ترمذی، اور مسند احمد وغیرہ میں جو قصہ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا۔ اس کے ہاں ایک ساحر (جادوگر) رہتا تھا۔ جب ساحر کی موت کا وقت کا وقت قریب ہوا۔ اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اس کو اپنا علم سکھا دوں تاکہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چنانچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ ساحر کے پاس جا کر اس کا علم سیکھتا تھا۔ راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس کے وقت کے اعتبار سے دین حق پر تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا۔ اور خفیہ طور سے راہب کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا، اور اس کے فیض صحت سے ولایت و کرامت کے درجہ کو پہنچا۔ ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور (شیر وغیرہ) نے راستہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مخلوق پریشان ہے۔ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ ! اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے۔ یہ کہہ کر پتھر پھینکا جس سے اس جانور کا کام تمام ہوگیا۔ لوگوں میں شور ہوا کہ اس لڑکے کو عجیب علم آتا ہے کسی اندھے نے سن کر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی کردو۔ لڑکے نے کہا کہ اچھی کرنے والا میں نہیں۔ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اگر تو اس پر ایمان لائے تو میں دعا کروں۔ امید ہے وہ تجھ کو بینا کردے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ شدہ شدہ یہ خبریں بادشاہ کو پہنچیں۔ اس نے برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا اور کچھ بحث و گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا اور کچھ بحث و گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ اونچے پہاڑ پر سے گرا کر ہلاک کردیا جائے۔ مگر خدا کی قدرت جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ سب پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح وسالم چلا آیا۔ پھر بادشاہ نے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا۔ وہاں بھی یہی صورت پیش آئی کہ لڑکا صاف بچ کر نکل آیا اور جو لے گئے تھے وہ سب دریا میں ڈوب گئے۔ آخر لڑکے نے بادشاہ سے کہا : کہ میں خود اپنے مرنے کی ترکیب بتلاتا ہوں۔ آپ سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کریں۔ ان کے سامنے مجھ کو سولی پر لٹکائیں اور یہ لفظ کہہ کر میرے تیر ماریں۔ بسم اللہ رب الغلام۔ (اس اللہ کے نام پر جو رب ہے اس لڑکے کا) چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ اور لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا۔ یہ عجیب واقعہ دیکھ کر یکلخت لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ بلند ہوا کہ " آمنا برب الغلام " (ہم سب لڑکے کے رب پر ایمان لائے) لوگوں نے بادشاہ سے کہا لیجیے۔ جس چیز کی روک تھام کر رہے تھے۔ وہی پیش آئی پہلے تو کوئی اکا دکا مسلمان ہوتا تھا اب خلق کثیر نے اسلام قبول کرلیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور ان کو خوب آگ سے بھروا کر اعلان کیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو ان خندقوں میں جھونک دیا جائے گا۔ آخر لوگ آگ میں ڈالے جا رہے تھے۔ لیکن اسلام سے نہیں ہٹتے تھے۔ ایک مسلمان عورت لائی گئی جس کے پاس دودھ پیتا بچہ تھا۔ شاید بچہ کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی۔ مگر بچہ نے خدا کے حکم سے آواز دی " اماہ اصبری فانک علی الحق " (اما جان صبر کر کہ تو حق پر ہے) ۔ (حوالہ تفسیر عثمانی) واللہ اعلم بالصواب۔
4702- عن علي قال: كان المجوس أهل كتاب، وكانوا متمسكين بكتابهم وكانت الخمر قد أحلت، فتناول منها ملك من ملوكهم فغلبته على عقله فتناول أخته أو بنته فوقع عليها، فلما ذهب عنه السكر ندم، وقال لها: ويحك ما هذا الذي أتيت؟ وما المخرج منه؟ قالت: المخرج منه أن تخطب الناس فتقول: يا أيها الناس إن الله قد أحل نكاح الأخوات والبنات، فإذا ذهب ذا في الناس، وتناسوه خطبتهم فحرمته، فقام خطيبا فقال: يا أيها الناس إن الله أحل لكم نكاح الأخوات والبنات فقال الناس جماعتهم: معاذ الله أن نؤمن بهذا أو نقر به، أو جاءنا به نبي الله أو أنزل علينا في كتاب، فرجع إلى صاحبته، فقال: ويحك إن الناس قد أبوا علي ذلك قالت: فإذا أبوا ذلك فابسط فيهم السوط، فبسط فيهم السوط، فأبى الناس أن يقروا، فرجع إليها، فقال: قد بسطت فيهم السوط فأبوا أن يقروا، قالت: فجرد فيهم السيف فجرد فيهم السيف فأبوا أن يقروا، قالت: خد لهم الأخدود، ثم أوقد فيها النيران، فمن تابعك فخل عنه، فخد لهم أخدودا، وأوقد فيها النيران وعرض أهل مملكته على ذلك، فمن أبى قذفه في النار، ومن لم يأب خلى عنه، فأنزل الله تعالى فيهم: {قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ} إلى قوله {وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ} . "عبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الغاشية
4703: ۔۔ (مسند عمر بن خطاب (رض)) ابو عمران الجونی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک راہب کے پاس سے گذرنے لگے تو اسی کے پاس ٹھہر گئے۔ راہب کو حضرت عمر (رض) کے ساتھی نے آواز دی اے راہب یہ امیر المومنین ہیں۔ چنانچہ وہ متوجہ ہوا۔ دیکھا تو اس راہب کا محنت و مشقت اور ترک دنیا کی وجہ سے عجیب حال تھا۔ حضرت عمر (رض) اس کو دیکھ کر رو پڑے۔ آپ (رض) کو کہا گیا : یہ نصرانی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا میں جانتا ہوں لیکن مجھے اس پر خدا کے فرمان کی وجہ سے رحم آگیا، خدا کا فرمان ہے :
عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ۔ الغاشیۃ۔ 3 ۔ 4
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
لہذا مجھے اس کی عبادت میں محنت و ریاضت پر رحم آگیا کہ اس قدر محنت کرنے کے باوجود یہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (شعب الایمان للبیہقی، ابن المنذر، مستدرک الحاکم)
عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ۔ الغاشیۃ۔ 3 ۔ 4
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
لہذا مجھے اس کی عبادت میں محنت و ریاضت پر رحم آگیا کہ اس قدر محنت کرنے کے باوجود یہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (شعب الایمان للبیہقی، ابن المنذر، مستدرک الحاکم)
4703- "من مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه" عن أبي عمران الجوني قال: مر عمر براهب فوقف، ونودي الراهب فقيل له: هذا أمير المؤمنين، فاطلع فإذا إنسان به من الضر والاجتهاد وترك الدنيا، فلما رآه عمر بكى، فقيل له: إنه نصراني، فقال عمر: قد علمت، ولكني رحمته ذكرت قول الله عز وجل: {عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ تَصْلَى نَاراً حَامِيَةً} فرحمت نصبه واجتهاده، وهو في النار. "هب وابن المنذر ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الفجر
4702: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس آیت کی تفسیر کیا ہے ؟
کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجیء یومئذ بجہنم۔ الفجر : 21 ۔ 23 ۔
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پست کردی جائے گی اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آموجود ہوں گے اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ہی ارشاد فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ ستر ہزار فرشتے کھینچ کر لائیں گے۔ پھر بھی وہ ادھر ادھر آپے سے نکل رہی ہوگی اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نہ روکا رکھا ہو تو وہ آسمانوں اور زمین ہر چیز کو جلا دے۔ رواہ ابن مردویہ)
کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجیء یومئذ بجہنم۔ الفجر : 21 ۔ 23 ۔
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پست کردی جائے گی اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آموجود ہوں گے اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ہی ارشاد فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ ستر ہزار فرشتے کھینچ کر لائیں گے۔ پھر بھی وہ ادھر ادھر آپے سے نکل رہی ہوگی اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نہ روکا رکھا ہو تو وہ آسمانوں اور زمین ہر چیز کو جلا دے۔ رواہ ابن مردویہ)
4704- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هل تدرون ما تفسير هذه الآية: {كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكّاً دَكّاً وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ} قال: إذا كان يوم القيامة تقاد جهنم بسبعين ألف زمام بيد سبعين ألف ملك فتشرد شردة، لولا أن الله حبسها لأحرقت السموات والأرض". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة البلد
4705: ۔۔ حضرت علی (رض) کو کہا گیا کہ لوگ کہتے ہیں النجدین سے مراد الثدیین ہے۔ فرمایا خیر و شر ہے۔ الفریابی، عبد بن حمید۔
فائدہ : ۔۔۔ فرمان خداوندی، وھدینہ النجدین۔ (البلد : 10) اور اس (انسان) کو دونوں رستے بھی دکھا دیے ہیں کہ جب انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو ماں کی چھاتی میں رزق کے دونوں راستے دکھا دیے جاتے ہیں۔ جب حضرت علی (رض) سے اس قول کو ذکر کیا گیا تو آپ رضی الہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد خیر و شر کے دو راستے ہیں۔
فائدہ : ۔۔۔ فرمان خداوندی، وھدینہ النجدین۔ (البلد : 10) اور اس (انسان) کو دونوں رستے بھی دکھا دیے ہیں کہ جب انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو ماں کی چھاتی میں رزق کے دونوں راستے دکھا دیے جاتے ہیں۔ جب حضرت علی (رض) سے اس قول کو ذکر کیا گیا تو آپ رضی الہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد خیر و شر کے دو راستے ہیں۔
4705- عن علي أنه قيل له أن ناسا يقولون: النجدين الثديين قال: "الخير والشر". "الفريابي وعبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والليل
4706: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ہمارے چہروں کی طرف نٖظر ڈالی اور پھر فرمایا : تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا معلوم ہے جنت میں اور دوزخ میں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سورت تلاوت فرمائی :
واللیل اذا یغشی والنہار اذا تجلی وما خلق الذکر والانثی ان سعیکم لشتی ۔۔۔ سے۔۔ الیسری تک۔ (سورة اللیل : 1 ۔ 7)
رات کی قسم ! جب (دن کو) چھپالے۔ اور دن کی قسم جب چمک اٹھے۔ اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر مادہ پیدا کیے کہ تم لوگوں کی کوشش طرح طرح (مختلف ) ہے۔ تو جس نے (خدا کے رستے میں مال ) دیا اور پرہیزگاری کی اور نیک بات کو سچ جانا اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ راستہ تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے آگے تلاوت فرمائی :
و اما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنیسرہ للعسری۔ اللیل : 8 ۔ 10 ۔
اور جس نے بخل کیا اور وہ بے پروا بنا رہا اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا اسے سختی میں پہنچائیں گے۔
واللیل اذا یغشی والنہار اذا تجلی وما خلق الذکر والانثی ان سعیکم لشتی ۔۔۔ سے۔۔ الیسری تک۔ (سورة اللیل : 1 ۔ 7)
رات کی قسم ! جب (دن کو) چھپالے۔ اور دن کی قسم جب چمک اٹھے۔ اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر مادہ پیدا کیے کہ تم لوگوں کی کوشش طرح طرح (مختلف ) ہے۔ تو جس نے (خدا کے رستے میں مال ) دیا اور پرہیزگاری کی اور نیک بات کو سچ جانا اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ راستہ تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے آگے تلاوت فرمائی :
و اما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنیسرہ للعسری۔ اللیل : 8 ۔ 10 ۔
اور جس نے بخل کیا اور وہ بے پروا بنا رہا اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا اسے سختی میں پہنچائیں گے۔
4706- عن علي قال: بينما نحن حول رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظر في وجوهنا، فقال: " ما منكم من أحد إلا وقد علم مكانه من الجنة والنار"، ثم تلا هذه السورة: {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى} إلى {لِلْيُسْرَى} قال: "طريق الجنة" {وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} قال: "طريق النار". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة اقرأ
4707: ۔۔۔ (ابو موسیٰ (رض)) ابی رجاء (رح) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں۔ میں نے سورة اقراء باسم ربک الذی خلق۔ ابو موسیٰ (رض) سے پڑھی ہے اور یہ سب سے پہلی سورت ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
4707- "أبو موسى" عن أبي رجاء قال: أخذت من أبي موسى: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} وهي أول سورة أنزلت على محمد صلى الله عليه وسلم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة اقرأ
4708: ۔۔ (مرسل مجاہد (رح)) مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔ وہ اقراء باسم ربک الذی خلق۔ ہے۔ مسلم، نسائی، ابن ابی شیبہ۔
4708- "مرسل مجاهد" عن مجاهد قال: أول سورة أنزلت على النبي صلى الله عليه وآله وسلم {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} . "م ن ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزلزلة
4709: ۔۔۔ مسند صدیق (رض)) ابو اسماء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوپہر کو کھانا تناول فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8
سو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔
(یہ سن کر) حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک لیے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جو برائی بھی ہم نے کی ہوگی ہم اس کو ضرور دیکھیں گے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو تم (اپنی زندگی میں) ناپسندیدہ باتیں دیکھتے ہو و (انہی برے اعمال کی) جزاء ہوتی ہیں۔ جبکہ نیکی کو صاحب نیکی کے لیے آخرت میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن راھویہ، عبد بن حمید، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ) ۔
حافظ ابن حجر (رح) نے اپنی کتاب اطراف میں اس کو مسند ابی بکر کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8
سو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔
(یہ سن کر) حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک لیے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جو برائی بھی ہم نے کی ہوگی ہم اس کو ضرور دیکھیں گے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو تم (اپنی زندگی میں) ناپسندیدہ باتیں دیکھتے ہو و (انہی برے اعمال کی) جزاء ہوتی ہیں۔ جبکہ نیکی کو صاحب نیکی کے لیے آخرت میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن راھویہ، عبد بن حمید، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ) ۔
حافظ ابن حجر (رح) نے اپنی کتاب اطراف میں اس کو مسند ابی بکر کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔
4709- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي أسماء قال: بينما أبو بكر يتغدى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أنزلت هذه الآية: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ} فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله أكل ما عملناه من سوء رأيناه؟ فقال: " ما ترون ما تكرهون فذاك مما تجزون به، ويؤخر الخير لأهله في الآخرة". "ش وابن راهويه وعبد بن حميد ك وابن مردويه" وأورده الحافظ ابن حجر في أطرافه في مسند أبي بكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة الزلزلة
4710: ۔۔ ابو ادریس خولانی (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئیں :
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8 ۔
حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک کر پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا جو بھی نیکی یا برائی ہم سے سرزد ہوگی ہم کو اسے دیکھنا پڑے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے ابوبکر ! تم کو جو ناپسندیدہ امور پیش آتے ہیں وہ برائی کے بدلے ہیں اور خیر کے بدلے تمہارے لیے ذخیرہ کرلیے جاتے ہیں تم قیامت کے دن ان کو پا لوگے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ الشوری :
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8 ۔
حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک کر پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا جو بھی نیکی یا برائی ہم سے سرزد ہوگی ہم کو اسے دیکھنا پڑے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے ابوبکر ! تم کو جو ناپسندیدہ امور پیش آتے ہیں وہ برائی کے بدلے ہیں اور خیر کے بدلے تمہارے لیے ذخیرہ کرلیے جاتے ہیں تم قیامت کے دن ان کو پا لوگے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ الشوری :
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔
4710 - عن أبي إدريس الخولاني، قال: كان أبو بكر الصديق يأكل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أنزلت هذه الآية: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ} فأمسك أبو بكر يده وقال: يا رسول الله إنا لراؤن ما عملنا من خير أو شر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر أرأيت ما رأيت مما تكره فهو من مثاقيل الشر يدخر لك مثاقيل الخير، حتى توفاه يوم القيامة، وتصديق ذلك في كتاب الله تعالى: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} ". "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة والعاديات
4711: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والعادیات ضبحا کے متعلق مروی ہے کہ حج میں (حاجیوں کو لے) جانے والے اونٹ مراد ہیں۔ حضرت علی (رض) کو کسی نے کہا : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اس سے مراد گھوڑے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بدر میں ہمارے پاس گھوڑے تھے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
والعادیات ضبحا۔ فالموریات قدحا فالمغیرات صبحا۔ فاثرن بہ نقعا فوسطن بہ جمعا۔ ان الانسان لربہ لکنود۔ العادیات۔ 1 ۔ 6
ان سرپٹ دوڑنے والے (گھوڑوں) کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں ، پھر پتھروں پر (نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں۔ پھر صبح کو چھاپا مارتے ہیں۔ پھر اس میں گردن اٹھاتے ہیں۔ پھر اس وقت (دشمن کی) فوج میں جا گھستے ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور نا شکرا) ہے۔
عام تراجم میں العادیات ضبحا کا معنی گھوڑوں ہی سے کیا گیا اور ما بعد کا مضمون بھی انہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ گھوروں کی قسم بھی ہوسکتی ہے۔ جن کے متعلق آیا ہے کہ قیامت تک کے لیے ان کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے اور مجاہدین کی قسم بھی ہوسکتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں اور جن کی تعریف و توصیف کلام اللہ میں جا بجا کی گئی ہے۔
والعادیات ضبحا۔ فالموریات قدحا فالمغیرات صبحا۔ فاثرن بہ نقعا فوسطن بہ جمعا۔ ان الانسان لربہ لکنود۔ العادیات۔ 1 ۔ 6
ان سرپٹ دوڑنے والے (گھوڑوں) کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں ، پھر پتھروں پر (نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں۔ پھر صبح کو چھاپا مارتے ہیں۔ پھر اس میں گردن اٹھاتے ہیں۔ پھر اس وقت (دشمن کی) فوج میں جا گھستے ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور نا شکرا) ہے۔
عام تراجم میں العادیات ضبحا کا معنی گھوڑوں ہی سے کیا گیا اور ما بعد کا مضمون بھی انہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ گھوروں کی قسم بھی ہوسکتی ہے۔ جن کے متعلق آیا ہے کہ قیامت تک کے لیے ان کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے اور مجاہدین کی قسم بھی ہوسکتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں اور جن کی تعریف و توصیف کلام اللہ میں جا بجا کی گئی ہے۔
4711- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحاً} قال: "هي الإبل في الحج، قيل له إن ابن عباس يقول: هي الخيل، قال: ما كان لنا خيل يوم بدر". "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
তাহকীক: